• اپریل
1980
ابوشہبہ
زمانہ طالب علمی میں جب یہ حدیث پڑھی ’’من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر  مائۃ شہید‘‘ یعنی جو شخص میر امت میں فتنہ و فساد کے موقعہ پر میری سنت کا احیاء  کرے گا تو اسے سو شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔اس وقت نوعمری کا زمانہ تھا ۔ علم وعقل میں پختگی نہیں تھی ۔ بنا بریں یہ بات میرے فہم و ادارک سے بالا تر رہی کہ ایک چھوٹی سی  سنت جیسے رفع الیدین فی الصلوٰۃ وغیرہ پر عمل کرنے سے سو شہید کا ثواب کیسے ملے گا  آج سب کچھ معلوم ہو رہا ہے اور عقل و دانش اس امر کے گواہ ہیں کہ واقعی رسو ل اکرم ﷺ کی سنت کے احیاء میں اتنا ثواب ہونا چاہیے ۔
چنانچہ آج  کے دور میں جسے جدید دورسے تعبیر کیا جاتا ہے جس قدر سنت نبوی سے  بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں  برتی جا رہی  چنانچہ بعض لوگوں کو سنت نبوی کی پیروی کرنے کی وجہ سے مسجدوں سے نکلا گیا اور سنت سے انکاروں  انحراف کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے امام صاحب  سے یوں نماز پڑھنا ثابت نہیں ۔ کچھ لوگ حدیث اور سنت کے معاملہ میں اس قدر افراط اور غلو سے کام لیتے ہیں کہ ہر عربی عبارت کو حدیث تصور کرتے ہیں ہر قصہ کہانی کی کتاب  میں  میں آنحضرت  ﷺ  کا کوئی معجزہ ، کوئی واقعہ یا کوئی فرمان سنتے  ہیں تو اسے آنکھیں بند  کر کے حدیث نبوی تصور کرتے ہیں اور اسے تسلیم نہ کرنے والے پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ  نبی ﷺ کی حدیث کاہی منکر ہے ۔ یہ گستاخ اور بے ادب ہے ،وغیرہ )بعض سراسر موضوع احادیث کو صحیح  مرفوع احادیث سےمقدم سمجھتے ہیں ۔