• مارچ
1996
ادارہ
جب بھی کوئی مورخ دنیا کی مختلف اقوام کے عروج و زوال کا تجربہ کرنے بیٹھتا ہے تو اسے جو چیز سر فہرست نظر آتی ہے وہ کسی قوم کی محنت اور جانفروشی ہے۔ جس قوم میں محنت ، جانفروشی اور اپنے فرائض کی خوش اسلوبی سے بجا آوری کا احساس جتنا زیادہ جاگزین ہوتا ہے اسی تناسب سے وہ عروج و اتدار کے زینوں پر چڑھتی ہے اور بعد میں جوں جوں اس میں فرائض سے پہلو تہی اور ذمہ داری سے فرار کا رجحان بڑھتا ہے۔ توں توں اس کے زوال کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔
  • فروری
1972
ادارہ
ماہنامہ ''فکر و نظر'' اسلام آباد جنوری ۱۹۷۱ء:

جماعتِ اسلامی کی مجلس التحقیق الاسلامی کا یہ پہلا شمارہ ہمیں برائے تبصرہ موصول ہوا ہے اداریہ عزیز زبیدی نے لکھا ہے، جس کا موضوع ہے: ''مسلک اہل حدیث کا ماضی اور حال'' یہاں ضمناً اتنا بتا دینا مفید رہے گا کہ جماعت اہل الحدیث خود کو صرف قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کا پابند سمجھتی ہے۔ اس کا نعرہ ہے: «الدّین قال اللہ وقال رسوله»
  • فروری
2001
ادارہ

مذہب اور ثقافت ایک دوسرے پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اثر پذیر بھی۔ ہمارے ہاں عام طور پر مذہب اور ثقافت کو دو الگ الگ تہذیبی دائروں کے طور پر زیربحث لایا جاتا ہے، یہ زاویہٴ نگاہ قطعاً درست نہیں۔ سیکولر طبقہ اپنے مذہب بیزار رویے کی وجہ سے ثقافتی اُمور میں مذہب کے کردار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، لہٰذا جہاں کہیں مذہب اور ثقافت کے درمیان رشتوں کی بات ہوتی ہے،

  • جون
2003
ادارہ
اِدارہ کو محدث کے بارے میں اکثر وبیشتر تعریفی خطوط اور بیش قیمت مشورے موصول ہوتے رہتے ہیں۔ فتنۂ انکار حدیث کی اشاعت کے موقع پر ہمیں بڑی تعداد میں یہ خطوط موصول ہوئے۔ بعض اہم شخصیات کے خطوط کیعلاوہ معاصر دینی جرائد میں بھی محدث اور اس کے خاص شمارے کے بارے میں تبصرے کئے گئے۔قارئین کی آرا اور معاصر جرائد کے نیک جذبات آپ کے پیش خدمت ہیں۔ (ادارہ)
  • مئی
2010
ادارہ
قرآن وسنت کو پاکستان کا بالا تر(Supreme)قانون بنانا مقصود ہے اورآئین کی نویں ترمیم چونکہ شریعت کے مطابق قانون سازی کے تقاضے پورے نہیں کرتی، اس لیے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس (پا کستان زون)نے آئین میں ترمیم کے لیے حسب ِذیل سفارشات مرتب کی ہیں تا کہ نویں آئینی ترمیمی بل کو اس کے مطابق بنایا جائے یا پھر اس کو پرائیویٹ بل کی صورت میں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
اس سوال کا اجمالی جواب تو یہ ہے کہ جمہوریت میں یہ لازمی امر ہے کہ مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو یا انسانوں پر مشتمل ادارہ۔ انسان سے ماوراء کسی ہستی کو مقتدر اعلیٰ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جب کہ اسلامی نقطۂ نظر سے مقتدر اعلیٰ کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا ۔ بلکہ مقتدر اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس کی بنا پر ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جمہوریت سے اسلام کبھی سربلند نہیں ہو سکتا۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
کیا انصار و مہاجرین سیاسی جماعتیں تھیں؟

مہاجرین و انصار میں خلافت کے معاملہ پر سقیفہ بنی ساعدہ میں چند لمحات کے لئے نزاع پیدا ہوئی جو اسی مقام پر ختم ہو گئی۔ تو اس واقعہ کی بنا پر مہاجرین و انصار کو آج کل کی سیاسی پارٹیوں کے مماثل قرار دینا، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جمہوریت نواز دوستوں کی بہت بڑی جسارت ہے۔ جب یہ مہاجرین اولین مکّہ کی گلیوں میں پِٹ رہے تھے اور کفّار کے ظلم و تشدد کا نشانہ بنے ہوئے تھے تو کیا یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا تھا کہ ہم کسی نہ کسی وقت کاروبارِ حکومت پر قابض ہوں جیسا کہ موجودہ دور کی سیاسی پارٹیوں کا بنیادی مقصود ہی یہ ہوتا ہے۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ پر خلافت کے انعقاد کے لئے بیعت سقیفہ بنو ساعدہ میں ہوئی۔ پھر دوسرے دن مسجد نبوی میں عام بیعت ہوئی۔ حضرت عمرؓ کو حضرت ابو بکرؓ نے نامزد کیا۔ نامزدگی کے متعلق گفتگو آپ کے گھر پر ہوتی رہی۔ لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔ اسی طرح حضرت عثمان کی خلافت سے متعلق مشورے تو حضرت مسور بن مخرمہ کے گھر پر ہوتے رہے لیکن عام بیعت مسجد نبوی میں ہوئی۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
1. اقتدارِ اعلیٰ

نظام خلافت میں مقتدر اعلیٰ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہی ہر چیز کا مالک اور وہی قانون ساز ہے۔ ملت اسلامیہ اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے بنیادی قوانین اللہ تعالیٰ خود بذریعہ انبیاء انسانوں کو بتلاتا ہے۔ ایسی قانون سازی کا اختیار کسی نبی کو بھی نہیں ہوتا۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
ادارہ
پاکستان کا مطلب کیا ....... لا َ اِلٰہَ اِلاَ اللّٰہ

کا نعرہ بھی قوم کو سنا دیا تھا، اس لیے اب ان کوچاہیے کہ وہ اس کی پابندی بھی کریں گویا کہ اس کے معنے یہ ہوئے کہ اگر وہ یہ نعرہ نہ دیتے تو ہم عنداللہ بری الذّمہ ہوتے، حالانکہ یہ بات اصولاً بالکل غلط ہے۔کیونکہ ایک مسلم کی حیثیت سے ہم اسلام کے سوا او رکسی نطام کے بارے میں سوچنے کے مجاز بھی نہیں ہیں۔الا یہ کہ ہم (خاکم بدہن) خدا اور اس کے رسولﷺ کا کلمہ بھی پڑھنا چھوڑ دیں۔
  • مارچ
1971
ادارہ
اذان ''تأذین'' (باب تفعیل) کا حاصل مصدر ہے جس کے معنی ''اعلان'' کے ہیں۔ نمازوں کے لئے جو اذان کہی جاتی ہے۔ اس سے بھی مقصد اعلان ہی ہے۔ لیکن شریعت میں جو کام دوسری عبادات کا وسیلہ ہیں وہ خود بھی عبادت ہیں جن پر ثواب ملتا ہے جیسا کہ وضو وغیرہ۔ اس لئے اگر اعلان کے لئے الفاظِ مسنونہ کی بجائے دوسرے طریقے اختیار کئے جائیں تو وہ عبادت نہ ہوں گے
  • مارچ
1971
ادارہ
نیل الاوطار / ۴۹:۲ میں فتح الباری شرح البخاری سے نقل کیا ہے کہ:۔
''بعض حنفیہ نے اذانِ سحری کی یہ تاویل کی ہے کہ یہ (اذا سحری) حقیقی اذان نہ تھی جو الفاظ مقررہ سے متعارف ہے بلکہ وہ تذکیر اور منادی کرنا تھا کما یقع للناس الیوم (جیسا کہ آج کل مروج ہے۔)''
  • نومبر
1999
ادارہ
من أبی عبد اللہ خالد بن أحمد العلاونة إلی أخیه الدکتور؍حافظ عبد الرحمٰن مدنی     حفظه الله ورعاه

                        السلام علیکم ورحمة اللّه وبرکاته ، أمابعد:

            فإننی أحمد اللہ إلیکم وأصلی وأسلم وأبارک علی نبینا محمد وعلی آله وصحبه أجمعین وعلی من تبعهم بإحسان إلی یوم الدین۔
  • اکتوبر
1989
ادارہ
اہلحدیث ایک اصلاحی تحریک ہے جس نے برصغیر کی تاریخ میں اگر ایک طرف سکھا شاہی اور مغربی استعمار کے خلاف جہاد کی روشن مثالیں قائم کر کے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا تو دوسری طرف دعوت وتعلیم کے میدان میں مذہبی جمود اور فرقہ وارا نہ تعصب کے بالمقابل اسلاف کی قربانیوں کی یادیں بھی تازہ کیں اسی کا نتیجہ ہے کہ پاک وہند کے ہر حصہ میں اُن کے تبلیغی مراکز اور تعلیمی درسگاہ ہیں قل اللہ وقال رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداؤں سے آباد نظر آتی ہیں
  • اکتوبر
1992
ادارہ
حامیان جمہوریت جمہوری نظام کی ایک خوبی یہ بھی بیان فرماتے ہیں کہ اس طریق سیاست میں عوام کی نمائندگی کا مکمل تصور پایا جاتا ہے۔اور اس کی صورت یہ ہے کہ عوامی کثرت رائے کے اصول کے تحت ہر علاقے سے نمائندوں کاانتخاب کرکے پارلمینٹ میں بھیجا جاتا ہے۔اور اس میں انتخاب مملکت کا ہر فرد اپنی ذاتی حیثیت سے اثر انداز ہوتا ہے جو کہ عوامی نمائندگی کی مکمل اورعام فہم شکل ہے۔اور عوام کو باور یہ کرایا جاتا ہے کہ درحقیقت سب کچھ کا ا ختیار رکھتے ہیں۔
  • اگست
  • ستمبر
1978
ادارہ
مدیر اعلیٰ کی تقریر....... جو 19جون 1978ء کو پاکستان نیشنل سنٹر لاہور میں کی گئی۔ موجودہ صورت میں یہ تقریر

نوٹس سے ترتیب دی گئی ہے، اس لیے الفاظ کی کمی بیشی اور بعض تفصیلات کی ذمہداری مرتب پر ہے۔ (خرم بشیر)

الحمد لله و کفیٰ و سلام علی عیاده الذین اصطفیٰ۔ امابعد
  • مارچ
  • مئی
1979
ادارہ
ہمارے بزرگ دوست ابو محمد سید بدیع الدین شاہ صاحب کتاب و سنت سے گہری عقیدت اور آزادانہ سوچ کے اعتبار سے ایک امتیازی حیثیت کےحامل ہیں۔ سعودی عرب کے طویل سفروں اور وہاں کے قیام نے شاہ صاحب موصوف کے توحیدی فکر کو مزید جلا بخشی ہے۔ الحمدللہ، کچھ عرصہ سے وہ سیاسی امور میں بھی خوب دلچسپی لے رہے ہیں او راس سلسلہ میں چند ایک پریس کانفرنسوں سے بھی خطاب کرچکے ہیں۔جس کاموضوع ''آئین شریعت''، ''اسلامی سزائیں'' اور اسلامی نظام کے دیگر پہلو'' ہیں۔ زیر نظر پریس کانفرنس منعقدہ 5 مارچ 1979ء بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ جس پر تعلیقات ہماری طرف سے ہیں۔
  • جولائی
  • اگست
1974
ادارہ
مدیر اعلیٰ نے یہ تقریری ۱۹ مئی ۱۹۷۴ء کو ریڈیو پاکستان سے کی، جو چند ضروری اضافوں کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے۔ (ادارہ)

کلمہ طیبہ 'لا له لا الله محمد رسول الله'نہ صرف مسلمانوں کا مذہبی شعار ہے بلکہ ان کی دینی و اخلاقی، انفرادی و اجتماعی اور سیاسی و معاشی جملہ قسم کی سر بلندیوں اور ترقیوں کا ضامن ہے۔ وحدتِ انسانیت اور عروج بشریت کی بے مثال تاریخ اس سے وابستہ ہے۔
  • اکتوبر
1971
ادارہ
مؤقر معاصر ''زندگی'' نے اپنے شمارے (۲۷ستمبر تا ۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء) کے ادارتی کالموں میں جمہوریت کا نعرہ بلند کرنے والوں کی تائید اور جمہوریت کو اسلام سے علیحدہ نظام قرار دینے والوں کی تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان کی بقاء اور اس کے استحکام کا انحصار صرف جمہوریت پر ہے اور جمہوریت اسلام ہے اور اسلام تک پہنچنے کا ایک ذریعہ بھی۔ ملخصاً
  • دسمبر
2001
ادارہ
اسلامك انسٹيٹيوٹ اس امر ميں كوشاں ہے كہ رمضان المبارك ميں زيادہ سے زيادہ نيكيوں كا اہتمام كيا جائے- يوں توانسٹيٹيوٹ كے تحت لاہور ميں ترجمہ وتفسير قرآن كے40/ سے زائد سنٹرز كام كر رہے ہيں ليكن رمضان ميں تراويح اور دورئہ تفسيرقرآن كے مراكز كو قائم كرنے كے سلسلے ميں يہ اہتمام بہت بڑھ جاتا ہے-
  • فروری
1990
ادارہ
آج کل مادہ پرستی کا غلبہ ہے۔ جس کی وجہ سے زندگی کی کامیابی اسے سمجھاجاتا ہے۔کہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ آرام وآسائش حاصل ہوجائے۔اسی غرض سے اگر مرد ہر جائز وناجائز طریق سے دولت کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے۔ تو عورت ظاہر داری اور فیشن پرستی میں مگن نتیجتاً اخلاق وکردار کی تباہی کے ساتھ دل کی بستی ویران ہورہی ہے۔ایک طرف آفتوں اور بیماریوں میں روز افزوں اضافہ ہے۔ تو دوسری طرف فتنہ وفساد اورقتل وغارت کی گرم بازاری۔
  • اگست
1993
ادارہ
اس وقت دنیا بھر میں"اسلامی انتہا پسندی" کا مسئلہ بڑی شدت سے اچھالاجارہاہے۔

بالخصوص عرب ممالک میں مغربی میڈیا اسے شہ سرخیوں سے شہرت دے رہا ہے۔ چنانچہ سربراہی ملاقاتوں اور چوٹی کی کانفرنسوں میں اسے ایک خوفناک صورتحال قرار دے کر اس پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا اس کا جائزہ لینا از حد ضروری ہے تاکہ وہ وجوہ اور اسباب بھی سامنے آسکیں جو اس وقت اس کا ڈھنڈوراپیٹنے کا باعث بنے ہیں ۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
ادارہ
پچھلے سال رمضان المبارک 1393ھ میں مکہ مکرمہ میں رابطۂ عالمِ اسلامی نے دنیائے اسلام کے ماہرین فلکیات کو دعوتِ غور و فکر دی کہ ہجری کیلنڈر، معیاری وقت اور اسلامی مہینوں کے تعین کے بارے میں جو دقتیں در پیش ہیں انہیں کس طرح دور کیا جائے۔ چنانچہ تین دن تک بحث مباحثے کے بعد متفقہ طور پر کئی اور امور کے علاوہ ایک اسلامی رصد گاہ کے قیام کا بھی فیصلہ ہوا جو مکہ مکرمہ کے قریب قائم کی گئی ہے۔
  • جولائی
1971
ادارہ
صدرِ پاکستان جناب آغا محمد یحییٰ خان نے ۲۸ جون ۱۹۷۱؁ء کی اپنی نشری تقریر میں قوم سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے سیاسی مستقبل کا جو لائحہ عمل پیش کیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:۔

''ملک کا آئین بنانے کا کام ماہرین کی ایک کمیٹی کر رہی ہے۔ یہ کمیٹی مسودہ تیار کر کے صدرِ مملکت کو پیش کرے گی اور وہ مختلف راہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے مشورہ کے بعد اسے آخری شکل دیں گے۔''
  • مارچ
1971
ادارہ
ألحمد لله رب العالمین، والصلاة والسلام علی نبینا محمد وعلی آله و صحبه ومن تبع سنته إلی یوم الدین۔ وبعد ، یخطیٔ کثیرا من یظن أن الرأسمالیة والإشتراکیة نظامان إقتصادیان فحسب، ویحسب أنھما لا یبحثان أو لا یتعرضان للنواحی الأخری، کالنواحی الاجتماعیة والسیاسیة والدینیة ۔۔۔۔ الخ۔ والإشتراکیة شئیأ، لأن حقیقة کل منهما غیر مخفیة أو مستورة۔ فهی ظاهرة بل واضحة کل الوضوح فی الکتب ألتی ألفها أصحاب هذین المذهبین، فبینوا حقیقة کل منهما مفصلا وموضحا۔
  • مئی
2007
ادارہ
اساتذہ ، محققین اور اعلیٰ تعلیم کے طلبہ کی علمی ضروریات کا اہم مرکز و مرجعلائبریری میں ہمہ نوعیت کے موضوعات پر پچیس ہزار علمی و دینی کتابیں موجود ہیں۔لائبریری کا نظام معروف بین الاقوامی معیار DDC سکیم کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
﴿وَلتَكُن مِنكُم أُمَّةٌ يَدعونَ إِلَى الخَيرِ وَيَأمُرونَ بِالمَعروفِ وَيَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَأُولـٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ ﴿١٠٤﴾... سورةآل عمران

''اور تم میں ایسے منظم لوگ بھی ہونے چاہئیں جو (لوگوں کو) نیک کاموں کی طرف بلائیں اور اچھے کام (کرنے) کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں، اور ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔''
  • اکتوبر
2001
ادارہ
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، اس میں بھی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ عالمی منظر پر تیزی سے رونما ہونے والے واقعات و حالات نے پاکستان کی سا لمیت اور وقار کو خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ شاید ہی کوئی دو پاکستانی ایسے ہوں جو وطن عزیز کے تحفظ کو یقینی نہ دیکھنا چاہتے ہوں۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
خلافت کے لئے بنی ہاشم کی تمنا

پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ''میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا'' (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴)
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
حضرت عمرؓ سے نامزدگی کی درخواست

عن عبد اللہ ابن عمر قال: قیل لِعُمَرَ: ''الا تستخلف؟'' قال ان استخلف مَنْ ھُوَ خیر منی ابو بکرٍ وان اترک فقد ترک من ھو خیر منی رسول اللّٰہ ﷺ۔

فاثنوا علیہ فقال: رَاغِبٌ راھبٌ وددت انی نجوت منھا لَا لِی ولا عَلَیّ، لَا اَتُحَمَّلُھا حیًّا ومیتًا۔ (بخاری۔ کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف نمبر ۸۹۲)
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
1. عن محمد بن عبد اللّٰہ بن سوار بن نویرہ، و طلحۃ بن الاعلم، و ابو حارثہ وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینۃ بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنہ خمسۃ ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونہ۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیۃ، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرۃ بعد مرۃ۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونہ فارسلوا الیہ حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
ایک استفتاء آیا ہے کہ:

اگر انتخاب کا متداول طریقہ صحیح نہیں ہے تو اس کی صحیح اور شرعی صورت کیا ہو سکتی ہے؟ یہ سوال راقم الحروف کے کسی سابقہ تحریر کے مطالعہ سے پیدا ہوا ہے۔
الجواب

کتاب و سنت اور علماء کے افکار کے مطالعہ سے جو امور سامنے آئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
ادارہ
مملکت پاکستان، پاکستانی ملت اسلامیہ کے حسین اور مبارک خوابوں کی ایک مبارک تعبیر تصور کی گئی ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ بات کچھ بے جا توقع بھی نہیں ہے، اگر علامہ اقبال، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی اور بانیٔ پاکستان جناب محمد علی جناح، اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے! کو مہلت ملتی تو متوقع تھا کہ مسلمانانِ پاک و ہند اپنی آنکھوں سے وہ پاکستان ضرور دیکھ لیتے جس کا روزِ اول نعرہ لگایا گیا تھا، کیونکہ یہ عظیم لوگ تھے، وہ اسلامی ریاست کے تقاضوں اور اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ؎           قولِ مرداں جاں دارد۔
  • مئی
2000
ادارہ
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد جب مصطفیٰ کمال پاشا المعروف اتاترک (ترکوں کا باپ) کو اپنا قومی ہیرو قراردیا تھا۔ تو اسی وقت ہی دائیں بازو کے اہل بصیرت کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئی تھیں کہ کہیں نواز شریف کی کرپٹ حکومت کے خاتمہ کے بعد برپا ہونے والا فوجی انقلاب درحقیقت لادینی انقلاب کی صورت اختیار نہ کرلے ۔مگر شروع شروع میں فوجی حکومت کا ایک تورعب ودبدبہ ہی اتنا تھا کہ کو ئی ان کے خلاف زبان کھولنے کی جرات نہ کرسکتاتھا دوسرے لوگ نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر ہی اس قدر خوش تھے۔کہ وہ باقی نتائج کے متعلق غور وفکر کرنے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔
جنرل پرویز مشرف کے مذکورہ بیان کے خلاف قاضی حسین احمد کی نحیف سی آواز اٹھی تھی جس میں انھوں نے پاکستان میں کمال ازم کے نفاذ کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرنے کا عندیہ ظاہر کیا تھا ۔اس وقت تو جنرل پرویز مشرف نے بھی وضاحت میں بیان دیا تھا –کہ ان کے بیان کا وہ مقصد نہیں ہے ۔جو سمجھا گیا ہے مگر گزشتہ 6/ماہ کے دوران جنرل پرویز مشرف نے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان پر غور کیا جا ئے تو معلوم ہو گا کہ جوبات انھوں نے اتاترک کے بارے میں کی تھی وہی ان کے دل کی آوازتھی ۔
  • فروری
1978
ادارہ
مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے لیے کافی ہے یا نہیں، یہاں بھی او روہاں بھی؟ زندگی کے جتنے شئون اور احوال و ظروف ہیں، وہ دینی ہوں یادنیوی ، معاشرتی ہوں یامعاشی، سیاسی ہوں یا اخلاقی، روحانی ہوں یا مادی ، ان سب پہلوؤں اور صورتوں میں وہی ذات یکتا اور داتا ہمیں بس کرتی ہے۔ یا دنیائے ہست و بود میں کوئی ایسا گوشہ بھی ہے
  • جنوری
1978
ادارہ
بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا۔ قاتل کی تلاش شروع ہوگئی تو بات یہاں آکر رُکی کہ ایک ''گائے'' کوذبح کرکے اس کا ایک عضو مقتول کو لگایا جائے، قاتل کاسراغ مل جائے گا، بات سیدھی اور صاف تھی، چاہتےتو کوئی سی گائے ذبح کرکے اپنامقصد حاصل کرسکتے تھے، لیکن اصل بات ذہنیت اور نیت کےفتور کی تھی، اس لیے ''چونکہ چنانچہ'' کے ہیرپھیر میں رہے۔ اس سلسلے کااگر آخری موقع کھو دیتے تو پھر اس کا فیصلہ قیامت کو ہی ہوتا۔
  • اپریل
2001
ادارہ
جب سے طالبان نے افغانستان ميں بتوں كو منہدم كرنے كا اعلان كيا ہے، دنيا بھرميں ا س كے خلاف شديد ردّ ِعمل سامنے آرہا ہے بلكہ بعض لوگوں نے ان بتوں كى خريدارى كى پيشكش كى ہے اور بعض نے ان كى حفاظت پر اُٹھنے والے اِخراجات ادا كرنے كى يقين دہانى بھى كرائى ہے-كچھ ممالك اگر سفارتى دباؤ سے كام لے رہے ہيں توبعض ديگرڈرانے دھكانے سے بھى نہيں چوك رہے۔
  • جولائی
  • اگست
1974
ادارہ
مندرجہ ذیل مضمون اصل میں آزاد کشمیر اسمبلی اور سرکار کی خدمت میں ایک ''ہدیہ تبریک'' اور ان سے خوش آئندہ توقعات کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ایک واقعہ ہے کہ ہزار کمزوریوں کے باوجود جب سرکار کی طرف سے 'صدائے اسلام' بلند ہوت ہے تو مسلم عوام اپنی آنکھیں بچھانے لگ جاتے ہیں اور یوں شادماں گھر سے نکلتے ہیں جیسے آج ان کی عید ہو گئی ہو اور یہ بات اس امر کی دلیل ہوتی ہے
  • جولائی
1989
ادارہ
دوسروں پر نکتہ چینی صرف آسان ہی نہیں ۔انسان کا بڑا ہی دلچسپ اور مرغوب مشغلہ بھی ہے خاص کر کمزوروں کی ،الان والحفیظ اگر وہ شے بے زبان بھی ہو تو اس وقت انسان کی نکتہ چینی اور "تنقید کا طوفان خیز عالم تو اور ہی دیدنی ہو تا ہے کیونکہ بے زبان جواب دے سکتا ہے نہ بول سکتا ہے۔اس کے پاس وکیل ہے نہ کو ئی یارائے دلیل ۔پھر نقاد کو کھٹکا کا ہے کا ۔اس لیے اس کی زبان کترنی کی طرح کترتی چلی جا تی ہے ۔مثلاً کہے گا:
  • فروری
2009
ادارہ
ایک شخص کے چند بیٹے کاروبار کے علاوہ دینی اور رفاہی کام بھی کرنا چاہتے ہیں، وہ عدالت کے روبرو باہمی معاہدہ کرتے ہیں کہ جو بیٹے کاروبار کریں گے، وہ دینی اور رفاہی خدمات کا خرچ بھی برداشت کرتے رہیں گے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ صدقہ یا ہبہ کا وعدہ پورا کرنا ضروری نہیں ہوتا لیکن عدالت نے اس معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ سنادیا ہے۔ اب اس سلسلے میں درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات مطلوب ہیں:
  • مئی
  • جون
1974
ادارہ
بروایت ابو داؤدؒ اور دارمیؒ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ «اکمل المومنین ایمانا احسنھم خُلقًا» یعنی کامل ترین مومن خلیق ترین شخص ہوتا ہے۔

صاحب جوامع الکلم رسول خدا ﷺ کے اس فرمان کی حقیقت تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ایمان و اخلاق کا اصلی مفہوم ذہن نشین کیا جائے پھر ایمان و اخلاق کا باہمی رشتہ سمجھا جائے۔
  • جنوری
1978
ادارہ
(1) ایک فاضل دوست نے پوچھا ہے کہ:

امریکہ میں نو مسلم میاں بیوی میں اتفاقاً ناچاقی ہوگئی، شوہر نے غصے میں آکر ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دےڈالیں، جب غصہ فرو ہوا تو پچھتایا، علماء کی طرف رجوع کیاتو انہوں نے جواب دیا کہ : اب تمہارے لیے رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔
  • جون
1989
ادارہ
(زیر نظر مقالہ مدیر"محدث" حافظ عبدالرحمٰن مدنی کی کلیۃ الشریعۃ (جامعہ لاہور اسلامیہ) کے ہفتہ وار اجتماع میں کی گئی ایک تقریر ہے۔جس میں گزشتہ دنوں "محدث" میں شائع شدہ "دین میں بدعات" کے موضوع پر مسئلہ کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کی گئی تھی ۔موجودہ شکل میں اسے ٹیپ سے منتقل کرکے ھدیہ قارئین کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
  • جون
1987
ادارہ
قبل ازیں کُل پاکستان مدارس اہل حدیث کنونشن میں مندوبین کی تجاویز کا خلاصہ پیش کرچکے ہیں، جن کو مرتب و منظم کرنے او رعملی شکل دینے کا کام ممتاز علماء اور تجربہ کار اساتذہ پر مشتمل ایک نمائندہ پچیس رکنی کمیٹی کے سپرد ہوا تھا۔ جس کی ابتدائی سفارشات برائے نصاب بھی قارئین ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ بعدازاں متذکرہ بالا ''تجاویز کمیٹی'' نے دو اجلاسوں مورخہ 26۔اپریل اور 7 جون میں نصاب و نظام تعلیم کی وحدت کے لیے
  • اگست
2000
ادارہ
قرآن مجید میں ارشاد بار تعالیٰ ہے:"ہم نے انسان کو بہترین خلقت (فطرت) پر پیدا کیا ہے۔"(سورۃتین)۔۔۔قرآنی تصور کے مطابق انسانی فطرت کا خمیر نیکی سے اٹھاہے۔انسانی اعمال میں کجی اور برائی کا ظہور دراصل سماجی عوامل اور معاشرتی تربیت کا نتیجہ ہے جناب رسالت مآب  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد گرامی ہےَ"ہر بچہ اپنی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنادیتے ہیں "بچے اپنی معصومیت کے اعتبار سے انسانی فطرت کی اصلیت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں بچے بے حد معصوم پیارے اور اپنے والدین کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں ان کے اندر مچلتی تمناؤں اور امنگوں کا ایک خزینہ پوشیدہ ہوتا ہے ان کی سادگی اور معصومیت کائنات کے حسن کا پرتو ہے۔انسانی بچے اپنی نشو ونما کے مراحل میں والدین اور عزیز و اقارب کی بے پایا ں شفقت ،محبت اور توجہ کے جس قدر متقاضی ہوتے ہیں کسی اور مخلوق کے بچوں کو شاید اتنی نگہداشت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔بچوں کے اندر اس جسمانی کمزوری کی حکمت شاید یہ ہے کہاوائل عمر ہی میں بچے اور والدین کے مابین تعلق کے گہرے رشتوں کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یہ ایک فطری امرہے کہ انسان جس چیز متواتر اپنی الفتیں نچھاور کرتا ہے اور اس کا خیال رکھتا ہے اس کے دل میں اس کے متعلق شدید محبت اور انس کے جذبات موجزن ہوجاتے ہیں ۔پیدائش سے لے کر رضاعت اور پھر بچپن میں انحصاریت کا طویل دورانیہ بچوں کے بارے میں والدین کے دلوں محبت اور وارفتگی کے سچے جذبات کو پیدا کرنے کاباعث بنتا ہے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
ورنہ ہمہ گیر عذاب کے لئے تیار رہو

عَنْ حُذَیْفَةَ رضی اللّٰه تعالٰی عنه اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰه تعالٰی علیه وسلم قَالَ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِهٖ لَتَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰهُ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ عِنْدِهٖ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهٗ وَلَا یُسْتَجَابَ لَکُمْ. (رواہُ الترمذی)
  • دسمبر
1989
ادارہ
آجکل اسلامی معاشرے میں جب بھی کسی برائی کے خلاف آوازاٹھتی ہے۔تو خود نام نہاد دانشور کتاب وسنت سے ایسی دلیلیں تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔جن سے مسئلہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اس سے اُن کا مقصد تو مسلمانوں کو شک میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔تاکہ وہ مغرب سے آمدہ برائی کو اپنے ہاں فروغ دینے میں رکاوٹ نہ بنیں۔لیکن حیرت ان مغرب زدہ برائی کے علم برداروں  پر ہوتی ہے۔جو مسلمان کہلانے کے باوجود اس طرح دیدہ دلیری سے اسلامی اقدار واخلاق کا مذاق اُڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتے،بالخصوص پاکستان جسے اسلام کے نام پر حاصل کرکے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے متفقہ قرار داد  پاس کی کہ یہاں کے باشندوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اسلام کے مطابق زندگیاں گزرانے کی مواقع مہیا کئے جائیں گے۔مگر جب حکومت وقت کی سرپرستی میں ایسے کام ہوں،اور ا س کے برجمہران کی ہمنوائی کریں تو پھر الامان والحفیظ کی صدائیں ہی بلند کی جاسکتی ہیں۔اس سلسلے میں پچھلے دنوں اسلام آباد میں بین الاقوامی کھیلوں کے مناظر میں عورتوں کی شرکت سے جو نمائش کی گئی۔اس پر ملک وملت کے خیر خواہ سرپیٹ کررہ گئے لیکن بات یہاں تک بس نہ ہوئی بلکہ اس کے ساتھ ہی اسلام میں تجدد  کے علمبردار خم ٹھوک کر میدان میں  آگئے۔
  • جولائی
1978
ادارہ
ضمیر سینہ کے اندر اس پوشیدہ قوت، احساسات کی بے چین روشنی اور    مخفی آواز کا نام ہے جو انسان کے اندر ایک جج اور کانشس کے طور پر کام کرتی رہتی ہے۔ اگر دوسرے عوارض کی وجہ سے یہ نورانی ملکہ دھندلانے نہ پائے تو ایک نابینا انسان بھی اس کی روشنی میں اپنا سفرِ حیات جاری رکھ سکتا ہے۔ اور اس کی خلش، انسان کو سدا چونکا کر رکھنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ یہ بیداغ رہے۔
  • جولائی
1987
ادارہ
تحقیق شرط لازم ہے: اصطلاحاً ''وہابی' نام رکھنا، نسبت و اعتقاد کے لحاظ سے اسی طرح غلط ہے جس طرح شیخ محمد اور ان کے متبعین کی طرف منسوب نظریات غلط تھے اور ان لوگوں نے اس سے براءت ظاہر کی ہے۔ سلفی عقیدے کے متلاشی دین اسلام کے دونوں سرچشموں: کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی ہدایات کا مقصد زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، اس لیے یہ لقب ان لوگوں کے لیے ناگوار خاطر نہیں ہے کیونکہ وہ سمجھےا ہیں کہ جس
  • جنوری
1993
ادارہ
''اسلام میں عورت کا مقام و مرتبہ'' تبصرہ نگار : عبدالوکیل علوی، ایم اےمصنفہ : محترمہ ثریا بتول علوی، ایم اے عربی،ایم اے اسلامیات، گولڈ اینڈ سلور میڈلسٹ، بی۔ ایڈ،اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج سمن آباد لاہورصفحات: 256قیمت : 54 روپےناشر: شفیق الاسلام فاروقی ملنے کا پتہ : حرا پبلی کیشنز 2؍14 فضل الٰہی مارکیٹ اردو بازار ، لاہور۔آج ملت اسلامیہ ایک دوراہے پر حیران و پریشان کھڑی ہے۔ ایک طرف خدا ناآشنا مغربی ثقافت کی ظاہری چمک دمک اور چکا چوند پیدا کرنے والی
  • اگست
1993
ادارہ
تعارف وتبصرہ:۔

