• اپریل
1992
زبیر علی زئی
محترم جناب غازی عزیر صاحب حفظہ اللہ قارئین "محدث" کے لئے محتاج تعارف نہیں۔  آپ کے مضامین اکثر محدث کے صفحات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔محدث(زی الحجہ 1409ہجری) میں"الاستفتاء" کے اوراق  پر آپ کامقالہ بعنوان " کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بول وبراز پاک تھا؟ شائع ہوا تھا جس میں فاضل مقالہ نگار کوتگ ودود کے باوجود چند احادیث کاطریق نہ مل سکا۔محترم زبیر بن مجدد علی صاحب نے ان احادیث کے طرق کا تتبع کیا ہے اور حوالہ تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔قارئین کے علم میں اضافے کی خاطر ان کے"استدراک" کو شائع کیاجارہا ہے۔۔۔ادارہ
  • جنوری
1996
زبیر علی زئی
نور اور ظلمت کے اختلاط کو عربی لغت میں "الدلس" کہتے ہیں (نخبة الفكر ص71 وغيره) اور اس سے دلس کا لفظ نکلا ہے جس کا مطلب ہے:

كتم عيب السلعة عن المشتري

"اس نے اپنے مال کا عیب گاہک سے چھپایا" (المعجم الوسيط ج١ص2293،و عام کتب لغت)
  • جنوری
2011
زبیر علی زئی
ماہنامہ 'محدث'نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں التحقیق والتنقیح في مسئلۃ التدلیس کے نام سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں صاحب ِمضمون نے تدلیس کے حکم کے سلسلے میں امام شافعیؒ کے قول کو بعض دلائل کی بنا پر مرجوح قرار دیا۔ مدلس کی روایت کے قابل قبول ہونے کے بارے میں امام شافعی اور دیگر ائمہ حدیث کا اختلاف ہے اور یہ مسئلہ اس لیے خاص اہمیت کا حامل ہے
  • نومبر
1995
زبیر علی زئی
زیر نظر مضمون میں ہم مشہور حدیث "خلافة النبوة ثلاثون سنة..." الخ کی تحقیق و تخریج اور اس کا مفہوم پیش کر رہے ہیں تاکہ اس کا صحیح مفہوم طالبان علم دین پر واضح ہو سکے۔

امام داؤد سجستانی نے كتاب السنن (ج2ص290: كتاب السنة باب في الخلفاء) میں، امام ابو عیسی ترمذی نے كتاب السنن (ج2ص46:
  • مئی
2007
زبیر علی زئی
مارچ 2007ء کے ماہنامہ 'اشراق' میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کے مسئلہ پر ایک مضمون میں مشہور حدیث ِجابرؓ کو زیر بحث لاتے ہوئے مصنف عبدالرزاق کو ہی سرے سے ناقابل اعتبار قرار دینے کی جسارت کی گئی ہے۔ جبکہ اس مُصنَّف کے مرتب امام عبدالرزاق صنعانی نہ صرف ایک مشہور محدث ہیں بلکہ صحیح بخاری ومسلم کے رجال میں سے بھی ہیں۔
  • جولائی
1995
زبیر علی زئی
زیر نظر مقالہ میں قرآن مجید،صحیح احادیث ،اجماع اور آثار صحابہ  رضوان اللہ عنھم اجمعین   کی روشنی میں حضرت  عیسیٰ علیہ السلام  بن مریم الناصری علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا ثبوت پیش کیا گیا ہے۔اور منکرین کےاعتراضات کے اطمینان بخش جوابات دیئے گئے ہیں۔تصنیف کے بعد جناب انور شاہ کشمیری کی تصنیف"التصریح بما تواتر فی نزول المسیح" کا علم ہوا۔کتاب حاصل کرکے پڑھی۔بہترین کوشش ہے۔کنزالعمال وغیرہ سے بلاتحقیق احادیث نقل کی گئی ہیں۔لہذا اس میں صحیح ،حسن،ضعیف اور موضوع روایات بھی موجود ہیں۔غفراللہ لنا وله،آمین!
  • جون
2005
زبیر علی زئی
اس مسئلے ميں علما كرام كا اختلاف ہے كہ كيا عورت نماز ميں عورتوں كى امام بن سكتى ہے يا نيںئ؟ ايك گروہ اس كے جواز كا قائل ہے- ايك روايت ميں آيا ہے كہ
وكان رسول اللهﷺ يزورها في بيتها وجعل لها مؤذنا يؤذن لها وأمرها أن تؤم أهل دارها
  • جولائی
2010
زبیر علی زئی
یہ بات بالکل سچ اور حق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ لا تکذبوا عليّ فإنہ من کذَب عليّ فلیلِج النار‘‘''( صحیح بخاری ، کتاب العلم، باب إثم من کذب علی النبي ﷺ ح ۱۰۶، صحیح مسلم : ۱)
''مجھ پر جھوٹ نہ بولو،کیونکہ بیشک جس نے مجھ پر جھوٹ بولا تو وہ (جہنم کی) آگ میں داخل ہو گا۔