• جنوری
1999
عطاء اللہ صدیقی
مضبوط جلد میں درمیانے سائز کے 456 صفحات/قیمت: 180
سفید کاغذ، بہترین طباعت اور دیدہ زیب کمپوزنگ
ملنے کا پتہ: ادارہ خواتین میگزین، چیمبرلین روڈ، لاہور
 
گذشتہ چار صدیوں کے دوران مغرب کے چشمہ ظلمات سے ضلالت اور گمراہی کے جتنے بھی فتنہ پرور فوارے پھوٹے ہیں ان میں "آوارگی نسواں" کا فتنہ اپنی حشر سامانیوں اور تہذیبی ہلاکتوں کی وجہ سے سب فتنوں سے بڑا فتنہ ہے۔
سیکولر ازم، لبرل ازم، سوشلزم، فاش ازم جیسے باطل نظریات نے مغرب کی مذہبی اساس کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا لیکن ان کی یلغار سے خاندانی اقدار اور سماجی قدریں بڑی حد تک محفوظ رہیں۔ مردوزن کے سماجی رشتوں کی وجہ سے قائم خانگی توازن خاصی حد تک قائم تھا لیکن "عورت ازم" (Feninism) کے ہوش ربا فتنہ نے خاندانی نظام کی عمارت کو اس قدر زمین بوس کر دیا ہے کہ مغرب میں سماجی ادارے کے طور پر خاندان کا تصور تک معدوم ہوتا جا رہا ہے۔
  • مارچ
2002
عطاء اللہ صدیقی
جنسی آوارگی، بیہودگی اور خرافات کو ذرائع ابلاغ کس طرح ایک 'مقدس تہوار' بنا دیتے ہیں، اس کی واضح مثال 'ویلنٹائن ڈے' ہے۔ یہ بہت پرانی بات نہیں ہے کہ یورپ میں بھی 'ویلنٹائن ڈے' کو آوارہ مزاج نوجوانوں کا عالمی دن سمجھا جاتا تھا، مگر آج اسے'محبت کے متوالوں' کے لئے 'یومِ تجدید ِمحبت' کے طور پر منایا جانے لگا ہے۔ اب بھی یورپ اور امریکہ میں ایک کثیر تعداد 'ویلنٹائن ڈے' منانے کو برا سمجھتی ہے،
  • جولائی
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولر ازم کا مفہوم
گذشتہ پانچ صدیوں کے دوران مغرب کی سیاسی فکر میں اہم ترین تبدیلی ریاستی (لفظ مٹا ہوا ہے)سے مذہب کی عملا بے دخلی ہے،یہی امر سیکولر یورپ کا اہم ترین فکری،کارنامہ،بھی سمجھا جاتا ہے۔اس بات سے قطع  نظر۔۔۔کہ جدید یورپ میں کلیسا کے خلاف شدید رد عمل کے  فکری اسباب کیاتھے اور کلیسا اور ریاست کے درمیان ایک طویل محاذ آرائی بالآخر موخرالذکر کی کامل فتح پر کیونکرمنتج ہوئی۔۔۔بیسوی صدی کے وسط میں استعماری یورپ کی سیاسی غلامی سے آزاد ہونے والی مسلمان ر یاستوں میں بھی یہ سوال بڑے شدومد سے زیربحث لایا گیا کہ مذہب کا ریاستی امور کی انجام دہی میں کیا کردار ہوناچاہیے۔مسلمان ملکوں کاجدید دانشور طبقہ جس کی سیاسی فکر کی تمام تر آبیاری مغرب کے فکری سرچشموں سے ہوئی تھی مسلمانوں کی ریاست میں اسلامی شریعت کو ایک سپریم قانون کی حیثیت دینے کوتیار نہ تھا،مذہب کے متعلق اپنے مخصوص ذہنی تحفظات کی وجہ سے وہ اسلام کومحض مسلمانوں کی انفرادی یا شخصی زندگی تک محدود دیکھنے کا خواہشمند تھا۔وہ اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کو بھی مسیحی مغرب کے کلیسا اور ریاست کے تصادم کے تناظر میں بیان کرنے پر مصر تھا۔
  • اکتوبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
چند ماہ پہلے۔۔۔وحشی قاتل جاوید مغل کی  طرف سے سو معصوم بچوں کے قتل کی بہیمانہ واردات نے پورے عالم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے وحشت وبربریت کے اس عدیم النظر واقع کو غیر معمولی کوریج دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن  جج جناب اللہ بخش رانجھا نے چند ماہ قبل اس مقدمہ کے متعلق سزا سنائی کہ" جاوید کومغل کو سو بار پھانسی دی جائے" اور اس کے جسم کےٹکڑے کرکے انہیں تیزاب میں اسی  طرح ڈالا جائے جس طرح کہ اس نے سو بچوں کو تیزاب کے ڈرم میں ڈال کر موت کے گھاٹ اُتارا تھا اور یہ کہ ا س سزا پر عملدرآمد مینار پاکستان گراؤنڈ میں عام پبلک کے سامنے کیا جائے تاکہ عبرت حاصل ہو۔"
فاضل جج کی جانب سے اس سزا کے متعلق عوام الناس کا رد عمل نہایت مثبت تھا۔البتہ بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراضات بھی وارد کئے گئے۔ یہودی لابی کی تنخواہ وار ایجنٹ عاصمہ جہانگیر اورHRCPکے ڈائیرکٹر آئی اے رحمان قادیانی نے اس سزا کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئےبیان دیا کہ اس سے بربریت میں اضاہوگا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہونے دی گی۔بعض دینی حلقوں کی جانب سے بھی اس سزا کے شرعی یا غیر شرعی ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے  گئے۔
  • جنوری
2002
عطاء اللہ صدیقی
یونانی فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ انسان 'سماجی حیوان' ہے جو سماج کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ہر صورت میں اپنے جیسے انسانوں سے ربط و تعلق استوار رکھنا پڑتا ہے۔ اہل مغرب کو ارسطو کایہ حکیمانہ قول اس قدر پسندآیا ہے کہ انہوں نے اس کی بنیادپر اپنا پورا فلسفہ حیات مرتب کرنے کی کوشش کی ہی۔ وہ اسے ایک'آفاقی حقیقت'کا درجہ دیتے ہیں۔
  • اکتوبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دو ماہ سے پاکستانی اخبارات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے متعلق بحث ایک دفعہ پھر جاری ہے۔ چند روز پہلے 'نوائے وقت' میں 'مکتوبِ امریکہ' کے کالم میں ایک صاحب نے امریکہ میں مقیم چند پاکستانیوں کے خیالات کو شامل کیا ہے جو چاہتے ہیں کہ حکومت ِپاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کااعلان کرے۔
  • اکتوبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ دنوں ادارہ تحقیقات ِ اسلامی کےزیرِ اہمتام '' مسلمانوں کےبارے میں مغرب کاتصور اورمغرب کےبارے میں مسلمانوں کاتصور، ، کےعنوان پر سےمنعقدہ سیمینار میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں نواز شریف نےخطاب کرتےہوئےکہا کہ اسلام کےسیاسی فلسفہ کی بنیاد جمہوریت ک‎پر مبنی ہے۔ انہوں نےواضح کیاکہ'' اسلام کےخلاف نظریاتی تنازعہ مکمل طورپر غیرضروری ہ ے۔وہ لوگ جواسلام کی مغرب کادشمن سمجھتےہیں اورمغرب اوراسلام میں جنگ دیکھتے ہیں وہ ایک محدود تاریخی پس منظر رکھتےہیں ۔ انہوں نےکہا کہ اسلامی بنیادپرستی کومغرب نےبڑھا چڑھا کر پیش کیااور اسے شکست دینے پرزور دیا ، اسلام کی بنیاد پرستی پرمسلمانوں کوفخر ہے۔ وہ بنیادیں یہ ہیں : توحید ، رسالت ، نماز، روزہ ، زکوۃ ، اورحج ، ان پرعمل کرکےبہت سے مسلمان اپنے آ پ کو سچا مسلمان گردانتے ہیں ، کیا یہ بنیاد پرستی ہے؟ ہرگز نہیں ! انہوں نےکہا کہ بنیاد پرستی (فنڈا میشلزم ) کی اصطلاح عیسائیت سےآئی ہےلیکن اسے اسلام پرتھوپ دیا گیا ،، - ( روزنامہ جنگ ،،لاہور 70۔اکتوبر 1997ء )
  • مارچ
1999
عطاء اللہ صدیقی
بیسویں صدی محیر العقول سائنسی ایجادات، علمی تحقیقات و اکتشافات کے بے نظیر کارناموں کی صدی ہے۔ اس صدی کے ایک ایک عشرے کے دوران انسانی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون میں جو تیز رفتار ترقی دیکھنے میں آئی، وہ معلوم انسانی تاریخ کے پورے عرصہ کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ لیکن سیاسی اور اخلاقی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیا جائے تو اکیسویں صدی کی دہلیز پر پہنچی روشن خیال یک قطبی دنیا اٹھارویں اور انیسویں صدی کی استعماری ظلمتوں میں ابھی تک محصور دکھائی دیتی ہے۔ آزادی، مساوات، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے ضخیم دفاتر کی روشنائیاں، وحشت و بربریت، ظلم و ناانصافی، جارحیت و بہیمیت کی سیاہیوں کا اثر زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ظلم و جبر کے بوجھ تلے سسکتی انسانیت آج بھی ابلیسیت کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے۔ سائنسی ایجادات نے زماں و مکاں کے فاصلے سمیٹ کر دنیا کو "انسانی بستی" کی شکل تو عطا کر دی ہے لیکن وائے افسوس! انسانی قلوب کے فاصلوں کو ختم نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ "عالمی بستی" بھی عملا ایک روایتی بستی سے مختلف نہیں ہے، اس میں بھی طاقت و وسائل پر قابض وڈیرے موجود ہیں اور ذلت و پستی کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے ہاری بھی باقی ہیں۔ عالمی وڈیرہ سائنسی ترقی کے تکبر میں اندھا ہو کر کمزور ہاریوں کو جب چاہے، وحشت و بربریت کا نشانہ بنا ڈلے، مگر اس کے ظالم ہاتھوں کو روکنے والا کوئی نہیں۔
  • اکتوبر
2001
عطاء اللہ صدیقی
۱۱/ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک اور واشنگٹن میں وقوع پذیرہونے والے ہولناک طیارہ بموں کے دھماکوں نے امریکی قیادت کوبالخصوص اور اہل مغرب کوبالعموم شدید غم و غصہ اور جنونیت میں مبتلا کردیاہے۔ ان کے دلوں میں انتقام کے شعلے بھڑک رہے ہیں اوران کی زبانیں لفظوں کی بجائے انگارے برسا رہی ہیں۔
  • ستمبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
''مین حلفا ً بیان کرتا ہوکہ میں نے اس عورت (مونیکا ) کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا۔ میں نے کبھی کسی کو جھوٹ کے لئے نہیں کہا ،کبھی نہیں ۔یہ میرے خلاف جھوٹا الزام ہے ،جس کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچا نا ہے''سی این جی پر(27جنوری ) امریکی صدر بِل کلنٹن کو جب راقم نے تفتیشی کے سامنے یہ الفاظ بے حد خشو خضو سےادا کرتے سنا تو دنیا کے طاقتور ترین شخص کی اس بے بسی اور لا چارگی پر افسوس اور امریکی سماج کی منافقت پر مبنی اخلاق قدرو ں کے دو ہرے معیارات پر سخت تعجب ہوا ۔
  • اکتوبر
2010
عطاء اللہ صدیقی
امریکی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوجس انداز میں ۸۶ سال کی سزا سنائی ہے، اس پر پاکستان میں اسلامی حلقوں کے علاوہ تمام قومی اور سیکولر طبقوں کی طرف سے بھی سخت احتجاج کیا جارہا ہے، وہ اسے بجاطور پر انصاف کاقتل قرار دے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نے بیان دیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو اس فیصلہ کے بعد امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کردیتے۔
  • مئی
2010
عطاء اللہ صدیقی