نام کتاب: "مترادفات القرآن مع فروق الغویہ"

نام مولف: مولانا عبدالرحمان کیلانی
  • فروری
1999
ادارہ
مالا کنڈڈویژن جس میں سوات دیر،بونیر چترال وغیرہ اضلاع شامل ہیں ان قبائلی علا قوں میں سے ہے جو سرحد کی صوبائی حکومت کے زیر انتظام ہے۔ لہٰذا اسے "پاٹا"کہا جا تا ہے جو"پراونشل ایڈمنسٹریڈ ٹرائبل ایریا "کا مخفف ہے ان کے علاوہ مرکزی حکومت کے زیرانتظام سات ایجنسیاں باجوڑ مہمند اور کزئی ، کرم شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان میں نیز "فرنٹیئرریجن " کے نام سے وفاقی حکومت کے علاقے ہیں جو پشاور کوہاٹ بنو اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشزوں کے ماتحت ہیں۔ یہ سب علاقے "فاٹا" کہلاتے ہیں جو "فیڈرل ایڈمنسٹرینڈٹرائبل ایریا" کا مخفف ہے۔
  • جون
2000
ادارہ
دینی جماعتوں ،شمع رسالت کے پروانوں اور حکومت کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم فوری طورپر ٹل گیا ہے 16/مئی 2000ءکو جنرل پرویز مشرف نے ترکمانستان کے دورہ سے واپسی پر قانون تو ہین رسالت (295۔سی)کے تحت FIRدرج کرانے کے پرانے طریقے کو بحال کرنے کا اعلان کیا۔17/مئی کے تمام اردو اخبارات نے ماسوائے ایک کثیر الاشاعت روزنامے کے، اس اعلان کو شہ سرخی کی شکل میں شائع کیا۔جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ
"حکومت نے توہین رسالت ایکٹ میں کوئی ترمیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ علماء کرام ومشائخ عظام متفقہ طور پر چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر براہ راست ایس ایچ او کےپاس درج ہو۔ انھوں نے کہاکہ مجھے ان سب کا احترام ہے اور اس سے بڑھ کر عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایف آئی آر کے طریقہ کارمیں تبدیلی نہ ہو۔ میں نے فیصلہ کیا کہ تمام کا یہی فیصلہ ہے کہ اب بھی ایس ایچ اوکے پاس ہی براہ راست ایف آئی آر درج ہو سکے۔
  • نومبر
1972
ادارہ
نوٹ: تبصرہ کے لئے ہر کتاب یا رسالہ کے دو نسخے ارسال فرمائیں اور اس پر ''برائے تبصرہ'' لکھ کر اپنے دستخط ثبت کریں۔

کتاب : مرزائے قادیاں اور علمائے اہل حدیث

مؤلف : محمد حنیف یزدانی (قصوری)
  • مارچ
  • اپریل
1975
ادارہ
نام : انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر

مصنف : مولانا سید ابو الحسن علی ندوی

ضخامت : ۴۸۰ صفحات (مجلد۔ دیدہ زیب گرد پوش)
  • مارچ
2011
ادارہ
ڈاکٹر مجیب الرحمٰن کا شمار ان اہل علم میں ہوتا ہے جو علومِ قدیم وجدید کی جامعیت سے بہرہ مند ہیں۔ایک طرف وہ 'جامعہ محمدیہ'(اوکاڑہ) اور 'جامعہ سلفیہ' (فیصل آباد) جیسی معروف دینی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں تو دوسری طرف یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں۔اسی طرح تدریس کے میدان میں ڈاکٹر صاحب موصوف کو نہ صرف 'جامعہ اہل حدیث' (چوک دالگراں) لاہور میں
  • جنوری
1996
ادارہ
انسٹیٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز ان شریعہ اینڈ جوڈیشری 99- جے، ماڈل ٹاؤن لاہور کے زیر اہتمام شریعت اور عربی زبان کے اعلیٰ کورس کی افتتاحی تقریب آج بوقت 3:00 بجے سہ پہر زیر صدارت محترم جناب وسیم سجاد صاحب، چئیرمین سینٹ آف پاکستان منعقد ہوئی۔

تقریب کا آغاز پرنسپل کلیة القرآن الکریم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب کی تلاوت سے ہوا۔
  • نومبر
  • دسمبر
1975
ادارہ
توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

خدا کو یکتا کہنے اور لا الہ الا اللہ کے اصول پر اسے ماننے کانام ''توحید'' ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1977
ادارہ
۵؍ جولائی کو، رات ایک بجے کے بعد پاکستان کی مسلم افواج نے بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ہے اور مسٹر بھٹو کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فوجی حکام کی حفاظت میں دے دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَتِلكَ الأَيّامُ نُداوِلُها بَينَ النّاسِ...١٤٠﴾... سورةآل عمران
  • دسمبر
1970
ادارہ
مادری زبان میں بات: صدر ناصر انگریزی اور فرانسیسی بھی جانتے تھے لیکن غیر ملکی رہنمائوں سے بات ''عربی'' میں ہی کرتے تھے۔ ترجمانی کے لئے ترجمان رکھتے تھے (روزنامہ امروز)

اِدھر یہ حال ہے کہ:
  • اگست
  • ستمبر
1989
ادارہ
(11 جولائی 1989 ء بروز منگل کلیۃ الشریعۃ 91۔بابر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہورسے متصل وسیع سبزہ زار میں جامعہ لاہور اسلامیہ(رحمانیہ) کی تقریب تقسیم اسناد زیر صدارت بقیۃ السلف حضرت مولانا حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی منعقد ہوئی۔جس میں مہمان خصوصی جناب جسٹس محمد رفیق تارڑ قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تھے۔اس تقریب کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ عید وجمعہ کے اجتماعات کی طرح خواتین وحضرات دونوں میں سے دین وسماجی خدمات انجام دینے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔
  • ستمبر
2008
ادارہ
38 برس سے لاہور میں علومِ کتاب وسنت کی معیاری تعلیم دینے والی درسگاہ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تعمیراتی اِقدامات اور تعلیمی اِصلاحات کا عمل ایک تسلسل سے جاری ہے۔ یہاں مڈل کے بعد داخل ہونے والے طالب علم کو 8برسوں میں 20 علومِ اسلامیہ میں مہارت کے لئے خصوصی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ شام کی شفٹ میں سکول کی لازمی تعلیم بھی دی جاتی ہے
  • مئی
2010
ادارہ
۳۰؍ اگست ۱۹۸۶ء کو لاہور میں 'متحدہ شریعت محاذ پاکستان' کے زیر اہتمام جملہ دینی مکاتبِ فکر کی نمائندہ کمیٹی نے شریعت بل کے ترمیم شدہ مسودے پر اتفاق کیا اور مؤرخہ ۲۶ء اکتوبر ۱۹۸۶ء جامعہ نعیمیہ، لاہور میں ہزاروں اور مشائخ کے عظیم الشان کنونشن میں مولانا سمیع الحق کی طرف سے، قاضی عبد اللطیف کی تائید سے ترمیمی شریعت بل کے لئے قرار داد پیش کی گئی جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔
  • اگست
2007
ادارہ
پاکستان کے مسلمہ مسالک کے کوئی سے تین معتمد علماے کرام کی منصفی میں لاہور کےکسی بھی میڈیا فورم پر درج ذیل دس (10) مسائل پر مجادلۂ احسن کا چیلنج دیا جاتا ہے
  1. اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے یا نہیں؟
  • جون
1978
ادارہ
انسانی زندگی ایک عظیم صحرا، بھیانک جنگل اور مہلیب اندھیرا ہے، کچھ پتہ نہیں۔ اس میں کب بھونچال آجائے، کہاں حوادث کا کوئی کانٹا چبھ جائے یا اندھیرے میں راہ چلتے کہاں فتنوں کا کوئی مہلک گڑھا یا غار پیش آجائے۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ، ان حالات میں کیسے گزرے اور کیا بنے۔ گو اسی طرح انبساط اور خوشی کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں، تاہم جہاں داشیانوں کے ساتھ غموں کے کوس بھی بجتے ہوں وہاں خوشی بے اثر ہو کر رہ جاتی ہے۔
  • جنوری
2002
ادارہ
یوں تو گذشتہ کئی برسوں سے یہود و ہنود کی ایجنٹ این جی اوز پاکستان کے دینی مدارس کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کی مہم برپا کئے ہوئے ہیں مگر جنگ ِافغانستان میں طالبان کی عسکری شکست کے بعد سیکولر طبقہ ایک نئے جوش ولولہ کے ساتھ دینی مدارس کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے۔ سب سے افسوس ناک امر یہ ہے کہ امریکی ایجنڈے کی تکمیل میں دینی مدارس پر انتہا پسندوں کی آماجگاہیں
  • جون
1999
ادارہ
حافظ عبدالرحمٰن مدنی، معاونِ سپریم کورٹ کے وضاحتی مراسلات اور بیانات

سپریم کورٹ (شریعت اپلیٹ بنچ) میں زیرسماعت مشہور مقدمہ سود میں حافظ عبدالرحمٰن مدنی عدالتِ عظمیٰ کے معاون کی حیثیت سے پیش ہو رہے ہیں۔ آپ نے 3 مئی اور 6 مئی کے دوران مکمل مذکورہ موضوع پر اپنی بحث پیش کی لیکن بعض اخبارات کے نمائندوں کی غفلت یا کم علمی کی وجہ سے رپورٹ نہ صرف خلط ملط ہوئی بلکہ موقف کچھ کا کچھ بن گیا۔ حافظ صاحب موصوف نے اسلام آباد سے ان خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے دو مراسلات اور اپنا وضاحتی بیان دفتر محدث کے ذریعے روزنامہ اخبارات کے نام جاری کیا جو شاید اخبارات نے اپنے بعض صحافتی مصالح کی بنا پر تفصیل سے شائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لہذا ہم ادارہ محدث کی طرف سے اخباروں کے مدیران کے نام دونوں مراسلات اور وضاحتی بیان شائع کر رہے ہیں ۔۔ (حسن مدنی)
  • ستمبر
2006
ادارہ
'محدث' جون 2006ء کا مستقل شمارہ حدود قوانین کے خلاف میڈیا مہم کے جوابات پر مشتمل تھا جبکہ گذشتہ شمارے میں تفصیل سے حکومت کی مجوزہ ترامیم پر شرعی وقانونی نقطہ نظر پیش کیا گیا زیر نظر شمارے میں شائع ہونے والا جائزہ دراصل اس بل کا ہے جو 21؍اگست کو باقاعدہ قومی اسمبلی میں پیش کیاگیا اور اسے مجلس عمل نے پھاڑ کر اس پر بحث کرنے سے ہی انکار کردیا۔
  • نومبر
0
ادارہ
زیر نظر مقالہ مختلف حلقوں کی طرف سے ''اسلام کے سیاسی نظام'' کے بارے میں پیش کردہ افکار کا ایک جائزہ ہے مقالہ کی تیاری میں جو نکات پیش نظر رہے ان کی طرف اشارہ ضروری ہے تاکہ بعض مشہور شخصیتوں کا باہمی مختلف نکتہ نظر قارئین کے لیے تشویش کا باعث نہ ہو۔جناب انور طاہر صاحب نے ''اسلام کے سیاسی نظام '' کے بارے میں جملہ پیش کردہ افکار کو کتاب و سنت پر پیش کرکے ، اس سے مطابقت یا عدم مطابقت کو معیار بنایا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مقولہ ہی ان کی منہاج فکر ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
ادارہ
ماہنامہ ''محدث'' اپنی زندگی کے چھٹے سال سے گزر رہا ہے اور اس عرصے میں سیرتِ رسول ﷺ پر کئی مضامین کے علاوہ ایک خصوصی اشاعت ''رسول مقبول نمبر'' (حصہ اوّل) اور اس کا ضمیمہ پیش کر چکا ہے۔ رسولِ مقبول نمبر ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر مقوبل ہوا۔ اہل قلم دانشوروں نے اپنی قلمی تعاون سے حوصلہ افزائی کی۔ احباب نے پرخلوص مشورے دیئے اور قارئین نے ''محدث'' کی پذیرائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ اس نے ہماری بے مایہ کوششوں کو قبول عام بخشا۔
  • مئی
  • جون
1973
ادارہ
اَلْحَمْدُ لِلہِ! ''محدث'' کا حالیہ شمارہ ہم حسبِ اعلان ''رسول مقبول ﷺ نمبر'' کی صورت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس خاص نمبر کے اعلیٰ معیار سے متعلق کسی قسم کا دعویٰ تو جرأت ہو گی کیونکہ اس کا موضوع ہی سیّد المرسلین، امام المتّقین محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کی ذاتِ گرامی بحیثیتِ رسول ہے۔ تاہم یہ چند حروف بطور اظہارِ تشکر و امتنان تحدیثِ نعمت کی غرض سے عرضِ خدمت ہے۔
  • فروری
1972
ادارہ
سقوطِ مشرقی پاکستان اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد عوام میں حضرت شاہ نعمت اللہ صاحبؒ بخاری کی طرف منسوب فارسی زبان میں پیش گوئیوں کا بہت چرچا ہوا۔ مختلف جرائد و رسائل اور ملک کے مشہور روزناموں نے ان کو باترجمہ شائع کیا اور بازاروں میں بھی ان پیش گوئیوں کے پمفلٹ ہاتھوں ہاتھ بکے۔ اس طرح سے تاجروں نے خوب فائدہ اُٹھایا۔
  • جنوری
1977
ادارہ
ہر عوامی حکمران کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ دورے کرے، عوام کے حالات سے باخبر رہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ ان کے کیا مسائل ہیں۔؟ اس قسم کے دورے سرکاری حیثیت کے دورے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے کے جتنے مصارف ہوتے ہیں سرکاری خزانے کے ذمے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہ مصارف مسرفانہ نہ ہوں۔ ورنہ ضرورت سے زیادہ جو اخراجات ہوتے ہیں، شرعا سرکاری بیت المال ان کا ذمہ دار نہیں ہوتا،
  • جنوری
  • فروری
1971
ادارہ
وفات حسرت آیات

مؤرخہ ۱۹ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز منگل گوجرانوالہ سے یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ جماعتِ اہل حدیث کے بزرگ، علمائے حدیث کے رفیق کار اور دین و عمل کے شیدائی آج صبح سات بجے انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیه راجعون۔
  • اگست
2001
ادارہ
محدث کے اِس شمارے میں پاکستان کی معروف دانش گاہوں اورعلمی مراکزکے محققین کے اُن تبصروں کو شائع کیا جارہا ہے جو انہوں نے فکر ِاصلاحی پر کئے ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہورہاہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی اور انکے تلامذئہ خاص نے سنت وحدیث کے بارے میں اُمت کے اجتماعی رویے سے انحراف کی جو روش اختیار کی ہے،
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے:
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے ۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ''الامراء من قریش'' (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔
  • اگست
1976
ادارہ
پاکستانی خواتین کے حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان کے اٹارنی جنرل مسٹر یحییٰ بختیار نے پاکستانی خواتین کے حقوق کی کمیٹی کی رپورٹ شائع کردی ہے،¬ انہوں نے کہا کہ :

وزیراعظم بھٹو نے کابینہ کے پانچ ممبروں پرمشتمل ایک کمیٹی مقرر کردی ہے جو رپورٹ پر غور کرے گی او راپنی سفارشات حکومت کو پیش کرے گی۔
  • مارچ
1973
ادارہ
نوعِ انسانی مختلف امتیازات اور تعصبات میں مبتلا تھی۔ اللہ نے کرم کیا، کتابِ پاک اتاری اور رسولِ پاک ﷺ کو مبعوث فرما کر سب کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ روٹھے ہوئے گلے مل گئے۔ بچھڑے پھر جڑ گئے، دشمنِ جاں بھائی بن گئے اور افتراق و انتشار کے روگی وحدت اور اتحاد کے مسیحا ہو گئے اپنے اس احسان کا خداوند کریم نے یوں ذکر فرمایا ہے:
  • نومبر
2000
ادارہ
سوال۔شیخ الاسلام ابو العباس امام احمد بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو(قرآن شریف میں مختلف جگہوں پر) حَقُّ الْيَقِينِ ،  عَيْنَ الْيَقِينِ  ،اور عِلْمَ الْيَقِينِ کے تین مقام  بیان فرمائے ہیں ان میں سے ہر مقام کےکیا معنی ہیں؟ اور کون سا مقام ان سب میں اعلیٰ ہے؟
جواب۔حضرت امام موصوف  رحمۃ اللہ علیہ  نے یوں جواب دیا:الحمد للہ رب العالمین، حَقُّ الْيَقِينِ،  عَيْنَ الْيَقِينِ ، عِلْمَ الْيَقِينِ کی تفسیر میں لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ہیں،ان میں ایک قول یہ ہے کہ:
عِلْمَ الْيَقِينِ علم کے اس درجہ کا نام ہے جو کسی شخص کو کسی بات کے سننے،کسی دوسرے شخص کے بتلانے اور کسی بات میں غور اور قیاس کرنے سے حاصل ہو،پھر جب وہ اس چیز کا آنکھوں سے مشاہدہ اور معائنہ کرے  گا تو اسے عَيْنَ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔اور جب دیکھنے کے بعد اسے چھوئے گا،اسے محسوس کرے گا،اسے چکھے گا اور اس کی حقیقت کو پہچان لے گا تو اسے حَقُّ الْيَقِينِ حاصل ہوجائے گا۔
  • جولائی
  • جولائی
1973
ادارہ
اس بے کراں وسعت کے باوجود دنیا کے اندر سخت گھٹن سی محسوس ہوتی ہے، زمین نے اپنے سارے دفینے اگل ڈالے ہیں مگر بھوک اور افلاس کا رونا جاری ہے۔ فضاؤں نے ابنِ آدمؑ کی تگ و تاز کے لئے اپنی گودیاں پھیلا دی ہیں مگر پاؤں میں چلنے کی سکت نہیں رہی۔ گلستانِ حیات میں رحمتوں کی بادِ نسیم چل رہی ہے۔ لیکن افسوس! سانس لینا مشکل ہو رہا ہے، بہاروں کی دلآویزی اپنے جوبن پر ہے مگر نگاہوں کی ویرانی نہیں جاتی۔
  • مئی
1973
ادارہ
خدا خدا کر کے ملک کو وفاقی جمہوری اور اسلامی دستور مل گیا۔ اور یہ 'بے آئین سر زمین' دستور سے ہمکنار ہو گئی۔ لیکن شروع سے جو چیز ہمارے لئے وجہ حٰرت بنی رہی۔ وہ یہ تھی کہ جو پارٹی، وفاقی، جمہوری اور اسلامی نعرے لگاتی رہی جب وقت آیا تو وہ اس کے لئے بآسانی تیار کیوں نہ ہو سکی اور سب سے بڑھ کر جس بات نے اس کو فاش کر دیا وہ یہ تھی کہ روٹی، کپڑا اور مکان اس پارٹی کا گمراہ کُن اور بنیادی نعرہ تھا۔
  • مئی
2003
ادارہ
ہمارے ادارہ کے فاضل رکن محترم ڈاکٹر صھیب حسن جو اسلامک شریعت کونسل، لندن کے سیکرٹری جنرل اور لندن میں قرآن سوسائٹی کے صدربھی ہیں، گذشتہ دنوں پاکستان تشریف لائے۔لاہور میں آپ نے خطبہ جمعہ میں 'سانحۂ سقوطِ بغداد' پر جن خیالات کا اظہار کیا، وقت کی تنگ دامنی کے باوجود اس میں اہم نکات آگئے ہیں۔ آپ کا یہ خطاب ہدیۂ قارئین ہے۔ (محدث )
  • اپریل
1977
ادارہ
ان کے نام اسلام کا پیام

﴿لِنَنظُرَ‌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾... سورة يونس

صحیح انتخابات وہ ہوتے ہیں جب لوگ آپ اپنی مرضی سے کسی کو انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن مغربی جمہوریت کے اس دورِ انتخاب میں تلوار کی نوک اور ڈنڈے کی چوٹ کے ذریعے لوگوں سے جبرا کہلوایا جاتا ہے کہ: کہو! میں اچھا، میری پارٹی اچھی، میرے امیدوار اچھے، میرا منشور اچھا۔
  • جنوری
1996
ادارہ
جناب صدر! ملک و ملت کی تڑپ رکھنے والا ہر ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ پاکستان جو دور جدید میں اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر معرض وجود میں آیا، اس پر نصف صدی گزرنے کو ہے اور تعمیر وطن میں سب سے ضروری کام تعلیم و تربیت کا ہے، وہ تعلیم و تربیت جو قوم کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے، جو "اقرا" کے حکم کی صورت مسلمانوں کے لئے وحی الہیٰ کا پہلا ابدی پیغام ہے اور جو ماضی کے شاندار ورثہ اور درخشاں مستقبل تک پہنچانے کی ضامن ہے۔ اسی تعلیم کو پاکستان میں مسلسل کیوں اکھاڑ پچھاڑ کا شکار بنایا جا رہا ہے؟
  • دسمبر
1973
ادارہ
آج کل پورا عالمِ اسلام، خاص کر ''براہیمی سرزمین'' ابتلاء اور محن کے ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جو حوصلہ شکن بھی ہے اور غضبِ الٰہی کا غماز بھی۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ پوری 'غیر مسلم دنیا' چاروں طرف سے 'مسلم دنیا' کے گرد گھیرا ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ کوئی بھی اس کی مدد کو نہ پہنچ سکے، اپنے نہ پرائے۔ اور اندر ہی اندر اس کا دم گھٹ کر رہ جائے۔
  • ستمبر
2005
ادارہ
جامعہ لاہور الاسلاميہ، انسٹیٹیوٹ آف پاليسى سٹڈيز اسلام آباد اور دعوة اكيڈمى بين الاقوامى اسلامى يونيورسٹى اسلام آبادكے باہمى اشتراك سے مدير الجامعہ حافظ عبدالرحمن مدنى كى زيرصدارت 28/جولائى 2005ء كو جامعہ كے كانفرنس ہال ميں ايك تربيتى وركشاپ كا انعقاد ہوا- جس كا مقصد يہ تها كہ مسلمانوں كى علمى ميراث كے امين مدارسِ دينيہ كے كردار كو بہتر بنايا جائے
  • اگست
1972
ادارہ
صدرِ پاکستان مسٹر بھٹو ۲۸؍ جون کو تقریباً گیارہ بجے قبل وپہر لاہور سے چندی گڑھ، پھر وہاں سے ''پاک بھارت سربراہی کانفرنس'' میں شمولیت کے لئے ۸۷ افراد کی ٹیم کے ہمراہ شملہ پہنچے جہاں موصوف کا استقبال نہ صرف نہایت سرد مہری سے کیا گیا بلکہ فاتحانہ خمار کے ساتھ، کم ظرف ہندو نے اپنی کم ظرفی کی نمائش بھی ضروری سمجھی۔
  • ستمبر
2005
ادارہ
’دينى مدارس كا كردار‘ ان دنوں بطورِ خاص ہدفِ تنقيد ہے اور ميڈيا نے لگاتار اُنہيں مہمل،بيكار اور معاشرے كا عضو ِمعطل قرار دينے كى پاليسى اپنا ركهى ہے- جبكہ دوسرى طرف انہى دينى مدارس كو ملك كى سب سے بڑى اين جى او اوراسلام كے قلعے قرار دينے كے علاوہ جديد مغربى تہذيب وفلسفہ كا سب سے بڑا مخالف بهى قرار ديا جاتا ہے۔
  • اپریل
1999
ادارہ
"محدث" کے گزشتہ شمارے میں ہم نے عرض کیا تھا کہ رؤیتِ ہلال کے مسئلے میں جہاں اختلافِ مطالع کا فرق بہت زیادہ ہو، تو وہاں ایک علاقے کی رؤیت دور دراز کے علاقے کے لیے کافی نہیں ہونی چاہئے۔ اس کے برعکس حنفی مذہب میں ظاہر الروایہ کے مطابق اختلافِ مطالع کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اس لیے پاکستان کے بعض احناف کے نزدیک پورے عالم اسلام میں ایک ہی دن عید اور رمضان کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور علمائے احناف کا یہ گروہ اِسی پر زور دے رہا ہے۔
اکوڑہ خٹک سے استفتاء اسی سلسلے میں آیا تھا، جس کا مختصر جواب گزشتہ شمارے میں شائع ہو چکا ہے۔ حسن اتفاق سے اس کے معا بعد "جدید فقہی مسائل" میں یہ بحث نظر سے گزری، جو بھارت کے ایک حنفی عالم کی تالیف ہے، اس میں نہ صرف اختلافِ مطالعہ کو معتبر قرار دیا گیا ہے، بلکہ پورے بھارت کے تمام مکاتب فکر کے علماء کا متفقہ فیصلہ بھی نقل کیا گیا ہے جس میں اختلاف مطالع کے اعتبار کو تسلیم کیا گیا ہے۔
یہ گویا ہماری اُس رائے کی تائید ہے جو اکوڑہ خٹک کے مذکورہ استفتاء کے جواب میں گزشتہ شمارے میں ہم نے تحریر کیا تھا۔ اس لیے مناسب معلوم ہوا کہ اسے بھی افادہ عام کے لیے "محدث" میں شائع کر دیا جائے ۔۔ ادارہ
  • مئی
2000
ادارہ
1۔برصغیر میں مطالعہ قرآن صفحات :603قیمت : 100
ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیر اہتمام 28اپریل تایکم مئی 1997ءکو اسلام آباد میں ایک چار روزہ سیمینار (مذکرہ علمی) کا انعقاد ہوا موضوع تھا"برصغیر(پاک و ہند) میں مطالعہ قرآن "یعنی قرآن پاک کے تراجم و تفاسیر اور قرآن فہمی کی کوششوں کا جائزہ ۔۔۔اس سیمینار میں ملک بھر کی جامعات دینی مدارس اور دیگر علمی حلقوں کے محققین نے کافی تعداد میں شرکت فرمائی اور تقریباً 23مقالات پڑھے گئے۔
"فکرو نظر "نے جو ادارہ تحقیقات اسلامی کا ترجمان ہے انہی مقالوں کو جمع کر کے ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے اس میں سولہ مقالات شامل ہیں یوں گویا یہ مذکورہ بالا عنوان کا پہلا حصہ ہے۔ بقیہ مقالات کے لیے دوسرے حصے کا انتظار کیا جا نا چاہیے ۔۔۔اس خصوصی اشاعت کو تین بابوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔باب اول علوم القرآن اس میں شامل مقالات کے عنوانات ہیں۔
1۔قرآن فہمی کے اصول (علمی کام کا جائزہ) (2)برصغیر میں مطالعہ قرآن  تراجم و تفاسیر (3)برصغیر کے حوالے سے خدمت لغات القرآن کا تحقیقی جائزہ (4)برصغیر میں مطالعہ قرآن بحوالہ شیعیت (5)اعجاز القرآن (6)مضامین قرآن کے اشاریے۔
  • اپریل
1990
ادارہ
متکلین کے ہاں اس مسئلہ پر کافی بحثیں رہی ہیں کہ گناہ اور معصیت کا مرتکب مومن رہتا ہے یانہ ؟آئمہ اہل السنتہ وا لجماعت کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ مومن ہی رہتا ہے

دراصل یہ خالص علمی کلامی اور فلسفایانہ بحثیں تھیں اور ایک خاص پس منظر میں اٹھیں اور چلتی بنیں معتزلہ اور خوارج وغیرہ ان بحثوں سے مطمئن ہو ئے یا نہ ؟لیکن یہ بات یقینی ہے کہ :اس سے مسلمانوں کے اعمال کردار اور افکار پر غلط اثرات ضرور نمایاں اور مرتب ہو ئے ۔
  • مئی
2002
ادارہ
صدرِ پاکستان جنرل پرویز مشرف نے بالآخر مزید پانچ سال کے اقتدار کے لیے ۳۰/اپریل ۲۰۰۲ء کو ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریفرنڈم ہی قومی ذرائع ابلاغ کا اہم ترین موضوع بنا ہوا ہے۔جنرل پرویز مشرف عوامی حمایت کے حصول کے لیے ۹/اپریل سے لاہور میں ایک 'عوامی' جلسے سے اپنی ریفرنڈم مہم کا آغاز کر چکے ہیں۔
  • اگست
2007
ادارہ
مولانا محمد عبداللہ مرحوم اپنے چھوٹے صاحب زادے عبدالرشید غازی سے اکثر شاکی رہتے تھے۔ مولانا صاحب مرکزی رؤیت ِہلال کمیٹی کے سربراہ تھے اور ملک بھر کے علما میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے دونوں بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید کو بھی عالم دین بنانے کا فیصلہ کیا۔
  • جون
2009
ادارہ
آج پاکستان خاک و خون میں نہا رہا ہے۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارادشمن کون ہے۔ جب تک یہ تعین نہیں کرتے۔ ہم حالات کاصحیح جائزہ نہ لے سکیں گے۔ مندرجہ ذیل حقائق کو مدنظر رکھیں : جب سوات آپریشن شروع ہوا۔ ہمارے صدر امریکہ میں تھے۔اس کے بعد برطانیہ کے گورڈن براؤن کے ساتھ معانقے ہورہے تھے۔فرانس کے صدر کے ساتھ دوستیاں بڑھائی جارہی تھیں ۔
  • مئی
1999
ادارہ
آج کل وطن وزیز کے دینی اور قانونی حلقوں میں جو علمی مباحث جاری ہیں ان میں سودی نظام پر بحث سر فہرست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حر مت سود سے متعلق ایک بہت اہم اپیل کی سماعت عدالت عظمیٰ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو ہو رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فل بنچ مسٹر جسٹس خلیل الرحمٰن خان کی سربراہی میں مسٹر جسٹس وجیہ الدین احمد مسٹر جسٹس منیر اے شیخ مسٹر جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی اور مسٹر جسٹس ڈاکٹر محمود احمد غازی پر مشتمل ہے اس اپیل کو موجودہ صورت حال میں مندرجہ وجوہات کی بنا پر اور بھی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
ادارہ
مختصر تعارف:

حضرت امام ابن تیمیہؒ ۷۶۸ھ / ۱۳۲۸ء) آٹھویں صدی کے ''مجاہد مجدد'' ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ (۱۳۳۳ھ / ۱۹۱۴ء) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
  • مئی
1990
ادارہ
ڈیڑھ دو سال سے پاکستان جس رخ جارہاہے۔ اس میں یہ بات حیرت ناک ہے کہ ملک میں سرکاری سطح پر نفاذ شریعت کی پیش رفت ہورہی ہے۔مثلاً ان دنوں نفاذ شریعت بل1990ء(جسے 13مئی کو سینٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے) کے علاوہ ملک کے مالیاتی قوانین کے وفاقی شرعی عدالت کے دارہ اختیار کے تحت آنے کا مسئلہ اور تعزیرات پاکستان کی 299 سے 338 تک چالیس دفعات کے غیر اسلامی قرار  پانے کا مسئلہ حکومت کے لئے سنجیدہ صورت اختیار کر گئے ہیں۔حکومت کا ظاہری رویہ تو ا ُن کے بارے میں مثبت نہیں۔تاہم کیا مشکل ہے کہ اگر جمعے کے چھٹی اور شراب کی بندش کے قوانین کے علاوہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی  ترمیم پیپلز پارٹی کے دور اول میں پاس ہوگئی تھی۔جبکہ شریعت بل جو جنرل ضیاء الحق کے دور میں اُن کی حکومت ہی کی مخالفت کی وجہ سے سینیٹ سے بھی پاس نہ ہوسکا۔لیکن وہ اب سینیٹ کے مرحلہ سے گزر گیا ہے۔تو شاید اگلے مراحل میں بھی کامیابی حاصل کرجائے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
ملک میں سرد جنگ کی ایک غیر مختتم صورت۔ مغربی جمہوریت کا حاصل

