• اپریل
  • مئی
1984
سیف الرحمن الفلاح
5۔اسلامی فقہ نے فیصلہ دو منصفوں اور ججوں کے سپرد کیا ہے،ان میں سے ایک دنیوی ہوتا ہے جو ظاہری امور کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے،دوسرا اخروی ہوتا ہے،یہ حقیقت اور اصل واقعہ کے متعلق ہوتا ہے بخلاف وضعی نظام کے،کیونکہ اس میں عموماً ظاہری حالات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے خواہ نفس الامر کے خلاف ہو۔

6۔اسلامی فقہ کا قانون اخلاق کے مطابق ہوتا ہے اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے موافق!کیونکہ اخلاق سے انسان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
  • مارچ
1984
سیف الرحمن الفلاح
فقہ کے لغوی معنی مطلق فہم ہے لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ فروعی علم ہے جو بعض شرعی احکام پر غور و خوض کرنے اور اس سے استدلال پکڑنے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی فقہ سے مراد دین کا وہ علم ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غوروفکر کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اسلامی فقہ کی بنیادیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں ہی رکھی گئی تھیں
  • جنوری
1983
سیف الرحمن الفلاح
قرآن کریم چشمہ ہدایت اور بھولے بھٹکے انسانوں کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بنی نوع انسان کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے نازل فرمایا۔ اس کے نزول کے علاوہ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کو ایک اور عظیم الشان اور بیش بہا نعمت سے نوازا۔ یعنی ان میں ایک ایسے پیغمبر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرمایا جو تمام انبیاء علیھم السلام سے افضل اور تمام بنی نوع انسان سے اعلیٰ ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
سیف الرحمن الفلاح
(یہ ہدایت سماحۃ الشیخ) عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز ۔حفظہ اللہ کی طرف سے اُن تمام مسلمانوں کے نام ہے جو اس پرمطلع ہوں۔ اللہ تعالیٰ اسلام کے ساتھ ان کی حفاظت کرے او رہمیں اور تمام مسلمانوں کو جاہل سرکش لوگوں کی باتوں سےبچائے۔ آمین

وصیّت نامہ کا واقعہ:السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ...... امابعد۔ مجھے اس بات کی خبر ہوئی کہ حرم نبوی کے خادم شیخ احمد کی طرف کچھ باتیں منسوب کی گئی ہیں۔
  • فروری
1978
سیف الرحمن الفلاح
آج کا نوجوان کئی فضول اور بیہودہ عادات کا عادی ہے۔ ان میں سے ایک عادت تمباکو نوشی بھی ہے۔ اس کے متعلق ڈاکٹروں او ریونانی حکماف نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا ہے کہ یہ صحت انسانی کے لیے تباہ کن او رمہلک ہے۔ اس کے پینے سے انسان کے جسم میں نہ تو خون کی نشوونما میں مدد ملتی ہے اور نہ ہی اس سے گوشت پوست کا کچھ بھلا ہوتا ہے بلکہ اس سے نظام اعصاب شدید متاثر ہوتے ہیں
  • اگست
1971
سیف الرحمن الفلاح
صرف ذاتِ الٰہی ہی وہ ذات ہے جو ہر عیب و نقص سے پاک و منزہ ہے۔ اس کی ذات میں عیب جوئی کفر اور الحاد کے مترادف ہے۔ اس کی مخلوق خواہ نبی ہوں یا ولی، اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیاں ہوں یا اس کے پاکباز بندے سبھی اپنی ہفوات اور لغزشوں کے معترف ہیں۔ اسی لئے قرآن کریم نے بندۂ مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ مومن سے گناہ سرزد نہیں ہوتے، بلکہ فرمایا:
