• مارچ
1996
قاری صہیب احمد
آپ کا لقب شمس الدین اور کنیت ابو الخیر ہے۔ آپ کا ، آپ کے والد، دادا اور پردادا کا نام محمد تھا، سلسلہ نسب کچھ یوں ہے۔ قدوة المجھودین ، شیخ القراء والمحدثین، شمس الدین ابوالخیر محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن علی بن یوسف الجزری الشافعی ، آپ زیادہ تر ابن الجزری کی عرفیت سے مشہور ہیں جو کہ جزیرہ ابن عمر سے نسبت رکھنے کے باعث ملی ۔ جزیرہ ابن عمر مشرق وسطی حدود شام میں موصل شہر کے شمال میں۔ جبل جودی کے قریب (جبل جودی جہاں نوح علیہ السلام کی کشتی آکر ٹھہری تھی)
  • اگست
2006
قاری صہیب احمد
گزشتہ برس 14؍ ستمبر 2005ء مجلس التحقیق الاسلامی میں 'مجلس فضلاء جامعہ لاہورالاسلامیہ' کی بنیاد رکھی گئی ۔ اس سلسلے کا دوسرا اجلاس 11؍دسمبر 2005ء اور تیسرا اجلاس 7؍ مئی 2006ء بمطابق9ربیع الثانی1427ھ کو اسی مقام پرمنعقد ہوا جس میں حضرت مولاناحافظ عبدالرحمن مدنی (رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ورئیس مجلس التحقیق الاسلامی) کی زیر صدارت درج ذیل فضلاے جامعہ نے شرکت کی
  • جنوری
1998
قاری صہیب احمد
حدیث نمبر 5
امام ترمذی اپنی جامع ترمذی اور امام احمد اپنی مسند میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ
"لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيِّينَ ، مِنْهُمُ الْعَجُوزُ وَالشَّيْخُ الْكَبِيرُ ، وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يَقْرَأْ كِتَابًا قَطُّ ، قَالَ : " يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ "
"حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: "اے جبریل! میں ایسی امت کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں جو اَن پڑھ (لوگوں پر مشتمل) ہے، ان میں سے کوئی بوڑھا ہے اور کوئی بہت زیادہ سن رسیدہ بھی ہے، کوئی لڑکا ہے اور کوئی لڑکی ہے، کوئی ایسا آدمی ہے جس نے کبھی کوئی تحریر (یا کتاب) نہیں پڑھی۔ تو جبریل نے جواب دیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