• نومبر
1972
علیم الدین شمسی
کیوں بندۂ مومن نہیں تقریر میں بے باک        کھلتے نہیں کیوں قوم کی تقدیر کے پےچاک
کیوں سوزِ دروں مردِ خدا کا ہے فسردہ!           الحاد کے ہاتھوں ہے زمیں دین کی نمناک
توحید کی وہ تیغِ دودم کند ہوئی کیوں          یاں کفر بھی عیار ہے اور شرک بھی چالاک
  • فروری
1989
علیم الدین شمسی
"سیلاب آ رہا ہے، اپنے سرمایہ کی حفاظت کرو۔"
جلیل نے نذیر کی معرفت راشد کو یہ پیغام بھیجا اور نذیر کو اپنے اس پیغام کا منشاد مراد بتا دیا کہ "سیلاب" سے اس کی کیا مراد ہے؟ بداخلاقیوں اور برائیوں کی کثرت پر متنبہ کرنا مقصود ہے یا پانی والے سیلاب کی خبر دینا مدِنظر ہے۔ اس طرح "سرمایہ" اور اس کی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ سیرت و کردار کی خوبیاں اور حسنِ اخلاق مراد ہے یا روپیہ اور خانگی سازو سامان مراد ہے؟ راشد تک یہ پیغام پہنچتا ہے، اس کا مفاد و مدعا جلیل ہی بتا سکتا ہے، مگر بعض اسباب ایسے ہیں کہ جلیل راشد کو براہِ راست اپنے پیغام کا مفہوم و مراد نہیں بتا سکتا۔ لہذا اب اس کی واحد شکل یہ ہے کہ نذیر بتائے کہ جلیل کی اس سے کیا مراد ہے؟ اور نذیر ہی کو اس کا حق بھی پہنچتا ہے۔
اب فرض کیجئے کہ نذیر یہ کہتا ہے کہ اس پیغام کا مفہوم و مدعا یہ ہے کہ دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی کا ریلا تیزی سے بڑھتا آ رہا ہے اس لئے راشد کو چاہئے کہ وہ اپنے مال و اسباب کی حفاظت کا سامان کرے، ورنہ ساری چیزیں پانی کے سیلِ رواں میں بہہ جائیں گی۔