۱۴؍ اپریل کی صبح تقریباً تین بجے دین و ملت کا ایک شاہ بلوط اس دارِ فانی سے ٹوٹ کر اس عالم فنا میں غائب ہو گیا جہاں سے واپس کوئی نہیں آتا۔صبح کو جب اہل لاہور کی آنکھ کھلی تو وہ عالم اسلام کی نامور شخصیت ڈاکٹر اسرار احمد کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ سے دو چار ہو ئے۔ شہر لاہور جو اپنے دامن میں علما و فضلا کی موجودگی پر ہمیشہ نازاں رہا ہے،
  • نومبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
اکیسویں صدی کے آغاز میں امت مسلمہ مختلف النوع مسائل کاشکار ہے۔مسلمان دانشوروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف ان مسائل کا معروضی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیں بلکہ نشاۃ ثانیہ کی جدو جہد میں امت مسلمہ کودرپیش چیلنجزکا سامناکرنےکے لیے مؤثر عقلی فکری اور عملی قیادت کا اہم فریضہ بھی انجام دیں۔ملت اسلامیہ کو اس وقت جن چیلنجزکاسامنا ہے ان میں سے نمایاں ترین کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔دوسری جنگ عظیم کے بعد بیشترمسلمان ملکوں کو یورپ کی سیاسی استعماریت سے توآزادی ملی مگراس سیاسی غلامی سے نجات پانے کے باوجود ابھی تک مغرب کی فکری محکوی کا طوق اتارپھینکنےمیں کامیاب نہیں ہوئے ،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یورپی استعمارنے جانے جاتے ایک بات کو یقینی بنایا کہ آزاد کردہ مسلمان ملکوں میں اقتداراس طبقہ کے حوالے کر گئےجو مغربی تہذیب کے پروردہ اور ستارتھے انھوں نے ان ملکوں میں قرآن و سنت کے نفاذ کی بجائے نو آبادیاتی قوانین کو جاری رکھا ۔وہ جس نظام تعلیم کی خود پیداوار تھے اسی کو انھوں نے جو ں کا توں برقراررکھتے ہوئے مسلمانوں کی نئی نسل کی ذہن کوسازی مغربی سانچوں کے مطابق کی، ان مسلم ممالک کا برسر اقتدار طبقہ اگر چہ نسلی طور پر تو مسلمان ہی تھا مگر ان کی فکر سیکولر(لادینی )تھی۔
  • فروری
2004
عطاء اللہ صدیقی
ثقافت اور کلچر کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ وہ زندگی کی روحانی، فکری، مذہبی اور اخلاقی قدروں کی مجسم تصویر کا نام ہے۔ سچائی، حسن، خیرمحض، انصاف اور محبت اِسی کلچر کی کرنیں ہیں ۔ ثقافت نام ہے ایک طرزِفکر، تخلیقی روایت اور طرزِ معاشرت کا ، جس میں زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ راست بازی، نگاہ کی بلندی اورکردار کی پاکیزگی قرار پاتی ہے۔
  • اپریل
2006
عطاء اللہ صدیقی
کسی تہوار کوہندوانہ رسم ثابت کرنے کے لئے تاریخی حقائق اگر کچھ اہمیت رکھتے ہیں ، تو یہ بات تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں ہے کہ بسنت ہندوانہ تہوار ہے۔ وہ لوگ جو ان تاریخی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور بسنت کومحض ایک موسمی اور مسلمانوں کاثقافتی تہوار کہتے ہیں ، ان کی رائے مغالطہ آمیز اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ہم اس موضوع پر ایک دوسرے مضمون میں تفصیلاً بحث کر چکے ہیں ۔ (دیکھئے شمارہ محدث: فروری 2002ئ)
  • مارچ
2002
عطاء اللہ صدیقی
پاکستان کا قیام دو قومی نظریہ کی بنیاد پر عمل میں آیا۔ اس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ مسلمان اپنے دینی عقائد، تصورِ عبادت، قانون و شریعت، تہذیب و ثقافت اور تاریخی روایات کی بنا پر ہندوؤں سے الگ قوم ہیں۔ اسلام نے رنگ ونسل، زبان وعلاقہ کی وحدت کی بجائے نظریہ کی وحدت کو مسلم قومیت(ملت٭) کی بنیاد ٹھہرایا۔ اسلام نے تمام بنی نوع انسان کو ملت ِاسلامیہ اور ملت ِکفریہ میں تقسیم کیا ہے۔
  • جنوری
2001
عطاء اللہ صدیقی
بہت طویل عرصہ کے بعد عالم اسلام کے نامور دانشوروں کا ایک زبردست اجتماع شہر لاہور میں منعقد ہوا۔ لاہور جسے چوتھی اسلامی سربراہی کانفرنس (۱۹۷۳ء) کی میزبانی کا شرف حاصل ہے، انٹرنیشنل اسلامی کانفرنس (۲۰۰۰ء) کے مندوبین کی میزبانی کا اعزاز بھی اسے میسر آیا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس اگر اسلامی ریاستوں کے سربراہوں کی کہکشاں کا منظر پیش کر رہی تھی
  • اکتوبر
2010
عطاء اللہ صدیقی
ممکن ہے بعض 'حقیقت پسند' دانشور اس تصور سے اتفاق نہ کریں کہ عظیم تباہی بھی کسی قوم کی ترقی یا روشن مستقبل کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ پاکستان میں انسانی تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کی ہولناکی اور تباہ کاری کا مشاہدہ کرنے کے بعد اگر کوئی یہ خواب دیکھتا ہے کہ یہ تباہی خوش حالی کے نتائج بھی سامنے لاسکتی ہے
  • نومبر
2004
عطاء اللہ صدیقی
مغرب میں برپا کی جانے والی 'تحریک ِآزادیٴ نسواں' نے عورت کو جو مراعات اور آزادیاں بخشی ہیں، ان کی افادیت کے متعلق خود اہل مغرب کے درمیان بھی اتفاقِ رائے نہیں ہے، البتہ آزادی کے اس دو سو سالہ سفر کے بعد بلاشبہ عورت ایک ناقابل تلافی نقصان سے دو چار ضرور ہوئی ہے،وہ یہ کہ مغربی عورت اپنے عورت ہونے کے تشخص کو گم کر بیٹھی ہے۔
  • ستمبر
2001
عطاء اللہ صدیقی
