• اپریل
1985
محمد اسرائیل فاروقی
ترجمہ: یہ (اپنے پندارمیں ) اللہ کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں ۔

"خداع" کا لغوی معنی فساد ہے مطلب یہ ہوا مفسدوں کا ساکا م کرتے ہیں اگرچہ اللہ پر کسی کا فساد مخفی نہیں رہتا ۔

﴿ وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ﴿٩﴾... سورةالبقرة
  • جنوری
2006
محمد اسرائیل فاروقی
سنت و حدیث کی بدولت قرآ ن کریم کی نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تفسیر و تعبیر کا کامل نمونہ ہر دور میں موجود رہا ہے۔ عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اثر سے عہد ِصحابہؓ کا 'مزاج و مذاق' ایک نسل سے دوسری نسل اورایک طبقہ سے دوسرے طبقہ میں منتقل ہوتا رہا اورہر دور میں ایسے افراد موجود رہے جو 'سلف ' کے مزاج اور ذوق کے حامل کہے جا سکتے ہیں۔قرآنِ حکیم میں تقریباً چالیس مقامات پر 'اتباع رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ' کا حکم مختلف انداز میں وارد ہوا ہے۔