• مئی
  • جون
1982
سعید مجتبیٰ سعیدی
وہ مقدس اور مبارک شہر جس میں مسلمانانِ عالم کا قبلہ، بیت اللہ شریف ہے،مکہ مکرمہ کہلاتا ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت اسی شہر میں ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کی 53 بہاریں اسی شہر میں گزارین۔ بعدہ، جب قریش مکہ کے ظلم و ستم حد سے گزر گئے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اولا حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف، ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی۔
  • دسمبر
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
تحریر: حافظ ابن رجب              

آداب دین و دنیا                        قسط 3 (آخری)
دوسری قسم اس شخص کی ہے، جو اپنے علم و عمل اور زہد و تقویٰ کی نمائش کے ذریعہ دوسروں پر اپنے آپ کو بالاتر ہونے کی چھاپ بٹھانے کی کوشش کرے۔ لوگوں کو اپنا مطیع، فرمانبردار، سرنگوں اور ہر وقت اپنی طرف مودبانہ متوجہ دیکھنا چاہے۔ دوسروں پر اپنے علمی تفوق کی دھاک بٹھانے کے لئے ہر ایک سے اپنی ہمہ دانی کا چرچا کرتا پھرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ اعمال تھے، جو اسے صرف اللہ کی رضا کے لئے کرنا چاہئے تھے، مگر اس نے انہیں دنیا کی جاہ و دولت کے لئے استعمال کیا، ایسے مجرموں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
" مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَّ بِهِ الْعُلَمَاءَ ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ ، أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ "
"جو بھی شخص جاہلوں سے مقابلہ کرنے کے علماء سے جھگڑنے یا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے علم حاصل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کریں گے۔"
اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حجرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہما کے حوالے سے "(فهو فى النار)" کے الفاظ بیان کئے ہیں، یعنی ایسا شخص جہنم میں ہو گا۔
  • اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
موضوع کا تقاضا ہے کہ ہم وسیلہ کا بیان ایک مستقل فصل میں کریں، خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو، تاکہ اس موضوع کے بارہ میں صحیح بات واضح ہو سکے۔
توسل کا لغوی معنیٰ: مطلوبہ چیز کا قرب، اور شوق کے ساتھ اس تک پہنچنا، توسل کہلاتا ہے۔
وسیلہ اس ذریعہ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے قرب حاصل ہو۔۔۔دعا کرنے والا جب یہ سمجھے کہ اس سے حقوق اللہ کے بارہ میں کوتاہیاں ہو چکی ہیں، اور وہ اللہ کی ممنوعہ حدود کا مرتکب ہو چکا ہے، تو جس شخص کو اپنے سے افضل سمجھتا ہو وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ دعا زیادہ سے زیادہ فضیلت والی ہو، اور جلد قبول ہو جائے۔ چونکہ توسل بھی عبادت کے ضمن میں ہے، اس لیے اس کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں:
1۔ اس کی ایک قسم مشروع ہے، جس کا ثبوت قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے ملتا ہے۔
2۔ اور دوسری قسم غیر مشروع ہے، جس کا جواز قرآن کریم اور سنت صحیحہ سے نہیں ملتا، بلکہ کتاب و سنت سے اس کا شرک ہونا ظاہر و باہر ہے۔
  • نومبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
ظاہر ہے کہ کونی امور دنیا میں ان فطری قوانین کے مطابق سر انجام پاتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔۔۔ جبکہ ہر داعی کی ہر دعا قبول و منظور ہو جانے سے ان فطری قوانین میں خلل واقع ہوتا ہے۔ مثلا ہر آدمی مال و دولت چاہتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ ہر آدمی کی اس تمنا و خواہش کو پورا کر دیں تو انسان ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنے لگیں اور زندگی تباہ ہو جائے۔
  • اپریل
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
اللہ تعالیٰ سے جو آدمی سوال نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں: ''عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لم یسأل اللہ یغضب علیہ۔'' ''حضرت ابوہریرہؓ راوی ہیں،آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ سے سوال نہ کرے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔'' یہ اس لیے کہ تکبر اور لاپرواہی کے سبب سوال نہ کرنا ناجائز ہے۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں او رکون ہے جو اللہ تعالیٰ
  • مئی
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
دعاء کے بہت سے آداب ہیں۔دعاء کو بہتر او رکامل بنانے کے لیے دعاء میں ان آداب کوملحوظ رکھنا چاہیے: 1۔ دُعاء سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا اور آنحضورﷺ پر درود پڑھنا:چونکہ دُعاء میں اللہ تعالیٰ سے اس کے انعامات، احسانات ، رحمت اور مغفرت طلب کی جاتی ہے، اس لیے بہتر ہے کہ دعاء سے پہلے اللہ رب العزت کے شایان شان اس کی تعریف و تمجید کی جائے۔''
  • جون
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
3۔ گناہ کا اعتراف :انسان جب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو تو آداب دعاء کا تقاضا ہےکہ اپنے گناہوں، خطاؤں اور تقصیروں کا اقرار بھی کرے۔اسی میں اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا کمال اور اس کا انتہا ہے۔''عن ابی ہریرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : ان اوفق الدعاء ان یقول الرجل: اللھم انت ربی وانا عبدک، ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی یارب فاغفرلی ذنبی انک انت ربی ، انہ لا یغفر الذنوب الا انت''
  • اگست
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
11۔ لیلة القدر میں دعاء کرنا:یہ رات انتہائی بابرکت اور افضل راتوں اور اوقات میں سے ہے۔ اس میں دعاء کرنے والوں او راللہ سے مانگنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔اُم المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کا ذو ق و شوق دیکھیں کہ انہوں نے کہا : ''اے اللہ کے رسولؐ، اگر مجھے لیلة القدر مل جائے تو کیا دعاء کروں؟'' آپؐ نے فرمایا: یہ دعاء کرنا :''اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی''
  • جولائی
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
1۔ رات کو دُعاء کرنا:رات کو جبکہ ہر طرف سکون، اطمینان اور فضا میں سناٹا طاری ہوتا ہے، تمام لوگ گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں، صرف وہ آنکھیں بیدار ہوتی ہیں جو آسمان کی طرف متوجہ ہوکر اس بے پایاں کائنات میں چلتی ، پھرتی،تیری اللہ کی مخلوقات کے بارہ میں سوچ بچار کر رہی ہوتی ہیں۔ اس پر سکون ماحول میں انسان اپنے آپ کو ایک کمزور او ربے حقیقت شے تصور کرتا ہے۔ تب اس کے قلب میں خلاق کی عظمت
  • مارچ
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
فضیلۃ الشیخ عبداللہ الخضری نے عربی زبان میں دعاء کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے، جسے الدار السلفیہ کویت نے شائع کیا ہے۔ افادہ عام کی غرض سے حضرت مولانا سعید مجتبیٰ السعیدی نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ امید ہے قارئین محدث اس سلسلہ کو پسند فرمائیں گے۔ (ادارہ)...........................جب انسان کے تمام دنیاوی اسباب منقطع ہوجائیں، جب انسان کے سارے حیلے عاجز رہ جائیں، جب انسان کے تمام
  • جنوری
1986
سعید مجتبیٰ سعیدی
محدث کی ماہ مئی و جون کی اشاعت میں ایک مضمون بعنوان ''عمامہ اور اتباع سنت'' شائع ہوا۔ جس میں مصنف نے شعب الایمان للبیہقی کے حوالہ سے عمامہ کی فضیلت میں ایک روایت ذکر کرنے کے بعد اطاعت النبی ﷺ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے عمامہ باندھنے پر زور دیا ۔ جہاں تک اطاعت نبیﷺ کا تعلق ہے، وہ تو ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس کی اہمیت سے انکار باعث کفر مگر جس چیز کو ثابت کرنےکے لیے انہوں نے
  • جون
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
فروری سئہ 88ء کا محدث پیش نظر ہے۔ مذکورہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منکرینِ معجزات کے اعتراضات کا جائزہ" میں مولانا کیلانی نے:

1۔ تاریخِ مدینہ کی معتبر کتاب "وفاء الوفاء" کے مصنف سمہودی (م 911ھ) کے متعلق لکھا ہے:

"صاحبِ وفاء الوفاء سمہودی دسویں صدی ہجری کے ایک مصنف ہیں، جنہوں نے مدینہ منورہ کے 94 نام لکھ مارے ہیں۔ اس سے "سمہودی" کی بے کار دماغ سوزی کا پتہ چلتا ہے۔"
  • جنوری
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
جناب محمد رفیع صاحب علی پور چٹھہ (ضلع گوجرانوالہ) سے لکھتے ہیں:

"محترمی مولانا صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

سائل برص کا مریض ہے۔ میں دیوبندی مکتبِ فکر کی ایک مسجد میں نماز پڑھتا تھا۔
  • جنوری
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
نمبرشمار

صفحہ

سطر

خطأ                                                             (غلط)

صواب                                              (صحیح)

103

291

2

سلیمان الاشعث

سلیمان بن الاشعث

104

294

3

عن جدہ عن ابن عباس

عن جدہ ابن عباس



  • اکتوبر
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
میاں محمد صدیق مغل قادری رضوی 9/11 دہلی کالونی کراچی نمبر 6 سے لکھتے ہیں:
"محترم و مکرم حضرت مولانا مفتی صاحب مدظلہ العالی۔۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ اکثر جگہ یہ رسم ہے کہ جب کسی کی وفات ہو جاتی ہے تو ابھی میت کو اول منزل بھی نہیں کیا جاتا کہ اہل میت کو کھانا وغیرہ پکوانے کی فکر اور میت کے اعزہ و اقارب و احباب کی عورتوں کے لیے پان چھالیہ وغیرہ کی فکر ہو جاتی ہے۔ اور بعد اول منزل کے قبرستان میں ہی اعلان دعوت کر دیا جاتا ہے کہ تمام شامل حضرات ٹکڑا توڑ کر جائیں۔ اس طرح پہلے ہی دن جبکہ اہل میت رنج و الم میں مبتلا ہوتے ہیں، انہیں اس طرح یہ اہتمام کرنا پڑتا ہے جیسے خوشی کے موقع پر کیا جاتا ہے۔ پھر اسی طرح تیسرے دن پھر آٹھویں دن۔ اس طرح یہ سلسلہ چالیس دن تک چلتا رہتا ہے۔ بعد چالیس دن کے "چالیسویں" کے نام سے ایک دعوت اس طرح ہوتی ہے کہ اس میں پرتکلف کھانے، چائے، سگریٹ، پان چھالیہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شادی کی کوئی تقریب ہے۔
محترم آپ یہ فرمائیے کہ اہل میت کی طرف سے کھانے کی دعوت کرنا کیا شرعا جائز ہے، جبکہ اہل میت اس دعوت سے ذہنی اور مالی طور پر کافی پریشان اور زیر، بار ہوتے ہیں، وہ بھی مجبورا اس رسم کو نبھانے کے لیے قرض لیتے ہیں اور بعد میں قرض اتارنے کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کرنا پڑتا ہے اور اس طرح مفلسی مستقل طور پر ان کے ہاں اپنا ڈیرہ ڈال لیتی ہے۔ اگر ان کو منع کیا جائے تو وہ جوابا کہتے ہیں کہ تم یہ چاہتے ہو کہ برادری میں ہماری ناک کٹ جائے اور تمام عمر ہم اپنے رشتہ داروں کے طعنے سنیں۔
  • اگست
1986
سعید مجتبیٰ سعیدی
اقبال منزل، حبیب کالونی شیخوپورہ سے جیلانی صاحب لکھتے ہیں:چند روز قبل یوم شہادت علیؓ کے موقع پر پاکستان ٹی وی پر دو ہاشمی اور شیعہ حضرات نے درج ذیل حدیث کے حوالہ سےبات چیت کی:''انا مدینة العلم و علی و بابھا''''میں علم کا شہر ہوں اور علیٰؓ اس کا دروازہ''ہمارے ہاں شیخوپورہ میں ایک بریلوی مولوی صاحب بے بھی جمعہ کے روز (31 مئی 1986ء) کو دوران تقریر اسی حدیث کے حوالہ سے دیر تک فضیلت علیؓ بیان کی او رکہا
  • ستمبر
2012
سعید مجتبیٰ سعیدی
بقیع (بروَزن امیر) ایسے کھلے میدان کو کہتے ہیں جس میں مختلف قسم کے خودرُو گھاس، پودے اور درخت ہوں۔ مدینہ منورہ کے قرب و جوار میں بہت سی جگہیں بقیع کہلاتی تھیں۔ مثلاً 'بقیع الغرقد' جہاں عوسج کا ایک بہت بڑا درخت تھا، اسے غرقد کہا جاتا او راسی نسبت سے اس جگہ کو 'بقیع الغرقد' کہتے تھے۔ اس کے علاوہ بقیع الزبیر، بقیع الخیل او ر بقیع الخبخبة بھی معروف مقامات تھے۔
  • مئی
2005
سعید مجتبیٰ سعیدی
اس شمارے ميں دو مضامين شائع كيے جارہے ہيں جن ميں كهڑے ہوكر كهانے پينے اور كهڑے ہوكر پیشاب كرنے كى اجازت كو پيش كيا گيا ہے اور ان سلسلے ميں اجازت پر مبنى تمام احاديث كو يہاں ذكر كيا گيا ہے ليكن ان احاديث كا مدعا اس سے زيادہ نہيں كہ يہ بتايا جائے كہ كهڑے ہوكر كهانا پينا يا پیشاب كرنا مطلقاً حرام نہيں ہيں بلكہ ضرورت كے پيش نظر شریعت سے ايسا كرنے كا جواز مل سكتا ہے۔
  • فروری
1990
سعید مجتبیٰ سعیدی
نام کتاب۔دعوت واصلاح کے چند اہم اصول۔قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

