• اکتوبر
1989
محمد رفیق اثری
حدیث مصراۃ اور ا بوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

ابو ہر یرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما تے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :

"لا تصروا الابل والغنم فمن ابتاعها بعد فانه بخير النظرين بعد ان يحلبها ان شاء امسك وان شاء ردها وصاح تمر"
  • جنوری
1988
محمد رفیق اثری
اس سے قبل کہ ہم بعض لوگوں کے اس مفروضہ پر نقد کریں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ غیر فقہیہ تھے اور یہ نظریہ قائم کرنے سے ان کی اصل غرض کی نشاندہی کریں، ضروری سمجھتے ہیں کہ لفظِ "فقہ" کی جامع و مانع تعریف کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ قرآن و حدیث میں یہ لفظ کن معانی میں استعمال ہوا ہے؟

مادہ فقہ، قرآن میں:
  • جنوری
  • فروری
1975
محمد رفیق اثری
آج کل 'وحدت عید' کا جو خیال، جدید ذہن کے بہت سے لوگوں میں ابھر رہا ہے۔ افسوس! بہت سے مسلمان ملک بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ چنانچہ رابطۂ عالمِ اسلامی (مکہ مکرمہ) کے بھی ایک اجلاس میں ایک مضمون کی قرار داد پاس ہوئی تھی کہ چاند کی رویت کی تعیین آلاتِ رصد کے ذریعے کر کے پورے عالمِ اسلام میں ایک ہی دن روزے رکھنے اور عید منانے کا فیصلہ کیا جائے۔
  • فروری
1988
محمد رفیق اثری
محاصرہ:
شوال 35ہجری میں ان فتنہ پرداز قافلوں کی روانگی کا آغاز ہوا۔بصرہ سے حرقوص بن زبیر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ روانہ ہوا۔ کوفہ سے مالک بن اشتر کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ نکلا جبکہ غافقی بن حرب کی قیادت میں ایک ہزار کا قافلہ مصر سے روانہ ہوا۔ مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر یہ تینوں قافلے اکٹھے ہوگئے۔ او رمدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوکر حالات کا جائزہ لینےکے لیےاپنے قاصد روانہ کئے۔چنانچہ چند آدمی بصورت وفد حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ، حضرت زبیرؓ، اور امہات المؤمناتؓ سے ملے اور اپنی آمد کا مقصد بیان کیا۔ ان حضرات نے انہیں ملامت کرکے واپس جانےکو کہا۔