• دسمبر
1985
عبد الرحمن مدنی
(سطورذیل میں مدیر محدث حافظ عبدالرحمن مدنی کا انٹرویو تفصیل سے شائع کیا جا رہا ہے جو روزنامہ"وفاق"کے نمائندہ جناب جلیل الرحمان شکیل نے"اسلام میں سیاسی جماعتوں کے وجود"کے موضوع پر ان سے لیا تھا اور مورخہ 24نومبر85ءکے"وفاق"میں اس کی رپوٹ شائع ہو چکی ہے)         (ادارہ)
سوال:کیااسلام میں سیاسی جماعتوں کے قیام کی گنجائش موجو د ہے؟
جواب:اسلا م میں تنظیم جماعت کا تصور،ملت کے تصور سے منسلک ہے جبکہ ملت اسلامیہ تین چیزوں سے تشکیل پاتی ہے،اللہ ،قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !چونکہ ملت کا تعلق فکروعمل کے امتیازات یا بالفاظ دیگر اسلامی تہذیب وثقافت کی اقدار سے ہے ۔لہٰذا اس کی تشکیل وتعمیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں انجام پاتی ہے یہی وجہ ہے کہ ملت کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف ہوتی ہے اور وہی ملت کی وحدت کا تحفظ مہیا کرتا ہے۔۔۔واضح رہے کہ ملت کے معنی عربی زبان میں ثبت شدہ یا لکھی ہو ئی چیز کے ہیں،اور چونکہ کسی فکرکے عملی خطوط اسوہ حسنہ کی صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ثبت کرتا ہے
  • نومبر
1971
عبد الرحمن مدنی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ پچھلے دِنوں ''صحیفہ اہل حدیث'' کراچی اور ہفت روزہ ''اہلحدیث'' لاہور میں صبح کی دو اذانوں کے متعلق مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔ ماہنامہ ''محدث'' لاہور نے بھی مولانا عبد القادر صاحب حصاری کا تعاقب تلخیص سے شائع کیا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ «اَلصَّلوٰةُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» دو اذانوں میں س پہلی اذان میں کہا جائے یا دوسری میں؟

  • اپریل
2006
عبد الرحمن مدنی
خطبہ مسنونہ کے بعد... اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَذَكِّرْ‌ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌ‌ۭ ﴿٢١﴾ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ‌ ﴿٢٢...سورۃ الغاشیہ
''پس آپؐ نصیحت کرتے رہئے، آپ تو بس نصیحت کرنے والے ہی ہیں ، نہ کہ ان پر چھا جانے والے (داروغہ)۔''
  • اپریل
2005
عبد الرحمن مدنی
پاكستان ميں علامہ اقبال اور پارليمانى اجتہاد كے بارے ميں اكثر لوگوں كى تحريريں نظرسے گزرتى رہتى ہيں جن ميں يہ كوشش كى جاتى ہے كہ پاكستان ميں تعبير شريعت كے لئے پارليمنٹ كو قانون سازى كا اختيار ديا جائے يا اعلىٰ عدليہ كے ذريعے مروّ جہ قوانين كى تصحيح كى جائے- حالانكہ دنيائے اسلام ميں شريعت كا كامياب جزوى يا كلى نفاذ ديگر طريقوں سے بهى ہوا ہے۔
  • مئی
2005
عبد الرحمن مدنی
گذشتہ شمارے ميں بعض اُصولى تصورات كے نكهاركے بعد اس موضوع كے نماياں پہلووں كو چند سوالات (تنقیحات) كى صورت ميں ہم پيش كرتے ہيں جن پرمستقل بحث آگے آرہى ہے :
1. پارلیمانى اجتہاد سے مقصودپہلى مدوّن فقہوں پر كسى نئى تدوين كا اضافہ ہے يا كسى نئى فقہ كو قانونى حيثيت دے كر لوگوں كو اس كا پابند بنانا؟ جسے عربى ميں تقنين كہتے ہيں-
  • ستمبر
2005
عبد الرحمن مدنی
آپ حضرات كى تشريف آورى اور اس فكرى مجلس كو رونق بخشنے پر ميں ٹرسٹ كى انتظاميہ كى طرف سے آپ كو خوش آمديد كہتا ہوں- آج كا يہ سيمينار وقت كے ايك اہم موضوع كے بارے ميں ہے- 'دہشت گردى' ايك ايسا ناسور ہے، جس كى روك تهام اشد ضرورى ہے- دنيا اس وقت دہشت گردى كى مذمت پر متحد ہے اور چند سالوں سے دنيا كے بعض بڑے ممالك اس كے خلاف اپنى جنگ كا آغاز كرچكے ہيں ليكن دہشت گردى كے بارے ميں كچھ كہنے سے قبل اس امر كا تعين اشد ضرورى ہے كہ دہشت گردى كا حقيقى مصداق كيا ہے
  • اکتوبر
1994
عبد الرحمن مدنی
(((مورخہ 11ستمبر 1994ء کے لیے"محدث" کے مدیر اعلیٰ کو جہاد کے پس منظر میں فرقہ وارانہ تشدد  پرغور وخوض کے مقصد سے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی،جو عملاً مشاورت کے بجائے جلسہ عام کی صورت اختیار کیے ہوئے تھا۔تاہم موصوف نے جذباتی فضا میں جذبہ جہاد کوفرقہ وارانہ منافرت سے بچانے کے لئے جہاد کی تنظیم اور مسلمانوں کی اجتماعی قوت متحد کرنے پر زور دیا۔اگرچہ ادارہ "محدث" سمیت متعلقہ تمام ادارے نہ صرف جہادی فکر کی تخم ریزی اور سیرابی کے لئے کوشاں ہیں بلکہ غزو فکری کے ساتھ ساتھ جہاں جانی اور مالی طورپر عملاً جہاد افغانستان،بوسنیا،اور کشمیر میں شریک رہتے ہیں،وہاں اس تجویز کے شدت سے موئید ہیں کہ جہاد کانعرہ لگانے والی ٹولیاں متحد ہوکر کام کریں ،نیز نوجوانوں کو بزرگوں کی سرپرستی میں کام کرناچاہیے تاکہ جوش ہوش پر غالب نہ آنے پائے،بعض جوشیلے لوگوں کی دینی قوتوں کی شیرازہ بندی یا اعتدال کے ایسے مشورے بھلے معلوم نہیں ہوتے۔وہ وضاحت کا موقع دیے بغیر تردیدی خطابات کا"جہاد" شروع کردیتے ہیں،بلکہ زبان بندی سے بھی نہیں چوکتے۔سطور ذیل میں ہم مذکورہ خطاب کا ایک خلاصہ اور سوال وجواب کی شکل میں مخالفانہ تقاریر پر وضاحتیں شائع کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں افراط وتفریط سے بچائے اور شریعت کے میزان عدل پر عمل کی توفیق دے۔آمین!۔۔۔(ادارہ)،)))
  • جون
2006
عبد الرحمن مدنی
انصاف: حدود اللہ اور حدود آرڈیننس میں آپ کیا فرق سمجھتے ہیں ؟
مولانا مدنی:حدود اللہ سے مراد وہ سزائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائی ہیں تاکہ معاشرے سے بدکاری اور بے حیائی ختم ہو اور لوگ امن و امان اور عزت سے زندگی گزار سکیں ۔ اللہ تعالیٰ کل انسانیت کے خالق ہیں اور اللہ کو ہی بہتر علم ہے کہ انسانی معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کا طریق کارکیا ہے؟ وہ علاج اللہ نے کتاب و سنت کی شکل میں ہمیں دیا ہے جس میں حدود اللہ بھی شامل ہیں ۔ 
  • اگست
2006
عبد الرحمن مدنی
1979ء میں نفاذِ شریعت کے پیش نظرپانچ آرڈیننس جاری کئے گئے تھے جن میں سے آرڈیننس نمبرVIIجرمِ زنا سے متعلق ہے اور جرمِ قذف (تہمت ِزنا) وغیرہ سے تعلق رکھنے والا آرڈیننسVIIIہے۔ اس وقت جرمِ زنا آرڈیننس نمبرVIIزیر بحث ہے اور کسی قدر جرمِ قذف آرڈیننس VIII...جو مستقل قانون ہے... کو بھی لپیٹ میں لیا جارہا ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
2002
عبد الرحمن مدنی
منکرین حدیث کی طرف سے اکثر وبیشتر اس سوال کا اعادہ و تکرار کیا جاتا ہے کہ'' احادیث چونکہ آنحضرت ﷺ کے دور میں لکھی نہ گئی تھیں، اس لئے یہ قابل حجت نہیں۔ کیونکہ جب کوئی چیز ضبط ِکتابت میں آجائے تو وہ محفوظ ہوجاتی ہے جبکہ ضبط ِکتابت سے محروم رہنے والی چیز آہستہ آہستہ محو ہوکر اپنا وجودکھوبیٹھتی ہے۔
  • مئی
1999
عبد الرحمن مدنی
محرم الحرام 1420ھ کا چاند دیکھنے کے لیے رؤیت ہلال کمیٹی کے کوئٹہ میں اجلاس کے موقع پر
وزیر مذہبی امور بلوچستان اور حافظ عبد الرحمٰن مدنی
اور دیگر ممتاز علماء کی کوئٹہ میں پریس کا نفرنس

الحمد اللہ علی احسانہ آج سے نئی ہجری سال کا آغاز ہوا ہے ہم پوری ملت اسلامیہ کو بہ صمیم قلب نئے سال کی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ دعا کرتے ہیں کہ یہ سال پاکستان اور عالم اسلام کے لیے اتحاد اخوت استحکام و ترقی اور نشاۃ ثانیہ کا نقیب ثابت ہو۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سراپا تشکر وامتنان ہیں کہ گزشتہ سال پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت بنا ایٹمی دھماکے کے علاوہ غوری ون اور ٹو اور شاہین میزائل کے کامیاب تجربات نے ملک کو دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر بنادیا ہے اس اعزاز کے لیے ہماری حکومت مسلح افواج اور ایٹمی و دفاعی سائنسدان اور ٹیکنالوجسٹ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
عبد الرحمن مدنی
سپریم کورٹ آف پاکستان (شریعت اپلیٹ بنچ)
اپیل برخلاف فیصلہ مسئلہ سود از وفاقی شرعی عدالت پاکستان مؤرخہ ۱۴؍نومبر ۱۹۹۱ء
درخواست ڈاکٹر محمود الرحمن فیصل وغیرہ بنام سیکرٹری وزارتِ قانون، انصاف اورپارلیمانی اُمور حکومت ِپاکستان وغیرہ: ۱۱۸ مسؤل الیہان
  • دسمبر
1988
عبد الرحمن مدنی
پاکستان میں 16 اور 19 نومبر 1988ء کو بالترتیب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات مکمل ہوئے۔ ان کے آزادانہ اور منصفانہ ہونے پر جہاں ملک اور بیرون ملک سے تحسین و آفرین کے پیغامات مل رہے ہیں، وہاں ملک میں جمہوریت کا سہرا لگنے پر مبارک بادیں بانٹی جا رہی ہیں۔ عموما تبصروں میں فتح و شکست کی سیاسی وجوہ پیش کی جا رہی ہیں۔ ہماری نظر میں کامیابی اور ناکامی کے کچھ دوسرے اہم پہلو بھی ہیں اور اسباب و وجوہ کے اسلامی پیمانے بھی جو قرآن کریم اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید کوئی اساطیر الاولین (گئی گزری کہانیاں) نہیں، بلکہ دنیا بھر میں پیش آنے والے واقعات پر پیشگی تبصرہ اور مکمل ہدایت ہے۔ علاوہ ازیں شریعت کی نظر میں کامیابی کے اپنے اصول ہیں، جو اللہ کے نزدیک حقیقی فتح و شکست ہے۔ لہذا ہم سطورِ ذیل میں جمہوریت کے بالمقابل وحی الہیٰ کی روشنی میں معاملات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی سلسلے میں مدیرِ اعلیٰ "محدث" نے کلیۃ الشریعہ لاہور کی جامع مسجد میں قومی اسمبلی کے انتخابات کے بعد اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے قبل 18 نومبر کو خطبہ جمعہ دیا جس میں جنگِ حنین کے حوالے سے گفتگو کی اور پھر 25 نومبر کے خطبہ میں سورہ دم کی ابتدائی آیات کی روشنی میں جمہوریت اور انتخابات پر تبصرہ کیا۔ انہی دو خطبوں سے یہ تحریر تیار کر کے فکرونظر کے کالموں میں پیش کی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی خوشیاں نصیب کرے۔ آمین۔۔۔۔۔ادارہ
  • جولائی
1990
عبد الرحمن مدنی
آج کل نفاذ شریعت کے سلسلہ میں جو چند  مسائل اہمیت سے ملک و ملت کو در پیش ہیں اُن کے بارہ گذشتہ شمارہ میں ہم اجمالی تبصرہ کر چکے ہیں ۔آج کی صحبت  میں ہم سپر یم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے 5/جولائی۔1989ء،کے ایک فیصلہ کی روشنی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری کی پچاس سے کچھ اُوپر دفعات کے کالعدم قرار پانےسے بظاہر جو قانونی خلاء باور کرا یا جا رہا ہے اس پر اپنی گذارشات پیش کرتے ہیں ۔
واضح رہے کہ قبل ازیں یہی خلاء حق شفع کے قانون مجریہ 1913،کی کئی دفعات کو عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بنچ کی طرف سے غیر اسلامی قرار دینے سے بھی پیدا ہوا تھا جو 31/جولائی 1986ءتا 29/مارچ 1990ءتقریباً3سال آتھ ماہ قائم رہا ۔حتیٰ کہ حکومت پنجاب نے نیا حق شفع کا قانون نافذ کر دیا۔ جسے پھر دوبارہ احکا م اسلامی کے خلاف ہو نے کی بناء پر وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جا چکا ہے ۔
  • مارچ
1989
عبد الرحمن مدنی
قارئین کرام!
ماہنامہ "محدث" کے گزشتہ تین شماروں میں جناب پروفیسر محمد دین قاسمی کا مضمون بعنوان "اشتراکیت کی درآمد قرآن کے جعلی پرمٹ پر" شائع کیا گیا۔ جس کے ردِعمل میں ناظم ادارہ "طلوعِ اسلام" لاہور کی طرف سے مدیرِ اعلیٰ "محدث" کو خط موصول ہوا جس میں جناب قاسمی صاحب کے مضمون کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا۔ اس پر ادارہ نے یہ خط براہِ راست صاحب مضمون کو ارسال کر دیا، جس کے جواب میں جناب موصوف نے ایک مفصل خط بنام ادارہ طلوعِ اسلام لکھا اور اس کی ایک نقل ہمیں بھی ارسال فرمائی۔
ہم اپنی سابقہ منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بڑی فراخدلی کے ساتھ ادارہ "طلوعِ اسلام" کا خط ان کی خواہش کے مطابق اور جناب قاسمی صاحب کا جواب شائع کر رہے ہیں اور اپنے معاصر "طلوعِ اسلام" سے بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ ہماری طرح وہ بھی ان دونوں خطوط کو شائع کرے گا کیونکہ انصاف کا یہی تقاضا ہے۔۔۔۔ادارہ
  • جون
2008
عبد الرحمن مدنی
مذاکرے کی ایک نشست میں حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب نے صدارتی خطاب فرمایا، لہٰذا انہوں نے تصویر کے بارے میں مختلف پہلوؤں پر زیادہ تر تبصرہ ہی کیا اور اس سلسلہ میں جو سوالات پیدا ہوئے تھے، ان کو نکھارنے کی کوشش کی۔ان کے خطاب کو تحریری شکل دیتے ہوئے ہم نے عنوانات قائم کر کے کوشش کی ہے کہ ایسے نکات واضح ہو جائیں جن کے بارے میں پہلی تقریروں میں بہت کچھ کہا جا چکا تھا،
  • جولائی
1981
عبد الرحمن مدنی
سطور ذیل میں محدث کے مدیر اعلیٰ حافظ عبد الرحمٰں مدنی کا ''اسلام کے سیاسی تصور'' کے موضوع پر وہ انٹرویو دیا جا رہا ہے جو نمائندہ ہفت روزہ ''بادبان'' لاہور میاں شعیب الرحمٰن صاحب نے حافظ صاحب موصوف سے کیا۔ کتابت کی بعض اہم غلطیوں اور آخری دو صفحات میں عبارت کی غلط جڑائی نے اِسے ناقص بنا دیا تھا۔ قارئین اسے صحیح صورت میں ملاحظہ کریں۔ (ادارہ) لانبے قد، سیاہ داڑھی اور عالمانہ وجاہت رکھنے والے حافظ
