• جولائی
1996
عبدالحمید خاں عباسی
اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہو نے کی حیثیت سے تفہیم وا دراک اور اسے اعتقاد وعملاً اپنا نے کے لیے قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف رجوع کرنا نہا یت ضروری ہے کیونکہ ان دو نوں سے اعتقادی اور عملی مسائل و احکا م کے چشمے پھوٹتے  ہیں اسی وجہ سے دو نو ں کے احکا م کو اسلا می شریعت کا بنیا دی مصدر و منبع ہو نے کی حیثیت حاصل ہے قرآن مجید ان احکا م کا اجما ل اور احا دیث رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تفصیل و تو ضیح اورشارح و ترجمان ہیں یعنی دونوں ایک دوسرے کے لیے لا زم و ملزوم ہیں ۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں ۔
1۔"علم القرآن اگر اسلامی علوم میں دل کی حیثیت رکھتا ہے تو حدیث شہ رگ کی ۔ یہ شہ رگ اسلامی علوم کے تمام اعضاء وجو ارح تک خون پہنچا کر ہر آن ان کے لیے تا زہ زندگی کا سامان پہنچاتا رہتا ہے آیت کا شان نزول اور ان کی تفسیر احکا م القرآن کی تشریح و تعین اجمال کی تفصیل عموم کی تخصیص مبہم کی تعیین سب علم حدیث کے ذرریعہ معلوم ہو تی  ہے"(1)
2۔"اسی طرح حامل قرآن محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت حیا ت طیبہ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اخلا ق و عادات مبا رکہ اقوال و اعمال سنن و مستحبات اور احکا م واشادات اسی علم حدیث کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں "(2)
3۔اسی طرح خود اسلام کی تا ریخ صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین کے احوال اور ان کے اعمال و اقوال اور اجتہادات وااستنباطات کا خزانہ بھی اسی (علم حدیث ) کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے "(3)
4۔علامہ رحمۃ اللہ علیہ   آخر میں فر ما تے ہیں :"اس بنا پر اگر یہ کہا جا ئے تو صحیح ہے کہ اسلام کے عملی پیکر کا صحیح مرقع اسی علم کی بدولت مسلمانوں میں ہمیشہ کے لیے قائم ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت رہے گا ۔
لیکچر اراداراہ علوم اسلا میہ یو نیو رسٹی آف آزادجموں و کشمیر میر پو ر کیمپس آزاد کشمیر علامہ جعفر الکتانی رحمۃ اللہ علیہ   فر ما تے ہیں :
"یقیناً وہ علم جو ہر ارادہ رکھنے والے کے لیے ضروری ہے اور ہر عالم و عابد کو اس کی ضرورت پڑتی ہے وہ یہی علم حدیث و سنت ہے یعنی جو بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی امت کے لیے مشروع ومسنون قرار دیا "(15)
اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ علیہ   نے عربی اشعار نقل کئے ہیں جن کا ترجمہ ہے ۔