• مئی
1990
عبدالقدوس سلفی
یوں تو ہر دور میں انسانوں کا ایک  گروہ انبیاء ورسل کے پیش کردہ احکامات  اللہیہ کے بارے میں کہتا رہا کہ:
"یہ سب کچھ تمہاری اپنی آسیب زدہ شخصیت کا اظہار ہے حقیقت سے اسے کوئی واسطہ نہیں۔لیکن اس عصر حاضر میں بھی غیر مسلموں کا ایک ہجوم بات وہی کہتا ہے لیکن اعتراف عظمت کے ساتھ۔"
ڈاکٹر مچل ایچ ہارٹ اپنی تصنیف"ایک سو" "the hunredمیں ایسے سو آدمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے  جنھوں نے تاریخ پر سب سے زیادہ اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔سر فہرست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتا ہے:
"محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی تاریخ میں ایسے عدیم المثال اثرات چھوڑے ہیں کہ کسی بھی دوسری مذہبی یا غیر مذہبی شخصیت کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوسکا۔"
  • اکتوبر
1989
عبدالقدوس سلفی
الحمد لله وحده والصلاة والسلام عى من لا نبى بعده، اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم

﴿إِنَّ الَّذينَ يَكفُرونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُريدونَ أَن يُفَرِّقوا بَينَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقولونَ نُؤمِنُ بِبَعضٍ وَنَكفُرُ بِبَعضٍ وَيُريدونَ أَن يَتَّخِذوا بَينَ ذ‌ٰلِكَ سَبيلًا ﴿١٥٠﴾ أُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِرونَ حَقًّا وَأَعتَدنا لِلكـٰفِرينَ عَذابًا مُهينًا ﴿١٥١﴾ وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَم يُفَرِّقوا بَينَ أَحَدٍ مِنهُم أُولـٰئِكَ سَوفَ يُؤتيهِم أُجورَهُم وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿١٥٢﴾... سورة النساء