• مارچ
2002
محمد اسلم صدیق
اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث ِنبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے
  • جولائی
2006
محمد اسلم صدیق
ماہنامہ 'محدث' کے فروری 2004ء کے شمارہ میں محترمہ خالدہ امجد کا مضمون 'عائشہ صدیقہؓ اُسوۂ حسنہ' کے صفحہ63، سطر 11 پر یہ عبارت ''پاک و طاہر بیٹی کا نصیب صاحب ِلولاک کا نور کدہ ہی ہوسکتا ہے۔'' میں لفظ لَوْلَاکَجو ایک موضوع روایت کاجملہ ہے، غلطی سے نظر انداز ہوگیا تھا۔ محدث کے قاری جناب نثار احمد کھوکھر اور چند دیگر حضرات نے اس غلطی پر نشاندہی کی اور حدیث کی مکمل تحقیق شائع کرنے کی استدعا کی۔
  • جنوری
2008
محمد اسلم صدیق
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناخواندہ اور اَن پڑھ قوم میں مبعوث ہوئے جو من حیث القوم حساب وکتاب کی صلاحیت سے بے بہرہ اور رسم الخط و فن تحریر سے ناآشنا تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے پورے جزیرۂ عرب میں تھوڑی سی تعداد؛ قبیلہ قریش کے دس بارہ افراد اور اہل مدینہ کے آس پاس بسنے والے یہودیوں کی ایک محدود تعداد خط و کتابت سے واقف تھی۔
  • فروری
2008
محمد اسلم صدیق
جمع وتدوینِ قرآن کے اَدوار گذشتہ تصریحات سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ قرآنِ کریم کو تین مرتبہ جمع کیا گیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں لیکن ان تینوں اَدوار میں جمع قرآن کی نوعیت میں واضح فرق ہے۔ ذیل میں ہم فرق کی اس نوعیت کو واضح کریں گے
  • اپریل
2008
محمد اسلم صدیق
زیر نظر مضمون کے مرتب علومِ قرآن کے حوالے سے عالم عرب کی ایک معتبر شخصیت ہیں جن کی اس موضوع پر متعدد کتب ومقالات کے علاوہ، شاگر دوں کی بڑی تعداد دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے۔ سعودی حکومت کے کنگ فہد قرآن کمپلیکس میں قرآنِ کریم کی عالمی پیمانے پر نشر واشاعت اور اصلاح کے لئے قائم کردہ کمیٹی نے ان کی کتب سے بھرپور استفادہ کیا ہے جو آپ علمیت کا مدینہ نبویہ میں حکومتی سطح پر ایک اعتراف ہے۔
  • مارچ
2008
محمد اسلم صدیق
گذشتہ صفحات میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی_
  • مارچ
2006
محمد اسلم صدیق
ماہنامہ 'الاعتصام' (2تا 8؍ ستمبر2005ء )میں ایک سوال کے جواب میں حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب نے علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے سریانی زبان کے وجود کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ ''انجیل سریانی زبان میں تھی۔'' جس پر المَورد کے ریسرچ فیلو عبدالستار غوری صاحب نے ماہنامہ 'اشراق' (دسمبر 2005ء )میں اس موقف کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ''انجیل ابتدا ہی سے یونانی (Greek)زبان میں لکھی گئی تھی جبکہ حضرت مسیح کی زبان ارامی Aramaicتھی۔ اور اُنہوں نے اپنے مواعظ و بشارات اسی ارامی زبان میں ارشاد فرمائے تھے، لیکن ان کے جو ارشادات بائبل کے عہد نامہ جدید کی چاروں انجیلوں اور دیگر تحریروں میں درج ہیں، وہ کبھی بھی اپنی اصلی حالت میں نہیں لکھے گئے تھے
  • مارچ
2001
محمد اسلم صدیق
خانہٴ کعبہ کے اِمام اور خطیب(۱) شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے ۱۶/ محرم ۱۴۳۱ھ بمطابق ۲۱/اپریل ۲۰۰۰ء کو بیت اللہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس کا موضوع تھا ... حقوق الانسان !
