• اگست
  • ستمبر
2002
صفی الرحمن مبارک پوری
انکارِ حدیث کے لئے سب سے اہم اور بنیادی نکتہ یہ تلاش کیا گیا ہے کہ قرآنِ مجید میں ہر مسئلہ کی تفصیل بیان کردی گئی ہے، اس لئے حدیث کی ضرورت نہیں ۔اس کے ثبوت میں قرآن مجید کے متعلق تبيانا لکل شيئ اور تفصيلا لکل شيئ والی آیات پیش کی جاتی ہیں۔ جن کا مطلب توڑ مروڑ کر اور غلط ملط بیان کرکے یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ قرآن میں ہر مسئلہ کی تفصیل موجود ہے۔
  • دسمبر
1999
صفی الرحمن مبارک پوری
 "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ "
(اے ایمان والو!تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ شعار بن جاؤ)
اللہ تعالیٰ نے انسان میں خیر و شر دونوں کی صلاحیت رکھی ہے اور ہر شخص اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے انداز فکر کے مطابق دونوں میں سے کوئی ایک راستہ اختیار کرتا ہے بلکہ مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اکثر لوگوں میں خیر و شر دونوں جمع ہوتے ہیں جو شخص خیر کی راہ اپنا تا ہے اس سے بھی فطری تقاضوں اور بشری کمزوریوں کی بنا پر بہت سی غلطیاں اور لغزشیں سر زد ہو جاتی ہیں اور جو شخص برائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو وہ بھی بہت سے مواقع پر اچھے کام کر ڈالتا ہے۔
  • نومبر
2000
صفی الرحمن مبارک پوری
برصغیر(پاک وہند) کی ملت اسلامیہ کی بدقسمتی یا آزمائش کہہ لیجئے کہ یہ پورا خطہ پرسوز طرح طرح کے دینی  فتنوں کی آماجگاہ ہے اور یہاں خودمسلمان کے اندرسے اسلام دشمن فتنے جنم لیتے رہتے ہیں۔کوئی صدی  بھر سے ر سول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کو دین سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں تشکیک کے نت نئے پہلو سامنےآتے رہتے ہیں۔کچھ دنوں سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ قبر کےعذاب وثواب کاعقیدہ غلط اور قرآن کے خلاف ہے۔
پیش نظر کتابچہ میں اسی خیال کا جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ عقیدہ حدیث ہی کی طرح قرآن سے ثابت ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس عقیدہ کو نہ ماننے والے حدیث کے تو منکر ہیں ہی،قرآن کے بھی منکر ہیں۔یعنی ایسے لوگ نہ قرآن کو سمجھتے ہیں اور نہ اس پر ایمان رکھتے ہیں۔پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجے کہ عذاب وثواب قبر کامطلب ہے :مردے کو برزخ میں(موت کے بعد) اورقیامت سے  پہلے کی مدت میں عذاب یاثواب ملنا۔اتنی سی بات ذہن میں رکھ کر قرآن مجید سے اس کا ثبوت سنیے: