• فروری
2000
محمد یونس
قرآن حکیم ہدایت کا ایک لازوال اور ابدی سرچشمہ ہے جو زندگی کے ہر میدان  میں انسان کی راہنمائی کرتا ہے۔موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی سے انسانیت پریشان ہے اور اس سے نجات پانے کی متلاشی ہے۔پیش نظر مضمون میں یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ آلودگی انسانی زندگی کے لیے کس حد تک مضرت رساں ہے؟تاکہ اس سے دامن بچایا جاسکے۔۔۔
رجس یارجز کی لغوی بحث:۔
قرآن حکیم میں آلودگی کی تعبیر رجز اور رجس سے کی گئی ہے۔یہ دونوں اصل میں ایک ہی لفظ کی دو شکلیں ہیں۔اصل کے اعتبار سے ان میں اضطراب اور ارتعاش کا مفہوم پایاجاتاہے۔گندگی اور نجاست کو دیکھ کر طبیعت اور مزاج میں چونکہ سنسنی اور اضطراب کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اس لیے گندگی اور نجاست پر ان کا اطلاق ہونے لگا۔اس سے بڑھ کر عذاب کے معنی میں بھی ان دو کلمات کو استعمال کیا گیاہے،کیونکہ عذاب سے بھی دلوں میں کپکی  اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