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
عبد الرحمن مدنی
پاکستان میں ''تحریک نظام مصطفیٰ'' کے نتیجہ میں 5 جولائی 1977ء کو موجودہ عوامی حکومت برسراقتدار آئی تو اس کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پاکستان نے اسلامی نظام حکومت کے بارے میں اپنے خطابات او ربیانات میں بڑے مخلصانہ اور حوصلہ مندانہ خیالات کا اظہار فرمایا جس سے مسلمانوں کو عموماً اور ''تحریک نظام مصطفیٰ'' کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خصوصاً امید پیدا ہوئی کہ تیس سال کے شدید انتطار کے بعد اب وہ سعید گھڑی آنے کو ہی ہے جب پاکستان میں سرکاری سطح پر اسلام کا دور دورہ ہوگا۔
  • مئی
2017
عبد الرحمن مدنی
13،12؍مئی 2017ء کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے زیر اہتمام نظـام القضاء في الدّول الإسلامية (النظریة والتطبيق) کے عنوان سے بین الاقوامی کانفرنس کے مرکزی مباحث میں تشریع الأحکام القضائية في الإسلام (المصادر التي يجب أن يعتمد عليها القاضي في إصدار أحكامه) کے تحت درج ذیل مقالہ پیش کیا گیا، جس کے تحت پاکستان اور سعودی عرب کے عدالتی نظام کی قانونی حدود کے لئے پہلے دونوں دساتیر كا جائزہ لیا گیا
  • جون
2009
عبد الرحمن مدنی
سوات کی المناک صورتحال میں علما کے ایک متفقہ موقف اور نفاذ شریعت کی طرف پیش قدمی کے لئے ملی مجلس شرعی کے مسلسل اجلاس ہورہے ہیں ، سوات معاہدے کے سلسلے میں جامعہ نعیمیہ لاہور سے یہ مجالس شروع ہوئیں ، بعد میں جامعہ اشرفیہ ، پھر جامع قادسیہ میں تمام مکاتب فکر کے نمائندہ اجلاس ہوئے۔ جس کی خبریں اور اعلامئے اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔
  • اکتوبر
1990
شیخ ابن باز
علوم اسلام کی مسلمہ بزرگ شخصیت
سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ؒ مفتی اعظم سعودی عرب
کی مسلم حکمرانوں،دانشوروں اور عوام کے لئے نصیحت
((((عراق ،کویت تنازعہ کافیصلہ شریعت کی روشنی میں ہونا چاہیے)))
 عراق کے صدر صدام حسین کی طرف سے کویت پر جارحانہ قبضہ اور سعودی عرب کی سرحدوں پر افواج کے بھاری اجتماع سے حرمین شریفین کے تحفظ کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔اس تنازعے کا جائزہ لینے والے سیاسی مبصرین عموماً فریقین کی مسلمانوں میں حیثیت اور اُن کے بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں بحث کررہے ہیں۔اسی طرح کویت کو ہڑپ کرنے کے بعد صدام حسین کی طرف سے سعودی عرب وغیرہ کے خلاف اقدام کی دھمکی سے جس طرح ایک سپر طاقت امریکہ کی فوجیں اچانک خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں داخل ہوئی ہیں۔اس کے واضح نقصانات محسوس کیے جارہے ہیں۔ان مجوزہ نتائج کی بظاہر ہولناکی کے اعتراف کے باوجود انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ عراق کی زیادتی اور امریکی فوجوں کی مداخلت کی درمیانی کڑی نظر انداز نہ کی جائے۔کیونکہ  تاریخ اسباب سے مربوط ہوتے ہیں۔