اقتدار کی گدی، کانٹوں کی سیج ہے۔ اس سے بھی آزار دہ مرحلہ انتقال اقتدار کے لئے جنگ اقتدار کا مرلہ ہے۔ اس دوران جو اشتعال، بدمزگی، کدورت، حسد، بعض و عناد، رقابت گردہی تلخی اور مسابقت کی آگ کے شعلے بھڑک اُٹھتے ہیں، وہ اب دائمی شکل اختیار کر لیتے ہیں ''جو کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے'' پر منتج ہوتے ہیں۔
  • اکتوبر
1998
ادارہ
28 اگست 1998کوموجودہ حکومت نےنفاذِ شریعت کےحوالہ سے آئین میں پندرہویں ترمیم کاایک بل پیش کیا ہے جس میں شریعت کوسپریم لاء قرار دینےکااعلان ہے۔
اس بل میں جوتجویز یادعویٰ کیاگیا ہے، یہ وہی ہےجس کاوعدہ تحریک پاکستان میں کیاگیا،پھرقیا پاکستان کےبعد کیا گیا اوراب تک کیا جاتارہا ہے۔جب واقعہ یہ ہےکہ شریعت کی عملداری پاکستان کےقیام کی محرک تھی اوربانی پاکستان سےلےکرہرحکمران نےا س کاوعدہ بھی کیا۔خود میاں نواز شریف صاحب نےیہ وعدہ متعدد مواقع پرکیا۔ توپھر اس مقصد کےلیے پیش کی گئی پندرہویں ترمیم کی مخالفت اپنوں اوربیگانوں کی طرف سےکیوں کی جارہی ہے؟ اپنوں سےمراد وہ دینی جماعتیں اورمذہبی حلقے ہیں جن کی سیاست اورسرگرمیوں کامقصد ومحور ہی شریعت کی بالا دستی ہےلیکن ان کی اکثریت بھی حکومت کےپیش کردہ بل سےمتعلق ذہنی تحفظات کاشکار ہے۔اور بیگانوں سےمراد وہ لوگ ہیں جواس ملک میں شریعت اسلامیہ کی بجائے سکولرازم ، اباحیت اورزندقہ کےعلم بردارہیں ۔ان لوگوں کےمقاصد وعزائم اگرچہ ڈھکے چھپے نہیں رہےہیں تاہم یہ بھی حقیقت ہےکہ واضح الفاظ میں ان لوگوں کواس سےپہلے شریعت کی بالادستی کےخلاف اس طرح لب کشائی کی جراءت نہیں ہوئی تھی ۔یہ پہلا موقعہ ہےکہ ایسے لوگ اس شریعت بل کےخلاف متحد ہوگئے ہیں اوراس کےخلاف تحریک چلانے کےعزم کااظہار کررہےہیں۔آخرایسا کیوں ہے؟
  • جون
1999
ادارہ
سماحته الشيخ عبدالعزيز بن باز
(مفتی اعظم رحمۃ اللہ علیہ سعودی عرب کے مختصر سوانح حیات)

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کی عظیم المرتبت شخصیت عالم اسلام میں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ مملکت سعودی عرب کے مفتی اعظم، دارالافتاء کے رئیس اور بے شمار اسلامی اداروں کے سربراہ تھے۔ عصر حاضر میں شیخ ابن باز سے عالم اسلام کو جتنا فائدہ پہنچا ہے شاید ہی کسی اور عالم دین سے پہنچا ہو۔ پوری دنیا میں ان کے مقررہ کردہ داعی، ان کے مبعوث علماء کرام، اور ان کے قائم کردہ مدارس و اسلامی مراکز کام کر رہے ہیں اور اسلام کی شمع کو دنیا بھر میں روشن کئے ہوئے ہیں۔
  • نومبر
1999
ادارہ
محدث ِجلیل شیخ البانی کی وفات پر ادارئہ محدث نے معروف اہل علم سے اپنے تاثرات لکھنے کی درخواست کی ۔وقت کی قلت کی وجہ سے بہت سے علماء سے رابطہ نہیں ہوسکا اور بہت سے کم فرصت میں ارسال نہیں کرپائے۔ حاصل ہوجانیوالے تاثرات ہدیہ قارئین ہیں۔بعد میں موصول ہونے والے مضامین او رتاثرات آئندہ اشاعتوں میں ان شاء ا للہ شائع کئے جاتے رہیں گے۔ادارہ
  • اگست
1999
ادارہ
افسوس ہے کہ 30 جون 1999ء کو تقریبا صبح 6 بجے معروف عالم، بلند پایہ مدرس، شیخ الحدیث والتفسیر مولانا محمد عبدہ الفلاح رِحلت فرما گئے، انا لله وانا اليه راجعون
جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں، جس کے محلہ حاجی آباد میں مرحوم کی رہائش تھی، نمازِ ظہر کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پہلی نماز ان کے فاضل تلمیذ حافظ عبدالعزیز علوی صاحب شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ نے پڑھائی۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مرحوم کے ایک اور فاضل شاگرد مولانا حافظ ثناءاللہ مدنی شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ (رحمانیہ) نے دوسری مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی، جو لاہور سے قدرے تاخیر سے پہنچے تھے۔ نمازِ جنازہ کے بعد مرحوم کا جنازہ ان کے گاؤں سرواں چک 540 گ ب تحصیل سمندری ضلع فیصل آباد لے جایا گیا جہاں 6 بجے شام ان کی تدفین عمل میں آئی۔
نمازِ جنازہ میں جامعہ کے طلباء و اساتذہ کے علاوہ گوجرانوالہ، لاہور، فیصل آباد اور دیگر شہروں سے بکثرت علماء اور احباب، جماعت شریک ہوئے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
ادارہ
یہ خط مارچ 1945ء میں حسن الہضیبی نے کرنل ناصر کے نام تحریر کیا تھا۔ حسن النباء شہید تحریک اخوان المسلمون کے بانی کی شہادت کے بعد حسن الہضیبی اخوان کے مرشد عام منتخب ہوئے تھے جن کو 1954ء میں پھانسی کی سزا کے احکامات جاری ہوئے لیکن عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے پھانسی کی سزا دس سال قید با مشقت میں تبدیل کر دی گئی اور اب پھر ان کو تین سال قید با مشقت کی سزا دے کر مقید کر دیا گیا ہے۔
  • فروری
2001
ادارہ
مرحوم مفتی اعظم سعودی عرب سماحة الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز کے بعد عرب دنیا کی مایہ ناز علمی شخصیت فضیلت مآب محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ کی وفات پر مدیر اعلیٰ محدث / مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ نے پاکستان میں ایڈیشنل سعودی سفیر جناب احمد محمد العجلان کے توسط سے سعودی اعلیٰ حکام ، دینی امور سے متعلقہ وزراء ، اسلامی اداروں کے سربراہان او رمرحوم کے اہل خانہ سے بذریعہ ٹیلیفون یا تحریری طور پر تعزیت کا اظہار کیا تھا
  • اگست
2009
ادارہ
زیر نظر مضمون مربوط خدشات سے بھرپور اگرچہ منفی نقطہ نظر کا حامل ہے تاہم مسلمانوں کے موجودہ حالات کے تناظر میں اسے بالکل نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اوبامہ کے بارے میں مسلمانوں میں پائی جانے والی خوش فہمی کا ایک دوسرا رُخ ہے۔ اس مضمون میں بیان کردہ استدلال کی تائید جہاں پاکستان کے موجودہ سنگین ترین حالات سے ہوتی ہے،
  • ستمبر
1973
ادارہ
مملکت پاکستان میں سب سے اہم اور اونچے عہدے اور منصب تین ہیں۔ صدر، سپیکر اور وزیر اعظم جو مستقل آئین کے تحت پہلی بار بالآخر ملک کو مل ہی گئے ہیں۔ اس لئے ہم بھی ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کو منتخب کر کے عوام نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو اپنے عوام کی جائز اور بجا توقعات کی لاج بھی رکھ سکتے ہیں۔
  • جنوری
  • فروری
1974
ادارہ
فکر ونظر کے کالموں میں محدث مدیر اعلیٰ کی یکم جنوری1974ء کے روز ''صدق'' کے موضوع پر ریڈیو پاکستان سے ''نشری تقریر'' ہدیہ قارئین ہے۔ (ادارہ)

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم امابعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم﴿وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُ‌سُلِهِ أُولـٰئِكَ هُمُ الصِّدّيقونَ...١٩﴾... سورة الحديد
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
کیا کثرت رائے معیارِ حق ہے؟

ہم پہلے اسلامی نقطۂ نظر سے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ دلیل کے مقابلہ میں کثرت رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اب جمہوریت پرستوں کی مجبوری یہ ہے کہ جمہوری نظام ''کثرت رائے بظور معیار حق'' کے اصول کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
ہمارے جمہوریت نواز دوست عموماً یہ تاثر دیتے ہیں کہ:

1. سقیفہ بنی ساعدہ اس دَور کا پارلیمان تھا۔

2. جہاں انصار و مہاجرین نے سرکردہ حضرات نے جو اس دَور کے قبائلی نظام کے مطابق اپنے اپنے قبیلہ کے نمائندہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب میں حصہ لیا اور
  • اپریل
1972
ادارہ
عالمِ اسلام نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ صرف اس لئے ہیں کہ وہ بیرونی خطرات کے نرغہ میں ہے بلکہ اس اعتبار سے کہ اس نے خود بھی ایسے حالات پیدا کر لئے ہیں جو نزولِ مصائب اور خارجی فتنوں کے لئے اپنے اندر بلا کی کشش رکھتے ہیں۔ اس لئے انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جس کردار اور ذہنیت کا اس نے مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے بعد اسے کسی بھی غیر کی ستم ظریفی کا شکوہ نہیں ہونا چاہئے۔
  • جولائی
1976
ادارہ
بہتر اور اچھے حکمرانوں کی علامات:

22۔ عن عوف بن مالک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال:

خیارائمتکم الذین تحبونھم ویحبونکم و یصلون علیکم و تصلون علیہم ۔ و شرارا ئمتکم الذین تبغضونہم و یبغضونھم و تلعنونھم و یلعنونکم(رواہ مسلم)
  • جنوری
  • فروری
1976
ادارہ
قسط نمبر:1

فروری 1972 میں عالم اسلامن کےسیاسی رہنما اور حکمران پاکستان میں تشریف لائے تو ملک کے اطراف واکناف سے ان کے نام پیغامات تہنیت کے ہدیے پیش کیے گئے تھے۔
  • جون
1976
ادارہ
دعوت اسلام

(12) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَبَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَيْهِ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.......... فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الهُدَى،أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ، يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ(صحیح البخاری:حدیث7)
  • اپریل
1973
ادارہ
ملکی دستور کی تدوین میں ہر جگہ اور اس کے ہر پہلو سے بحث کی جاتی ہے، کیونکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہوتا ہے مگر افسوس! اگر اس کا کوئی پہلو تشنہ رہتا ہے تو وہ صرف ملک کے سیاسی سربراہ کی اخلاقی اور دینی حیثیت کا پہلو ہے۔ دوسری اقوام کے لئے تو ممکن ہے، یہ ایک غیر ضروری اور غیر سرکاری بات ہو، لیکن ملتِ اسلامیہ کے لئے اس کی حیثیت دینی اور سرکاری ہے
  • فروری
1973
ادارہ
خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے خلافت کے استحقاق کی بات چلی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

«کان خلیفة رسول اللہ اللہ ﷺ فی الصلوٰۃ رضیه لدیننا فرضیناہ لدنیانا»

نماز میں وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلیفہ اور جانشین رہے حضور نے ان کو ہماری دینی قیادت کے لئے ناپسند فرمایا تو ہم نے ان کو اپنی دنیوی قیادت کے لئے پسند کر لیا۔
  • جون
1976
ادارہ
دنیا شروع سے دو انتہاؤں کی طرف چلی گئی ہے۔ایک نےزندگی کےاخلاق اورباطنی پہلو کی اصلاع اور روشنی پر نظر مرکوز رکھی جیسے عیسائیت اور بدھت مدمت اور اجتماعی زندگی کو جمہور کی خواہشات کےتابع بناکر رکھ دیا ۔ دوسرے نےاخلاقی نظام اورباطنی پہلو سے آزادرہ کرزندگی کے خارجی پہلو گنےچنے امور کو سامنے رکھا جیسے مغربی اقوام کا حال ہے یہی وجہ ہےکہ دونوں کےہاں فرداور جماعت یافرد اورحکومت کےتعلقات متعین نہیں ہیں اورجتنے ہیں بس یک طرفہ ہیں۔
  • مئی
1976
ادارہ
سعودی حکومت نے اس قبرستان کو سرکاری تحویل میں لینے کے لئے فوری قدم اُٹھایا ہے جو ایک ہزار برس سے بھی پرانا ہے اور جو حال ہی میں دریافت ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس میں چوتھے خلیفے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اٹھائیس پوتوں اور نواسوں کے مرقد ہیں۔
  • جون
2006
ادارہ
اخباری اطلاع کے مطابق اسلام آباد میں ایک تعلیمی کانفرنس کے دوران جہاںوزیراعظم شوکت عزیز بھی تقریب میںموجود تھے۔ ممتاز عالم دین محقق اور دانشور علامہ جاوید الغامدی جو کہ حال ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل آف پاکستان کے رُکن مقرر کئے گئے ہیں، نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ حکیم اور اسلامیات کی تعلیمات بچوں کو دوسری جماعت کے بجائے پانچویں جماعت کے بعد شروع کی جانی چاہئیں۔
  • نومبر
1972
ادارہ
پچھلے دنوں میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اک سو ساٹھ کلیدی اسامیوں کے لئے حکومت کو درخواستیں مطلوب ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے ملازمتوں کے لئے صنفی امتیاز بھی ختم کر دیا تھا یعنی ان اسامیوں کے لئے عورتیں بھی درخواستیں دے سکیں گی۔ (نواے وقت وغیرہ)
  • جنوری
  • فروری
1974
ادارہ
ہمارے یہاں مشرقی کتاب خانہ پٹنہ (خدابخش لائبریری) میں صحیح بخاری کا ایک مکمل نسخہ شیخ محمد بن شیخ پیر محمد بن شیخ ابوالفتح بلگرامی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ یہ نسخہ اس لحاظ سےبہت قیمتی ہے کہ یہ شاہ صاحب کے حلقہ درس میں استعمال ہوا ہے اور اس پر ان کے دست خاص کا لکھا ہوا اجازت نامہ ثبت ہے نیز شاگرد (محمد بن پیر محمدیہ پورا نسخہ جن کالکھا ہوا ہے) کے آخری نوٹ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے
  • نومبر
  • دسمبر
1974
ادارہ
عید قربان آتی ہے تو شاطر لوگ، عوام سے کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ:

قوم اور ملک کے لئے اپنے مفاد کی قربانی دو، یعنی جو ہم کہتے ہیں، بس اس کے لئے سر کٹانا پڑے تو کٹا دو۔ اجڑنا پڑے تو اجڑ جاؤ۔ لٹنا پڑے تو لٹ جاؤ۔ بہرحال اب تمہارا امتحان ہے کہ عیدِ قربان کا حق کیسے ادا کرتے ہو؟ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیتے ہو یا گوشت کھا، پی کر ہمیں بھی بھول جاتے ہو۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
ادارہ
انگلینڈ سے ایک فاضل نے استفسار فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

یہاں پر حسب سابق اس دفعہ بھی عید پر مسلمانوں میں خاصا اختلاف پیدا ہوا اور تین مختلف دنوں میں عید کی گئی اور اس سلسلے میں تین گروہ بن گئے۔ اس مسئلے پر میں آپ کا نقطۂ نگاہ بھی معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ صورت حال کچھ اس طرح بنی۔
  • مارچ
  • اپریل
1975
ادارہ
پاکستان بن گیا، بن کر پھر ٹوٹ گیا اور ٹوٹ کر کچھ حصہ پھر غلام بن گیا۔ مگر دونوں جگہ 'نعرہ آزادی' کے اس ڈھونگ سے متاثر ہو کر عوام کالانعام بھی یہی سمجھ بیٹھے ہیں کہ واقعی ہم آزاد ہو گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ دنیا میں 'آزادی اور حریت' کا مفہوم اور مضمون یہی ہو، جس کی نشان دہی وہ لوگ کر رہے ہیں لیکن 'بندۂ مسلم' کے ہاں حریت اور آزادی کا یہ مفہوم، حریت پر ایک الزام، تہمت اور افتراء ہے جس کو سیاسی شعبدہ بازوں نے گھڑ کر لوگوں کو اپنی غلامی میں پختہ اور مخلص بنانے کے لئے ایک بھونڈی سازش کے طور پر اختیار کیا ہے۔
  • دسمبر
1970
ادارہ
ووٹ کی یہ پرچی صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں، آپ کا نامۂ اعمال بھی ہے۔
اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی       دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا


گو اگلے وقتوں میں الیکشن اور انتخابات کی یہ فنی شکل مروج نہیں تھی تاہم اثرات اور عوامل جن کے ذریعے کچھ شاطر لوگ عوام پر مسلط ہو جاتے ہیں، وہ تقریباً تقریباً آج سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔
  • مئی
  • جون
1975
ادارہ
فساد فی الارض ''نوع انسانی'' کی سب سے بڑی بد نصیبی بلکہ کائنات کی ہر چیز کی سیاہ بختی کی بات ہے، کیونکہ تخریب اور تخریب کاری انسان کی سیاہ کاری کا نتیجہ ہوتی ہے اور بطور سزا اور قہرِ الٰہی کے پھلتی پھولتی اور پھیلتی ہے۔

ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا (پارہ۲۱۔ الروم۔ ع۵)
  • جنوری
1978
ادارہ
1۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال : وایاکم وسوء ذات البین فانھا الحالقۃ (رواہ الترمذی) ''حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: لوگوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور بداعتمادی پیدا کرنے سے پرہیز کرو! کیونکہ یہ (بات دین ایمان کو) مونڈ کر صفا چٹ کردیتی ہے۔''
  • مارچ
1971
ادارہ
پاکستان۔ جس کے قیام کا مقصد ''لا إلٰہ اإلا اللہ'' کی عملی تعبیر تھا اور جسے صحیح معنوں میں نمونہ کی اسلامی ریاست اور اسلام کا مضبوط حصار ہونا چاہئے تھا۔ اول روز ہی سے لا دین قوتوں کی ہوسِ اقتدار کی بدولت اپنی اصلی راہ پر گامزن نہ ہو سکا۔ جب کبھی اصلا  ح احوال کی تھوڑی سی امید پیدا ہوئی یہ قوتیں حرکت میں آگئیں اور انہوں نے ایسے حربے استعمال کئے جن سے مقصد کا حصول تو کجا منزل اور بھی دور ہو گئی۔
  • اپریل
1971
ادارہ
پچھلے شمارہ میں ہم نے لکھا تھا کہ:۔