تعلیم کامعاملہ ہو یا صحت ِعامہ کی بات، سائنسی ترقی کا سوال ہو یا معاشی خوشحالی کی بات ہو، پسماندگی اور بدحالی ہرجگہ ہمارے سامنے آتی ہے۔ دنیا بھر میں ہمارا تعارف ایک پسماندہ قوم کے طور پر موجود ہے۔البتہ ایک شعبہ ایسا ہے جس میں ہم نے 'ہوش ربا' ترقی کی ہے، وہ ہے 'ترقی پسندی'۔ ہمارا طرہٴ امتیاز یہ ہے کہ ہم ترقی کرنے کی بجائے'ترقی پسندی' کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
  • اپریل
2004
عطاء اللہ صدیقی
پاکستان کے آئین کے مطابق اسلام کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے، لیکن ہمارے ہاں سیکولر مزاج رکھنے والے حکمران طبقہ نے صدقِ دل سے اسلام اور شریعت کی اس بالادستی کو کبھی قبول نہیں کیا۔ امریکہ اور یورپ پاکستان کو ایک خالصتا اسلامی ریاست کی حیثیت سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں 'اسلامائزیشن' کے عمل کے خلاف ہمیشہ پرزور احتجاج کیا ہے۔
  • فروری
2002
عطاء اللہ صدیقی
جنرل پرویز مشرف صاحب کا اصل زاویہٴ نگاہ اور فکری میلان (Mindset)کیا ہے؟ کیا وہ ایک سیکولر راہنما ہیں یا اسلام پسند؟ کیا انہیں جدید ترکی کے معمار مصطفی کمال (اتاترک) کی طرح کا 'لبرل' سمجھا جائے یا اسلام کی لبرل تعبیر پریقین رکھنے والامسلمان کہا جائے؟ کیا وہ ترقی پسندانہ اسلام کانام لے کر پاکستان میں سیکولر زم کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں
  • جنوری
2003
عطاء اللہ صدیقی
خالق کائنات نے انسانوں کی راہنمائی اور اپنی کمال رحمت ورافت کے اظہار کے لئے جو نظام تجویز فرمایا، اس جادۂ حق کو'اسلام' کا عنوان عطا فرمایا۔ یہی وہ 'صراطِ مستقیم' ہے جو درحقیقت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سرورِ انبیاء حضرت محمدﷺ تک کے سلسلۂ ہادیانِ برحق کی بعثت کا باعث و حقیقی سبب ہے۔ یہی وہ دین حق ہے جو ﴿لِيُظهِرَ‌هُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ﴾ کا مصداق اصلی ہے۔ یہی وہ فیضانِ حق تھا
  • جولائی
1996
عطاء اللہ صدیقی
مغرب کے فکری دستر خوان کے خوشہ چین عجب تضادات کا شکار ہیں:
سواد اعظم کے دباؤ کے زیراثران میں اتنی اخلاقی جرات تو نہیں کہ وہ کھلم کھلا اسلام کے کامل دین ہونے کے خلاف کچھ کہہ سکیں۔لیکن ان کی فکر کے تمام دھارے اسلام کی مخالفت سمت میں بہہ رہے ہیں تاہم انہیں اصرار ہے کہ انہیں بہرحال مسلمان سمجھا جائے۔
2۔ان کو تاہ فکرفرنگ زدہ دانشوروں سے اگر دریافت کیا جائے کہ آخر مغرب کے پیش کردہ بلند بانگ انسانی حقوق کی طولانی فہرست کا وہ کونسا گوشہ ہے جو اسلام کے عالمگیر معاشرے کی تشکیل کے وسیع دائرے میں شامل نہیں ہے تو وہ کسی ایک بھی نکتے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔
3۔اگرچہ وہ مسلمان کہلانے پر مصر ہیں۔لیکن اسلام کے نام پر شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک میں شرکت کا داغ اپنے اوپر لینے کو تیار نہیں۔اسلام میں انسانی حقوق کاجو وسیع نظام موجود ہے۔مغرب کے انسانی حقوق کاخاکہ اس کے عشر عشیر بھی نہیں ہے۔لیکن"کل"کوچھوڑکر"جزو" کو محض زعم باطل میں مبتلا ہوکر اختیار کیے ہوئے ہیں کہ  ترقی پسندی اورروشن خیالی کے حصول کا ان کے نزدیک واحد راستہ یہی ہے۔
4۔درحقیقت وہ فکری اعتبار سے نہ تو وہ صحیح معنوں میں ترقی پسند ہیں اور نہ روشن خیال،ان کے فکر کی ہر تان وعظمت آدم اور شرف انسانیت کے تصورسے متصادم ہے ان کی سرگرمیوں کا سار محور عظمت  انسانی سے زیادہ مغربی آقاؤں کے سامنے اپنے آپ کو ترقی پسند کے روپ میں پیش کرنا ہے۔
5۔ان کے ذہن مغربی ژولیدگی سے مزین ہیں۔اور ان کی زبانوں کو مغرب کے زہریلے پروپیگنڈے کی چاٹ لگی ہوئی ہے۔ان کے ذہن ہر اس ہتک آمیز فلسفے ،اصطلاح اور لفظ کی جگالی کرتے رہتے ہیں جو انہیں مغرب کے ذرائع ابلاغ سے ملتاہے۔اسلام پسندوں کی تضحیک وتوہین میں وہ اپنے مغربی آقاؤں سے بھی دو چار ہاتھ آگے ہیں۔
  • اپریل
2002
عطاء اللہ صدیقی
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ۲۸/مارچ ۲۰۰۲ء کو ختم ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لئے سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبہ کی بالآخر منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبہ پر عمل درآمد کے لئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ 'اعلانِ بیروت' کا دوسرا اہم نکتہ عراق اور کویت کے درمیان مکمل مفاہمت کا اعلان ہے۔
  • دسمبر
2001
عطاء اللہ صدیقی
ایک فرد کی مزاحمت مہلک امراض کے جراثیم کے خلاف ہو یا ایک قوم کی مزاحمت طاقتور قوم کے مہلک ہتھیاروں کے خلاف، اس کی بہرحال ایک حد ضرور ہوتی ہے۔ طالبان جس قدر بھی قوتِ ایمانی سے سرشار ہوں یا بقول ایک امریکی جرنیل کے جس قدر بھی 'سخت جان' ہوں، مگر جب ارضِ افغانستان کا چپہ چپہ کارپٹ بمباری سے اُدھیڑا جارہا ہو،
  • فروری
2000
عطاء اللہ صدیقی
