• مارچ
1999
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب
مالک نام، کنیت ابو عبداللہ، امام دارالهجرة لقب اور باپ کا نام انس تھا۔ سلسلہ نسب یہ ہے: مالک بن انس بن مالک بن ابی عامر بن عمرو بن الحارث بن غیلان بن حشد بن عمرو بن الحارث (1)
بلاشک آپ رحمۃ اللہ علیہ دارِ ہجرت (مدینہ منورہ) کے امام، شیخ الاسلام اور کبار ائمہ میں سے ہیں۔ آپ حجاز مقدس میں حدیث اور فقہ کے امام مانے جاتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے علم حاصل کیا اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی آپ کی مجالس علمی میں شریک ہوتے رہے۔
پیدائش و وفات
آپ 93ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تاریخ پیدائش میں مؤرخین نے اختلاف کیا ہے لیکن امام ابو زہرہ کی تحقیق کے مطابق زیادہ صحیح تاریخ پیدائش 93ھ ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا مقام پیدائش مدینۃ النبی ہی ہے۔ (2)
آپ رحمۃ اللہ علیہ 179ھ میں مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے، چھیاسی سال کی عمر پائی۔ 117ھ میں مسند درس پر قدم رکھا اور باسٹھ برس تک علم و دین کی خدمت انجام دی۔ امام رحمۃ اللہ علیہ کا جسدِ مبارک جنتُ البقیع میں مدفون ہے۔ (3)
  • اکتوبر
1989
حمیداللہ عبدالقادر
اور اُن کی الجامع الصحیح کا تعارف اور صحیحین کا موازنہ

ولادت 194ھ وفات :256ھ

نا م ونسب :
  • مارچ
1989
حمیداللہ عبدالقادر
نام و نسب:
آپ کا نام مسلم اور باپ کا نام حجاج ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مسلم بن حجاج بن مسلم بن ورد بن کرشاد القشیری النیشا بوری۔ آپ کی کنیت ابوالحسین اور لقب عساکر الدین ہے۔
ولادت:
ان کی تاریخِ پیدائش میں اختلاف ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ نے سئہ 206ھ بتلایا ہے (تہذیب الاسماء) لیکن ابن حجر وغیرہ نے سئہ 204ھ بتلایا ہے۔ لیکن ان کی صحیح تاریخ پیدائش سئہ 206ھ ہے، کیونکہ متاخرین میں سے ابن اثیر اور مولانا عبدالرحمن مبارک پوری کا رجحان بھی اسی طرف ہے۔
اساتذہ:
آپ نے بچپن سے علم حدیث کی سماعت شروع کی۔ 14 برس کی عمر میں ابتدائے سماع کی۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں " أول سماعة ثمانة عشرة ومأتين " انہوں نے حدیث کی پہلی سماعت سئہ 218ھ میں کی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں امام اسحق رحمۃ اللہ علیہ اور امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ سے سماعت کے علاوہ دیگر علمی مراکز کو بھی اپنے شرفِ ورود سے نوازا۔ ان کے اساتذہ میں ابوغسان بھی ہیں۔ عراق میں امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ، حجاز میں سعید بن منصور رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کے اساتذہ ہیں۔ ان کے علاوہ آپ نے اسحاق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن یحییٰ رحمۃ اللہ علیہ، قتیبہ بن سعید رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اصحاب الحدیث سے استفادہ کیا۔
  • مارچ
  • اپریل
1974
حمیداللہ عبدالقادر
ھو الذی ارسل رسوله بالھدي ودين الحق ليظھره علي الدين كله ولو كره المشركين (التوبہ) (کتنی بلند و بالا ہے وہ ذات جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا کہ وہ اسے زندگی کے تمام نظاموں پر غالب کر دے خواہ اس کا یہ کام نظامِ حق کے منکروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کا مقصد صرف کسی ایک شعبہ میں اصلاح کرنا
  • مئی
  • جون
1973
حمیداللہ عبدالقادر
﴿هُوَ الَّذى أَر‌سَلَ رَ‌سولَهُ بِالهُدىٰ وَدينِ الحَقِّ لِيُظهِرَ‌هُ عَلَى الدّينِ كُلِّهِ وَلَو كَرِ‌هَ المُشرِ‌كونَ ﴿٣٣﴾... سورة التوبة" (کتنی بلند و بالا ہے وہ ذات جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا کہ وہ اسے زندگی کے تمام نظاموں پر غالب کر دے خواہ اس کا یہ کام نظامِ حق کے منکروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے اس آیتِ مبارکہ سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے
  • جنوری
1998
حمیداللہ عبدالقادر
ابو محمد کنیت ہے۔ احمد بن سعید بن حزم بن غالب بن صالح نام ہے۔ (1) پیدائش: 384ھ (2) جبکہ وفات: 456ھ (3) کی ہے۔
ان کے متعلق علماء کی آراء
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کی جلالتِ علمی اور عظمت ذات کا اعتراف کیا ہے۔ (4) ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔ "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ علوم حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ (5) اخلاق فاضلہ کے مالک تھے" سعید الافغانی اور منتصر الکتانی کے نزدیک "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھا" (6) خیرالدین الزرکلی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق "ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ کتاب و سنت کے ماہر تھے۔ حق گو اور بے باک تھے" انہی کے بارے میں یہ مقولہ بھی منقول ہے لسان ابن حزم و سيف الحجاج شقيقان (7) کہ "ابن حزم کی زبان اور حجاج بن یوسف کی تلوار سگی بہنیں ہیں"
امام ذھبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں "ابن حزم بہت بڑے عالم اور مجتہد تھے" (8) عمر رضا کحالہ لکھتے ہیں: "ابن حزم فقیہ، ادیب، ماہر اصول، محدث، حافظ اور تاریخ دان تھے" (9)
  • جنوری
1995
حمیداللہ عبدالقادر
آپ صوبہ بہار کے ایک مروم خیز گا ؤں دیسنہ (ضلع پٹنہ) میں 23صفر1302ھ/22نومبر1884ءکو پیدا ہو ئے ،ابتدا ئی تعلیم گھر پر حا صل کرنے کے بعد پھلواری اور دربھنگہ میں تحصیل علم کے لیے مقیم رہے۔
1901ءمیں "دارالعلوم ندوۃ العلماء "لکھنؤمیں داخل ہو ئے""ندوۃ" میں ان کے ادبی و علمی ذوق کی جلا ہو ئی ۔ان کا سب سے پہلا مضمون1903ءمیں " وقت " کے عنوان سے رسالہ "مخزن "لاہور میں چھپا،جس کے ایڈاس وقت کے مشہور اہل قلم شیخ عبد القادر تھے۔ اسی سال ان کا دوسرا مضمون "علم اور اسلام" کے عنوان سے "علی گڑھ میگزین "میں بھی تعریفی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا۔(1)سید سلیمان ندویؒ عربی مضامین اخبارات و رسائل کا مطالعہ کیا کرتے تھے اس طرح ان میں جدید عربی ادب کا ذوق پیدا ہوا۔شبلی نعمانی نے مجلہ الندوۃ (ماہانہ رسالہ )سید صاحب کے سپرد کر دیا ایک مرتبہ سید صاحب نے بہترین فصیح و بلیغ انداز میں عربی زبان میں تقریر کی، اس کو سن کر ان کے استاد گرا می شبلی نعمانی اتنے خوش ہو ئے کہ اپنے سرسے عمامہ اتار کر اپنے شاگرد رشید (ندوی صاحب ) کے سر پر باند ھ دیا۔
  • دسمبر
2015
حمیداللہ عبدالقادر
عصرِ حاضر میں جہاں انسان نے اپنی قابلیت و استعداد کے جوہر متعدد شعبہ ہائے زندگی میں دکھلائے ہیں، ان میں ذرائع وسائل یا ذرائع ابلاغ ایک اہم موضوع ہے جو اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کا موضوع بحث ہے ۔ ذرائع وسائل کا استعمال خواہ قومی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر، تعمیر و تخریب دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔ سعادت مند ہے وہ فرد یا قوم جو وسائل کا استعمال ذاتی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کرتی ہے،
  • اکتوبر
1994
حمیداللہ عبدالقادر
پیدائش 1248ھ/1832ء ۔وفات 1307ھ/1889ء
سید ابو طیب صدیق حسن خان  رحمۃ اللہ علیہ  اکتوبر 1832ء کو بمقام بریلی پیدا ہو ئے ،آپ اردو ،عربی اور فارسی کے نامور ادیب ، عالم دین اور شاعر ،دوسو بائیس کتابوں کے مصنف اور علم و فضل کے اعتبار سے بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں ۔
حسینی سادات کے چشم و چراغ سلسلہ نسب تتیس (33)واسطوں سے جناب سید البشر حضرت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچتا ہے (1)
ان کے والد گرا می نواب سید اولاد حسن نے دیگر اساتذہ کے علاوہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  سے اکتساب علم کیا تھا ،نواب سید اولاد علی آپ کے دادا تھے جو حیدر آباد (دکن ) میں جاگیرداری کے علاوہ انور جنگ بہادر کے خطاب سے سر فراز تھے(2 )