• اکتوبر
1994
محمود الرحمن فیصل
(((سیکولرزم انسانی زندگی کو چھ حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
1۔افکارونظریات۔2۔پوجا پاٹ۔3۔رسوم ورواج۔4۔معاشرت۔5۔معیشت۔6۔سیاست
پہلے تین حصوں میں وہ مذہبی آزادی کا قائل ہے۔جبکہ بقیہ تین حصوں:معاشرت ،معیشت،اور سیاست میں وہ انسانیت کے نام پر سختی سے الہامی ہدایات کو مسترد کرنے پر زور دیتا ہے۔اس وقت عالمی سطح پر اسلام اورسیکولر ازم کی فکری کشمکش چل رہی ہے،چونکہ زیادہ تر  رسوم ورواج کا  تعلق خاندان سے ہے۔ جو معاشرت کی بنیادہے۔ لہذا یہ مرحلہ سیکولرازم اور اسلام کے درمیان پل بن گیا ہے۔جس نے یہ پل پار کرلیا وہ جنگ جیت گیا۔خاندانی منصوبہ بندی کا مسئلہ درحقیقت زیادہ تر فقہی نہیں ہے بلکہ عائلی تصورات کے نام پر اسلامی عقائد پر حملہ ہے۔
  • دسمبر
1994
محمود الرحمن فیصل
مالا کنڈ کے سانحہ پر مندرجہ بالا عنوان سے ڈاکٹر محمد فاروق خان نے 23 نونومبر کے روزنامہ جنگ میں تجزیہ کرتے ہوئے جو سوالات اٹھائے ہیں اور صورت حال کا جو حل پیش کیا ہے ، اصل حقیت اس سے با لکل مختلف ہے ۔تحریک نفاذ شریعت جو وہاں کئی سال سے پر امن طور پر جا رہی تھی ، کے درجنوں افراد کو شہید کر کے اس پر مسلح جددجہد کرنے کا الزام لگا دینا قرینِ انصاف نہیں ہے خصوصا جب کہ تحریک کے سر براہ صوفی محمد مبیّنہ طور پر عدم تشدد کا پرچار اور اعلان کر رہے تھے ۔
  • جنوری
1995
محمود الرحمن فیصل
روس نے اپنی روایتی مسلم دشمنی کا ثبوت دیتے ہو ئے افغانستا ن کی تبا ہی اور بو سنیا میں شر مناک کر دارادا کرنے کے بعد بلآخر آزادی کا اعلان کرنے والی مسلمان ریاست جمہور یہ چیچنیا جسے مقامی زبان میں " چیچنیا " کہتے ہیں پر فوجی چڑھائی کر کے مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اس سے قبل وہ سابقہ سوویت یو نین سے آزاد ہو نے والی دیگر مسلم ریاستوں خصوصاً تاجکستان میں حتی المقدور فوجی مداخلت کرتا رہا ہے رشین فیڈریشن کی دیگر ریاستوں کے سامنے بے بس ہو کر اس نے انتقامی کا روا ئی کے لیے چیچنیا کا نتخاب کیا اور انسانی حقوق اور حق خود ارادیت کے اعلیٰ و ارفع اصولوں کو پامال کرتے ہو ئے "آئین کی بحالی " کے نام پر اس نومو د ریاست پر آتش و آہن کی بارش کر دی ہوائی اڈے اور طیاروں کو تباہ کرنے کے علاوہ شہری آبادیوں پر بے دریغ بمباری کر کے بھاری جا نی اور مالی نقصان پہنچا یا گیا.