''ہم اس وقت جس داخلی انتشار اور بیرونی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا واحد سب ہماری وہ کوتاہی ہے جو ہم سے اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے اس ملک میں اِس کے نظریے کو عملی صورت نہ دینے کی صورت میں سرزد ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ الخ ''
  • اپریل
1972
ادارہ
صدر بھٹو کو روس جا کر مسٹر کو سیجن سے اور پاکستان میں بلا کر برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹر ڈگلس ہیوم سے جو کچھ سننا پڑا ہے اس سے ہمیں بڑی مایوسی ہوئی ہے۔ یہ دونوں لیڈر باتوں باتوں مین جس طرح بھارت اور نام نہاد بنگلہ دیشی کی ثنا خوانی کرتے رہے ہیںِ وہ ان کے دشمنانہ اور غیر منصفانہ رویہ کی ایک بد ترین مثال ہے۔ وَمَا تُخْفِيْ صُدُوْرُھُمْ اَكْبَرُ ط
  • جنوری
  • فروری
1971
ادارہ
نیا عیسوی سال اپنے جلو میں کئی مسائل لیے ہوئے آیا ہے، جنہیں گذشتہ سال کی سہ ماہی نے بہت اہم بنا کر ملک و ملت کے کندھوں پر عظیم بوجھ رکھ دیا ہے۔ خصوصاً مشرقی پاکستان میں ہولناک سمندری طوفان کی ناقابلِ تلافی تباہ کاریاں، انتخاب میں لادین اور سوشلسٹ عناصر کی غیر متوقع کامیابی اور مشرقی وسطی میں شاہ حسین اور حریت پسندوں کی خانہ جنگی پاکستان اور عالم اسلام کے لئے ایسے مسائل ہیں جن سے کوئی انسان دوست، محب وطن مسلمان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔
  • جنوری
1994
ادارہ
(سطور ذیل میں ہم اپنے محترم دوست ڈاکٹر محمود الرحمٰن فیصل کی طرف سے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے نام ایک کھلا خط معمولی کانٹ چھا نٹ سے شائع کر رہے ہیں جس میں پاکستان کو درپیش سیاسی مسائل کا ایک جا مع مگر مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔یہ ایک درد مند دل کی آواز ہے امید ہے کہ اسے اسی جذبہ سے پڑھا جا ئے گا ۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے ۔آمین!)
  • مارچ
1973
ادارہ
محدّث کے ادارتی کالم (فکر و نظر) پر ایک تبصرے کی حیثیت سے یہ مضمون جس سیماب صفت شخصیت کے قلم سے نکلا ہے۔ ربِّ لم یزل کی مشیت ہے کہ وہ آج ہم میں موجود نہیں۔ حق کا یہ برہنہ داعی لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے کا عادی تھا۔ قوم کے امراض پر کڑھتا، منصوبے بناتا، عمل پیرا ہوتا اور پھر اپنی سیمائی طبع کی بناء پر نئی راہیں ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوتا۔
  • مارچ
1990
ادارہ
(برصغیر پاک وہند کے دینی مدارس حکو متوں کی جس اعتنائی اور جدید معاشرے کی منفی سوچ کے علی الرغم چل رہے ہیں اس میں انکار وجود ہی معجزہ سے کم نہیں۔برطانوی استعمار نے لارڈ میکالے کے ذریعے جس نئے نظام تعلیم کو رائج کرکے مسلمانوں کی نسل کشی کی کوشش کی تھئی۔اس کا اندازہ اکبر الہٰ آبادیؒ کے اس شعر سے لگالیجئے:
  • فروری
  • فروری
1971
ادارہ
قارئین کرام نے ''محدث'' کی پہلی اشاعت کے بعد ہمیں جس طرح تحسین و تبریک کے کلمات سے نوازا ہے ہم ان کے انتہائی مشکور ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے احباب اسی طرح خصوصی توجہ اور نیک دعاؤں سے ہمیں یاد رکھیں گے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہمارے شاملِ حال نہ ہوتا تو ہم ''محدث'' کو اِس صورت میں پیش نہ کر سکتے۔ ہم اپنی کوتاہ ہمتی کے بلا تامل اعتراف کے ساتھ بعون اللہ کوشش کریں گے
  • اپریل
2003
ادارہ
(1) محدث کے سائز میں تبدیلی :۳۰، ۳۵ برس سے ماہنامہ 'محدث'جس سائز میں شائع ہوتا رہا ہے، طباعتی رجحانات میں تبدیلی کے باعث اس سائز کاحصول اَب مشکل ہوگیا ہے۔ 26/8×20 سائز کا کاغذ جہاں چند سالوں سے مارکیٹ میں آنا بند ہوگیا ہے، وہاں اس سائز پر اُٹھنے والی طباعت اور جلد بندی کی لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتابوں کیلئے بھی یہ سائزمتروک ہو گیا۔
  • مارچ
2011
ادارہ

السلام علیکم! محترم جناب مدیر صاحب! جنوری 2011ء کے محدث میں جناب محمد عطا ء اللہ صدیقی کا مقالہ ' قانونِ توہینِ رسالت اورعاصمہ جہانگیرکا کردار'نظرسے گزرا۔اس موضوع پر یہ ایک بہترین علمی مقالہ ہے اور مقالہ نویس نے موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اور آپ کو جزائے خیر دے۔ میں اپنی رائے کا اظہار اس لیے تاخیر سے کر رہا ہوں کہ جنوری کا شمارہ قدرے تاخیر سے میرے ہاتھ آیا۔

  • جولائی
1998
ادارہ
ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ساہیوال کی عدالت سےتوہین رسالت ﷺکےمرتکب ایوب مسیح کوسزائے موت اقلیت کےایک مخصوص طبقے فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی پراسرار خودکشی (یاقتل !!؟ ) نے مسیحی اقلیت کےایک مخصوص طبقے کی قانون توہین رسالت ﷺ کےخلاف چلائی جانے والی غیردانش مندانہ اورجارحانہ مہم کونقظہ عروج )کلائکس ) تک پہنچادیا ہے۔ آنجہانی بشب جان جوزف نےمذکورہ عدالتی فیصلے کےخلاف شدید جذباتی رد عمل کااظہار کرتے ہوئے خود کشی کاارتکاب کیایا تازہ ترین رپورٹوں کےمطابق انہیں سوچی سمجھی سازش کےتحت قتل کرکے سیشن کورٹ کےسامنے پھینکنے کا ڈرامہ رچایا گیا ، حقیقت کچھ بھی ہو، دونوں صورتوں میں ان کی موت کی ذمہ دارنہ حکومت ہےاور نہ ہی مسلمان اکثریت کوموردالزام ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اس افسوسناک واقعے کےبعد نام نہاد انسانی حقوق کےبدقسمت منادوں اور بعض مسیحی تنظیموں کی طرف سےقانون توہین رسالت کوواپس لینے ، احتجاجی جلوس کےدوران مسلمانوں کی املاک کونقصان پہنچانے اور اشتعال انگیز بیانان کےذریعے پرامن اکثریت کے جذبات کومجروح کرنے کا عمل مذکورہ واقعے سےکہیں زیادہ افسوس ناک ہےکیونکہ اس خطرناک صورتحال پراگربروقت قابونہ پالیا جاتا تویہ مسلمانوں اور عیسائی اقلیت کےدرمیان خطرناک تصادم پر منتج ہوسکتی تھی ۔معلوم ہوتاہے کہ بعض شرپسند عناصر اس طرح کےواقعے کواپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کےلیے استعمال کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں نےجلتی پرتیل کاکام کرکے جذباتیت کاشکار مسیحی نمائندوں کومسلم اکثریت سےلڑانے کاافسوس ناک کردار ادا کیا ہے۔
  • جولائی
1982
ادارہ
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب بھی طرز حکومت کاسوال زیر بحث آتا ہے توبراہ راست کتاب وسنت میں غور کرنے کی بجائے عموما دنیا میں جونظام رائج ہیں ان میں سے کسی ایک کو کھینچ تان کر مسلمان بنانےکی کوشش کی جاتی ہے۔اس دور کے دو مشہور نطام جمہوریت اورآمریت ہیں۔چناں چہ جہاں اکثر مسلمانوں کی کوششین جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرنے میں صرف ہوتی وہاں بعض من چلے امریت کو اسلام کی مطابق قرار دے ڈالتےہیں.
  • اگست
1982
ادارہ
کافی عرصہ سے اسلامی تعلیمات میں کمزور رہ جانے اور غیر اسلامی تعلیمات کے غلبہ کی وجہ سےجہاں علمی اعتماد سےمحروم ہوئے ہیں وہاں شعوری یاغیر شعوری طور پر ہم میں قرآنی اصطلاحات ان معنوں میں استعمال ہونے لگی ہیں جومعنی قرآن مجید کے نہیں بلکہ حقیقت میں وہ مغرب کےہیں۔گویاکہ مغرب نے ہمارے لیے پہلا کام یہ کیا کہ ہمیں قرآنی اصطلاحات سے ناآشنا کیا اور اپنی اصطلاحات ہم پر ٹھونسیں ۔
  • مئی
2010
ادارہ
۷؍ مارچ ۱۹۴۹ء کو پاکستان کے سب سے پہلے وزیر اعظم قائد ملت جناب لیاقت علی خان مرحوم نے ملک کی مجلس دستور ساز میں حسب ذیل قرار داد پیش کی۔ ۱۲؍ مارچ کو یہ منظور کی گئی۔ یہ تاریخی قرار داد 'قرار دادِ مقاصد' کے نام سے مشہور ہے جس کا متن پیش خدمت ہے:

چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکتِ غیر حاکم مطلق ہے
  • جون
1976
ادارہ
حرمین شریفین کےاماموں کے دورہ پاکستان سے فی الواقع نہایت خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں اماموں نے ﷾ ۔واپس آکر وطن عزیز کے متعلق انتہائی اچھے جذبات کا اظہار کیا اور ان شاء اللہ یہ رویہ پاک سعودی روابگ کے ضمن میں خصوصا ااور اتحاد عالم اسلامی کے مطابق تنگ نظر اور ناعاقب اندیش عناصر نے ان مقدس ومعزز مہانوں کےبارے میں یہ ہتک آمیز فتویٰ جاری کیا ہے کہ ان کی اقتداء میں نماز ناجائز ہے اور جن لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے ان پر اعادہ واجب ہے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
ادارہ
جن اور انسانوں کی تخلیق سے غرض یہ تھی کہ وہ مخالف عواطف اور میلانات کے باوجود خدا کی غلامی اور عبدیت کا ثبوت پیش کریں﴿ما خَلَقتُ الجِنَّ وَالإِنسَ إِلّا لِيَعبُدونِ ﴿٥٦﴾... سورة الذاريات" یہ مقصد نہیں تھا کہ رنگ، نسل اور ارضی اختلافات کے ترازو میں تلتے اور لڑتے رہیں لیکن جب انسانوں نے اپنے اس 'پس منظر' کو بھلا دیا تو وہاں آرہے جہاں عزتِ نفس، وقار اور حق خود اختیار کے نام پر، ابن آدم کی تذلیل کا اتمام ہو رہا ہے۔
  • جنوری
1998
ادارہ
سید وصی مظہر ندوی صاحب کا مضمون بعنوان "خواتین کی نشستیں کیوں اور کیسے؟" کچھ عرصہ قبل قومی اخبارات میں شائر ہوا۔ ندوی صاحب کے خیالات سے ہمیں اصولی طور پر اتفاق ہے۔ اس مسئلے کے متعلق کچھ مزید باتیں غور طلب ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز بھی ہے؟ ہمارے خیال میں اس مطالبے کا کوئی معقول جواز سامنے نہیں آیا۔ اگر اس کو "عورت دشمنی" کے زمرے میں شمار نہ کیا جائے تو درج ذیل نکات پیش خدمت ہیں
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
ادارہ
پاکستان کی قومی اسمبلی کی نمائندہ کمیٹی کا 7 ستمبر 1974ء کا فیصلہ اور دونوں ایوانوں کی 'مہر تصدیق' پاکستانی قوم بلکہ کل عالمِ اسلام کے لئے ایک عظیم 'نوید مسرت' تھی جس پر حکومت پاکستان اور عوامی رہنماؤں کو دل کھول کر 'دادِ تحسین' بھی ملی۔ اگر یوں کہا جائے کہ اس اعلان سے سیاسی سطح پر 'حزبِ اقتدار' کی کافی عرصہ سے گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا ملا تو غلط نہ ہو گا لیکن۔۔۔۔
  • اپریل
1987
ادارہ
مورخہ 22 فروری بروز اتوار بعد نماز ظہر جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن میں ملک کے متعدد مقامات سے تشریف لانے والے جید علمائے کرام، فاضل مدرسین عظام اور ممتاز مصنفین کاایک خالص علمی و دینی اجتماعی مولانا عبدالقادر ندوی کی صدارت میں منعقد ہوا۔تلاوت قرآن پاک کے بعد راقم السطور نے اجلاس کے انعقاد کے اغراض و مقاصد شرح و بسط سے بیان کیے اور یہ کہا کہ ہم جامعہ میں علمائے کرام کے مشوروں، تجاویز و آراء
  • مارچ
1995
ادارہ
گذشتہ دنوں مالا کنڈ ڈویژن (سوات دیر ،چترا ل ) کو ہستا ن (ہزارہ وغیرہ صوبہ سرحد کے بعض ریا ستی علاقوں میں نفاذ شریعت کی تحریک کا ایک غلغلہ اٹھا تو اسے قومی اور بین الاقوامی میڈیانے نما یاں حیثیت دی بالآخرگو رنر اور حکومت سر حد نے ایک نوٹیفکیشن مجریہ یکم دسمبر 1994ءکے ذریعے "نفاذ شریعت ریگولیشن " کا اعلا ن کر کے وقتی طور پر اس تحریک کا خاتمہ کر دیا ہے ہم اپنے ادارتی کالموں میں ادارہ محدث کے فاضل رکن ڈا کٹر محمود الرحمٰن فیصل کا اس پر ایک جا ئزہ شائع کر رہے ہیں جس کی تمہید میں چند گذارشا ت بطور یا د دہانی ہدیہ قارئین ہیں ۔
  • جولائی
  • اگست
1975
ادارہ
قرب ووصال کی گھڑیاں، ایام صیام کی ساعتیں

دنیا اپنا ایک مزاج اور اسلوب رکھتی ہے ، جس طرح اس کوبالکلیہ نظر انداز کرنا اس کے فطری حقوق اور احترام کے بالکل منافی ہے ، اسی طرح اس کو بالکلیہ آزاد اور آوارہ چھوڑ دینا بھی نادان کے ہاتھوں میں چُھری تھما دینے کےمترادف ہے۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
ادارہ
ماہنامہ ''سیارہ'' لاہور نومبر ۱۹۷۱ء

''یہ فلمی رسالوں اور ائجسٹوں کا دور ہے۔ فلم اور سنسنی خیز ڈائجسٹوں نے مل کر ملت کے مذاق و مزاج پر جو شبخون مارا اور ایمان و عقائد کو جس طرح خراب کیا ہے وہ ہم سب پر اظہر من الشمس ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس دور میں دینی جرائد کا اجراءکیے ہوئے ہیں
  • ستمبر
1976
ادارہ
دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔

الدنیا مزرعۃ الاخرۃ (منادی.....)