1999ء جسے بیسویں صدی کا آخری سال قرار دیا جا رہا ہے۔ ملت اسلامیہ کے لیے عام الحزن ثابت ہوا کہ اسے یکے بعد دیگر متعدد نابغہ ہائے عصر اور اساطین علم و ادب کے داغ ہائے مفارقت سہنے پڑے ۔ان میں تین گراں قدر ہستیاں تو ایسی ہیں کہ جن کی رحلت نے ملت اسلامیہ کو علمی اعتبار سے فی الواقع یتیم اور ویران کر کے رکھ دیا ہے ۔جون 99ء میں سعودی عری کے مفتی اعظم سماحۃالشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کے سانحہ ارتحال سے ملت اسلامیہ ایک عظیم عالم دین اور مدبر سے محروم ہوگئی2/اکتوبر کو علمائے سلف کی یادگار فخر روزگار علامہ محمد ناصر الدین البانی کے انتقال کی صاعقہ اثر خبر نے پورے عالم اسلام کو محزون و ملول کردیا ۔
  • اگست
2000
عطاء اللہ صدیقی
سیکولرازم  ایک وسیع الجہات اور سریع الارثر نظر یہ ہے جو اپنے معتقدین کی فکر میں انقلاب برپا کردیتا ہے۔تصور کائنات یعنی انسان کے کائنات میں مقام سے لے کر زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں سیکولرازم پر یقین رکھنے والوں کے خیالات  یکسر بدل جاتے ہیں چونکہ یہ نظریہ مسیحی یورپ کی دینی آمریت کے خلاف رد عمل کے طور پر پروان چڑھا اسی لیے سیکولرافراد میں مذہب کے خلاف شدید نفرت اور عمومی بغاوت کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ اگر کسی بات کو درست بھی سمجھتے ہوں جونہی انہیں معلوم  ہو جائے کہ اس بات کا سر چشمہ مذہب کی تعلیمات ہیں تو وہ اس سے شدید بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اس کو جنوبی انداز میں مسترد کر دیتے ہیں ان کے اندر مریضانہ عقل پرستی بلکہ الحاد پرستی کا نفسیاتی مرض پیدا ہو جا تا ہے ذرا معتدل مزاج کے سیکولرافراد خدا کے باوجود سے تو کلیۃ انکار نہیں کرتے مگر یوم آخرت  جنت اور دوزخ کے معاملات  انہیں محض علامتی باتیں لگتی ہیں جن کا حقیقت سے کو ئی تعلق نہیں ہے (نعوذ باللہ)
  • دسمبر
1998
عطاء اللہ صدیقی
آئین میں پندرھویں ترمیم کابل بعض ضروری رد وبدل کےساتھ قومی اسمبلی کےارکان کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کےبعد سینٹ میں حتمی منظوری کےلیے پیش کردیا کیا ہے۔ پندرھویں ترمیم کےابتدائی مسودہ اورمنظور شدہ بل میں نمایاں ترین فرق، دستور کےآرٹیکل 239 میں ترمیم کی تجویز کا واپس لیا جانا ہے۔ اس کےعلاوہ مجوزہ آرٹیکل ’ 2 ب ، کی ذیلی شق ’ 3 ، کو بھی حذف کردیا گیا ہے۔ 

ابتدائی مسودہ میں آئین کےآرٹیکل 2 میں ’’2ب ،، کا اضافہ تجویز کیاگیا تھا جومزید 5ذیلی  شقات پرمبنی تھا، اب قومی اسمبلی سےمنظور شدہ بل میں چونکہ 2( ب) کی شق 3 کوحذف کردیا گیا ہے، اسی لیے اب تازہ ترین بل میں 2 ( ب) کی 4 ذیلی دفعات موجودہیں ۔ ان کی زبان ، اسلوب یاالفاظ میں ذرا برابر تبدیلی نہیں کی گئی اوریہ ابتدائی مسودہ کےسوفیصد عین مطابق ہیں ۔ قومی اسمبلی کےمنظور کردہ آرٹیکل 2۔ب کاتازہ ترین متن حسب ذیل ہے
  • مئی
1999
عطاء اللہ صدیقی
عاصمہ جہانگیرکی طرف سے اسلامی شعائر کی تضحیک
اسلامی شعائر اور معروفات کی پاسداری مسلمانوں میں اسلام سے محبت اور قلبی وابستگی میں اضافہ کرتی ہے اسی لیے اسلام دشمن قوتوں کے مذموم پراپیگنڈہ کا یہ مؤثر ہتھیار رہا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کی تضحیک و تحقیر کے گھناؤ نے فعل کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی عظمت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں داڑھی رکھنا اسلامی شعائر میں داخل ہے باریش مسلمانوں کو جس استہزاء اورکیک حملوں کا نشانہ بنایا جا تا ہے وہ محتاج بیان نہیں پردہ اسلامی حکم کے ساتھ ساتھ اسلامی شعائر کا حصہ بھی ہے۔ اس کے متعلق جس طرح لادین اور اسلام دشمن عناصر ہر زہ سرائی کرتے ہیں وہ اس مذموم پراپیگنڈہ مہم کا حصہ ہے۔ ولیٰ ہذاالقیاس ۔
  • فروری
2003
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ شمارے میں پاکستان میں نفاذِ اسلام کے متعلق عام مسلمان جو توقعات وابستہ کرتے ہیں، ان کا مختصر طور پراحساس دلایا گیا تھا۔ ذیلی سطور میں جو کچھ پیش کیا جائے گا، وہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کا مفصل خاکہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اس میں بیان کیا جائے گا کہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کس طرح اپنی ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد تدریجی انداز میں نفاذِ اسلام کے کٹھن نصب العین پر عمل درآمد کا آغاز کرے۔
  • اگست
2003
عطاء اللہ صدیقی
چار ممالک کے بیس روزہ دورے سے وطن واپسی پر صدر پرویز مشرف نے اپنی پریس کانفرنس میں تقریباً تمام اہم موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
  • اکتوبر
1995
عطاء اللہ صدیقی
رکن صوبائی اسمبلی جناب عبدالرشید بھٹی نے گذشتہ دنوں پنجاب اسمبلی میں پنجاب کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے قومی زبان اور قرآن کی زبان، عربی کی جس طرح مذمت فرمائی، اس سے عام پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں مثلا اسرائیلی، بلوچی، پشتو، وغیرہ کی ترویج و اشاعت کے حق میں آواز اٹھانا کوئی غیر مستحسن بات نہیں ہےلیکن کیا ضروری ہے
  • مارچ
2004
عطاء اللہ صدیقی
مغرب نے قوموں کی ترقی کے لئے جس سماجی فلسفہ کو آگے بڑھایا ہے ، اس کا ایک بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترقی کے عمل میں عورتوں کی شرکت کے بغیر خاطر خواہ نتائج کا حصول ممکن نہیں ہے۔ یہ فقرہ تو تقریباً ضرب ُالمثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے کہ مرد اور عورت گاڑی کے دو پہیوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ کہ زندگی کے ہر شعبے میں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں ۔
  • مئی
2001
عطاء اللہ صدیقی
سیالکوٹ کے ایک پادری ولیم مسیح نے حال ہی میں ایک پمفلٹ نما اشتہار شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے: "مسلمانو! جواب دو"۔ اس حد درجہ اشتعال انگیز اور توہین آمیز پمفلٹ میں پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی شانِ اقدس میں بے حد نازیبا کلمات ادا کرنے کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کوبلا استثنا 'چمار سے بھی زیادہ ذلیل' قرار دیا گیا ہے۔
  • جون
1999
عطاء اللہ صدیقی
جنسی آوارگی کو انسانی جبلت قرار دینے والا مغرب، اسلامی اور ایشیائی معاشروں میں غیرت و حمیت کے تصور کے معروضی اِدراک سے اگر معذور ہے تو یہ امر تعجب کا باعث نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رویپ کی زبانوں میں کوئی بھی لفظ ایسا نہیں ہے جسے صحیح معنوں میں "غیرت" کا مترادف قرار دیا جا سکے۔ لیکن پاکستان میں انسانی حقوق کے انتھک منادوں کی طرف سے "غیرت کے نام پر قتل" کے لئے سزائے موت کا اگر مطالبہ کیا جاتا ہے تو یقینا اسے ان کی مریضانہ مغرب زدگی سے تعبیر کیا جانا چاہئے۔
گذشتہ کئی برسوں سے مغرب کے سرمائے سے پاکستان میں چلائی جانے والی انسانی حقوق کی علمبردار NGOs کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کے لئے سزائے موت کا قانون تشکیل دیا جائے۔ اگست 1997ء میں سپریم کورٹ کے معزز جج اسلم ناصر زاہد کی سربراہی میں قائم کردہ "خواتین حقوق کمیشن" نے مفصل سفارشات پیش کیں تو اس میں ایک سفارش یہ کی گئی:
"غیرت کے مسئلہ پر قاتلانہ واردات کو قانون کے تحت "قتل عمد" قرار دیا جائے اور اس کے لئے مناسب قانون بنایا جائے" (رپورٹ، باب نمبر 6)
  • ستمبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
بر صغیر پاک وہند کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کے قیام کا مقصد عظیم ہی یہ تھا کہ الگ سے ایک خطہ زمین مسلمانوں کو مل جائے جہاں وہ اپنے تہذیب وتمدن کو از سر نو قائم کر سکیں اور اپنی زندگیاں اسلام کے بتائے ہوئے سنہری اصولوں کے مطابق بغیر کسی رکاوٹ کے گزار سکیں۔

آج جب ہم ۵۶برس کے بعد قیامِ پاکستان کے مقاصد اور پاکستانی معاشرے کی نہج کا باہمی موازنہ کرتے ہیں تو سخت پریشانی اور اُلجھن ہوتی ہے۔
  • ستمبر
2006
عطاء اللہ صدیقی
موجودہ دورِ حکومت میں بالخصوص 'پاکستان میں اسلام یا سیکولرازم؟' کو مختلف پہلوئوں سے زیر بحث لایا جارہا ہے۔ وطن عزیز میں بعض لوگ ایسے ہیں جو قیامِ پاکستان کی اساس اور نظریۂ پاکستان سے ہی منحرف ہیں ۔ اپنے مزعومہ مقاصد کے لئے وہ تواتر سے قائد اعظم کے بیانات کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کرتے رہتے ہیں ۔ ذیل میں اس حوالے سے قائد اعظم کے بیانات اور موقف کا تذکرہ کیا گیا ہے جس سے مقصود محض تاریخی حقائق اور امرواقعہ کی درستگی ہے۔ 
  • جنوری
2000
عطاء اللہ صدیقی
۱۲؍ اکتوبر کو غیر معمولی حالات میں عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد جنرل مشرف کو پہلی مرتبہ جس بات پر مخالفانہ بیانات کا سامنا کرنا پڑا، وہ میاں نوازشریف کی حکومت کی معزولی کا معاملہ نہیں تھا، میاں صاحب کی حکومت کے خاتمہ پر سکوت تو خود جنرل پرویز مشرف کے لئے بھی ایک تعجب انگیز امر تھا۔
  • جولائی
2010
عطاء اللہ صدیقی
قادیانی جماعت کی سپریم کونسل کے ڈائریکٹر مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا ہے کہ ہم قرآن کو آخری کتاب اور رسول اللہ1کو آخری نبی مانتے ہیں اور قرآن و حدیث پر عمل کو اپنا فرض سمجھتے ہیں لیکن ۱۹۷۴ء میں نام نہاد پارلیمنٹ اور نام نہاد صدر نے ہمیں آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر بڑی زیادتی کی۔ بھٹو نے ہمیں غیر مسلم قرار دیا جبکہ ضیاء الحق نے۱۹۸۴ء میںپابندی لگا کر اسے عروج تک پہنچا دیا۔
  • جنوری
2011
عطاء اللہ صدیقی
ملک میں اِن دنون قانون توہین رسالت کا چرچا ہے، 31دسمبر کو ملک بھر کے کاروباری مراکز میں اسی سلسلے میں ہڑتال بھی کی گئی ہے۔ اس قانون کا پس منظر کیا ہے اور کون لوگ اس قانون کو ختم کرنا چاہتے ہیں؟ اس موضوع پر آج سے چند برس قبل لکھا جانے والا ایک ایمان افروز اور دینی غیرت وحمیت سے بھرپور غیر مطبوعہ مضمون ادارہ محدث کے ریکارڈ میں سامنے آیا۔
  • جون
2010
عطاء اللہ صدیقی
حکمت و دانش کا تقاضا ہے کہ انسان جس موضوع کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھتا ہو، اُس کے متعلق کوئی بات کرتے ہوئے یا حتمی رائے کے اظہار سے گریز کرنا چاہیے۔ ورنہ اُس کی کم علمی اور جہالت اُس کے لیے رسوائی اور خجالت کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر کچھ لوگ دانش مندی کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی غیرمحتاط اور بے باکانہ انداز میں ایسے بیانات بھی داغ دیتے ہیں