مصنف۔قاری نعیم الحق صاحب نعیم۔

قیمت۔15 رو پے
  • جنوری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نام کتاب: سادات بنی رقیہ رضی اللہ عنہا
مصنف: حکیم فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
قیمت: اکیس (21) روپے
ناشر: حکیم فیض عالم صدیقی، محلہ مستریاں، جہلم
محترم مولانا حکیم فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ مرحوم جماعت کے ایک معروف اہل قلم گزرے ہیں، ان کا خیال تھا کہ تاریخِ اسلام میں درج بہت سے واقعات شیعہ ذہن کی اختراع ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ مرحوم کا شیعیت اور تاریک کے موضوعات پر مطالعہ پر بڑا گہرا، وسیع اور ناقدانہ تھا۔ شیعہ کی مکالفت میں اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ اہل سنت اور اہل حدیث ہونے کے باوجود صحیح بخاری تک کی بعض احادیث کی صحت کا انکار کرتے تھے۔ ان کی زبان  و قلم میں تندی و ترشی بہت تھی۔ ان میں حد درجہ خود اعتمادی تھی۔ یہاں تک کہ بزرگ علمائے اہل حدیث کی تحقیقات کو بھی اپنی تحقیق کے مقابلہ میں کچھ اہمیت نہ دیتے تھے۔
  • فروری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نام کتاب۔۔۔مقامِ صحابہ رضی اللہ عنہم (شیعہ مذہب کی کُتب کی روشنی میں)
مؤلف۔۔۔ مولانا حکیم فیض عالم صدیقی مرحوم
صفحات۔۔۔ 126
قیمت۔۔۔ 18 روپے
ناشر۔۔۔ مکتبہ فیض القرآن، محلہ مستریاں، جہلم
مرحوم حکیم مولانا فیض عالم صدیقی رحمۃ اللہ علیہ ہماری جماعت کے صاحب علم و قلم بزرگ گزرے ہیں۔ انہوں نے شیعہ مذہب کی جملہ کتب کو کنگھالا ہوا تھا اور شیعہ مذہب پر علمی و تحقیقی انداز میں سخت تنقید کیا کرتے تھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بلند مرتبہ ہونا صرف اہل سنت کے نزدیک ہی نہیں بلکہ شیعہ اکابر کے ہاں بھی مسلم ہے اور ان کی کتب اس پر شاہد ہیں۔
  • دسمبر
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
صلوٰۃ الرسول:مولانا حکیم محمد صادق صاحب سیالکوٹی مرحوم ومغفور
تخریج وتعلیق وحواشی:مولانا حافظ عبدالرؤف صاحب ،مولانا حکیم محمد اشرف صاحب سندھو مرحوم ومغفور
صفحات: 548۔قیمت 100 روپے
ناشر  :دارالاشاعت اشرفیہ،سندھو بلو کی ضلع قصور
تاریخ اشاعت : جنوری 1989ء طبع :اول
اردو زبان میں نماز کے موضوع پرچھوٹی ،بڑی ،مختصر اور مفصل اس قدر کتب لکھی گئی ہیں کہ اُن کا شمار نا ممکن ہے۔مگر جس کتاب کو سب سے زیادہ  شرف قبولیت حاصل ہوا وہ معروف اہل قلم مرحوم ومغفور حضر ت مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی (عربی) آمین)کی ترتیب دادہ کتاب"صلواۃ الرسول" سے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر سب سے زیادہ جامع اور مفصل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کی بڑی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔جیسا کہ مولانا مرحوم کی تحریر کا انداز تھا۔
  • جنوری
1995
سعید مجتبیٰ سعیدی
جنات کا انسانی جسم میں دا خل ہو نا ممکن ہے یا نہیں ؟اس با رے میں اہل علم کی آراء مختلف ہیں معتزلہ اور ان کے ہم نوا جو عقلیا ت کو کتاب و سنت کے بالمقابل اہم سمجھتے اور انہیں فوقیت دیتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ چوبکہ جن اور انسان اپنی ماہیت اور تحقیقی عناصر کے لحاظ سے یکسر مختلف ہیں۔اس لیے جنات انسانی جسم میں دا خل نہیں ہو سکتے ۔اس کے بر عکس قدماء و معاصرین علمائے اہل سنت والجماعت کی تحقیق ہے کہ اگرچہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ اورجدا مخلوق ہیں ۔تاہم قرآن مجید ،احادیث و آثار اور روزمرہ کے مشاہدات سے ثابت ہے کہ جنات انسانی جسم میں داخل ہو تے اور مختلف حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں۔
چنانچہ قرآن مجید میں سودخوروں کے متعلق بیان ہے۔
﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ...٢٧٥﴾...البقرة
"سود خورقیامت کے روزیوں اُٹھیں گے جسے کسی کو جن اپنے حملہ سے مد ہوش کر رکھا ہو۔"امام قرطبیؒ اس آیت کی تفسیر میں رقم طرا ز ہیں ۔
  • فروری
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
منکیرہ میں رہائش :حج سے واپس آکر کچھ عرصہ چک نمبر 157 نزد صادق آباد قیام رکھا، وہاں سے تحصیل بھکر ضلع میانوالی کے مشہور شہر منکیرہ (حال تحصیل منکیرہ ضلع بھکر) میں رہائش پذیر کرلی او راپنی زندگی کے بقیہ دن یہیں پورے کئے۔مختلف تحریکوں میں آپ کا کردار:آپ ابتداء ہی سے متحرک قسم کے آدمی تھے۔ دہلی میں زمانہ تعلیم کے دوران آپ نے ایک انجمن بنا م''انجمن طلبائے اہل حدیث صوبہ پنجاب مدارس عربیہ
