• فروری
1973
منظور احسن عباسی
غیر مسلم اقوام کی مادی، صنعتی اور طبیعیاتی ترقیات اور ان کی محیرّ العقول ایجادات و اختراعات کو دیکھ کر بعض مسلم اقوام سخت حیران ہیں بلکہ ایک تحت الشعوری احساس کمتری میں مبتلا ہو کر اسلاف کے واقعی یا فرضی کارناموں کے بوسیدہ دامن میں پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ روش بجائے خود اسلام کے منافی ہے۔
  • مارچ
1973
منظور احسن عباسی
قرآنِ حکیم نے انسانی زندگی کے دو شعبے قرار دیئے ہیں ان میں سے ایک کو ہم تقاضائے حیات سے اور دوسرے کو مقاصدِ حیات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ یہ فکری الجھنیں محض اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم نے ان تقاضا ہائے حیات کو مقاصدِ حیات تصور کر لیا ہے۔ کھانے پینے کی خواہش، جنسی میلانات، عیش و آرام کی طلب، خوب سے خوب تر کی تلاش، جمالیاتی ذوق، مکارہ سے بے زاری، حادثات سے تحفظ، زندگی سے محبت، مرض اور موت سے نفرت اور ہمہ جہتی ارتقائی رجحانات انسانی زندگی کے لوازمات یا تقاضوں میں سے ہیں۔
  • اپریل
1973
منظور احسن عباسی
مادی ناز و نعم اور دنیوی ترقیات کو ایمان و اسلام کا ثبوت یا اس کے مقاصد میں سے تصور کرنا اسلام کی توہین ہے۔ اسی طرح یہ خیالات کہ کسی فرد یا جماعت کا ترفع یا حکومت و سلطنت، مال و جاہ، ایجادات و اختراعات اور علم و ہنر میں برتری حاصل کر لینا ہی اس کے مذہبی عقائد یا اخلاقی نظریات کے برحق ہونے کی دلیل ہے اور یا یہ خیال کرنا کہ جو لوگ مادی تفوّق کے اس مقام پر فائز ہیں
  • اگست
  • ستمبر
2002
منظور احسن عباسی
جو لوگ 'ادارئہ طلوعِ اسلام' کے اغراض و مقاصد اور مسٹرغلام احمدپرویز کے متعلق کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہیں، ان کو یقینا ادارئہ مذکور کے شائع کردہ پمفلٹ موسومہ 'اطاعت ِرسول 'کے نام سے بڑی حیرت ہوگی۔ لیکن یہ حیرت اسی قسم کی حیرت ہے جو مجھے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت ِاحمدیہ کے ترجمان اخبار 'الفضل'کی ایک خصوصی اشاعت موسومہ 'خاتم النّبیین نمبر' کے نام سے ہوئی تھی۔
  • مئی
1976
منظور احسن عباسی
تابندہ جس کی ضو سے ہے ایوانِ شش جہات         ''وہ کائنات حسن ہے یا حسنِ کائنات''
وہ جس کا لفظ لفظ حقیقت کا ترجمان          وہ جس کی بات بات میں شیرینیٔ نبات
اقوال جس ک شرح کتابٔ مبین اور         افعال جس کے معنیٔ آیاتِ بیّنات
  • جولائی
1978
منظور احسن عباسی
تابندہ جس کی ضو سے ہے ایوانِ شش جہات  ''وہ کائنات حسن ہے یا حسنِ کائنات''
وہ جس کا لفظ لفظ حقیقت کا ترجمان وہ جس کی بات بات میں شیرینیٔ نبات
اقوال جس ک شرح کتابٔ مبین اور افعال جس کے معنیٔ آیاتِ بیّنات
  • نومبر
  • دسمبر
1979
منظور احسن عباسی
شمارہ ہذا میں دو مقالے ''زکوٰۃ و ٹیکس کی شرعی حیثیت'' کے بارے میں شائع کیے جارہے ہیں جومحکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ اطلاعات لاہورکے زیراہتمام مجلس مذاکرہ میں پڑھے گئے۔ اگرچہ دونوں مقالہ نگار پروفیسر منظور احسن عباسی اور ڈاکٹر عبدالرؤف صاحبان اسلام کے پُرخلوص شیدائی ہیں لیکن اپنے افکار میں زکوٰۃ و ٹیکس کو دو مختلف حیثیتوں سے دیکھ رہے ہیں۔ محدث کےمدیراعلیٰ نے اسی مذاکرہ میں اسلام کے معاشی نظام کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے دونوں حضرات کے خیالات کا جائزہ بھی لیاتھا۔جو محدث کی کسی قریبی اشاعت میں پیش خدمت ہوگا۔ انشاء اللہ!
  • جولائی
  • اگست
1973
منظور احسن عباسی
حال میں ایک کتاب بزبان انگریزی بنام Punishment of Apostacy in Islam (اسلام میں سزائے مرتد) سرکاری ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ سے شائع ہوئی ہے۔