  • ستمبر
1971
سیف الرحمن الفلاح
حضرت داؤد علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھیں۔ پھر کسی اور عورت سے ازدواجی رشتہ قائم کرنے کا خیال آیا۔ اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ خیال اور ارادہ ناگوار گزرا۔ اس کا امتحان لینے اور اس غلطی کا احساس دلانے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے انسانی شکل و شباہت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس بھیجے۔ انہوں نے اپنا کیس حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ ایک نے کہا:
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
سیف الرحمن الفلاح
مشرکین مکہ: مکہ کے مشرک نہایت ضدی او رہٹ دھرم تھے۔ اپنے آباؤ اجداد کی رسومات پرجان دینے سے دریغ نہیں کرتے تھے وہ بتوں کے پجاری اور بت تراش بھی تھے۔ ہر گھر میں بت موجود تھے حتیٰ کہ خانہ خدا جیسا مقدس مقام بھی ان بتوں کی پلیدی سے محفوظ نہ تھا۔ ان کے عقائد باطلہ اور آراء فاسدہ کا قرآن کریم نے جا بجا ذکر کیا ہے ۔
  • مارچ
1983
محمد بن اسماعیل
جب آپ نے ان قواعد اور اصولوں کو پہچان لیا تو آپ یہ بھی جان لیں کہ اللہ نے عبادت کو کئی اقسام میں منقسم فرمایا ہے ۔کچھ ان میں اعتقادی ہیں جو دین کی بنیاد ہیں ۔مثلاً اس بات کا اعتقاد رکھے کہ وہ یقینی طور پر اس کا رب ہے۔ پیدائش اور امر کےمعاملہ پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔نفع و نقصان پر اسے مکمل دسترس ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کسی کو سفارش کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
  • اپریل
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ سوال کریں کہ کیا یہ لوگ جو اولیاء کی قبور اور فاسق لوگوں کے متعلق ایسا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کیا یہ ایسے مشرک ہیں جیسے بتوں کے متعلق عقیدہ رکھنے والے تھے؟جواب: تو ميں کہتا ہوں ہاں۔کیونکہ ان لوگوں نے بھی ایسے کام کیے جو ان لوگوں نے کیے او ریہ امور شرکیہ میں ان کے برابرہوگئے۔بلکہ ایسا فاسد عقیدہ رکھنے او ران کے مطیع ہونے او رعبادت کرنے میں ان سے بھی چند قدم اگے نکل گئے، تو ان میں کوئی 
  • جون
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ جو اہل قبور اور دیگرایسے لوگوں ، جو زندہ فاسق و فاجر او رجاہل ہیں، کے متعلق حسن عقیدت رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے، ہم تو صرف اللہ کی عبادت کرتےہیں، ہم ان کی خاطر نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں، نہ حج کرتے ہیں، ہم یہ تمام امور اللہ کے لیے کرتے ہیں؟جواب: تو میں کہتا ہوں ، یہ عبادت کے مفہوم سے عدم واقفیت او رجہالت ہے کیونکہ میں نے جوذکیا ہے، یہ اس
  • جولائی
1983
محمد بن اسماعیل
سوال: اگر آپ یہ کہیں کہ اس سے یہ لازم آتا ہےکہ تمام امت گمراہی پرمتفق ہوگئی کیونکہ وہ اس کو بُرا کہنے سے خاموش رہے؟ جواب: اجماع کی حقیقت یہ ہےکہ آنحضرتﷺ کے عہد مسعود کے بعد امت محمدیہ کے مجتہدوں کا کسی مسئلہ میں متفق ہونا ہے اور مذاہب کے فقہاء ائمہ اربعہ کے بعد اجتہاد کو محال تصور کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی یہ بات غلط اور باطل ہے او رایسی بات وہی کہتا ہے جو حقائق سے بے خبر ہوتا ہے تاہم ان