اس کی روایتی حیثیت جو کچھ ہو تاہم یہ ایک واقعہ ہے کہ: یہ دنیا کارگاہ عمل ہے ، جوکچھ آج یہاں بوئے گا کل وہی جاکر کاٹے گا۔
  • دسمبر
  • جنوری
1972
ادارہ
الحمد للہ ''محدث'' کا پہلا سال بخیر و خوبی ختم ہوا۔ اور زیر نظر شمارے سے بفضلہٖ تعالیٰ ہم دُوسرے سال میں قدم رکھ رہے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ اس عرصہ میں ہمیں توقع سے بڑھ کر کامیابی حاصل ہوئی اور ''محدث''مقبولِ عام ہوا۔ یہ سب کچھ اللہ ارحم الراحمین کے رحم و کرم سے ہے جس نے ہمیں نامساعد حالات میں اپنے تبلیغی فریضہ کی ادائیگی کی توفیق دی اور مشکل اور کٹھن حالات میں اسے جاری رکھنے کی ہمت عطا فرمائی۔
  • جنوری
  • فروری
1971
ادارہ
ماہنامہ ’’محدث‘‘ ایک دینی و عملی مجلہ ہے۔ احباب دینی جرائد و رسائل کے سلسلہ میں پیش آمدہ مالی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کا اجرا صرف دینی جذبہ کے تحت تبلیغ اسلام کے مقصد سے کیا جاتا ہے اور خریدار جو سالانہ چندہ دیتے ہیں وہ صرف ایک ادنیٰ مالی تعاون ہوتا ہے جس پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
  • مارچ
2005
ادارہ
بخدمت جناب حافظ حسن مدنی صاحب مدیر ماہنامہ 'محدث' لاہور السلام علیکم ورحمة اﷲ
اُمیدہے مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو خوش و خرم رکھے اور اپنے دین متین کی خدمت کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔
بندہ ناچیز کو دینی جرائد کے مطالعہ کا بے حد شوق ہے او راس معاملہ میں خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہنا محبوب مشغلہ ہے۔ کچھ عرصہ ہوا، کراچی سے محترم بزرگ سید علی مظہر نقوی امروہوی نے ماہنامہ 'تجلی' دیوبند کی پرانی فائلوں سے مولانا عامر عثمانی کی تحریروں پر مشتمل کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا تو راقم السطور کے مطالعہ میں بھی یہ کتب آئیں۔ بندہ ناچیز مولانا عامر عثمانی کے طرزِ تحریر اور قلم کی روانی سے بے حد متاثر ہوا۔ مطالعہ کے دوران یوں محسو س ہوتا ہے کہ جیسے مولانا عامر عثمانی قاری سے باتیں کررہے ہوں۔ اُسی دن سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش کو ئی دینی مجلہ ماہنامہ 'تجلی' کے پایہ کا ہوتا جس میں عامر عثمانی کے قلم کی کاٹ سی محسوس ہوتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ہے کہ ماہنامہ 'محدث' کی صورت میں بندہ ناچیز کوماہنامہ تجلی کے معیار کی تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں جس سے بندہ کے ذوق کو تسکین ہوتی ہے۔

  • نومبر
1981
ادارہ
چند روز قبل علمائے کویت کی طرف سے ''مدیرِ اعلیٰ محدّث'' کے نام ایک مکتوب وصول ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ افادۂ عام کے لئے ہدیۂ قارئین ہے (ادارہ) فضیلة الشیخ الحافظ عبد الرحمان المدّنی۔ متعنا اللّٰہ بطول حیاتکم!السلام علیکم ورحمة اللّٰہ وبرکاتہٗ۔ امّا بعد:جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جسے خود انسان نے وضع کیا ہے۔ اس فکر کو سیاست و ریاست کی تمام مشکلات کے حل کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام مغرب کا وضع کردہ ہے اور
  • اپریل
2003
ادارہ
عراق کا مسئلہ انتہائی گھمبیر صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی معائنہ ٹیمیں گزشتہ چارماہ کی تلاشِ بسیار کے باوجودعراق میں کسی مہلک ہتھیار کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ عراق پر ممکنہ حملے کے خلاف ہر نسل اور ہر قوم کے کروڑوں افراد نے بھرپور صداے احتجاج بلند کی ہے۔
  • نومبر
1976
ادارہ
پاسبان حرم سعودی عرب کے عظیم حکمران شاہ خالد بن عبدالعزیز نے اسلام اباد میں''شاہ فیصل مسجد ''کا سنگ بنیاد رکھاجودنیابھر میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مسجد ہوگی اور اس کی تعمیر پر 25 کروڑ روپے لگت آئے گی۔ یہ مسجد تین سال میں مکمل ہوگی، اس میں بیک وقت ایک لاکھ افراد نماز اداکرسکیں گے۔ یہ مسجد اور اس کے مینار 22 میل تک کے فاصلے سے دیکھے جاسکیں گے۔
  • مارچ
  • اپریل
1975
ادارہ
دینِ اسلام جزوقتی حاضری کا نام نہیں نہ نیم عملی لائحۂ عمل کا یہ کوئی چارٹر ہے بلکہ یہ ایک ہمہ وقتی ذہنی کیفیت اور یک رنگ عملی اسلوبِ حیات کا نام ہے۔

﴿وَقالَ إِنّى ذاهِبٌ إِلىٰ رَ‌بّى سَيَهدينِ ٩٩﴾... سورة الصافات

کا سماں مومن پر ہر آن اور ہر مکان میں طاری رہتا ہے۔ قرآن نے اس کیفیت کو یوں بیان فرمایا ہے۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
قرآن کریم میں مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے:

وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ (۴۲/۳۸)

اور وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔
  • مئی
2009
ادارہ
''مولانا صوفی محمد بن الحضرت حسن اور صوبائی حکومت کے کامیاب مذاکرات کے بعد صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آج سے مالا کنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے غیر شرعی قوانین یعنی قرآن و سنت کے خلاف ہیں، وہ موقوف اور کالعدم تصور ہوں گے یعنی ختم ہوں گے
  • مئی
1971
ادارہ
یَا اَیُّھَا الرَّجُلُ المُعَلِّمُ غَیْرَہ       ھَلَّا لِنَفْسِکَ کَانَ ذَا التَّعْلِیْم
اے دوسروں کو تعلیم دینے والے         یہ وعظ و ارشاد تیرے لئے کیوں نہیں؟
اِبْدَأْ بِنَفْسِکَ فَانْھََ عَنْ غَیِّھَا        فَاِذَا انْتَھَتْ عَْہُ فَاَنْتَ حَکِیْمْ
  • اپریل
1992
ادارہ
اکثر دانشور اس دنیائے ہست وبود میں رونما ہونےوالے واقعات کو کسی نہ کسی سبب یا شخص سے ملحق کردیتے ہیں۔اور اپنی ہمہ دانی کے غرور میں وہ اس حقیقی مدبر الامور،احکم الحاکمین وحدہ لاشریک کے اختیار و تصور کو اپنے ذہن سے یکسر خارج کردیتے ہیں کہ ہر "سبب" اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔اور ہر شخص کی حیات وموت،عقل و ہوش اسی کے اختیار مطلق میں ہے جس کو خدائے عزوجل نے اپنے کلام میں مختلف انداز سے بیان فرمایا ارشاد ہے۔
﴿وَلِلَّـهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّـهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ﴿١٠٩﴾...آل عمران
"اور جو کچھ آسمانوں میں اور جوزمین میں ہے۔ اللہ ہی کا ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو جماعت اسلامی نظامِ خلافت کا دعویٰ لے کر اُٹھتی ہے وہ خود کن صفات سے متصف ہونی چاہئے؟ اس کی وضاحت سورۂ شوریٰ کی مندرجہ ذیل آیات میں ملتی ہے جو مکی دور کے آخر میں نازل ہوئیں۔ ارشاد باری ہے:
  • مئی
1972
ادارہ
ملک کو جو در پیش سیاسی مصائب ہیں۔ اس لحاظ سے زیادہ آزار دِہ ہیں کہ ان کو ہم خود بھی چیلنج نہیں کر سکتے کہ وہ یہاں سے نکل جائیں۔ کیونکہ وہ اس سر زمین میں خود ہماری ہماری دعوت پر آئے ہیں اور ابھی تک ہمارا اپنا اصرار ہے کہ وہ یہاں سے نہ جائیں اور جب تک بھی آپ پوری سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ ان کو جواب نہیں دیں گے، نہیں جائیں گے۔
  • مئی
2009
ادارہ
سوات میں نفاذِ عدل کے حوالے سے 'ملی مجلس شرعی' کا اجلاس 27؍ اپریل 2009ء بروز پیر بعد نمازِ مغرب جامعہ نعیمیہ، لاہور میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتبِ فکر اور مسالک کے نمائندہ علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ کی منظوری دی۔اجلاس میں مولانا ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی (جامعہ نعیمیہ)، مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی (جامعہ رحمانیہ)،
  • اگست
2010
ادارہ
زیر نظر خطوط کی اشاعت کے ساتھ ہی 'محدث' میں آئندہ سے مکاتیب کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے تاکہ قارئین کی قیمتی آرا اور تبصرہ وتاثرات کے ذریعے افادہ واستفادہ کا دوطرفہ سلسلہ شروع کیا جائے۔ بعض خطوط میں بڑے قیمتی نکات ہوتے ہیں، جن کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوتا۔
  • جنوری
  • فروری
1971
ادارہ
جنوری ۱۹۷۱؁ کا یہ بہت بڑا سانہ ہے کہ اس میں جماعت اہلِ حدیث کی تین اہم شخصیتیں ہمیں داغ مفارقت دے گئی۔ علمائ اور خادمانِ دین کا موجودہ دورِ پرفتن میں اس طرح اُٹھ جانا جماعت اہل حدیث اور ملتِ اسلامیہ کے لئے بہت بڑا خلا ہے۔ فتنے دن بدن پھیل رہے ہیں اور ان کے سامنے بند باندھنے والے اُٹھتے جا رہے ہیں۔
  • اکتوبر
1976
ادارہ
ملتِ اسلامیہ ایک ایسے طرزِ معاشرت اور اسلوب زندگی کی حامل جماعت کا نام ہے جس کا سرچشمہ اور ماخذ کتاب و سنت ہے جواپنے مزاج کے اعتبار سے مہدی بھی ہے اور ہادی بھی، یعنی وہ صراط مستقیم پرفائز بھی ہے اور اس کی داعی بھی۔ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وہ کتاب و سنت کی تعلیمات اور علم و عمل سے باخبر نہ ہو۔
  • دسمبر
1992
ادارہ
مولانا شبلی نعمانی نے "الکلام' میں شاہ ولی اللہ کے حوالے سے اسی انداز کی بات تحریر کی تھی۔کہ امام وقت کو حالات وضروریات کے تحت شعار تعزیرات اور انتظامات وغیرہ میں تعبیر جدید کا حق حاصل ہے۔علامہ اقبال کو یہ عبارت بڑی کھٹکی اور میں مضمر خطرات سے وہ چونک پڑے جس کا اظہار انہوں نے مولانا سید سلیمان ندوی کے نام ایک مکتوب میں کیا فرماتے ہیں۔
  • مئی
2009
ادارہ
ملک بھر میں اس وقت 'نظامِ عدل ریگولیشن' کا چرچا ہے اور دنیا بھر میں اسے موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں 15/فروری 2009ء کا وہ معاہدۂ امن جو اس نظامِ عدل کی اساس بنا، اور 13/ اپریل کو قومی اسمبلی کی قرار داد کے بعد صدر کے دستخطوں سے منظور ہونے والے نظامِ عدل ریگولیشن کے مسودے کا اُردو ترجمہ، ان دونوں کو ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے۔
  • جولائی
1988
ادارہ
شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں

اہل حدیث مدارس لاہور کے اساتذہ اور طلباء پر مشتمل اجتماع سے مدیر محدث کا خطاب

اسلام کی مثال اس شجرہ طیبہ کی سی ہے کہ جس کی جڑیں زمین میں بہت گہری، انتہائی مضبوط ہوں اور شاخیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
ادارہ
اقتدار کا نشہ بڑا ظالم اور اس کا چسکا بڑا اندھا ہوتا ہے۔ بہ قائمیٔ ہوش و حواس وہ کمبخت یوں جیتے ہیں جیسے عقل و خرد کی ان کو ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ سُجھانے کے باوجود بات ان کے خانے میں نہیں اُترتی۔
  • جنوری
  • فروری
1976
ادارہ
خدا کی جتنی مخلوق ہے قدرتی توالدوتناسل کےسوااور کسی بھی معاملہ میں وہ ایک دوسرےکی محتاجی نہیں ہے اورنہ ہی وہ قدرتی توافق کے سوا کسی دوسرے اختیاریاور شعوری وحدت کا اساس رکھتی ہے.......لیکن انسان کا معاملہ ان سب سے جدا ور مختلف ہے کیونکہ ساری دنیا میں صرف اس کومرکزی حیثیت حاصل ہے اس کے دوش ناتواں پر دونوں جہاں کا بوجھ ہے....دنیا کی فلاح وبہبود کی ذمہ داری اور اخروی سعادت کے حصول کا فریضہ.....ظاہر ہے
  • جنوری
1978
ادارہ
اُولئک لھم عذاب الیم

ولا تکونوا کالذین تفرقوا واختلفوا من بعد ماجآء ھم البینت اولئک لھم عذاب عظیم (پ4۔آل عمران ع11)

'' ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا جنہوں نے باہم تفریق کرلی اور واضح حقائق کے بعد باہم اختلاف کرلیا۔ ان کے لیے آزردہ عذاب ہے۔''
  • نومبر
1989
ادارہ
عوامی نمائندگی کے بعض قوانین میں اصلاحات کی تجاویز

مورخہ 16 اکتوبر 1989ء کو وفاقی شرعی عدالت پاکستان نے بعض انتخابی قوانین کے بارے میں ایک اہم فیصلے کا اعلان کیا ہے۔جس کی رو سے صدر مملکت کو آئین پاکستان کی دفعہ 63۔اور63 کی اساس پر عوانی نمائندگی کے قانون مجریہ 1976ء کی دفعات 13۔14۔49۔50۔52۔اوردفعہ 38 (4)(سی) (11) میں 31دسمبر 1989ء تک بعض ترامیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
  • اگست
1987
ادارہ
تقلید کی جکڑ بندیوں نے جہاں اسلامی فکر و نظر کی قوتوں کو گھائل کیا او رذہنی غلامی کو پروان چڑھایا ہے، وہاں اس سے بغاوت کرنے والوں نے اجتہاد کے نام پر دین میں تحریف و تبدل کے ذریعہ ایک دوسری انتہاء کو جنم دیا ہے۔ لیکن کیا یہ بات انتہائی عجیب نہیں کہ تقلید کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کی کوششوں میں ان متجددین نے بھی اپنے مزعومہ ''مجتہدین'' (حکومت و پارلیمنٹ) کو اپنا مقتداء و پیشوا بنا کر ان کے افکار و
  • نومبر
1987
ادارہ
پانچواں اور آخری نقطہ، نویں آئینی ترمیم اور شریعت بل کے حوالے سے پارلیمنٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے اختیار کے تقابل کا ہے۔

دراصل پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت کی حالیہ بحث کا محرک یہی دونوں بل ہیں۔ جن کا تعلق نفاذِ شریعت کے طریقہ کار سے ہے۔۔ان میں سے نویں آئینی ترمیم کا بل حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا، جو ایوان بالا (سینٹ) سے پاک ہو کر قومی اسمبلی (ایوان زیریں) میں آ چکا ہے۔
  • ستمبر
1987
ادارہ
فکر و نظر                                                                                                                                            (گزشتہ سے پیوستہ)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
پارلیمنٹ او رتعبیرِ شریعت
(بسلسہ اقبال اور اجتہاد)
علامہ اقبال کے حوالے سے ’’پارلیمنٹ اور اجتہاد‘‘ کے موضوع پر جو مختلف نقطہ ہائے نظر پیش کئے جارہے ہےیں، ان پر محض دماغ سوزی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ بات تو وہی  قابل قبول ہوگی جس کے پیچھے قوی دلائل موجود ہوں گے۔ چنانچہ سابقہ گزارشات میں اس سلسلہ کی تمام تر تفصیلات سمیت ہم اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اگر ائمہ سلف (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی تقلید بُری شے ہے، تو یہی شے علامہ اقبال کا نام آجانے سے قابل تعریف کیونکر ہوجائے گی؟ کیا خود علامہ اقبال، جوتقلید کے بجائےاجتہاد پر زور دیتے رہے، اپنی تقلید پر راضی ہوسکتے تھے؟
بہر صورت پارلیمانی اجتہاد کے موضوع پر مذکورہ نظریات (جن کی تفصیل شمارہ اگست کے فکرونظر کی ابتدائی سطور میں دیکھی جاسکتی ہے) کی صحیح تنقیح بہت ضروری ہے۔ لہٰذا امر زیر بحث میں درج ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا مفید رہے گا۔ ان شاء اللہ!
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
ایک صاحب فرماتے ہیں:

تعاونوا علی البر والتقویٰ کو پارلیمنٹری پارٹی کی اصل قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ پارٹیوں کو گوارا نہیں کرتے وہ چاہتے ہیں کہ ہر دو سال بعد جنگ جمل، ۵ سال بعد جنگ صفین اور دس سال بعد کربلا بپا کرتے رہیں۔
  • جون
2009
ادارہ
روزنامہ جنگ کے کالم نگار حامدمیر اپنے کالم 'قلم کمان' میں لکھتے ہیں:''رحمانی بخش سے ملے بغیر آپ کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی کہ سوات، بونیر اور دیر کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت فوجی آپریشن کی مخالف کیوں ہے؟ یہ لوگ طالبان کے حامی نہیں ہیں لیکن حکومت نے جس انداز میں آپریشن شروع کیا ہے،
  • اپریل
2014
ادارہ
سعودی اعلیٰ تعلیمی وفد کا دورہ جامعہ لاہور الاسلامیہ