سب تعریفیں اس اللہ کو سزاوار ہیں جس نے انسان کوپیدا فرمایا۔ اسے نک سک سے درست کیا پھر اس کے باطنی وظاہری قویٰ میں اِعتدال و تناسب ملحوظ رکھا۔
  • ستمبر
2005
محمد اسلم صدیق
جمعية إحياء التراث الاسلامي كويت كى ايك فلاحى تنظيم ہے جو دنيا بهر ميں اسلامى ورثے اور روايات كے تحفظ كا مشن ركھتى ہے اوراسى مشن كے تحت اپنى متنوع سرگرميوں كو فروغ دينے كے لئے برس ہا برس سے مصروفِ عمل ہے-پاكستان كے اطراف واكناف ميں بهى اس تنظيم سے مبلغين ودعاة كى ايك بڑى تعداد وابستہ ہے جو مختلف مساجد ميں خطابت وامامت يا دينى مدارس ميں تعليم وتدريس كى ذمہ دارياں اداكر رہے ہيں۔
  • جنوری
2001
محمد اسلم صدیق
موٴرخہ ۲/ نومبر ۲۰۰۰ء بروز جمعرات، جامعہ لاہور الاسلامیہ، ۹۱/ بابر بلاک نیوگارڈن ٹاؤن لاہور میں تقریب ِتکمیل صحیح بخاری شریف، تجوید وقراء ت کانفرنس اور جلسہ تقسیم اسناد، جامعہ کے ایک وسیع ہال میں منعقد ہوا جس میں عالم اسلام اور عرب ممالک کی ممتاز علمی شخصیات شریک ہوئیں، مہمانوں میں سعودی عرب کے وزیرعدل وانصاف ڈاکٹرعبداللہ بن محمد بن ابراہیم آلِ شیخ، معروف سماجی شخصیت
  • جولائی
2002
محمد اسلم صدیق
گذشتہ دنوں جامعہ لاہور الاسلامیہ نے سعودی عرب کے فلاحی اِدارے 'شیخ سلیمان راجحی ویلفیئر فاؤنڈیشن' کے تعاون سے سعودی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور پاکستانی جامعات کے طلبہ کے لئے ایک ہفت روزہ علمی اور تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کامقصد یہ تھا کہ دینی طلبا کی فکری تربیت اس نہج پر کی جائے
  • ستمبر
2005
محمد اسلم صدیق
23/جولائى 2005 كو ہمدرد سنٹر لاہورميں جامعہ لاہور الاسلاميہ كے زير اہتمام چيئرمين سينٹ آف پاكستان جناب محمد مياں سومرو كى زير صدارت مذكورہ موضوع پر ايك سيمينار كا انعقاد كيا گيا جس ميں تمام مكاتب ِفكر كے نمائندہ علماے كرام شريك ہوئے- صبح 10بجے سيمينار كا باقاعدہ آغاز قارى حمزہ مدنى كى تلاوتِ كلام پاك سے ہوا اورسٹیج سيكرٹرى كے فرائض 'بيت الحكمت' كے ڈائريكٹر پروفيسر عبد الجبار شاكر نے انجام ديے۔
  • فروری
2002
محمد اسلم صدیق
*سوال :مولانا ! یہ فرمائیں کہ دینی مدارس میں گریجویشن لیول تک مروّجہ نظامِ تعلیم میں عصری علوم کا حصہ کس قدر ہے ؟
مولانا مدنی : جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ حکومت، ۱۹۸۲ء میں تشکیل پانے والے دینی مدارس کے مختلف 'وفاقوں' کی آخری ڈگری 'یونیورسٹی گرانٹس کمیشن' کے توسط سے منظور کی گئی تھی جس کی رو سے یہ ڈگری عربی اور اسلامیات کی تدریس اور اعلیٰ تحقیق کے لئے
  • دسمبر
2001
محمد اسلم صدیق
مسلمانو! آج ایک عظیم او ربابرکت مہینہ تم پر سایہ فگن ہے یعنیرمضان کا مہینہ، دن کوروزہ داری اور رات کوعبادت گزاری کا مہینہ، تلاوتِ قرآن سے دلوں کو منور کرنے کامہینہ، دلوں کی تشنگی کو تلاوتِ قرآن سے سیراب کرنے کا مہینہ، دلوں کی بنجر زمین کو تلاوتِ قرآن سے شگفتہ و شاداب کرنے کا مہینہ۔ دلوں پر گناہوں کی جمی ہوئی سیاہی کو دھوکہ دینے کامہینہ، گناہوں کی بخشش اور جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا مہینہ، صدقات و خیرات سے روح و قلب پر چھائی خشک سالی کو دور کرنے کا مہینہ۔