  • اپریل
2004
عطاء اللہ صدیقی
ہندومت اور بسنت کے تناظر میں
بسنت کو ایک مذہبی یا ثقافتی تہوار کہا جا سکتا ہے ۔۔؟ ہمارے ہاں اسے مسلمانوں کا مذہبی تہوار تو کوئی نہیں کہتا، البتہ بسنت کے حامی دانشور اسے ثقافتی تہوار بلا جھجھک قرار دیتے ہیں۔ وہ ایسا اس لئے سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے ذہنوں میں مذہب اور ثقافت دو دو الگ خانے ہیں۔
  • مئی
2011
عطاء اللہ صدیقی
گذشتہ تین ماہ سے اسلامی عرب اور مشرقِ وسطیٰ عدیم النظیر شورشوں اور استعماری یورشوں کی زد میں ہے۔ مسلمانانِ عالم اس 'لحظہ لحظہ دگرگوں' صورت حال کے بارے میں سخت بھونچکائے ہوئے ہیں، ان کے لیے یہ بھونچال جیسی 'تبدیلی کی ہوائیں' ناقابل فہم ہیں۔ عوام تو رہےایک طرف، ہمارے عالی دماغ دانشور بھی اس ہنگامہ خیز صورت حال کے پسِ پشت محرکات کے حقیقی اِدراک کے بارے میں قاصر معلوم ہوتے ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
عطاء اللہ صدیقی
مغرب کی اِستحصالی معیشت، سودی نظام کے ظالمانہ شکنجے میں کراہ رہی ہے۔ مغرب کے اجتماعی معاشی ڈھانچے میں بینکاری نظام کو وہی مقام حاصل ہے جو انسانی جسم میں گردشِ خون کو۔ جس طرح سرطان زدہ خونی خلئے ( (Cells پورے اِنسانی جسم کے لئے خطرات کا باعث بنتے ہیں بالکل اسی طرح مغرب کا بینکنگ سسٹم مغربی معیشت کے اجتماعی جسد میں سرطانی جڑیں پھیلا رہا ہے۔
  • اپریل
1999
عطاء اللہ صدیقی
دیکھ کر رنگِ چمن نہ ہو پریشان مالی!!
شبِ تاریک کی طوالت اپنی جگہ ہے، نورِ سحر کا امکاں ابھی باقی ہے۔ ظلم کی سیاہ رات کو دَوام نہیں ہوتا۔ خورشید کی کرنیں گھٹا ٹوپ اندھیروں کا سینہ چیز کر کائنات کے لیے ضوفشانی کا سامنا کیا کرتی ہیں۔ تپتے ہوئے صحرا کی وسعتیں دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہئے، مسافر عزم و ہمت سے کام لیں تو اُمید کا نخلستان مل ہی جایا کرتا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کا شجر اگر آج خزاں گزیدہ ہے تو کیا ہوا، اسلام دشمن لابیاں اپنے زہریلے اور اعصاب شکن پراپیگنڈہ سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلا رہی ہیں۔ مایوسی اور قنوطیت ایسے نفسانی امراض ہیں جو قوموں کو ایک دفعہ گر کر دوبارہ اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو﴿ لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّـهِ ...﴿٥٣﴾...الزمر  کا درس دیتا ہے۔
  • فروری
2001
عطاء اللہ صدیقی
"نہیں، تم کچھ نہیں جانتے منٹو! ... یہ نور ہے نورجہاں ہے، سرور ِ جہاں ہے۔ خدا کی قسم ایسی آواز پائی ہے کہ بہشت میں خوش اَلحان سے خوش الحان حور سنے تو اسے سیندور کھلانے کے لئے زمین پر اُتر آئے"
جھوٹ کی حد تک مبالغہ آرائی پر مبنی یہ وہ جملے ہیں
  • مارچ
2000
عطاء اللہ صدیقی
مغربی ذرائع اَبلاغ کی تعلیمات و ہدایات کے زیراثر ہمارے ہاں تواتر سے طبقہ ٔ اشراف سے تعلق رکھنے والا ایک جنونی گروہ پروان چڑھ رہا ہے جس نے تہذیب ِمغرب کی بھونڈی نقالی کو ہی اپنا ایمان بنا رکھا ہے۔ اپنے آپ کو ’ماڈرن‘ سمجھنے اور دکھانے کا اُنہوں نے واحد اسلوب ہی یہ سمجھ رکھا ہے کہ اہل مغرب سال بھر میںجو جو تقریبات منائیں، ان کے قدم بہ قدم بلکہ سانس بہ سانس اس شاغلانہ ہنگامہ آرائی میں دیوانہ وار شامل ہوجائیں۔
  • فروری
  • مارچ
2010
عطاء اللہ صدیقی
۱۴؍فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈے کا نام نہاد تہوار بھی جدید یورپ کی تہذیبی گمراہی اور ثقافتی بے اعتدالیوں کا شاخسانہ ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے بالآخر جنسی آوارگی، بے ہودگی اور خرافات کو مسلسل پراپیگنڈے کے زور پر ایک 'تہوار' بنا دیا ہے۔ مغربی میڈیا نوجوانوں میں اخلاقی نصب العین کے مقابلے میں ہمیشہ بے راہ روی کو فروغ دینے میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کرتا ہے۔
  • جولائی
2001
عطاء اللہ صدیقی
پاکستان کے سیکولر ، ملحد، اشتراکی دانش باز حسن اتفاق سے مسلمان گھرانوں میں پیدا تو ہوگئے تھے مگر وہ اس 'اتفاقی حادثہ' کے متعلق شدید ندامت اور خجالت کا شکارہیں۔ وہ 'روشن خیالی' کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچے ہوئے ہیں جہاں اسلام سے کسی قسم کی وابستگی یا اپنی اسلامی شناخت کا اعتراف انہیں رِجعت پسندی کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔
  • دسمبر
2000
عطاء اللہ صدیقی
