• اگست
  • ستمبر
2002
خالد ظفراللہ
برصغیر میں فتنۂ انکارِ حدیث کے ظہور پذیر ہونے کے بعد ان کے عقائد و نظریات کا جائزہ لینے اور حجیت ِحدیث، عظمت و اَہمیت ِحدیث، تاریخ ِحدیث جیسے مختلف موضوعات پر لٹریچر کی تیاری میںبڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ ایک طرف منکرین حدیث ، ردّ ِحدیث میں ورق سیاہ کرتے رہے، حدیث ِنبوی ﷺ کے بارے میں شکوک و شبہات اور اعتراضات پھیلانے کے لئے رسائل و جرائد میں مضامین اور کتابیں پھیلائی گئیں۔
  • مئی
2000
خالد ظفراللہ
(((مذہبی روایات عام طور پر کسی معاشرے میں مختلف مذہبی رجحانات کی بنیاد پر رواج پاتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ان کی پشت پر صالح اور محققانہ  فکرہی موجود ہو۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ مسلم معاشروں کے تعامل کو سنت یا روایت متواترہ کا نام دے کر احادیث صحیحہ کو ان پرپیش کرناضروری سمجھتے ہیں ہم انہیں فن حدیث سے ناواقف سمجھتے ہیں۔اس کے بالمقابل فن  روایت ایک نہایت ذمہ دارانہ فن ہے جس کے پیچھے نہایت گہری علمی بنیادیں موجود ہیں۔
درحقیقت عہد نبوت اور متصلہ قرون خیر میں اسلامی سوسائٹی میں جو اسلامی اقدار مسلم معاشرے نے محفوظ کیں،ان کے اندر تغیر وتبدل کے علاج کے لئے ہی ایک طریق کار زبانی روایت کو فروغ دینے کا بھی اختیار کیا گیا جس نے اسلامی قدروں کی مضبوطی میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو محدثین کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔گویا یہ انسانی کردار اور معاشرتی رویے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم   کی زبانی روایات سے تائید پاکر اعلیٰ میعار حاصل کرتے رہے۔
فن روایات کے سلسلہ میں دوسری بات جو عموماً نظر انداز ہوجاتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کی روایت میں اصل اہتمام الفاظ کا ہوتا ہے اسی لئے وہاں سا رازور "زبانی تلقی" پر ہوتاہے اگرچہ یہ بھی روایت کی ہی ایک قسم ہے لیکن سنت کا زیادہ تر تعلق چونکہ مراد الٰہی سے ہوتا ہے جو رسول  صلی اللہ علیہ وسلم   کے اسوہ عمل سے تشکیل پذیر ہوئی،اس لئے اس کے تحفظ وبقا میں اصل مقصود بھی تعبیر شریعت ہے۔چنانچہ اس میں الفاظ کی بجائے زیادہ اہتمام مفہوم ومراد کا ہے۔
  • اپریل
2002
خالد ظفراللہ
امریکہ کی موجودہ جنگ طالبان کی بجائے اسلام سے جنگ ہے، بعض اہل دانش اسے تہذیبوں کی جنگ بھی قرار دے رہے ہیں، جیسا کہ صدر بش نے ۱۱/ستمبر کے حملوں کو امریکی تہذیب کے خلاف حملہ قرار دیا۔اسلام اپنی تہذیب میں کیا خصوصیات رکھتا ہے اور غیر مسلم تہذیبوں کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہے ؟ زیر نظر مضمون اسی موضوع کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے ۔