• اگست
  • ستمبر
2002
عبداللہ عابد
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی گئی وحی کے مطابق حضور ﷺ نے آئندہ زمانے کے مختلف فتنوں اور حوادث کا ذکر فرمایا جس کی تفصیل مختلف احادیث میں موجودہے۔ انکارِ حدیث کے فتنے کے بارے میں بھی حضورِ اکرمرنے مطلع فرمادیا تھا جیسا کہ آپؐکے درج ذیل فرمان سے واضح ہے :
''لا ألفين أحدکم متکئا علی أريکته، يأتيه الأمر من أمری مما أمرت به أو نهيت عنه، فيقول: لا أدری، ما وجدنا فی کتاب الله اتبعناه '' (۱)
  • نومبر
1994
عبداللہ عابد
معلقات معلقۃ کی جمع ہے ۔اس کا مادہ "حلق "ہے جس کے معنی :عمدہ اور نفیس چیز کے ہیں ابن منظور صاحب لسان العرب نے اس کا معنی یوں کیا ہے 
 العلق : المال الكريم  و يقال  : علق خير ... والجمع  أعلاق ...الخ
المنجد فى اللغة والأعلام  : العلق جمعه إعلاق و علوق : النفس من كل شيئ لتعلق قلبه.
2۔یعنی حلق سے مراد ہر وہ نفیس چیز جس کی طرف دل مائل ہو جا ئے ۔اس اعتبار سے معلقات سے مراد دور جاہلیت کے ایسے قصائد جو لفظی اور معنوی اعتبار سے اس دور کی شاعری میں سب سے زیادہ عمدہ اور نفیس ہیں ۔
وجہ تسمیہ :
معلقات کی وجہ تسمیہ کے بارے میں اُدباء اور ناقدین کے الگ الگ نظریات ہیں ۔
1۔بعض ادباء کے خیال میں عربوں کے نزدیک ان قصائد کی بڑی شان و عظمت تھی کیونکہ وہ شاعری کے بڑے دلدادہ تھے اور اسے بڑی اہمیت دیتے تھے۔