اس کتاب کے مؤلف پاکستان پاکستان کے ماہر قانون سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مسٹر ایس۔ اے۔ رحمٰن ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں مصر کے مسیحی تبلیغی جماعت کے سربراہ سیمویل زدمیر کا یہ بیان نقل فرمایا ہے کہ:
  • ستمبر
1973
منظور احسن عباسی
اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ قرآن میں قتل مرتد کی سزا موجود نہیں ہے بلکہ احادیث سے ثابت ہے تب بھی احادیث کو کسی منطقی یا شرعی دلیل سے مخالفِ قرآن نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ جرائم کی بے شمار اقسام ایسی ہیں جن کا مرتکب مستوجب سزا قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کا ذکر قرآن کریم میں نہیں ہے۔ بلکہ حدیث شریف میں ہے لہٰذا ایسے حکم کو قرآن کے خلاف نہیں کہا جا سکتا۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
منظور احسن عباسی
مؤلفِ کتاب نے محض اختلافی نکتوں پر اپنے دلائل کی بنا رکھی ہے۔ متفقہ فیصلہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ لیکن احادیث کی تمام بحث میں کوئی ایک نظیر بھی ایسی نہیں ہے جس سے ظاہر ہو کہ کسی مرتد کو ارتداد کی حالت میں زندہ رہنے کا حق ہے۔ اختلافات کی صورتِ تطبیق یہ ہے کہ مرتد کو مہلت توبہ دی جائے تو بہتر ہے۔ نہ بھی دی جائے تو چنداں مضائقہ نہیں۔
  • دسمبر
1973
منظور احسن عباسی
قارئین جناب جسٹس ایس اے رحمان صاحب کی انگریزی تصنیف Punishment of Apostacy in Islam کے چیدہ چیدہ مقامات پر تبصرہ محدّث کے صفحات پر ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ حالیہ شمارہ میں آخری قسط پیشِ خدمت ہے، جس کے ساتھ یہ خوشخبری بھی ہے کہ اسی موضوع پر جناب پروفیسر منظور احسن عباسی کی مفصل کتاب ''جرام ارتداد'' بھی عنقریب منظر عام پر آرہی ہے۔ (ان شاء اللہ) (ادارہ)
  • نومبر
  • دسمبر
1975
منظور احسن عباسی
عقل ہے دیوانہ محبوب رب العالمین            ہوش ہے وارفتہ انفاس ختم المرسلین
سیرت خیر البشر آیات قرآن مجید        نقش پائے رہبر عالم ہدی للمتقین
ذکر و فکر سرور کونین عیش دو جہاں           الفت شاہ دو عالم دولت دنیا و دیں
  • جنوری
1977
منظور احسن عباسی
جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ والا صفات دُعائے خلیل کا ایک مجسمہ بن کر منصئہ شہود پر جلوہ افروز ہوئی اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیکر محسوس اختیار کر لیا۔

"اللهم اعزالدين بعمر بن الخطاب "یعنی بارِ الہی عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب کے ذریعہ دین کو برتری عطا فرما (طبقات کبریٰ ابن سعد ج3 ص267)
  • جنوری
  • فروری
1976
منظور احسن عباسی
ایران کے بلند پایہ شیعہ عالم اورمفکر کی طرف سےچند تجاویز

شیعہ سنی نزاع جتنا گہرا ہے حقائق کےاعتبار سے اتنا ہی سطحی ہے کیونکہ شیعہ دوستو ں نے اپنے مزعومات کی بنیاد جن امور پر رکھی ہے وہ علمی جذباتی زیادہ ہیں اس لیے اگر حقیقت پسندی سے کام لیا جائے تو نزاع کی سطحی بھول بھلیوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
  • نومبر
  • دسمبر
1975
منظور احسن عباسی
اس پرچہ کے مرقومات چار عنوانوں پر مشتمل ہیں۔

1۔ لمعات

2۔ قربانی کے بارے میں علمائے الجزائر کا فتویٰ
  • مارچ
  • اپریل
1976
منظور احسن عباسی
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔ قرآن حمید، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ الحمد کے معنی ستائش اور سپاس گزاری کے ہیں۔

لِلّٰہ اسی طرح لِلّٰہ کے بھی دو مفہوم ہیں، ایک یہ کہ ستائش گری اور سپاس گزاری کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ دوسرے یہ کہ جہاں کہیں بھی کوئی امر مستوجب ستائش و سپاس ہے اس کا مرجع و مصدر بھی صرف حق تعالیٰ ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
منظور احسن عباسی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

نعتِ نبویؐ، معروفِ صنفِ سخن ہے۔ مسلمان ہی نہیں غیر مسلم شعراء نے بھی بارگاہ نبوت میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا ہے۔ نعت گوئی کے مندرجہ ذیل پہلوؤں پر شرعی اعتبار سے روشنی ڈال کر رہنمائی فرمائیے!
  • مئی
  • جون
1973
منظور احسن عباسی
دونوں جہاں کے واسطے رحمت حضور ﷺ ہیں
واللہ! کائنات کی عزت حضور ﷺ ہیں
انفاسِ پاک گوشِ تخیّل کا نغمہ زار