• جنوری
1998
چودھری عبدالحفیظ
حد کی جمع حدود ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں چودہ مقامات پر آیا ہے:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا ﴾...(البقرة)
"یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں، ان کے پاس نہ جانا"
﴿إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ﴾... (البقرة: 229)
"ہاں اگر میاں بیوی کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا﴾ ...(البقرة: 229)
"اگر تم ڈرتے ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے"
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾... (البقرة: 229)
"یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں (احکامات) ان سے باہر نہ نکلنا"
  • مئی
  • جون
1995
چودھری عبدالحفیظ
کتاب"اشاریہ تفہیم القرآن" نظر سے گزری۔فاضل مرتبین جناب پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب ڈائیرکٹر ادارہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور اور آنسہ پروفسیر ڈاکٹر جمیلہ شوکت صاحب چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کسی تعارف کی محتاج نہیں۔انہوں نے بجا طور پر بروقت اہل علم،ریسرچ سکالرز،قرآن وسنت کے طالب علموں اور دین کاشغف رکھنے والوں کی آواز پر لبیک کہا اور"تفہیم القرآن" کا اشاریہ  ترتیب دے کر علمی اضافہ کیا۔
واقعتاً قرآن سے استفادہ کرنے اور خصوصاً "تفہیم القرآن" سے مستفید ہونے کےلئے اشاریہ کی ضرورت ایک مدت سے محسوس کی جارہی تھی مگر اس میں کوئی صاحب علم آگے نہ بڑھا حتیٰ کہ "الفضل للمقدم"کے مصداق یہ سعادت فاضل مرتبین کے حصے میں آئی۔جس کے لئے وہ تمام اہل علم کی طرف سے مبارکبار کے مستحق ہیں۔جزاھما اللہ عنا خیرا الجزاء
  • جنوری
1996
چودھری عبدالحفیظ
نام و نسب

امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کا پورا نام تقی الدین ابوالعباس احمد بن شہاب الدین ابوالمحاسن عبدالحکیم بن امام مجدد الدین ابوالبرکات عبدالسلام بن ابو محمد بن عبداللہ بن ابوالقاسم الخضر، بن محمد بن الخضر بن علی بن عبداللہ بن تیمیہ رحمة اللہ علیہ ہے۔
  • جنوری
1994
چودھری عبدالحفیظ
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقولوا ر‌ٰ‌عِنا وَقولُوا انظُر‌نا وَاسمَعوا وَلِلكـٰفِر‌ينَ عَذابٌ أَليمٌ ﴿١٠٤﴾ ما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن أَهلِ الكِتـٰبِ وَلَا المُشرِ‌كينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيكُم مِن خَيرٍ‌ مِن رَ‌بِّكُم وَاللَّهُ يَختَصُّ بِرَ‌حمَتِهِ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ ﴿١٠٥﴾... سورة البقرة

ترجمہ:۔اے ایمان لانے والو! گفتگو کے دوران رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو" رَاعِنَا " نہ کہا کرو بلکہ" انظُرْنَا "کہاکرو اور خوب یاد رکھو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔"
  • نومبر
1989
چودھری عبدالحفیظ
صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اللہ تعالیٰ کی کتاب پاک کو بسم اللہ سے ہی شروع کیا تھا۔سب علماء کا اس بات پراتفاق ہے۔کہ بسم اللہ سورہ نمل کی ایک آیت ہے۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سورت کا دوسری سورت سے فرق نہ پہچانتے تھے ۔حتیٰ کہ بسم اللہ اُترتی۔ابوداؤد نے اسے صحیح اسناد سے ر وایت کیا ہے۔یہ روایت مستدرک حاکم میں بھی آئی ہے۔
  • جولائی
1989
چودھری عبدالحفیظ
بعض علماء نے کہا ہے کہ کو ئی چیز ایسی نہیں جس کا قرآن مجید سے اخذا کرناناممکن ہو مگر یہ وہ کر سکتا ہے ۔جسے اللہ نے سمجھ دی یہاں تک کہ بعض اہل علم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر (63) برس سورہ منافقین کی اس آیت سے اخذا کی :

﴿وَلَن يُؤَخِّرَ‌ اللَّهُ نَفسًا إِذا جاءَ أَجَلُها...﴿١١﴾... سورة المنافقون
  • فروری
  • مارچ
1995
چودھری عبدالحفیظ
(گزشتہ سے پیوستہ) ۔۔۔معلوم ہوا کہ بیت اللہ کی حرمت ابراہیم علیہ السلام  کی تعمیر سے  پہلے کی ہے جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ کےہاں  پہلے سے خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم  لکھے ہوئے تھے۔حالانکہ آدم علیہ السلام  ابھی مٹی کے پتلے تھے۔حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے ایک دعا بھی کی تھی کہ انہی میں سے ایک رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  پیدا فرما۔اللہ نے اپنے علم وقدرت کے مطابق اس دعا کو قبول فرمایا۔اسی لئے حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیدائش کے بارے میں پوچھا گیا،تو فرمایا:میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام  کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام  کی بشارت ہوں،میری والدہ نے دیکھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات چمک اٹھے۔
  • مئی
  • جون
1995
چودھری عبدالحفیظ
آیت نمبر:۔129:۔
﴿رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١٢٩﴾...البقرة
"اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے"
ندائے خلیل اور دعائے مسیحا:۔
اس آیت میں حضرت  ابراہیم علیہ السلام   کی دعا کا وہ آخری حصہ ہے۔جو آپ نے اہل حرم کے لئے فرمائی۔دعا یہ تھی کہ اے پروردیگار!میری اولاد سے ایک رسول ان میں بھیج دے۔ان کی یہ  دعا تقدیر کے عین مطابق ثابت ہوئی۔تقدیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کو نبی متعین کرنے کی تھھی جنھیں نہ صرف امیین کی طرف بھیجاگیا  بلکہ سارے عجم اورساری کائنات کے جن وانس کے لئے مبعوث کیاگیا۔حدیث عریاض بن ساریہ  رحمۃ اللہ علیہ  میں ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:
"میں اللہ کے ہاں اس وقت خاتم النبیین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تھا جب آدم علیہ السلام   بھی مٹی کے پتلے تھے۔میں تمھیں نبوت کےآغاز کی اطلاع دیتا ہوں۔میں دعا ہوں ا پنے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام   کی،بشارت ہوں حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   کی اور اپنی ماں کاخواب ہوں،بالکل اسی طرح جیسے دوسرے پیغمبروں کی مائیں دیکھا کرتی تھیں"(رواہ احمد)
مراد یہ ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو لوگوں میں مشہور کیا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ذکرعام کیا تھا وہ حضرت ابراہیم  علیہ السلام   ہیں۔آپ کے ذکر مبارک کی یہ دھوم دھام لوگوں میں ہمیشہ لگاتار چلتی رہی۔حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ  علیہ السلام   نے اپنی قوم میں کھڑے ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبارک نام کایہ خطبہ پڑھا:۔
﴿...إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَد... ٦﴾...الصف
"میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جن کا نام احمد ہے۔"
  • جنوری
1993
چودھری عبدالحفیظ
''وَٱتَّقُوا۟ يَوْمًا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُ‌ونَ ﴿٤٨ '' (سورہ البقرہ:48)ترجمہ: ''اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی کے کام نہیں آئے گا۔ کسی کی سفارش منظور نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول ہوگا۔ نہ ہی لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں گے۔''ہمارے پیغمبر ہمیں چھڑا لیں گے !مذکورہ اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے اس دعوے کی تردید ہے جس میں وہ کہتے تھے کہ ہم چاہے کتنے ہی گناہ
  • مئی
1971
چودھری عبدالحفیظ
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں علامہ اقبالؒ کا یہ مصرعہ تو مشہور ہے، مگر بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ علامہ اقبالؒ نے یہ مصرعہ کس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے؟

قارئین کرام! ہر زمانے میں کچ لوگ ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جنہو نے دینِ اسلام کی خاطر سختیاں برداشت کیں،
  • اپریل
1982
چودھری عبدالحفیظ
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین نے بھی نقل کیا ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«خَالِفُوا الْمُشْرِكِيْنَ وَفِرُّوا اللِّحٰى وَاَحْفُوا الشَّوَارِبَ»
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
چودھری عبدالحفیظ
لغوی معنی:

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم لفظ ''صوم'' جسے قرآن حکیم میں ایک خاص عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، کے لغوی معنی متعین کریں اور پھر دیکھیں کہ اس کا مفہوم کیا ہے۔ اس لفظ کا مادہ ص۔ و۔ م اور صوم کا لغوی معنی ہے ''کام سے رُک جانا'' کسی جگہ پر ٹھہر جانا۔
  • مارچ
1996
چودھری عبدالحفیظ
دنیا کی ہر قوم میں ملاقا ت کا ایک طریقہ اور سلیقہ موجود ہے ،عیسائی جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو اگر سر پر ٹوپی یا ہیٹ ہو تو اسے اٹھا کر تھوڑا سا جھکا کر کہتے ہیں good morning ,good evening , good by, یہودیوں کے ہاں سلام کا طریقہ وہی ہے جو عام طور پر سکائوٹوں اور ملٹری میں رائج ہے ۔دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں اکٹھی کر کے پیشانی تک لانا اور نیچے سے کھٹاک سے پائوں مارنا ۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
چودھری عبدالحفیظ
موجودہ حالات میں ہم قومی سطح پر جن مسائل سے دوچار ہیں اور اخلاقی لحاظ سے جس تنزل کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسوۂ رسول ﷺ کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور سیرتِ طیبہ کی روشنی سے ہم نے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ سیرتِ طیبہ اور شریعتِ محمدیہ علی صاحبہا افضل التحیۃ والسلام کو اگر آج بھی ہم اپنا رہنما بنا لیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے معاشرتی، تمدنی، معاشی، سماجی، اخلاقی، سیاسی تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
  • اپریل
1971
حماد بن محمد الانصاری
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ''سرمایہ داری'' اور ''اشتراکیت'' زندگی کے صرف معاشی پہلو سے تعلق رکھتے ہیں اور انسان کی سماجی، سیاسی اور دینی زندگی سے ان کا کوئی واسطہ نہیں، وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان دونوں نظاموں سے واقف نہیں، کیوں کہ سرمایہ داروں اور اشتراکیوں نے اپنی اپنی کتابوں اور اعلانات کے ابتدائی صفحات میں ہی ان تمام باریک نکات کو واضح کر دیا ہے