• جون
1972
محمد خالد سیف
''علومُ الحدیث'' پر ایک ناقدانہ نظر:

اگرچہ امام ابن الصلاحؒ کو تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور لغت وغیرہ مختلف علوم و فنون میں یدِ طولےٰ حاصل ہے اور خصوصاً اصولِ حدیث میں تو آپ امامت و اجتہاد کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور آپ کی اس شہرۂ آفاق تصنیف کو اس فن میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے
  • مئی
1972
محمد خالد سیف
اصولِ حدیث کا کون سا طالب علم ہے جو امام ابن الصلاحؒ اور آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ''علوم الحدیث'' المعروف بہٖ ''مقدمہ ابن الصلاح'' سے ناواقف ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو شرفِ قبولیت ''علوم الحدیث'' کو حاصل ہوا، اس فن کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہ ہو سکا۔ قبل اس کے کہ ''علوم الحدیث'' کے ساتھ علماء کے اعتناء، اس کی اہمیت و عظمت اور اس پر نقد و تبصرہ کو پیش کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے
  • مارچ
  • اپریل
1988
محمد خالد سیف
دینی مدارس میں فوجی ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے

پوری دنیا میں خصوصا افغانستان، فلسطین، ہندوستان اور فلپائن وغیرہ میں مسلمانوں کی بےکسی اور بے بسی، پاکستان کے اندرونی اور بیرونی حالات، مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا تشدد پسندانہ رویہ، 23 مارچ کو جمیعۃ اہل حدیث کا عظیم سانحہ، سالِ رواں میں حج کے موقعہ پر بعض لوگوں کا اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے
  • مارچ
2006
محمد خالد سیف
میری مادرِ علمی جامعہ اہل حدیث، لاہور (مسجد ِقدس چوک دالگراں) گذشتہ صدی کی پچاسویں اور ساٹھویں دہائی میں علما، خطبا اور دانشوروں کا مرکز و ماویٰ رہی ہے۔میرا تحصیل علم کا دور تو 1959ء تک ہے لیکن اسی برس والد ِگرامی حافظ محمد حسین روپڑی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمۃ اللہ علیہ نے میرے برادرِ بزرگ حافظ عبد القادرروپڑی رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں جامعہ اہل حدیث کی نظامت کی ذمہ داری بھی ہمارے سپرد کردی۔انہی برسوں میں جہاں مجھے تدریس کا ابتدائی موقعہ میسر آیا، وہاں ہفت روزہ 'تنظیم اہل حدیث' لاہور کی ادارت کی ذمہ داری بھی ملی۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
محمد خالد سیف
ایک وقت تھا کہ دنیا ظلمت کدہ بنی ہوئی تھی۔ چہار سو اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ کفر و شرک کے اندھیرے، فسق و فجور کے اندھیرے، الحاد و زندیقیت کے اندھیرے، ظلم و استبداد کے اندھیرے۔ اور گم گشتہ راہ انسانیت ان بھیانک اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی تھی۔ خالقِ کائنات سے دکھی انسانیت کی یہ مظلومیت دیکھی نہ گئی،