پاکستانی این جی اوز کے راہنماؤں پر اچانک یہ حقیقت منکشف ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت غیر آئینی وغیر قانونی ہے پاکستان این جی اوز فورم کے مرکزی راہنماؤں نے ،سنگی فاؤنڈیشن کے راہنماؤں کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این جی اوز میں کام کرنے والے افراد جو وزیر بن گئے ہیں ان کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا کیونکہ ملک کی تین ہزار نمائندہ این جی اوزاس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت غیر آئینی ہے جسے عوام کا کوئی ،مینڈیٹ ،حاصل نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے این جی اوز کے خلاف دباؤ بہت بڑھ گیاہے۔(روز نامہ نوائے وقت : یکم ستمبر 2000ء)
جنرل پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں این جی اوز کی اچھل کود اور آؤ بھگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ۔فوجی حکومت نے آتے ہی وفاقی اور صوبائی کابینہ میں این جی اوز کے متحرک افراد کو وزارتیں دے دیں عمر اصغر خان عطیہ عنایت اللہ جاوید جبار زبیدہ جلال شاہین عتیق الرحمٰن اور چند دیگرخواتین و حضرات دیکھتے ہی دیکھتے فوجی حکومت کے نفس ہائے ناطقہ بن گئے حکومت کے دیگر روشن خیال وزراء کی رفاقت سے این جی اوزبرانڈ  وزراکو مزید روحانی تقویت ملی۔
  • جون
2001
عطاء اللہ صدیقی
(گذشتہ سے پیوستہ) اس تحقیقی مقالہ میں انہوں نے نہایت تفصیل سے پنجابی زبان کے کلاسیکل شعرا اور صوفیا کی شاعری پر قرآن مجید کے اثرات کو بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر جعفری صاحب لکھتے ہیں :
"لوک گیتوں کے علاوہ بھی ہماری ساری پنجابی شاعری پر بالعموم اور صوفیانہ شاعری پر خاص طور پر قرآنِ پاک کے اثرات واضح دکھائی دیتے ہیں۔
  • مئی
2001
عطاء اللہ صدیقی
فکری سرطان میں مبتلا پاکستانی دانش باز اسلام اور پاکستان کے خلاف اپنے خبث ِباطن کے اظہار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ۱۳/ اپریل اور ۱۶/ اپریل ۲۰۰۱ء کے دوران لاہور میں منعقدہ چار روزہ عالمی پنچابی کانفرنس کی جو تفصیلات قومی پریس میں شائع ہوئی ہیں، اس سے یہ نتیجہ اَخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ یہ کانفرنس یہود وہنود لابی کی پاکستان کے خلاف مذموم سرگرمیوں کا تسلسل تھی۔
  • جولائی
2010
عطاء اللہ صدیقی
لاہور میں قادیانیوں کے خلاف دہشت گردی کے تازہ واقعات کے بعد، گذشتہ چند ہفتوں سے ہمارے سیکولر کالم نگار اور لبرل دانشور تواتر سے دینی مدارس کو جارحانہ تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ بالخصوص انگریزی اخبارات میںاس طرح کے کالم اور مضامین تسلسل سے شائع ہو رہے ہیں۔یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مضامین 'رینڈ کارپوریشن' جیسے امریکی تھنک ٹینکس کی کسی تازہ رپورٹ اور سفارشات کی تائید میں لکھے جارہے ہیں
  • نومبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
گروہِ ملاحدہ اور سیکولر متفرنجین کی دل آزار شقاوتِ قلبی پر نوحہ گری سے قلم کو ابھی فرصت میسر نہیں آتی کہ متجددین ِشریعت میں سے کسی کی ایسی تحریر نگاہ سے گزرتی ہے جو قلب کو چیرتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ ہمارے ہاں شریعت کو 'روحِ عصر' کے مطابق ڈھالنے کا 'عظیم مشن' لے کر عقل پرست متجددین اور اشراقی محققین کا ایک گروہ سامنے آیا ہے جس کے نزدیک تجدید ِدین کا مفہوم بس اتنا ہی ہے
  • دسمبر
2003
عطاء اللہ صدیقی
یاد رہے کہ آج کی مسجداقصیٰ وہ 'مسجد ِاقصیٰ' نہیں ہے جس سے آقائے دوجہاں، امام الانبیا 1نے معراج کا سفر شروع کیا تھا۔ یہ درحقیقت وہ مسجد ہے جس کی تعمیر اُموی خلیفہ عبدالملک کے دور میں ۶۸۸ء میں ہوئی تھی۔ اس کا اعتراف اشراقی مصنف کو بھی ہے۔ دوسری بات جان لینے کی یہ ہے کہ قبۃ الصخرۃ اور مسجد ِاقصیٰ بھی ایک نہیں ہیں جیسا کہ مصنف کی ان سطور سے ظاہر ہوتا ہے
  • جنوری
2005
عطاء اللہ صدیقی
زير نظر مضمون ان رپورٹوں كے ايك مختصر تعار ف پرمبنى ہے جو امريكى تهنك ٹینكس اپنى حكومت كو گاہے بگاہے پيش كرتے رہتے ہيں-ان تحقيقى اداروں ميں ’رينڈ كارپوريشن‘ نامى ادارہ بہت متحرك اور فعال ہے، خصوصاً نائن اليون كے بعد اس كى تحقیقى سرگرميوں ميں غيرمعمولى تيزى آئى ہے- ’نائن اليون كے بعد كى مسلم دنيا‘ كے نام سے 567صفحات پر مبنى ايك طويل اور جامع رپورٹ گذشتہ سال اس ادارہ كى طرف سے پيش كى گئى ہے جس ميں عالم اسلام كے كليدى مسائل اور اہم ممالك كے بارے ميں امريكى پاليسى سازوں كے لئے رہنما ہدايات وسفارشات شامل ہيں-
  • جنوری
2005
عطاء اللہ صدیقی
”ہميں انتہا پسند مولويوں كے اسلام كى ضرورت نہيں ہے، اگر كسى كو برقعہ اور داڑهى پسند ہے تو اسے اپنے گهر تك محدود ركهے- ہم انہيں برقعہ /داڑهى ملك پر مسلط نہيں كرنے ديں گے-“    
”بعض شدت پسند مذہبى تنظيميں ہميں كئى صدياں پیچھے لے جانا چاہتى ہيں- ہميں زمانے كے ساتھ چلنا ہوگا-
  • اکتوبر
2008
عطاء اللہ صدیقی
18؍ اگست 2008ء پاکستان کے کروڑوں دین پسند، محب ِوطن اورباطل دشمن افراد کے لئے زہق الباطل کی نوید لے کرآیا۔ یہی وہ مبارک اور تاریخ ساز دن تھا جب پوری دنیا کے اَربوں مسلمانوں نے ٹیلی ویژن پر براہِ راست (دو بجنے سے صرف دو منٹ پہلے) جنرل پرویز مشرف کی زبان سے صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان سنا۔