  • مارچ
2006
سعید مجتبیٰ سعیدی
شیعہ زعما بالعموم سیاہ پگڑی استعمال کرتے ہیں، اور وہ اپنی مخصوص محافل و مجالس میں سیاہ جبہ بالخصوص پہنتے ہیں۔ ماہ ِمحرم الحرام میں ان کی ایجاد کردہ بہت سی خرافات و بدعات ورسومات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اس مہینہ کو بطور ِ سوگ مناتے اور ان کے عوام وخواص بالعموم سیاہ لباس پہنتے ہیں، ان کے بالمقابل اہل سنت علما و زعما جب ان کی بدعات کا ردّ کرتے ہیں تو اسی ضمن میں سیاہ لباس کی مذمت بیان کرتے ہوئے حد سے تجاوز کرجاتے اور اسے بالکل ناجائز قرار دیتے ہیں
  • مارچ
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ، مِزْمَارًا قَالَ: فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَى أُذُنَيْهِ، وَنَأَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَقَالَ لِي: يَا نَافِعُ هَلْ تَسْمَعُ شَيْئًا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَرَفَعَ إِصْبَعَيْهِ مِنْ أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:282] فَسَمِعَ مِثْلَ هَذَا فَصَنَعَ مِثْلَ  ما صنعت فال نافع وكنت إذ ذاك صغيرا»(احمد . أبوداؤد)
"حضرت نافع کا بیان ہے کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ راستہ میں تھا کہ بانسری کی آواز سنائی دی تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں دے لیں اور راستے سے دوسری جانب ہو لئے۔ دُور جانے کے بعد مجھ سے فرمایا: نافع کیا آواز آ رہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں یا حضرت، تو آپ نے کانوں سے انگلیاں نکال لیں اور فرمایا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہے کی بانسری کی آواز سنی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا نافع فرماتے ہیں: "اس وقت میں چھوٹا سا تھا۔"
  • فروری
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
محمد صدیق مغل، 9؍11 دہلی کالونی کراچی سے لکھتے ہیں :
’’کیا عورت اپنے شوہر کی میّت کو ہاتھ لگاسکتی  اور اسے دیکھ سکتی ہے؟‘‘
الجواب بعون اللہ الوھاب، اقول و باللہ التوفیق:
ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جو بات صحیح اورکتاب و سنت سے ثابت ہو، عموماً اس کی پرواہ نہیں کی جاتی، جبکہ اس کے برخلاف خاندانی رسوم و رواج اور خود ساختہ مسائل کو کہیں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کوانتہائی معیوب گردانا جاتاہے۔
اسی قسم کے خود ساختہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے خاوند کی میّت کو ، یا شوہر اپنی بیوی کی میّت کونہ ہاتھ لگا سکتا ہے ، نہ دیکھ سکتا ہے، نہ غسل دے سکتا ہے اور نہ اسے قبر میں اتار سکتا ہے۔
اس کی بنیاد یہ گھڑی گئی ہے کہ موت سے شوہر اور بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہوجاتے ہیں۔
  • فروری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
جو شخص اللہ کی راہ میں لڑتا ہوا مارا جائے وہ "شہید" کہلاتا ہے۔ یہ اس قدر عظیم مرتبہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تمنا فرمائی اور مختلف فرامین میں اس کی فضیلت و اہمیت سے امت کو آگاہ کیا۔
"قتل فی سبیل اللہ" کے علاوہ بھی چند صورتیں ایسی ہیں کہ اگر مومن کو اس میں سے کسی بھی صورت میں موت آ جائے تو وہ اللہ کے ہاں "مرتبہ شہادت" سے نوازا جاتا ہے۔ چنانچہ "صحیح مسلم" باب بیان الشہداء میں ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، قَالَ: «إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ»، قَالُوا: فَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ»
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم شہید کسے سمجھتے ہو؟" صحابہ نے کہا: "یا رسول اللہ! جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو میری امت کے شہداء بہت تھوڑے ہوں گے۔" صحابہ بولے: "یا رسول اللہ! پھر وہ کون لوگ ہیں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کی راہ میں قتل ہو جانے والا شہید ہے۔ طاعوت کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنے والا شہید ہے۔ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے۔"
  • جنوری
1992
سعید مجتبیٰ سعیدی
جمع الجوامع سے کنز العمال تک

