• ستمبر
2003
ریاض الحسن نوری
تخلیق کائنات کے مقاصد کی حقیقت کے بارے میں اللہ جل جلالہ کا وعدہ ہے ﴿سَنُر‌يهِم ءايـٰتِنا فِى الءافاقِ وَفى أَنفُسِهِم حَتّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُم أَنَّهُ الحَقُّ...٥٣﴾... سورة فصلت''ہم انسانوں کو انفس وآفاق میں ایسی نشانیاں برابر دکھاتے رہیں گے، جو اللہ کے حق ہونے کو ثابت کریں گی۔'' جدید سائنس مشاہدے اور تجربے کے استعمال کا نام ہے، اس لئے اس کا دائرہ کار محدود ہے،
  • جولائی
1971
ریاض الحسن نوری
مسعود صاحب نے ۲۰ فروری کی قسط میں بخاری کی ایک حدیث بیان کی ہے ۔ اس میں اپنی طرف سے اضافے کئے ہیں اور اس طرح رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھا ہے، مثلاً مسعود صاحب نے نبی ﷺ کی طرف یہ فقرہ منسوب کیا جو زمین کی کاشت سے متعلق ہے۔ ''یعنی اس کے کسی حصہ کو بغیر کاشت کے نہیں چھوڑنا چاہئے۔''
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
ریاض الحسن نوری
گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں جاری سود کیس کی سماعت کے دوران بنکاری نظام کے طرفداروں نے جو متضاد اورحیران کن باتیں کی ہیں، ان سے قرآن کی حقانیت ثابت ہوجاتی ہے کہ نہ صرف سودی کاروبار میں ملوث بلکہ ان کے طرفدار بھی مخبوط الحواس ہوجاتے ہیں۔

سود کے حامیوں نے اس سوال پر بڑی بحثیں کی ہیںلیکن انٹریسٹ اور یوژری مترادف ہوں
  • مارچ
1972
ریاض الحسن نوری
سابق ناظم اعلیٰ اوقاف مغربی پاکستان مسعود احمد سی۔ ایس۔ پی کے دور میں محکمہ اوقاف نے ایک کتابچہ چھپوا کر تقسیم کیا تھا جس کا نام تو ''اسلامی پاکٹ بک '' رکھا گیا تھا لیکن در پردہ اس میں سوشلزم کی تبلیغ مقصود تھی۔ اس میں بہت سی دیگر غلط بیانیوں کے ساتھ جس دیدہ دلیری اور بے باکی سے بعض موضوع احادیث نبی اکرم ﷺ سے منسوب کر کے اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ حد درجہ افسوس ناک ہے۔
  • جون
1971
ریاض الحسن نوری
''یہ سمجھنا محض سادگی ہے کہ حضرت عمرؓ کو ان کے ملازم نے محض ذاتی عناد کی نا پر شہید کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیفہ ثانی مال داروں کی سازش کے نتیجے میں شہید ہوئے۔ اور وہ اس لئے کہ حضرت عمرؓ سماجی معاہدے کے تحت مال داروں کی ذمہ داریوں کے سلسلے میں ان پر سختی کی روش کے قائل تھے۔''
  • جون
1972
ریاض الحسن نوری
ان کالموں میں یہ مضمون درس قرآن، جس کی ابتدا ہم نے اپریل ۷۲ء سے کی تھی، کی قسط نمبر ۲ کی جگہ شائع کیا جا رہا ہے کیونکہ اسے ہم ان شاء اللہ ''اسلامی معیشت نمبر'' میں مسئلہ معیشت کی شرعی حیثیت سے ایک مستقل مضمون کی شکل میں ہدیۂ قارئین کریں گے۔نیز خاص نمبر تک ہم نے درسِ قرآن کو ملتوی کر دیا ہے کیونکہ اس وقت کئی دیگر مضامین کی فوری اشاعت (جس کا ہم اعلان کر چکے تھے) بھی ہمارے پیش نظر ہے۔
  • جولائی
1972
ریاض الحسن نوری
قتلِ جنین (Abortion) کا رائج العام ہونا نہ صرف کسی معاشرے کے جنسی فساد کا ثبوت ہوتا ہے، بلکہ فطرت سے یہ طریقِ تصادم بتاتا ہے کہ انسایت کے اعلیٰ جذبات اور قیمتی اقدار کی تباہی ہو چکی ہے۔ مغربی معاشروں میں قتلِ جنین ایک کھیل بن چکا ہے۔ وہاں ادارہ ہائے اسقاط کو لفظ ''مِل'' (Mill) بہ معنی کارخانہ سے موسوم کیا جاتا ہ۔ یعنی کارخانہ ہائے قتلِ انسانِ نامولود۔
  • مئی
1971
ریاض الحسن نوری
چند سال قبل پنڈی میں مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی۔ اس میں دیگر اہلِ علم و فضل حضرات کے علاوہ یادش بخیر جناب مسعود صاحب نے بھی جو اس وقت محکمۂ اوقاف کے ناظمِ اعلیٰ تھے، ایک مقالہ پڑھا تھا۔ مسعود صاحب کے معتقدات ڈھکے چھپے نہیں، وہ اشترا کی ذہن کے حامل اور تجدد پسند ہیں۔