  • اپریل
2002
محمد اسلم صدیق
یہ خبر نہایت غم و اَندوہ کاباعث ہے کہ عالم اسلام کے ممتاز عالم اوربیت اللہ کے امام و خطیب سماحة الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل حفظہ اللہ ،جو ایک عرصہ امور حرمین شریفین کے چیئرمین بھی رہے اور تقریبا ایک سال قبل ان کے دامادمعالی الشیخ الدکتور صالح بن حمید کو ان کے انتظامی جانشین کے طور پر حرمین شریفین کے اُمور کا چارج دے دیا گیاتھا۔
  • فروری
2004
محمد اسلم صدیق
تیسرے ہزاريہ میں اُمت مسلمہ كو درپيش چیلنجوں كى تعداد روز افزوں ہے- ان میں سے خطرناک چیلنج امريكہ كا 'نيو ورلڈ آرڈر' ہے- ا س نظام كے تقاضوں كو پورا كرنے كے لئے وہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی تمام معاشرتی بیماریوں كو جو مغربی معاشرہ كو گھن كى طرح چاٹ رہى ہیں ، تمام تہذیبوں میں داخل كرنا چاہتا ہے!!
  • مئی
2003
محمد اسلم صدیق
قرآنِ کریم اور فن محدثین کے معیار کے مطابق مستند روایاتِ حدیث میں صادق ومصدوق حضرت محمد مصطفی ﷺ کی قیامت سے قبل پیش آنے والے واقعات کے بارے میں وارد شدہ وہ خبریں جنہیں 'پیش گوئیاں' کہا جاتا ہے، کی تعبیر و تشریح کے حوالہ سے اُمت ِمسلمہ میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ مجلس التحقیق الاسلامی نے بھانت بھانت کی انفرادی آرا کے بالمقابل اکابر علما کے رُوبرُو موضوع سے متعلقہ سوالات پیش کرکے اس کا صحیح رخ متعین کرنے کے لئے مؤرخہ ۲۶؍ جنوری ۲۰۰۳ء کو دفتر ماہنامہ محدث میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا
  • مئی
2002
محمد اسلم صدیق
جو بھی اس عالم کون ومکان میں آیا، اسے ایک نہ ایک دن ضرور موت کے حادثہ سے دوچار ہوناہے۔ تاہم زندگی اور موت کے انداز رنگا رنگ ہیں۔ کچھ لوگ اس انداز سے مرتے ہیں کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی اور کچھ اس شان سے رخت ِسفر باندھتے ہیں کہ ان کی حسین یادیں مخلوقِ خدا کے دلوں میں ہمیشہ تابندہ رہتی ہیں۔ صادق و مصدوق حضرت رسولِ کریم ا کا ارشاد گرامی ہے :
  • نومبر
2006
محمد اسلم صدیق
اُردو زبان کے لفظ 'تہذیب'کے بالمقابل عربی میں 'ثقافت' اور انگریزی میں "Culture" کے لفظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح 'تمدن' کے لئے عربی میں حَضَارة اور انگریزی میں "Civilization"کا لفظ بولا جاتا ہے۔چونکہ عام بول چال میں 'تہذیب وتمدن' کا محاورہ بکثرت استعمال ہوتا ہے، اس لیے عموماًتہذیب وتمدن کو باہم مترادف سمجھ لیا جاتا ہے جب کہ علم عمرانیات کی رو سے تہذیب اور تمدن میں واضح فرق ہے۔ا
  • جنوری
2005
نامعلوم
انسان اللہ تعالىٰ كى نافرمانى كرتے ہوئے اس بات كو بهول جاتا ہيں كہ اللہ تعالىٰ رحيم وكريم ہونے كے ساتھ سب سے بڑا عدل وانصاف كرنے والا اور اپنے وعدوں كو سب سے زيادہ پورا كرنے والا بهى ہے- چنانچہ وہ اپنے نافرمانوں اور اطاعت كرنے والوں كے ما بين بهى پورا پورا انصاف كرے گا اور حسب ِوعدہ بھلائى اور برائى كے ايك ايك ذرّے كا اللہ تعالى حساب لے گا اور اس كا بدلہ عطا كرے گا۔