برصغیر پاک وہند کے علماء نے علم حدیث کی خدمت میں جو کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں۔اہل علم ان سے بخوبی واقف ہیں۔اور آج تک ان علماء کی مجہودات سے مستفید ہورہے ہیں۔
  • ستمبر
1983
سعید مجتبیٰ سعیدی
مجاہد اسلام بن رحمة اللہ کویت سے لکھتے ہیں:محترم مولانا صاحب! السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ،عورت کے پردہ کے بارے میں تفصیل سے تحریر کریں۔ ہمارے ہاں ایک شیخ ہیں، ان کے نزدیک عورت اپنا چہرہ ننگا رکھ سکتی ہے۔ آپ کی کیا تحقیق ہے؟ عورت کے لیے چہرہ کا ڈھانپنا واجب ہے یا کھلا رکھنے کی اجازت؟جو جواب بھی ہو، مفصل ، مدلل اور باحوالہ تحریر فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین! 
  • اپریل
1986
سعید مجتبیٰ سعیدی
ماسٹر بشیر احمد صاحب علی پور چٹھہ ضلع گوجرانوالہ سے لکھتے ہیں:جناب مولانا صاحب، السلام علیکم ورحمة اللہ و برکاتہ'!سوال : کیا نماز مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا مسنون ہے؟ جواب مدلّل، بالتفصیل تحریر فرمائیں، جزاکم اللہ الجواب :عصر حاضر میں امت مسلمہ کا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دین اسلام سے بہ بہرہ او رلاتعلق ہے اور جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے ، اس میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
  • اگست
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
محدّث کےایک قاری نے دارالافتاء کے نام ایک سوالنامہ روانہ کرکےاس کا جواب طلب کیاہے۔اصل سوال عربی میں ہے۔ افادہ عوام کی غرض سے یہ سوال مع جواب اُردو زبان میں شامل اشاعت ہے۔ سوال درج ذیل ہے:(الف) معلّق طلاق :ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی او رعدت کے اندر رجوع کرلیا۔ لیکن بیوی پر یہ شرط عائد کی کہ اگر تو نے میری اجازت کے بغیر الماری کھولی تو تجھے طلاق۔پھر ایک ماہ بعد
  • جون
1988
سعید مجتبیٰ سعیدی
٭حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام؟

٭ ابوطالب کا قبولِ اسلام؟ ۔۔وغیرہ

اسلام آباد سے سید ارشد علی لکھتے ہیں:
  • جولائی
1990
سعید مجتبیٰ سعیدی
عام طور پر لوگوں میں مشہور ہے کہ قیامت کے روز لوگوں کو والد ہ کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔مگر یہ بات عقلاً غیر معقول ہے۔
چونکہ انسان کا نسب والد کی طرف سے چلتا ہے نہ کہ والدہ کی طرف سے اس لیے جس طرح دنیا میں انسان کی نسبت والد کی طرف ہو تی ہے اسی طرح آخرت میں بھی ہر انسان کو والد ہی کی طرف نسبت کر کے پکارا جا ئے گا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادیت چونکہ معجزانہ طور پر والد کے بغیر ہوئی تھی ۔اس لیے ان کی نسبت والدہ ہی کی طرف ہو گی ۔
ان کے علاوہ عام انسانوں کو والدہ کی نسبت سے پکارے جا نے کے بارے میں مندرجہ ذیل ایک حدیث روایت کی جاتی ہے۔
  • جنوری
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
نومبر 1988ء کے عام ملکی انتخابات کے نتیجہ میں قوم کے منتخب نئے ممبروں کو ملکی قیادت سونپ دی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ مکمل طور پر نئی حکومت کی مدح و ستائش میں مصروفِ عمل ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اہل وطن نے نئی قیادت کے انتخاب میں انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے ملک میں عظیم انقلاب آ جائے گا، ملک سے غربت کا خاتمہ ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی قیادت و سیادت ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اس منصب پر براجمانی ہی کافی نہیں، بلکہ اس کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر عہدہ برآ ہونا ضروری ہے نیز ملکی حالات کو کنٹرول کرنا، عوام کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت بھی انہی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ ان سب سے بڑھ کر کلمہ گو مسلمان حاکم پر دستورِ خداوندی کا نافذ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ اس سے عہدہ بر آ نہ ہونے کی صورت میں حاکم " ﴿وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴿٤٤﴾ ... المائدة  " کا مصداق ہوتا ہے۔
  • اگست
2000
سعید مجتبیٰ سعیدی
عرض مترجم:۔اللہ تعالیٰ ا پنے بندوں کو دنیا میں وقتاً  فوقتاً مختلف اندازوں سے آزماتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر اس قسم کے حالات آئیں تو صبر سے کام لینا چاہیے،اسی سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔بے صبری کا مظاہرہ کرنے سے اللہ  تعالیٰ کی ناراضگی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ انسان پر جب کوئی مصیبت،دکھ اور  پریشانی آئے تو اس سے انسان کے گناہ معاف اور درجات بلند ہوتے ہیں حتیٰ کہ اگر انسان کو ایک کانٹا چبھے تو یہ بھی انسان کی خطاؤں کی معافی اور بلندی درجات کا سبب بنتاہے۔
امام زین الدین ابو الفرج عبدالرحمان بن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ  اپنے اس کتابچہ میں اسی موضوع کو زیر بحث لائے ہیں۔اسے پڑھ کر سبق ملتاہے کہ مصائب وآلام تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کے لیے رحمت کا ذریعہ ہیں۔بیماری دکھ اور پریشانی وغیرہ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔کوئی بندہ جس قدر اللہ تعالیٰ کا مقرب ہو،اس کی آزمائش بھی اسی قدر ہوتی ہے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر راقم نے سلیس اردو زبان میں اس کا  ترجمہ کیا ہے تاکہ اردو خواں طبقہ بھی اس کے مطالعہ سے مستفید ہوسکے۔دعا ہے کہ اللہ کریم اس تحریر کو برادران اسلام کے لیے مفید ونافع بنائے اور اس کے مصنف اور مترجم کو اپنی رحمت سے نوازے۔آمین!
  • مارچ
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
بھاگل سے عبدالرشید صاحب لکھتے ہیں:''نماز جنازہ میں بعد اس تکبیر اوّل ''سبحانک اللھم...... الخ'' سورۃ الفاتحہ۔ قراء ت اور بعد از تکبیر ثانی درود ابراہیمی کوئی اہلحدیث عالم ثابت کردے تو میں اہلحدیث ہوجاؤں گا۔''الجواب بعون اللہ الوھاب: معلوم ہوتا ہے کسی متعصب ، اہلحدیث کے بُرا چاہنے والے نے ہمارے محترم سائل کو مسلک حقہ اہلحدیث سے بدظن اور متنفر کرنے کے لیے یہ بات ان کے ذہن میں ڈال دی ہے کہ اہلحدیث
  • اکتوبر
1981
سعید مجتبیٰ سعیدی
قباء اور مدینہ منورہ کے جنوب میں تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مختصر سی آبادی ہے۔ جہاں نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے موقعہ پر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آتے ہوئے چودہ دن قیام فرمایا۔ اور اپنے قیام کے دوران یہ مسجد تعمیر فرمائی۔ اسلام میں تعمیر کی گئی مساجد میں یہ سب سے پہلی مسجد ہے۔آنحضرت ﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ ہر ہفتہ کے روز کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر قبا تشریف لاتے اور مسجد میں نماز ادا فرماتے۔
  • دسمبر
1981
سعید مجتبیٰ سعیدی
حرمِ مدینۃ

حرم: (بفتح الحاء الراء المهملتين) جو چیز قابلِ تکریم ہو وہ حرم کہلاتی ہے۔

اصطلاحا: وہ مقررہ حدود جن کے اندر شکار کرنا، درخت اور گھاس کاٹنا وغیرہ امور، شرعی طور پر ناجائز ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک دو حرم ہیں مکۃ المکرمہ اور مدینہ منورہ۔
  • مئی
2012
سعید مجتبیٰ سعیدی
مولانا ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے دینی، مذہبی اور علمی حلقوں میں ایک مقتدر علمی شخصیت کے حوالے سے معروف تھے۔ آپ بجا طور پر ایک مفکر ِاسلام، قرآن و سنت کے سچے داعی، امن کے علم بردار اور علوم شریعت کے ماہر اور حاذق تھے۔ آپ نے اندرون ملک کے علاوہ بیرونِ ملک میں بھی دعوتِ اسلام کے پھریرے لہرائے او رایک عالَم نے آپ کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔
  • اکتوبر
1992
سعید مجتبیٰ سعیدی

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور اور جلیل القدر صحابی ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھتیجے اور حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا ذاد ہیں۔

منفرد خصوصیات:۔

واقعہ فیل سے بارہ تیرہ برس قبل آپ کی ولادت کعبہ مشرف کے اندر ہوئی ۔اور یہ ایک ایسی منفرد اور بے نظیر خصوصیت ہے

  • مارچ
1989
سعید مجتبیٰ سعیدی
استاد محترم! جناب مولانا سعید مجتبیٰ سعیدی صاحب حفظہ اللہ! السلام علیکم
ماہنامہ "محدث" کی جلد 17 شمارہ 8 میں آپ کا ایک مضمون بعنوان "مسنون نمازِ جنازہ" شائع ہوا۔
اس میں آپ نے نمازِ جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنے کے ثبوت میں صحیح بخاری کے حوالہ سے یہ روایت لکھی ہے:
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الكِتَابِ قَالَ: «لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ»
مگر اس روایت سے آپ کا استدلال صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ کیونکہ احمد یار گجراتی نے اپنی تصنیف "جاء الحق' کی دوسری جلد کے صفحہ 242 پر یہی روایت ذکر کر کے مندرجہ ذیل اعتراضات کئے ہیں:
1۔ اس روایت میں یہ نہیں آیا کہ جناب ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ کے اندر سورہ فاتحہ پڑھی۔
بلکہ ظاہر یہ ہے کہ نماز کے بعد میت کو ایصالِ ثواب کے لئے پڑھی ہو۔ جیسا کہ " فَقَرَأَ " کی "ف" سے معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ "ف" تعقیب کی ہے۔
  • اپریل
1987
سعید مجتبیٰ سعیدی
لینر پاک جیلیٹین لمیٹڈ (Leinor Pak Gelatine Limited)کالاشاہ کاکو کے مینجنگ ڈائریکٹر جناب خواجہ امتیاز احمد صاحب نے درج ذیل سوال اٹھایاہے:'''ہمارے کارخانے میںمندرجہ ذیل اشیاء تیار ہوتی ہیں: 1۔ ڈائی کیلشیم فاسفیٹ 2۔ جیلیٹین یہ اشیاء جانوروں کی ہڈیوں کو مختلف مراحل پرکیمیائی اثر کے تحت گزار کر مندرجہ ذیل طریقے پر تیار کی جاتی ہیں:(الف) جانوروں کی ہڈیاں مختلف کارخانوں میں جمع ہوتی ہیں، دھوپ میں
  • نومبر
1976
سعید مجتبیٰ سعیدی
آں حضرتﷺ نئے ماہ کا چاند دیکھ کر درج ذیل دعائیں پڑھا کرتے تھے۔

1۔ اللہم اھلہ علینا بالامن والایمان والسلامۃ والاسلام ربی و ربک اللہ (ترمذی)

(ترجمہ) '' اے اللہ تعالیٰ تو ہم کو امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ چاند دکھا۔ اے چاند! تیرا اور میرا رب اللہ ہی ہے۔''
  • جولائی
2004
عاصم عبداللہ قریوتی
2. شریعت ِاسلامیہ میں مزاح کا حکم
مزاح سے مراد کسی سے شغل کرنا ہے۔ اس سے اس کا دل دکھانا یا ایذا دینا مقصود نہ ہو بلکہ دل خوش کرنا اور محبت کا اظہار ہو۔ اس مفہوم کی روشنی میں مزاح اور استہزا میں فرق ہے۔
  • اکتوبر
1988
حافظ ابن رجب
(قسط 2)

شرف و عزت سے محبت کی آفات میں سے ایک، عہدوں کی طلب اور ان لا لالچ بھی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ باب ہے جسے صرف اللہ تعالیٰ کی معرفت و محبت سے سرشار لوگ ہی جان سکتے ہیں، اور جس کی مخالفت ایسے جاہل لوگ ہی کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کی معرفت رکھنے والوں کے ہاں حقیر و ذلیل ہیں۔
  • اکتوبر
2000
ناصر الدین البانی
(محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمۃ اللہ علیہ  کی شخصیت سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلاف کا ساقوت حافظہ عطا فرمایا۔اسماء رجال اور تحقیق حدیث کے سلسلہ میں روئے زمین پر کم از کم دور حاضر میں آپ جیسا کوئی دوسرا آدمی نظر نہ آیا آپ کی بہت سی تصانیف منصہ شہود پر آکر اہل علم اور قدر دان حضرات سے خراج تحسین حاصل کر چکی ہیں۔
آپ کی مشہور زمانہ تالیف صلوۃ النبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہے جس میں آپ نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی نماز کا مکمل نقشہ فرمایا ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے لیے انمول تحفہ ہے اس کا اردو ترجمہ ہو چکا ہے اور مارکیٹ میں بھی دستیاب ہے۔
علامہ موصوف نے اپنی اس کتاب کی تلخیص بھی شائع کی تھی جس میں انتہائی اختصار مگر حددرجہ جامعیت کے ساتھ نماز کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ الحمد اللہ اس مختصر کتاب کا ترجمہ کرنے کی سعادت راقم الحروف کے حصہ میں آئی ۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے سابقہ تراجم کتب و نگار شات کی طرح اسے بھی برادران اسلام کی اصلاح کے لیے نافع اور میرے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔
قارئین سے التماس ہے کہ اپنی دعاؤں میں راقم کو میرے والد محترم مولانا ابو سعید عبدالعزیز سعیدی مرحوم اور اساتذہ کرام کو بھی یاد رکھیں ۔(مترجم)
  • ستمبر
1987
شیخ عبداللہ الحضری
1۔ مسلمان بھائی کے لیے دُعاء کرنا او راپنے لیے نہ کرنا:
یہ شرعاً جائز اور آنحضرتﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے دعاء کی تھی:
’’اللٰھم اغفرلعبید ابی عامر اللٰھم اغفر لعبد اللہ بن قیس ذنبه‘‘ (صحیح بخاری :11؍35)
’’یا اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما! یا اللہ، عبداللہ بن قیس کی خطائیں بخش دے۔‘‘ 
اسی طرح آپؐ کا حضرت انس ؓ کے حق میں دعاء کرنابھی آیا ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنه قال : قالت اُم سلیم للنبی صلی اللہ علیه وآله وسلم انس خادمک، قال: اللٰھم اکثر ماله وولده و بارک له فیما اعطیته‘‘(صحیح بخاری :11؍136)
’’حضرت انس ؓ کہتے ہیں، اُم سلیم ؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی ،  ’’اللہ کے رسولؐ، انس ؓ آپ کا خادم ہے۔‘‘ تو آپؐ نے دعاء فرمائی: ’’یا اللہ ، اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اسے دی ہوئی  نعمتوں  میں برکت عطا فرما۔‘‘
  • جنوری
1993
عبدالوہاب عبداللطیف
نام، نسب، کنیت اور لقب : آپ کی کنیت ابوالفضل، لقب جلال الدین او رنام عبدالرحمٰن بن الکمال ابی بکر محمد بن سابق .......... الخضیری، الاسیوطی، الشافعی ہے۔ولادت : آپ کی ولادت یکم رجب 849ھ بروز اتوار بعد نماز مغرب ہوئی۔سیوطی کا انتساب : ''اُسیوط'' کی طرف نسبت سے آپ ''اسیوطی'' مشہور ہوئے۔اسیوط کا تلفظ : پہلے حرف پر پیش، دوسرا ساکن اور تیسرے پر بھی پیش ہے۔مراصد الاطلاع : میں ہے کہ یہ ''صعید مصر'' کے نواح میں دریائے نیل کے مغربی
  • مارچ
2005
شفقت اللہ
تازہ خواہى داشتن گرد اغ ہائے سينہ را   گاہے گاہے باز خواں ايں قصہ پارينہ را
زير نظر تذكرہ جنوبى پنجاب كے ايك نامور صاحب ِعلم مصنف كا ہے- عربى زبان دانى، شاعرى اور تصانيف كى كثرت موصوف كا ايسا امتيازہے جس سے ان كى شخصيت اپنے اماثل واقران ميں نماياں ہوجاتى ہے-علاوہ ازيں آپ كے علم اور وسعت ِمعلومات سے ہركوئى متاثر ہوئے بغير نہ رہتا۔