• اپریل
1980
منظور احمد
اگر قرآن حکیم ،مستند روایات اور اسلامی تاریخ کا دیانت و بصیرت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ  بات واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا قابل اعتماد سر چشمہ رسو ل اللہ کی احادیث ہیں ،قرآن کریم میں ارشاد باری ہے :
﴿وَمَن يُشاقِقِ الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُ الهُدىٰ وَيَتَّبِع غَيرَ سَبيلِ المُؤمِنينَ نُوَلِّهِ ما تَوَلّىٰ وَنُصلِهِ جَهَنَّمَ وَساءَت مَصيرًا ﴿١١٥﴾...النساء
’’ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کے مخالفت پر تل جاتا ہے ،اور سبیل المؤمنین کی بجائے دوسری راہ اختیار  کرتا ہے  تو ہم اسے اس طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پلٹ گیا ہے اورہم اسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے ۔‘‘
اس آیت میں دو باتوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ رسو  ل اللہ کی مخالفت  اور آپ ﷺ کے احکام سے سرتابی ،دوسرا سبیل اللہ سے انحراف کرتے ہوئے دوسرے راستہ کی پیروی ۔ظاہر ہے کہ اگر رسو  ل اللہ کے احکام و فرامین جو احادیث کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں ،اگر ان کی صرف حیثیت تاریخ دین کی ہے تو اس پر اس قدر وعید نہ ہونی  چاہیے تھی گویا یشاقق الرسول ‘‘ کا مفہوم ایک ہی ہے یعنی جو سنت رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اسے جہنم کی وعید سنائی جارہی ہے ۔ اس آیت میں دوسرا جرم جس پرعذاب کی دہمکی دی گئی ہے ،
  • جون
1980
منظور احمد
نفاذ شریعت کا ایک اور نقطہ نظر........... تدریج
پاکستان میں اسلامی قانون کا اجراء آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ تفصیل کے ساتھ اس مسئلہ کا جائزہ لیا جائے او رملک میں اسلامی قانون جاری کرنے کے لیے جن ذرائع تدابیر کا اختیار کرنا ضروری ہو انہیں عملی جامہ پہنایا جائے؟
اسلامی قانون کے اجراء کے متعلق بعض لوگوں کے ذہن میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ نظام حکومت کے تغیر کا اعلان ہوتے ہی پچھلے تمام قوانین یک لخت منسوخ ہوجائیں گے او راسلامی قانون بیک وقت نافذ ہوجائے گا لیکن یہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ملک کے قانون کا اس کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے ، جب تک کسی ملک کا نظام زندگی اپنے تمام شعبوں کے ساتھ نہ لائے اس کے قانونی نظام کابدل جانا ممکن نہیں، خاص کر اس حالت میں کہ انگریزی تسلط نے ہماری زندگی کے تمام پورے تمام کو اسلامی اصولوں سے ہٹا کر غیر اسلامی اصولوں پر چلایا اور اب اسے پھر بدل کر دوسری بنیادوں پر لانا کس قدر محنت طلب ہے؟