• اپریل
1986
عبدالسلام بھٹوی
چوری ایک ایسا جرم ہے جس کی مذمت پر تمام اقوام عالم متفق ہیں۔کیونکہ اس سے انسان کا مال ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی زندگی کے قیام کا باعث بنایا ہے، غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات مزاحمت کی صورت میں جان بھی چلی جاتی ہے۔ اسے روکنے کے لیے لوگوں نے اپنی عقل سے کئی قانون بنائے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں رائج ہیں مگر اس کی روک تھام نہ کرسکے۔ بلکہ انسانوں کی تجویز کردہ سزاویں اس جرم کوختم کرنےکی
  • جون
1986
عبدالسلام بھٹوی
اب میں وہ دفعات پیش کرتا ہوں جن کےذریعے قانون حنفی میں چوری کی حد معطل کی گئی ہے۔ اس کے لیے میں نے صرف ہدایہ اور فتاویٰ عالمگیری کو مآخذ بنایا ہے کیونکہ یہ دونوں کتابیں حنفی حضرات کے ہاں معتبر سمجھی جاتی ہیں۔ہدایہ کے متعلق مولانا عبدالحئ لکھنوی نے مقدمہ حاشیہ ہدایہ میں ایک شعر نقل کیا ہے، جس سے حنفی حضرات کے ہان دوسری کتابوں کے مقابلے میں اس کتاب کامقام معلوم ہوتا ہے۔
  • جولائی
1986
عبدالسلام بھٹوی
یہاں ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر حنفی قانون نےدکانوں میں داخلہ کی عام اجازت کی وجہ سے ان کی چوری پر حد ختم کی ہے تو جس طرح مسجد سے مالک کی موجودگی میں چوری پر حد رکھا ہے دکانوں میں محافظ کی موجودگی میں چوری پربھی ضرور حد رکھی ہوگی۔ مگر اس سوال کا جواب دکانداروں کے لیے خوش کن نہیں، مایوس کن ہے اگرچہ چوروں کے لیے نہایت حوصلہ افزاء ہے، کیونکہ مسجد سے محافظ کی موجودگی میں
  • اگست
1986
عبدالسلام بھٹوی
بات کو مکمل کرنے کے لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حد باطل کرنے کے لیے باربار جس روایت کو دلیل بنایاگیا ہے اس کی حیثیت واضح کردوں او ریہ بھی واضح کردوں کہ اگر اسے صحیح مانا جائےتو مکمل روایت کیا ہے؟ جسے اگر مدنظر رکھاجاتا تو کسی کو تعطیل حدود (حدود ختم کرنے) کی جرأت ہی نہ ہوتی۔حقیقت یہ ہے کہ شبہ سے حد ہٹا دینے کی جتنی روایات ہیں، ان میں کوئی بھی رسول اللہ ﷺ تک ایسی سند سے نہیں پہنچتی