• اگست
  • ستمبر
2002
ابو الاعلیٰ مودودی
ذیل میں جسٹس ایس اے رحمن کے ایک خط پرمولانا کا تبصرہ شائع کیاجارہا ہے۔ یہ خط اس مراسلت کا ایک حصہ ہے جو 'ترجمان القرآن' کے صفحات میں موصوف اور پروفیسر عبدالحمید صدیقی کے درمیان ہوئی تھی۔ ادارہ
جسٹس ایس اے رحمن اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں:
  • جولائی
  • اگست
1980
ابو الاعلیٰ مودودی
یہ مقالہ اپنے عنوان سے بظاہر آنحضرتﷺ کے دو رنبوت کے ابتدائی 13 برس کی تاریخی جھلک ہے۔ دراصل دعوت و اصلاح کی اسلامی تحریک کے ارتقاء کا ایک مکمل نقشہ بھی پیش کررہا ہے جسے آج کی زبان میں ''تاریخ انسانیت کے ایک عظیم انقلاب سے'' تعبیرکیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ دور عزیمت و استقلالی تھا جس نے دنیائے انسانیت کے سامنے کٹھن سے کٹھن حالات میں حق پرستی اور پامردی کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور تجدید احیائے دین کی راہوں پر چلنے والوں کے لیے سنگ میل لگائے ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1980
ابو الاعلیٰ مودودی
اس ہجرت سے مکے کے گھر گھر میں گہرام مچ گیا۔ کیونکہ قریش کے بڑے اورچھوٹے خاندانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چشم و چراغ ان مہاجرین میں شامل نہ ہوں، کسی کابیٹا گیاتو کسی کا داماد، کسی کی بیٹی گئی تو کسی کا بھائی اور کسی کی بہن۔
  • مئی
  • جون
1973
ابو الاعلیٰ مودودی
یہ مقالہ اپنے عنوان سے بظاہر آنحضرت ﷺکے دورِ نبوت کے ابتدائی ۱۳ برس کی تاریخی جھلک ہے۔ دراصل دعوت و اصلاح کی اسلامی تحریک کے ارتقاء کا ایک مکمل نقشہ بھی پیش کر رہا ہے جسے آج کی زبان میں ''تاریخِ انسانیت کے ایک عظیم انقلاب'' سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ دورِ عزیمت و استقلالی تھا جس نے دنیائے انسانیت کے سامنے کٹھن سے کٹھن حالات میں حق پرستی اور پامردی کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں