• مارچ
2013
طالب ہاشمی
روزمرّہ گفتگو میں ہم کہتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا یا فلاں کام کو میرا جی چاہ رہا ہے۔ شروع سے مختلف تہذیبوں میں انسان کا یہی طرزِ تکلم چلا آرہا ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی اللّٰہ تعالیٰ کے متعدد فرامین اسی سیاق میں موجود ہیں مثلاً سورة الحج میں ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوجاتیں بلکہ وہ دل (بصیرت سے) اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ ایک اور مقام پر یوں ہے
  • جنوری
  • فروری
1980
طالب ہاشمی
حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بیسوی ایسی خواتین کے نام ملتے ہیں جن کا شمار عظیم  للرتبت صحابیات میں ہوتا ہے لیکن ان کے حالات زندگی بہت کم معلوم ہیں یہاں ہم ایسی بارہ صحابیات کے حالات ( جس قدر معلوم ہیں ) نذر قارئین  کرتے ہیں ۔
حضرت ام ایوب انصاریہ ﷜
اصل نام معلوم نہیں اپنی کنیت  ’’ام ایوب‘‘ سے مشہور ہیں ۔ میزبان روسول اللہ ﷺ حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی اہلیہ تھیں ۔ ہجرت نبوی سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا ۔ سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ  تشریف لائے تو سات ماہ تک  حضرت ابو ایوب ﷜ کے گھر میں ہی قیام فرمایا ۔ اس دوران میں حضرت ام ایوب ﷜ ہی حضور ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا کرتی تھیں ۔ ابتداء میں حضور ﷺ نے حضرت ابو ایوب ﷜ کے مکان کی زیریں منزل  میں قیام فرمایا ۔ حضرت ابو ایوب﷜ اور ام ایوب  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  اگرچہ  حضور ﷺ کی ابنی خواہش کے مطابق بالاخانہ میں منتقل ہو گئے تھے مگر دونوں میاں بیوی کو ہر وقت یہ خیال مضطرب رکھتا تھا
  • جنوری
1983
طالب ہاشمی
صبح صادق از مولانا عبدالرحمٰن عاجز مالیر کوٹلوی ضخامت:112 صفحات۔ دیدہ زیب مضبوط جلد نہایت اعلیٰ سفید دبیز کاغذ۔ ہر صفحہ بیلدار کتاب طباعت نہایت عمدہ قیمت: مجلد پلاسٹک کور 14 قیمت آفسٹ کاعذ اعلیٰ مجلد 21 قیمت جہیز اڈیشن 27۔ ناشر : رحمانیہ دارالکتب ، امین پور بازار، فیصل آباد۔مولانا عبدالرحمٰن عاجز مالیر کوٹلوی کا نام اب پاکستان کے علمی دینی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا۔ وہ ایک ایسے خوشگوشاعر ہیں جنہوں 
  • مارچ
1983
طالب ہاشمی
ترجمان القرآن (جلد سوم) : مولانا ابوالکلام آزادمرتبہ : شیخ التفسیر مولانا محمد عبدہ ضخامت : 665 صفحات بڑا سائز: کاغذ کتابت طباعت عمدہ مجلد سنہری ڈائی دار قیمت : .................. ناشر : اسلامی اکادمی، اردو بازار لاہوروطن عزیز میں ایسے اصحاب یقیناً موجود ہیں جن کومولانا ابوالکلام آزاد کے سیاسی مسلک سے شدید اختلاف رہا ہے لیکن بقول ڈاکٹر سید عبداللہ ''اس بات سے کوئی متعصب آدمی بھی انکار نہیں کرے گا کہ وہ (آزاد) ایک 
  • نومبر
1982
طالب ہاشمی
صبح صادق

از مولاناعبدالرحمن عاجز مالیرکوٹلوی

ضخامت:112صفحات۔دیدہ زیب مضبوط جلد
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
نام کتاب:                                سید بادشاہ کا قافلہ
مولفہ: آباد شاہ پوری         ضخامت: 456 صفحات
بڑا سائز، کاغذ کتابت، طباعت عمدہ، مجلد، سنہری ڈائیدار، قیمت 48 روپے
ناشر: البدر پبلی کیشنر 23 راحت مارکیٹ اردو بازار لاہور
سید احمد شہید بریلوی نے عزم و ہمت، صبر و استقامت اور راہِ حق میں بلا کشی کے جو نقوش سیتہ گیتی پر مرتسم کئے، وہ ابدالاباد تک اہل ایمان کے دلوں مین حرارت پیدا کرتے رہیں گے۔ فی الحقیقت احیاء دین کے سلسلہ میں سید احمد شہید اور ان کے سرفروز رفقاء کی مساعی جمیلہ اور ان کی داستان، جہاد و شہادت ہماری تاریخ کا ایک تابناک باب ہے، اتنا تابناک کہ اس کی روشنی میں ملتِ اسلامیہ اپنی منزلِ مقصود کا رخ متعین کر سکتی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے سید احمد کی تحریک جہاد کا تعارف یوں کرایا ہے:
"تیرھویں صدی میں جب ایک طرف ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی اور دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا، مولانا اسمعیل شہید اور حضرت سید احمد بریلوی کی مجاہدانہ کوششوں نے تجدیدِ دین کی نئی تحریک شروع کی، یہ وہ وقت تھا جب سارے پنجاب پر سکھوں کا اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ ان دو بزرگوں نے اپنی بلند ہمتی سے اسلام کا علم اٹھایا اور مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی جس کی آواز ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لے کر خلیج بنگال کے کناروں تک یکساں پھیل گئی اور لوگ جوق در جوق اس علم کے نیچے جمع ہونے لگے، اس مجددانہ کارنامہ کی عام تاریخ لوگوں کو یہیں تک معلوم ہے کہ ان مجاہدوں نے سرحد پار ہو کر سکھوں سے مقابلہ کیا اور شہید ہوئے حالانکہ یہ واقعہ اس کی پوری تاریخ کا صرف ایک باب ہے۔" (دیباچہ سید احمد شہید از سید ابوالحسن علی ندوی)
  • مئی
1978
طالب ہاشمی
ارمغان حرم : جناب راسخ عرفانی

ضخامت : 96 صفحات مجلدمع رنگین گردپوش

کاغذ، کتاب، طباعت نہایت اعلیٰ:
  • مارچ
1977
طالب ہاشمی
فتاویٰ رحمان مولوی عبدالخالق اسد اللہ طور حصاری

صفحات 54

قیمت 2 روپے

پتہ شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار لاہور
  • جنوری
  • فروری
1980
طالب ہاشمی
ہندوستا ن کی پہلی اسلامی تحریک 
از ۔۔۔ مولانا مسعود عالم ندوی
ضخامت : 180 صفحات بڑا سائز 
کاغذ ، کتابت و طباعت عمدہ 
قیمت : دس روپے
ناشر: ادارہ مطبوعات سلیمانی 
40۔بی  اردو بازار ۔ لاہور 
دینی  اور علمی حلقوں میں مولانا مسعود عالم ندوی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں وہ ایک یگانہ روز گا ر عالم دین ، بلند پایہ مؤرخ اور صاحب  طرز انشاء پرداز تھے ۔ وہ برکوچک پاک و ہند کے ان چند علمائیں  سے تھے جن کو عربی زبان پر بے پناہ عبور حاصل تھا یہاں تک کہ خود عرب ادباء  وفضلا ان پر رشک کرتے تھے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سوز درون کی دولت سے مالا مال تھے
  • مارچ
1980
طالب ہاشمی
پاکستان مین مسیحیت

تالیف :ڈاکٹر محمد رضا صدیقی
ناشر :مسلم اکادمی ۔ 18/29 محمد نگر لاہور 
قیمت :چالیس روپے صفحات :520
برصغیر پاک وہند میں مسیحیت کا پھیلاؤ ایک عبرت انگیز داستان ہےجس کی طرف بہت کم توجہ دی گ‘ی ہے ۔جناب امدادصابیری صاحب کی تالیف ’’فرنگیوں کا جال ‘‘ اس موضوع پر پہلی قابل ذکر کتا ب ہے ۔ انہوں نے برصغیر میں جلال الدین اکبر کےزمانے سے لے کر برطانوی عہد اقتدار تک مسیحت کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا ہے ۔ اس تالیف کے بعد مسحیت کے بارے میں مناظر انہ اور تحقیقی انداز کی کتابیں تو شائع ہوتی رہیں مگر کسی نے مسیحی تبلیغی اداروں کی راز دارانہ اور کھلم کھلا سرگرمیوں کا  جائزہ نہیں لیا حتی  کہ 1952 ء میں ایک مسیحی پرچے ’’ ‘‘ نے اشاعت مسیحیت پر ایک رپورٹ شائع کی ۔ اس رپورٹ سے پاکستان میں بھی ہلچل پیدا ہوئی ۔ چند کتابچے منظر عام پر آئے جناب حافظ نذر احمد صاحب نے پاکستان میں فروغ مسحیت پر اعد اد وشمار کی زبان میں گفتگو کی اور اہل نظر کو پاکستان میں راتداد کی تشویشناک صورت حا ل کی طرف توجہ دلائی ۔
  • دسمبر
1978
طالب ہاشمی
فضائل القرآن : مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی

مرتب : جناب حفیظ الرحمٰن احسن

صفحات : 155
  • دسمبر
1978
طالب ہاشمی
ہجرت نبوی سے چند سال بعد کاذکر ہے کہ ایک دن میانہ قد او راکہرے بدن کے ایک گورے چٹّے پاکیزہ صورت آدمی بارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے بڑے ادب سے حضورﷺ کو سلام کیا اور پھر آپ کی خدمت میں بیٹھ کر ارشادات نبویؐ سے مستفیض ہونے لگے۔ یکایک سرور عالمﷺ پر آثار وحی طاری ہوئی اور زبان رسالتؐ پر قرآن حکیم کی ایک سورۃ جاری ہوگئی ۔ وہ صاحب وحی الہٰی کاایک ایک لفظ بغور سنتے اور اس کو لکھتے جاتےتھے۔
  • اگست
  • ستمبر
1978
طالب ہاشمی
جس زمانے میں آفتاب اسلام فاران کی چوٹیوں سےطلوع ہورہا تھا۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ جانےوالے راستے پر قدید نام کی ایک چھوٹی سی بستی صحرا کے متصل واقع تھی۔ اس میں ایک مختصر سا غریب خاندان اپنی زندگی کے دن بڑے عجیب انداز میں گزار رہا تھا۔ اس گھرانے کی ساری متاع لے دے کر ایک خیمے، بکریوں کے ایک ریوڑ،گتنی کے چند برتنوں اور مشکیزوں پر مشتمل تھی، خاندان کا سربراہ ایک جفاکش بدوی تمیم بن عبدالعزیٰ خزاعی تھا۔
  • مئی
  • جون
1979
طالب ہاشمی
غزوہ بدر (رمضان المبارک2 ہجری) میں قریش کی ذلت آمیز ہزیمت کی خبر مکہ معظمہ پہنچی تو وہاں گھر گھر صف ماتم بچھ گئی۔ بدبخت ابولہب کی حالت تو دیکھی نہ جاتی تھی۔ فرط الم نے اس کو اتنا نڈھال کردیا کہ چلتے ہوئے قدم لڑکھڑاتے تھے۔اسی حالت میں وہ لڑائی کے حالات دریافت کرنےکے لیے گھسٹتا گھسٹاتا اپنے بھائی عباس بن عبدالمطلب کے گھر پہنچا جو مشرکین کے ساتھ مسلمانوں سے لڑنے گئے تھے اور لڑائی میں شکست کھانے کے بعد مسلمانوں کے قیدی بن چکے تھے۔
  • مارچ
1982
طالب ہاشمی
(1)

بعض روایتوں میں ان کا نام "جلبیب" رضی اللہ عنہ بھی آیا ہے۔ سلسلہ نسب اور خاندان کا حال معلوم نہیں لیکن اربابِ سیر کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ وہ مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے اور انصار کے کسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ پست قد اور کم رو تھے لیکن پاک باطنی، نیک طنیتی، شجاعت، اخلاص فی الدین اور حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے اپنی مثال آپ تھے۔ اسی لیے رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت مھبوب تھے۔
  • اگست
1982
طالب ہاشمی
غسیل الملائکہ
(1)

راس المنافقین عبداللہ بن ابی کابہنوئی ابو عامر اگرچہ ایک زاہد مرتاض تھا اور اس نے حق کی تلاش میں گوشہ عزلت اختیار کرلیا تھا۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
طالب ہاشمی
سیدنا حضرت عمر فاروقؓ کے عہد خلافت میں جنگ قادسیہ کا شمار عراق عرب کی سرزمین پر لڑی جانے والی نہایت خونریز اور فیصلہ کن جنگوں میں ہوتا ہے۔ اس لڑائی میں سلطنت ایران نے اپنے دولاکھ آزمودہ کار جنگ جُو اور تین سو جنگی ہاتھی مسلمانوں کےمقابل لاکھڑے کیے دوسری طرف مجاہدین اسلام کی کل تعداد صرف تیس اور چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ ان میں سے بعض مجاہدین کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی جہاد میں حصہ لینے کے لیے قادسیہ آئے تھے۔
  • جنوری
1982
طالب ہاشمی
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر سر زمینِ مدینہ کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے رشکِ جناں بنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عرصہ بعد مسجدِ نبوی کی تعمیر کا اہتمام فرمایا۔ جب مسجد تعمیر ہو چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت محسوس فرمائی کہ نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے عام مسلمانوں کو نماز کے وقت سے کچھ دیر پہلے اطلاع دینی چاہئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے مشورہ فرمایا کہ اس مقصد کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا مناسب ہو گا؟ کسی نے عرض کیا کہ کسی بلند جگہ پر آگ روشن کر دی جایا کرے۔ کسی نے رائے دی کہ نماز کے وقت قریب مسجد پر جھنڈا بلند کر دیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ جس طرح یہود و نصاری اپنی عبادت گاہوں میں نرسنگھا یا ناقوس بجاتے ہیں ہم بھی نماز کے اعلان کے لیے اسی طرح کیا کریں، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی تجویز پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور اس مسئلہ میں متفکر رہے تاہم وقتی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بجانے والی تجویز کو منظور فرما لیا۔ ابھی اس تجویز پر عمل نہیں ہوا تھا کہ دوسرے دن علی الصباح ایک انصاری صاحبِ رسول بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور یوں عرض پیرا ہوئے:
  • مئی
  • جون
1982
طالب ہاشمی
ان کا تعلق خزرج کے خاندان خدرہ سے تھا، شجرہ نسب یہ ہے:

مالک بن سنان بن عبید بن ثعبلہ بن الابجر (خدرہ) بن عوف بن حارث بن خزرج۔

ان کے والد سنان شہید کے لقب سے مشہور تھے۔ وہ اپنے قبیلے کے رئیس تھے اور مدینہ میں چاہ بصہ کے قریب قلعہ اجرد کے مالک تھے۔
  • اپریل
1980
طالب ہاشمی
1)حضرت زینب ؓ بنت ابی سلمہ ؓ
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ﷜ کی صاحبزادی تھیں جو ان کی پہلے شوہر حضرت ابو سلمہ ﷜ بن عبدالاسد مخزومی کے صلب سے تھیں ۔ سلسلہ نسب یہ ہے :
زینب ؓبنت ابو سلمہ ؓ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم القرشی۔
حضرت ابو سلمہؓ رسو ل اکرم ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی ، اس  لحاظ سے حضرت زینب  ﷜ حضور کی بھتیجی ہوتی تھیں۔ (برہ بنت عبدالمطلب حضرت زینب ﷜ کی دادی تھیں اور حضور ﷺکی پھوپھی ) ان کی ولادت  کے بارے میں روایتوں میں ان کے والدین مکہ سے ہجرت کرنے کےبعد قیام پذیر تھے ۔ حضرت ابو سلمہ ؓ اور ام سلمہ ؓ حبشہ میں چند سال گزارنے کےبعد مکہ واپس آگئے اور پھر وہاں سے مدینہ کی طرف ہجرت کی (حضرت ابو سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں مدینہ کی طرف ہجرت کی اور حضرت ام سلمہ ؓ نے 12؁ بعد بعثت میں )مولانا سعید انصاری مرحوم نے سیر الصحابیات میں لکھا ہے کہ حضرت زینب ؓنے اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کی ۔ اگر حضرت زینب ؓ کی ولادت حبشہ  میں تسلیم کی جائے تو پھر انہوں نے ’’والدین ‘‘ کے ساتھ نہیں بلکہ والدہ کے ساتھ ہجرت کی ہوگی ،دونوں میاں بیوی کے زمانہ ہجرت میں ایک سال کا تفاوت ہے )
  • دسمبر
1981
طالب ہاشمی
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا، تو انصارِ مدینہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اپنے ایک انصاری جاں نثار کو نہ پایا جو بیعت عقبہ کبیرہ میں والہانہ جوش و خروش کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر چکے تھے اور بآوازِ بلند خدا کی قسم کھا کر یہ عہد کر چکے تھے کہ حضور مدینہ تشریف لائیں تو ہم اپنی جان اور آل اولاد کے ساتھ آپ کی حفاظت کریں گے۔
  • جولائی
1982
طالب ہاشمی
سیدنا حضرت ابو سعید بن صمہ خزرج کےمعزز ترین خاندان نجار سے ہیں ۔نسب نامہ یہ ہے۔

حارث بن صمہ بن عمروبن عتیک بن عمرو بن عامر(مبذول) بن مالک بن نجار۔

ہجرت نبوی سےقبل ہی ان کی فطرت سعید انہیں توحید کی طرف مائل کردیا ہےاورسن 11ہجری سے 13 نبوت کےدرمیان کسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
طالب ہاشمی
رحمتِ عالم ﷺ نے جب اپنے وطن اور گھر بار کو خیر باد کہہ کر مدینہ منورہ میں نزولِ اجلال فرمایا تو گلشنِ اسلام میں بہار تازہ آگئی۔ چند سال پہلے وادیٔ بطحا سے جو صدائے حق بلند ہوئی تھی وہ اب روز بروز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ یمن، بحرین اور حضرت موت سے حدودِ شام و عراق تک پھیلے ہوئے لاکھوں مربع میل علاقے میں گھر گھرتک پہنچ گئی۔