  • مارچ
2005
نامعلوم
دوزخيوں كو جہنم ميں جسمانى اور باطنى ہر دو قسم كے عذابوں سے دوچار ہونا پڑے گا- حسى عذاب كى يہ صورتيں ہوں گى :
(1)آگ جو اب لاكهوں ہزار سال جلنے كے بعد كالى سياہ ہوچكى ہے، جہنمیوں كے چہرے بهى اسى طرح كالے سياہ ہوجائيں گے :
وْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ٱسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْ‌تُم بَعْدَ إِيمَـٰنِكُمْ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُ‌ونَ ﴿١٠٦...سورۃ آل عمران
  • اپریل
2005
شیخ سلمان بن فہد
عصر حاضر ميں متعدد اسباب ہيں جو اس موضوع پرقلم اُٹهانے كا تقاضا كر رہے ہيں :
1۔ نااہل لوگوں نے علم و قابليت كے بغير شريعت ِخداوندى كے اُصول و فروع سے مسائل كے استنباط كى جسارت شروع كردى ہے- ان كى اكثريت نے حديث كے باريك اوربڑے بڑے مسائل ميں كريد اور تعمق شروع كردياہے -
  • جنوری
2006
شیخ سلمان بن فہد
یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔
  • جنوری
2004
اظہر امرتسری
اسلام اور کفر کی کشمکش صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔مسیحی یورپ اس دشمنی میں سب سے پیش پیش ہے۔ اس نے اسلام کے خلاف طرح طرح کے منصوبے بنائے، ہر طرح کے حربے استعمال کئے، حتیٰ کہ اپنی معصوم بیٹیوں کو گناہ کی تربیت دی اور ان کی عصمتیں دائو پر لگائیں ۔ زروجواہرات، شراب اور دلکش لڑکیوں کے ذریعے مسلمان قوم میں غداری کا بیج بویا، خانہ جنگی کرائی اور پھر صلیبی فوجیں طوفان کی طرح پھیل گئیں ۔
  • جون
2005
حافظ ثناء اللہ مدنی
گذشتہ دنوں امريكہ ميں ايك مسلم خاتون نے جرأتِ رندانہ سے كام لے كر مردوں اور عورتوں كى ايك مخلوط جماعت كى امامت كيا كى كہ پورى دنيا ميں اس كى مخالفت اور حمايت كا بازار گرم ہوگيا- علمااور فقہا نے اس كے خلاف فتوے ديے اور اسے ناجائز عمل بتايا تو روشن خيال مسلم دانشوروں نے اس كى حمايت كى اور اسے ايك انقلابى اقدام قرار ديا-
  • اکتوبر
2000
محمد علی الصابونی
تعداد ازواج کی حکمت بیان کرنے کے بعد اب ہم اُمہات المؤمنین کے فضائل بیان کرتے ہیں۔
جن کو اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے لیے منتخب فرمایا سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ نسبت جیسے شرف عظیم سے سر فراز فرمایا: انہیں مؤمنوں کی مائیں ہونے کا شرف بخش کر ان کے لیے تکریم و تعظیم کو واجب کر دیا اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد ان کے ساتھ نکاح کو حرام قراردیا ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
﴿النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم ۖ وَأَزوٰجُهُ أُمَّهـٰتُهُم ...٦﴾...الأحزاب
"نبی کا حق مسلمانوں پر خود اس کی جان سے بھی زیادہ ہے اور ازواج نبی  صلی اللہ علیہ وسلم مومنین کی مائیں ہیں"مزید فرمایا:
﴿وَما كانَ لَكُم أَن تُؤذوا رَسولَ اللَّـهِ وَلا أَن تَنكِحوا أَزوٰجَهُ مِن بَعدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذٰلِكُم كانَ عِندَ اللَّـهِ عَظيمًا ﴿٥٣﴾ ...الأحزاب
  • اکتوبر
2001
عبدالعزیز حنیف
