• جون
2002
زاہد الراشدی
اسلام میں جہاد کا تصور اور فضیلت، دیگر ادیان و مذاہب کے بالمقابل اسلام کا امتیازی تصور ہے جس کی رو سے جہاں جان و مال اور عقل و نسل کا تحفظ بنیادی حق قرار پاتا ہے، وہاں سیکولر ازم کے برعکس دین کا تحفظ بھی اسلام کی نظر میں بنیادی حقوق میں شاملہے۔ بلاشبہجہاد کا یہ تصور اسلام کی حقانیت اور جامعیت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔
  • جولائی
1996
زاہد الراشدی
عربی کے کسی رسالے میں ایک کہاوت پڑھی تھی  کہ ایک مصور دیوار پر نقش ونگار بنا رہا تھا اور تصویر میں ایک انسان اور ایک شیر کو اس کیفیت میں دکھا رہا تھا کہ انسان شیر کاگلا گھونٹ رہا ہے۔اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا اور اس نے تصویر کو  ایک نظر دیکھا۔مصور نے تصویر میں شیر کی دلچسپی دیکھ کر اس سے پوچھا سناؤ میاں!  تصویر اچھی لگی؟شیر نے جواب دیا کہ میاں!اصل بات یہ ہے کہ قلم تمھارے ہاتھ میں ہے۔ جیسے چاہے منظر کشی کرو،ہاں اگر قلم میرے ہاتھ میں ہوتا تو یقیناً تصویر کا منظر اس سے مختلف ہوتا۔
کچھ اسی قسم کی صورت حال کا سامنا عالم اسلام کو آج مغربی میڈیا کے ہاتھوں کرنا پڑ رہا  ہے ۔ابلاغ کے تمام تر ذرائع پرمغرب کا کنٹرول ہے۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹڈ میڈیا دونوں کے سرچشمے اس کی تحویل میں ہیں۔متعصب یہودی کا دماغ اورسیکولر عیسائی دنیا کے وسائل اکھٹے ہوچکے ہیں۔
سیکولر لابیاں انسانی معاشرے میں مذہب کی دوبارہ اثراندازی سے خائف ہوکر مذہب کا ر استہ روکنے کے لئے سیاست،معیشت،میڈیا لابنگ اورتحریف وتحریص کےتمام ذرائع استعمال کررہی ہیں اور مسیحی دنیا کا مذہبی عنصر بھی مرعوبیت کے عالم میں بالادست سیکولر عیسائی قوت کا آلہ کار بنے رہنے میں عافیت محسوس کررہا ہے۔
مغرب کی سیکولر لابیوں کے اعصاب پر یہ خوف سوار ہے کہ انسانی معاشرہ دو  صدیوں میں مذہب سے بغاوت کےتلخ نتائج بھگت کر اب مذہب کی طرف واپسی کے لئے ٹرن لے رہا ہے اور دنیا میں مسلمانوں کے سواکسی اور قوم کے پاس مذہب کی بنیادی تعلیمات(آسمانی وحی اور پیغمبر کی تعلیمات وسیرت) اصلی حالت یں موجود ومحفوظ نہیں ہیں۔اس لئےاسلام منطقی طور پر ا ن کی معاشرہ کے مستقبل کی واحد امید بنتا جارہاہے۔چنانچہ یہودی دماغ اور سیکولر قوتوں کی  صلاحیتیں اور وسائل اب صرف اس مقصد کے لئے صرف ہورہے ہیں کہ اسلام اور اسلامی اصولوں کے علمبردار مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے زور سے نفرت کی ایسی فضا قائم کردی جائے جو اسلام کی طرف انسانی معاشرہ کے متوقع رجوع میں رکاوٹ بن سکے۔
  • اکتوبر
2014
زاہد الراشدی
اسلام آبادکے دھرنوں کے اثرات پاکستان اور اس خطے پر کیا مرتب ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا، لیکن یمن کے دار الحکومت صنعا کے گرد حوثی قبائل کا ایک ماہ سے زیادہ جاری رہنے والا دھرنا کامیاب ہو گیا ہے اور 17؍اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کو 21؍ستمبرکے روز اقوامِ متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر کی نگرانی میں ہونے والے اس معاہدے نے تکمیل تک پہنچا دیا ہے کہ حکومت مستعفی ہو جائے گی اور اس کی جگہ ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی۔
  • جنوری
2002
زاہد الراشدی
پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے طول و عرض میں لاکھوں کی تعداد میں پھیلے ہوئے دینی مدارس ومکاتب کاموجودہ نظام ۱۸۵۷ء کی جنگ ِآزادی میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کانتیجہ ہے۔ اس سے قبل پورے برصغیر میں درسِ نظامی کا یہی نصاب تعلیمی اداروں میں رائج تھا جو مغل بادشاہت کے دور میں اس وقت کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھ کرمرتب کیا گیا تھا اور جو اَب بھی ہمارے دینی مدارس میں بدستور رائج چلا آرہا ہے۔
  • دسمبر
2008
زاہد الراشدی
محدث کے تصویر نمبر کی اشاعت کے بعد بعض اہل علم نے اپنے موقف ارسال کئے۔ زیر نظر شمارہ میں اس نوعیت کے تین مضامین بالترتیب شائع کئے جارہے ہیں ، جن میں باہم متضاد موقف بھی اختیار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں پیش کردہ بعض دلائل کا تصویر نمبر میں بھی جائزہ لیا جا چکا ہے۔ اس بحث میں جو اہل علم مزید حصہ لینا چاہیں ، ان کے لئے 'محدث' کے صفحات حاضر ہیں ۔
  • مارچ
2005
زاہد الراشدی
فہم قرآن كريم كے تقاضوں كے حوالے سے ان دنوں دو علمى حلقوں ميں ايك دلچسپ بحث جارى ہے- ايك طرف غلام احمد پرويز صاحب كا ماہنامہ 'طلوعِ اسلام' ہے اور دوسرى طرف جاويداحمد غامدى صاحب كے شاگردِ رشيد خورشيد احمدنديم صاحب ہيں- 'طلوعِ اسلام' كے ماہ رواں كے شمارے ميں خورشيدنديم كا ايك مضمون، جس ميں انہوں نے پرويز صاحب كى فكر پر تنقيد كى ہے، شائع ہوا ہے اور اس كے جواب ميں ادارہ طلوع اسلام كى طرف سے ايك تفصيلى مضمون بهى اسى شمارے ميں شامل اشاعت ہے-
  • اکتوبر
1996
زاہد الراشدی
اس سلسلہ میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے "فیض الباری علی صحیح البخاری" میں فقہی مذاہب کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ کنواری لڑکی ولی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی اجازت اور رضا کی صورت میں بھی ایجاب و قبول کا اختیار لڑکی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ولی سر انجام دے گا۔
2۔ احناف میں سے حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ بھی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی رضا  کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی البتہ ولی کی رضا اور اجازت کی صورت میں ایجاب و قبول وہ خود کر سکتی ہے۔
3۔ امام اعظم حضرت ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتی ہے البتہ اسے اس طرح اپنا نکاح کرنے کی صورت میں "کفو" کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہو گا اور اگر اس نے ولی کی اجازت کے بغیر "غیر کفو" میں نکاح کر لیا تو ولی کو نہ صرف اعتراض کا حق ہے بلکہ وہ تنسیخ نکاح کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
# فقہ جعفریہ کے مطابق باکرہ کے لئے باپ یا دادا کی اجازت ہونا احتیاط واجب ہے (جامعۃ المنتظر، لاہور)
4۔ "کفو" کا مفہوم فقہائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ کسی لڑکی کا نکاح ایسی جگہ نہ ہو جہاں لڑکی کا ولی اور اہل خاندان اپنے لئے عار محسوس کریں۔ "کفو" کے اسباب فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اپنے اپنے عرف اور ذوق کے مطابق مختلف بیان کئے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی اور اس کا خاندان جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں کے عرف اور معاشرتی روایات کے مطابق جو بات بھی ان کے لئے باعث عار سمجھی جاتی ہو وہ "کفو" کے اسباب میں شامل ہو گی کیونکہ "کفو" کی علت سب فقہاء نے "دفع ضرر عار" بیان کی ہے اور عار کے اسباب ہر معاشرہ اور عرف میں مختلف ہوتے ہیں۔