''پاکستان، ارضِ حرمین کے بعد میرا دوسرا وطن ہے، اور اس سے مجھے دلی محبت ہے۔ اس ملک میں بدامنی اور بے چینی کے حالات دیکھ کر میرادِل کڑھتا ہے۔ ملتِ اسلامیہ کو دورِ حاضر کے چیلنجوں سے عہدہ برا ہونے کے لئے اپنی تعلیمی صلاحیت کو بہتر کرنا اور تحمل و اعتدال کا دامن تھامنا ہوگا۔''
  • اگست
  • ستمبر
2002
ادارہ
٭ امامِ حرمین شریفین شیخ محمد بن عبداللہ السبیل نے 'طلوعِ اسلام' تنظیم کے بانی غلام احمد پرویز اور اس کے متبعین کو ان کے باطل و ملحدانہ عقائد کی وجہ سے کافر قرار دیا ہے۔ اپنے فتویٰ میں انہوں نے لکھا :
''یہ شخص حجیت ِحدیث، معجزات، عذابِ قبر اور بہت سی ضروریاتِ دین کا منکر ہے۔
  • فروری
1972
ادارہ
انسان کو اپنا پیٹ پالنا، تن ڈھکنا اور بچوں کی پرورش کا بوجھ اُٹھانا ہے اس لئے اس کو کاروبار کرنا پڑتا ہے۔ کاروبار ایک جائز ضرورت ہے۔ اگر جائز طریقے سے کیا جائے تو یہ عبادت بھی ہے۔ اگر ناجائز ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں تو گناہ بھی ہے اور حرام بھی۔ اس لئے ہم ذیل میں چند ایک دن موٹی موٹی کاروباری بیماریوں اور مفاسد کا ذِکر کریں گے جن سے عامہ خلائق غافل ہے۔
  • مارچ
  • اگست
1981
ادارہ
1. بدر کے قیدیوں کے متعلق آنحضرت ﷺ کا صحابہ سے مشورہ

جنگ بدر میں قریش کے ستر بڑے بڑے آدمی گرفتار ہو کر دربار نبوت میں پیش کیے گئے تو آپ نے حسبِ عادت مجلس شوریٰ طلب کی اور یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
  • فروری
2003
ادارہ
عالم اسلام کے معروف محقق، مؤرخ اور مفسر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ گذشتہ دنوں فلوریڈا کے ہسپتال میں ۹۶ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیق سے جاملے۔ ان کی وفات، ان کے کارناموں اور مشن سے واقف لوگوں کے لئے ایک جانکاہ حادثے سے کم نہیں۔ 'موت العالم موت العالم' کی ضرب المثل ان پر صادق آتی ہے۔
  • مئی
1978
ادارہ
﴿وَقالَ الَّذينَ كَفَر‌وا لِلَّذينَ ءامَنُوا اتَّبِعوا سَبيلَنا وَلنَحمِل خَطـٰيـٰكُم وَما هُم بِحـٰمِلينَ مِن خَطـٰيـٰهُم مِن شَىءٍ ۖ إِنَّهُم لَكـٰذِبونَ ﴿١٢﴾... سورة العنكبوت

''اور منکرین حق مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ ہماری راہ چلو اور تمہارے گناہوں کا (بوجھ) ہم خود اٹھائیں گے حالانکہ یہ لوگ ذرہ برابر بھی ان کے گناہوں (کا بوجھ) نہیں اٹھانے کے، یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔''
  • جولائی
1972
ادارہ
شاید ہر ملک میں ایسا ہوتا ہو، بہرحال ہمارے ملک میں تو یہ رِیت بن گئی ہے کہ جو صاحب بر سرِ اقتدار آتے ہیں وہ ملک کی تعمیر اور استحکام کی طرف کم توجہ دیتے ہیں اور ان کا سارا پیریڈ اپنی کرسی کو تحفظ دینے، حواریوں کو تعاون کی قیمت چکانے اور آنے والے انتخابات کے لئے مزید زمین ہموار رکھنے میں صرف ہو جاتا ہے۔
  • اگست
1972
ادارہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام علي نبينا محمد وآله وصحبه أجمعين، وبعد فقد ورد إلي سؤال، صورته: وقع بين شخصين نزاع، ھل يجوز لشخص أن ينوي السفر لمجرد زيادة قبر النبي ﷺ دون المسجد؟ أفتونا، والله يحفظكم. (والجواب) أن زيادة القبر كان منهيا منعها في أول الاسلام لقرب الناس آنذاك من عبادة الأصنام ثم نسخ ذلك بقوله ﷺ: (كنت نھيتكم عن زيادة القبور فزوروھا فانھا تذكركم الآخرة.)
  • مئی
  • جون
1973
ادارہ
﴿لَقَد جاءَكُم رَ‌سولٌ مِن أَنفُسِكُم عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَر‌يصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ﴿١٢٨﴾... سورة التوبة

ھكذا وصف الله نبيه محمداً عليه الصلاة والسلام وھو يخاطب أتباعه المؤمنين بأن محمداً كثير الحرص عليھم وشديده إذ يھمه ما ينفعهم ويسره، ويحزنه ما يضرھم ويحرجهم، وكان بالغ الرحمة والرأفة بهم، ھذا ھو موقف نبي الرحمة من أمته.
  • مارچ
1977
ادارہ
﴿قَد أَفلَحَ مَن زَكّىٰها ﴿٩﴾ وَقَد خابَ مَن دَسّىٰها ﴿١٠﴾... سورة الشمس

الیکشن اور انتخابات کی ریت کب پڑی اور کہاں پر اس کی بسم اللہ ہوئی؟ یہاں اس سے بحث نہیں، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ حکمران طبقہ کے سلسلہ کی بدگمانی اس کا سبب بنی اور سیاسی شاطروں نے اس سے کھل کر فائدہ اٹھایا، ستائے ہوئے عوام کا استحصال کیا اور باہمی منافرت اور رقیبانہ مناقشت میں الجھا کر پوری قوم کو نقصان پہنچایا، جو ہاتھ سماج دشمن عناصر اور آمر حکمرانوں کے گریبانوں کی طرف بڑھ سکتے تھے، وہ اب ایک دوسرے کے جیب و دامن اور گریبانوں پر اٹھنے لگے۔
  • جون
1972
ادارہ
ملک و ملت کی صحیح خدمت اور ان کے سلسلہ میں کوئی سنجیدہ کوشش صرف دو ہی طرح پر ممکن ہوتی ہے کہ یا تو سچا جذبۂ مسلمانی اور خدا خوفی کا احساس غالب ہو اور یا قوم پرستوں کی طرح ملک اور قوم کے سلسلہ میں سچی خیر خواہی اور دل سوزی ان میں پائی جاتی ہو۔ ان دونوں کی نشاندہی یہ ہے کہ:
  • جولائی
  • اگست
1975
ادارہ
14 اور 15۔ اگست کی درمیانی شب کو تقریباً 3 بجے بنگالی میر جعفر اور غدار قوم شیخ مجیب کی حکومت کا تختہ الٹ کر فوج نے اس کو تختہ دار پر لٹکا دیا ہے۔ کہتےہیں کہ اس کے پورے خاندان میں ایک بچے کے سوا او رکوئی نہیں بچ سکا۔

مسلم بنگال خوش ہے کہ بنیا کے ایک غلام سے چھٹکارا نصیب ہوا، مزدور مسرور ہے کہ روٹی کے سبز باغ دکھانے والے جھوٹے مجیب سے خلاصی ہوئی، خدا پرستوں نے چین کا سانس لیا ہے کہ ایک بے خدا شخص کے اس منحوس دور سے نجات ملی جس میں صدا یہ سماں طاری رہتا تھا۔
  • اگست
1985
ادارہ
شاہ فاروقی ہاشمی صاحب کندیاں ضلع خوشاب سے لکھتے ہیں:
محترم کیلانی صاحب ،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
"بندہ محدث کاایک پرانا قاری ہے۔اس سے قبل جناب سے "مسئلہ سماع موتیٰ" پر خط وکتابت محدث میں سوال وجواب کی صورت میں شائع ہوچکی ہے۔۔۔اب دوبارہ زحمت دے رہا ہوں۔اُمید ہے آپ درج ذیل سوالات کے جوابات کتاب وسنت کی روشنی میں تحریر فرما کر شکریہ موقع دیں گے:
1۔رمضان المبارک 1402ھ(مطابق جولائی 82ء)کے محدث میں آپ نے"قرؑآن میں حاکم(حاکمیت) کے تصور" کے تحت بحوالہ فتاویٰ کبریٰ (ابن  تیمیہ ؒ  ) لکھا ہے کہ:
  • جون
1980
ادارہ
پاکستان طبی کانفرنس کا تحقیقی اجلاس مورخہ 80؍2؍15 جو جہاں نما گلبرگ لاہور مین منعقد ہوا جس میں دو سائنسدان دو ڈاکٹر اور تین حکیموں نے ''ہائی بلڈ پریشر''کے موضوع پرمقالے پڑھے۔ زیر نظر مقالہ اسی اجلاس میں ڈاکٹر ظہیر احمد ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ اسلام آباد کی صدارت میں پڑھا گیا۔
(ادارہ)
صاحب صدر!
حضرات و خواتین!! السلام علیکم !
اسے ضنعط الدم یا بلڈ پریشر بھی کہتے ہیں۔ اس مرض کے متعلق میرے ساتھی معالج روشنی ڈالیں گے۔لہٰذا میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اس کی تفصیلات کو موضوع بحث بناؤں۔ نیز اس مرض سے آپ بخوبی واقف ہیں کیونکہ آپ میں سے اکثر بحیثیت معالج زندگی بسر کررہے ہیں۔اس لیے علامات، اسباب او رعلاج کی تفصیلات بتانےکی ضرورت نہیں۔ مگر بطور تمہید یہ عرض کردوں کہ اس مرض کے لیے موٹے موٹے اسباب تقریباً تین بنتے ہیں۔
1۔ فساد کون یعنی (خون کاغیر ہوجانا خصوصاً گاڑھا یا غلیظ)
  • دسمبر
1972
ادارہ
ملکی صدارت کا منصب بہت اہم ذمہ داری ہے۔ صدرِ مملکت کا ایک ایک حرف، اس کا ایک ایک جملہ اور اس کی ایک ایک بات، مملکت کی پالیسی کی جان، ملکی دستور کی روح، ملک کے لئے ایک قانون، قوم کی ایک تاریخ اور اس کے لئے ایک لائحۂ عمل کا درجہ رکھتی ہے۔ جہاں وہ عوام کے قریب ہوتا ہے وہاں اس کا ریزرو رہنا بھی ملکی مفاد میں ہوتا ہے۔
  • مئی
2010
ادارہ
مدت ِ دراز سے اسلامی دستور ِ مملکت کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں لوگوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسلام کاکوئی دستورِ مملکت ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو اس کے اُصول کیا ہیں اور اس کی عملی شکل کیا ہوسکتی ہے؟ اور کیااُصول اور عملی تفصیلات میں کوئی چیز بھی ایسی ہے جس پر مختلف اسلامی فرقوں کے علما متفق ہوسکیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے متعلق عام طور پر ایک ذہنی پریشانی پائی جاتی ہے
  • ستمبر
2006
ادارہ
''حکومت کی دعوت پر آنے والے علماء کرام نے آغاز میں ہی یہ طے کرلیا تھا کہ دو تین اُصولی اور اہم اُمور کو پہلے زیر بحث لایا جائے، اگر حکومت ان کے بارے میں ہماری بات قبول کرنے کو تیارہو تو باقی اُمور پر بات کی جائے ورنہ مسودۂ قانون پر مزید بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں تین باتیں ہمارے نزدیک زیادہ اہمیت رکھتی ہیں
  • مئی
2006
ادارہ
'محدث' کے شمارہ اپریل2006ء کے کالم دار الإفـتائ کے تحت ...کیا سجدئہ عبادت اور سجدئہ تعظیمی کے حکم میں کوئی فرق ہے؟ ... ایک استفتائ(منجانب ابو عبد الرب عبد القدوس سلفی،اسلام آباد) اور اس کا جواب محترم مفتی حضرت مولاناحافظ ثناء اللہ مدنی کی طرف سے شائع ہو چکا تھا کہ اسلام آباد سے مولاناحافظ مقصود صاحب مدیر مرکز دعوة التوحید،اسلام آباد کا زیر نظر مکتوب ملا جس پر محترم انجینئر عبد القدوس سلفی صاحب سے رابطہ کیاگیا تو اُنہوں نے درج ذیل تحریر بھیجی جو ہدیۂ قارئین ہے ۔ (ادارہ)
  • جولائی
2005
ادارہ
1. اس وقت صف ِ اوّل كے جو چند علمى، دينى اور اصلاحى ماہنامے پاكستان سے شائع ہوتے ہيں ماہنامہ 'محدث' لاہور ان ميں سے ايك ہے- اس رسالے ميں جو عمدگى ہے، وہ اس كى زندہ مسائل پر اسلامى نقطہ نظر سے وقيع رہنمائى ہے- ابهى جو نيا فتنہ 'عورت كى امامت كا' اسلام دشمن گروہ نے اُٹهايا ہے، ماہ جون كا پورا شمارہ اسى قضيے كے لئے مختص كيا گيا ہے اور اس مسئلے كے ہر گوشے پر سير حاصل بحث كى گئى ہے۔
  • جنوری
2005
ادارہ
’قتل غيرت كى سزا‘ كے حوالے سے آپ كى نگارشات اور اس سلسلے ميں محدث كى كاوشيں نہايت قابل ستائش ہے-فتنہ پرداز اور الحاد پسند طبائع جس دهيمے انداز سے دائرئہ عمل ميں ہيں، اسے عموماً سادہ لوح حضرات سمجهنے سے قاصر ہيں-آپ نے جو اُن كو بے نقاب كيا، اس پر آپ كے ليے اللہ تعالىٰ سے دعا گو ہوں كہ اس محنت كو قبول فرمائے اور فتنوں كے سامنے سد ِسكندرى بنانے كے ليے آپ كو سكندر بنا دے!!
  • اگست
2008
ادارہ
محترم و مکرم جناب حافظ عبدالرحمن مدنی ، جناب حافظ حسن مدنی صاحب حفظہم اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اﷲ و برکاتہ
اللہ کرے آپ کے ہاں مکمل خیریت و عافیت ہو۔ آمین۔ ماہِ جون 2008ء کا 'محدث' ملا، جس کو آپ نے'تصویر نمبر' لکھا ہے،
  • نومبر
1994
ادارہ
ماہنا مہ" محدث " لاہور اپنی اشاعت کی ربع صدی  پوری کر کے اب چھیتسویں  سال میں ہے ۔ہم نے اس کی پہلی اشاعت کے وقت جن مقا صد کا عند یہ دیا تھا اور پھر اپنا معتدلانہ رویہ برابر تقریباً ہر اشاعت کی پشت پر واضح کرتے چلے آرہے ہیں اس سلسلہ میں کو ئی بڑا بول تو کسی غیر معصوم کو زیبا نہیں کیو نکہ اللہ تعا لیٰ کا رشاد سامنے ہے ﴿فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ ﴿٣٢﴾...النجم
تاہم پہلے اداریہ میں ہم نے جن جذبات کا اظہار کر کے اپنی منزل متعین کرنے کی کوشش کی تھی اس کے مطابق یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحریکوں کے اتار چڑھاؤ اور حلات کی گرمی سردی کے باوجود ہم نے درمیانی راہ حق پر گامزن رہنے کی بھر پور کو شش کی ہے یہی وجہ ہے کہ محدث آج بھی کتاب و سنت کی روشنی میں نہ صرف بے لاگ تحقیق کی شاہرا ہ پر چل رہا ہے بلکہ گروپ بندی سے بچ کر صرف اصلاح ملت کے رویہ کو مضبوطی سے تھا مے ہو ئے ہے نتیجہ ظاہر ہے کہ اس سے ہمیں فوائد عاجلہ تو حاصل نہیں ۔
  • نومبر
1971
ادارہ
ہر اہل حدیث اس سے باخبر ہے کہ روپڑی خاندان ایک عرصے سے برصغیر ہند و پاک میں مسند رشد و ہدایت، وعظ و تبلیغ اور تدریس و افتاء کا حامل چلا آرہا ہے۔ اس خاندان کے مولانا حافظ محم اسمٰعیل روپڑی، مولانا حافظ محمد حسین اور حضرت العلام مولانا حافظ عبد اللہ صاحب روپڑی رحمہم اللہ نے جو علمی، تبلیغی، تدریسی اور تصنیفی خدمات سر انجام دی ہیں۔ وہ تاریخ اہل حدیث کا ایک روشن باب ہیں۔
  • مارچ
2006
محمد علی جانباز
اسلام ذاتِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھومتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات پر ایمان لانے کے بعد ہی انسان حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور نبی آخر الزمانؐ سے دنیا جہاں سے بڑھ کر محبت رکھنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دین کے تمام احکامات کے ہمارے علم میں آنے اور خود قرآن کے معلوم ہونے کا مصدر ومحور بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذاتِ گرامی ہے۔پھر قرآن کریم میں جابجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت ہی قرار دیا گیا ہے۔