حلق پھاڑ کر نعرے لگانا کتنا آسان ہے لیکن ان نعروں کے پس پردہ حقائق اور کار فرما خفیہ عزائم کا سراغ لگانا اور ان کا اِدراک کرنا بڑا مشکل ہے۔حقوقِ انسانی کا نعرہ بھی اسی طرح کا ایک دلکش، خوبصورت اور پر فریب نعرہ ہے جس کی چمک بڑی مسحور کن ہے اور جوبظاہرہر انسان کے عزت و احترام پر ابھارتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نعرہ کا علمبردار کسے ہونا چاہے؟
  • مارچ
2007
صالح بن حسین
قرآنِ كريم نے اس سلسلہ ميں يہ عظيم اور اساسى اُصول بيان كيا ہے كہ غير مسلموں كے ساتھ برتاوٴ اور لين دين ميں اصل يہ ہے كہ ان كے ساتھ حسن سلوك كا رويہ اختيار كيا جائے اور ان كے ساتھ نيكى اور احسان كرنے ميں اس وقت تك ہاتھ نہ كهينچا جائے جب تك ان كى طرف سے صريح دشمنى اور عہد شكنى كا كوئى عملى مظاہرہ نہيں ہوتا
  • جنوری
2007
صالح بن حسین
انسان کے وہ بنیادی حقوق جو تمدنی زندگی میں انتہائی ضروری ہیں اور معاشرہ کا کوئی فرد بھی اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا، وہ یہ ہیں ؛ انسانی جان کا تحفظ، خون کا تحفظ، مال کا تحفظ، عزت کا تحفظ اور عقل کا تحفظ۔ اسلام نے انتہائی مؤثر تعلیمات کے ذریعے اور عملاً جس طرح انسان کے ان تمدنی حقوق کا تحفظ کیا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اس کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
  • ستمبر
2006
صالح بن حسین
چند صدیوں سے 'ریاست' کے ادارہ نے غیرمعمولی ترقی حاصل کرکے زندگی کے ہر پہلو تک اپنے دائرئہ کار کو وسعت دے لی ہے۔ ریاست کا ایک تصور تو مغرب کا دیا ہوا ہے جس کی بنیاد وطنیّت یعنی کسی خطہ ارضی سے وابستہ ہے۔ اس لحاظ سے ایک خطہ ارضی میں بسنے اور کسی ملک کی سرحدوں میں رہنے والے تمام افراد کے حقوق مساوی ہیں،اسی تصور پر پاسپورٹ اور آمد ورفت کے قوانین بنائے جاتے اور ملکی لکیروں کو تقدس دیا جاتا ہے
  • نومبر
2006
صالح بن حسین
(3) اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کا حق
اسلام کا اپنے ہم وطن مخالفین کے ساتھ رواداری کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے اُنہیں اپنے شرعی احکام کا پابند نہیں بنایا۔ زکوٰة جو اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، سب غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی مسلمان زکوٰة کے وجوب کا انکار کرتے ہوئے زکوٰة دینے سے انکار کردے تواسلام اسے مرتد قرار دے کر اس کے خلاف جہادکا حکم دیتا ہے۔
  • نومبر
2001
محمود بن محمد
آج ہر طرف انسانی حقوق کا چرچا ہے اور حقوقِ انسانی کا موضوع ہر شخص کی زبان کا وِرد، وقت کی آواز اور عالمی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملکی او ربین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد اور قراردادیں پاس ہورہی ہیں،حتیٰ کہ حقوقِ انسانی کانفاذ اس امر کو جانچنے کا معیار سمجھا جانے لگا ہے کہ ایک حکومت کس حد تک عدل و انصاف کے اُصولوں کا التزام، اپنے باشندوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی آزادی کا پاس رکھتی ہے۔
  • مارچ
2006
شیخ راشد الخالد
خطبہ مسنونہ کے بعد ...