  • اپریل
1980
ابوشہبہ
زمانہ طالب علمی میں جب یہ حدیث پڑھی ’’من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر  مائۃ شہید‘‘ یعنی جو شخص میر امت میں فتنہ و فساد کے موقعہ پر میری سنت کا احیاء  کرے گا تو اسے سو شہید کے برابر ثواب ملے گا ۔اس وقت نوعمری کا زمانہ تھا ۔ علم وعقل میں پختگی نہیں تھی ۔ بنا بریں یہ بات میرے فہم و ادارک سے بالا تر رہی کہ ایک چھوٹی سی  سنت جیسے رفع الیدین فی الصلوٰۃ وغیرہ پر عمل کرنے سے سو شہید کا ثواب کیسے ملے گا  آج سب کچھ معلوم ہو رہا ہے اور عقل و دانش اس امر کے گواہ ہیں کہ واقعی رسو ل اکرم ﷺ کی سنت کے احیاء میں اتنا ثواب ہونا چاہیے ۔
چنانچہ آج  کے دور میں جسے جدید دورسے تعبیر کیا جاتا ہے جس قدر سنت نبوی سے  بے اعتنائی برتی جا رہی ہے اتنی کسی اور چیز سے نہیں  برتی جا رہی  چنانچہ بعض لوگوں کو سنت نبوی کی پیروی کرنے کی وجہ سے مسجدوں سے نکلا گیا اور سنت سے انکاروں  انحراف کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کے امام صاحب  سے یوں نماز پڑھنا ثابت نہیں ۔ کچھ لوگ حدیث اور سنت کے معاملہ میں اس قدر افراط اور غلو سے کام لیتے ہیں کہ ہر عربی عبارت کو حدیث تصور کرتے ہیں ہر قصہ کہانی کی کتاب  میں  میں آنحضرت  ﷺ  کا کوئی معجزہ ، کوئی واقعہ یا کوئی فرمان سنتے  ہیں تو اسے آنکھیں بند  کر کے حدیث نبوی تصور کرتے ہیں اور اسے تسلیم نہ کرنے والے پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ  نبی ﷺ کی حدیث کاہی منکر ہے ۔ یہ گستاخ اور بے ادب ہے ،وغیرہ )بعض سراسر موضوع احادیث کو صحیح  مرفوع احادیث سےمقدم سمجھتے ہیں ۔
  • جون
1988
ابوبکر الجزائری
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جہانِ رنگ و بو میں بنی نوع انسان کے لیے راہنما بن کر تشریف لائے۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہر نیک اور اچھے کام کی طرف امتِ مسلمہ کی رہنمائی فرمائی اور ہر برائی سے باز رہنے کی تلقین کی۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبے کے آغاز میں فرماتے: "ان شرالامور محدثاتها" یعنی دین میں نیا کام جاری کرنا بدترین امور میں سے ہے۔
  • جولائی
1988
ابوبکر الجزائری
بدعات کے خلاف جنگ کرنا فرض ہے

بدعت خواہ کتنی چھوٹی ہو، اس کا انکار کرنا اور اس سے لوگوں کو ڈرانا چاہئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بدعت سے ڈرایا اور اس کی مذمت بیان فرمائی تو اس کی اقسام میں کوئی فرق نہیں بتلایا۔ بلکہ ہر بدعت پر ضلالت کا اطلاق کیا ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
عبدالعزیز بن باز
ہم اگرچہ انگریز کی غلامی کی زنجیر سے جسمانی طور پر رُبع صدی سےزائد عرصہ سے نجات حاصل کرچکے ہیں تاہم ہمارے اذہان ابھی تک اس کی تقلیدمیں گرفتار ہیں۔ ہمارے ارباب حل و عقد اور مسند اقتدار پرمتمکن حضرات تو ہر معاملہ میں برطانوی سامراج کے قوانین ، رسم و رواج اور دیگر معاملات میں ان کی تقلید اور ان کےوضع کردے قوانین کی روشنی میں اپنی روزمّرہ زندگی کے معمولات کو اپنانا اپنے لیےموجب صد افتخار سمجھتے ہیں اور کامیابی کا باعث تصور کرتے ہیں او ران کے خلاف طرز حکومت میں اپنی ذلت او رناکامی محسوس کرتے ہیں۔