• اپریل
1980
ایم- ایم- اے
ماہنامہ  طلوع اسلام کے جولائی 1979ء کے شمارہ میں ’’آرٹ اور اسلام ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں آرٹ اور آرٹ میں سے موسیقی کو بلکہ مزا میر کو قرآنی فکر طے مطابق قابل قبول اور جائز ثابت کیا گیا ۔
ماہنامہ ‘‘ بلاغ القرآن اگست کے شمارہ میں جناب ایم ،ایم ،اے (سمن آباد ،لاہور ) نے ایک مضمون بعنوان ناچ گانا اور زبور مقدس لکھ طر طلوع اسلام کا تعاقب کیا اور یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کی روسے موسیقی ایک لغو اور ناجائز  فعل ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صاحب موصوف نے تعاقب کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے ۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مندرجہ بالا دونوں ماہنامے  (طلوع اسلام اور بلاغ القرآن ) بظعم خویش قرآنی فکر کے حامل ہیں ، دونوں احادیث و آثار اور تاریخ کا بیشتر حصہ وضعی قرار دیتے ہیں ۔ فہذا انہیں ناقابل حجت اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں ، ان میں سے صرف وہ حدیث یا وہ واقعہ ان  کے نزدیک  قابل اعتبار ہے جو ان کے زعم کے مطابق ہوں دونوں قرآن کریم کے معانی و مطالب کی تفہیم کے لئیے   تفسیرا القرآن بالقرآن پر زور دیتے ہیں لیکن ان قرآنی فکر کے حاملین کے فکر میں احادیث و آثار سے انکار کے بعد جس قدر تصنا و تخالف  واقع ہو سکتا ہے  وہ اس مضمون سے پوری طرح واضع ہوجاتا ہے ۔
اس مضمون میں چند باتیں ایسی بھی ہیں جو محل نظر ہیں ۔ لیکن ہم ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مضمون کا پورا متن من وتن  جوالہ قارئین کرتے ہیں (ادارہ )
  • اپریل
1980
ایم- ایم- اے
مضبوط حکومت کےلئے نئے سے نئے جنگی اورزارا ایجاد  کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ نئے سے نئے آلات موسیقی :
آیات بالا میں حضرت داؤد کی حکومت سے متعلق خبر دی گئی ہے ’’شددنا ملک‘‘ کہ ہم نے ان کی حکومت  کو مضبوط پایا تو اس پر سوال پیدا ہوتا کہ مضبوط  حکومت کے لیے نیا سے نیا اسلحہ ایجادکرنے کی ضرورت ہے یا نئے سے نئے آلات موسیقی  یعنی طبلے طنبورے ،سرنگیاں ،ستاریں ،اکتارے ،کھنجریاں اور گھنگرو ایجاد کرنے کی ؟ سورہ سباء میں حضرت داؤد کے متعلق خبر دی گئی ہے :
﴿وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا يـٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ ﴿١٠﴾أَنِ اعمَل سـٰبِغـٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ وَاعمَلوا صـٰلِحًا إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ ﴿١١﴾...سبإ
’’اور بلاشبہ ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے (خلافت ارضی کی )فضیلت  عطا فرمائی  اور اس کی مضبوط جنگی قوت کی بدولت ہم نے اپنے قانون کی زبان سے کہہ دیاکہ ) اے پہاڑی لوگوں ! اور اے  آزاد قبائل ،سب اس کے ساتھ مل کر میرے مطیع ہو جاؤ اور ہم نے اس کےلئے  لوہے کو نرم پایا (اور حکم دیا کہ ) تو زرہیں بنا یا کر اور ان کے حلقوں میں صحیح صحیح  اندازے رکھا کر یعنی تم (لوہے سے جنگی سامان تیار کر کے )صلاحیت بخش عمل کیا کرو۔ بیشک تم جوبھی عمل کرتے ہو میں اسے بہت اچھی طرح دیکھنے والا ہوں !
  • فروری
1973
ایم- ایم- اے
آج ملتِ اسلامیہ اپنی تاریخ کے انتہائی نازک ترین دَور سے گزر رہی ہے۔ طاغوتی طاقتیں اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت اسے فہ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دینے کے لئے صف آراء ہو رہی ہیں۔ آج قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ کے فرزندوں میں نسلی اور لسانی تعصبات کو ہوا دے کر ان کی ملّی وحدت کے عظیم الشان قصر میں نقب لگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ علاقائی عصبیتوں کو اچھال اچھال کر انہیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنایا جا رہا ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1974
ایم- ایم- اے
موجودہ زمانے کو سائنس کا زمانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس صدی میں سائنس کے جو حیرت انگیز انکشافات ہوئے ہیں ان سے حضرت انسان کی آنکھیں خیرہ ہو گئی ہیں۔ سائنس کی یہ ترقی ذہین اور زرخیز دماغوں کی مرہونِ منت ہے۔ یہ لوگ علم و دانش میں اپنی مثال آپ تھے لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں تھا کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کی جانے والی یہ کوششیں ایک دن انسانیت کے لئے وبال جان بھی بن جائیں گی۔