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْ‌سَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرً‌ا وَنَذِيرً‌ا ﴿٤٥﴾ وَدَاعِيًا إِلَى اللَّـهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَ‌اجًا مُّنِيرً‌ا ﴿٤٦﴾ وَبَشِّرِ‌ الْمُؤْمِنِينَ بِأَنَّ لَهُم مِّنَ اللَّـهِ فَضْلًا كَبِيرً‌ا ﴿٤٧﴾ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِ‌ينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿٤٨...سورۃ الاحزاب
''اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والابناکر، اس کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بناکر۔ آپ ان لوگوں کو بشارت دیں جوآپ پر ایمان لائے ہیں کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے اور آپ کفار و منافقین سے ہرگز نہ دبیں اور ان کی اذیت رسائی کی کوئی پرواہ نہ کریں ، اور اللہ پر ہی بھروسہ کریں، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے۔''
  • فروری
2007
مختلف اہل علم
سوال: اگر كوئى شخص صرف عاشورا كا روزہ ركهتا ہے اور ساتھ نويں محرم كا روزہ نہيں ملاتا تو اس كے بارے ميں شريعت مطہرہ كا كيا حكم ہے ؟جواب : شيخ الاسلام ابن تيميہ اس كے متعلق فرماتے ہيں :" عاشو را كا روزہ ايك سال كے گناہوں كا كفارہ ہے اور صرف عاشورا كا روزہ ركهنا مكروہ نہيں ہے-"
  • جون
2005
ثنااللہ مدنی
زير بحث مسئلہ يہ ہے كہ كيا عورت كا مردوں اور عورتوں كو اكٹھے امامت كروانا درست ہے؟ كيا عورت صرف عورتوں كو امامت كروا سكتى ہے يا مردوں كو بهى اس كا امامت كروانا ثابت ہے؟
الجواب بعون الوہاب: عورت كا مردوں اور عورتو ں كو اكٹھے امامت كروانا ثابت نہيں ہے اور نہ ہى اكيلے مردوں كو امامت كروانا ثابت ہے۔
  • جون
2002
عبدالعزیز القاری
موجودہ دور میڈیا اور تہذیب وثقافت کا دور ہے جس میں خوبصورت آواز کا جادو جگانے والے اس خدائی دَین کو لہو ولعب میں استعمال کرنے پر ہی تلے ہوئے ہیں۔ لچر گانوں اورموسیقی کو روح کی غذا اور بے حیائی کو فن کی معراج سمجھ لیا گیا ہے ۔ طرفہ تماشا ہے کہ یہ موسیقی گانوں سے نکل کر نعتوں اور حمد باری تعالیٰ تک بھی آپہنچی ہے !
  • نومبر
2006
ڈاکٹر سعد بن ناصر
ہیئة کبار العلماء سعودی عرب کے ممتاز علما پر مشتمل ایک کونسل ہے جو سرکاری سطح پر مصروفِ عمل ہے اس کونسل سے سعودی عوام اپنے مسائل کے حل کے سلسلے میں رجوع کرتے ہیں۔ سعودی معاشرے میں علما کی اس سپریم کونسل کو انتہائی وقیع حیثیت حاصل ہے اور شرعی موضوعات پر ان کی رائے حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے۔ یہ مایہ ناز اہل علم دیگر عالم اسلام میں پیش آنے والے مسائل کے بارے میں بھی اُمت ِمسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ زیر نظرتحریر اسی کونسل کے معزز رکن جناب ڈاکٹر سعد بن ناصر شَثری کی ہے۔