• جنوری
1994
عبدالعزیز القاری
(زیر نظر تحریر میں فاضل مضمون نگار نے بڑے دیانتدارانہ طریقے سے "سبعہ احرف" سے مراد کے تعین کی کوشش کی ہے۔اور بظاہر اس دقیق بحث کو اپنے آسان طرز بیان سے انھوں نے بڑی حد تک سہل کردیا ہے ۔اسلوب نگارش بڑا ہی منطقی اور اصولی ہے۔ اس تفصیلی مضمون کی ایک قسط اس سے قبل پچھلے شمارے میں بھی شائع ہوچکی ہے جو اپنے مقام پر ایک مستقل حیثیت کی حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اس بحث سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
  • جون
2002
عبدالعزیز القاری
موجودہ دور میڈیا اور تہذیب وثقافت کا دور ہے جس میں خوبصورت آواز کا جادو جگانے والے اس خدائی دَین کو لہو ولعب میں استعمال کرنے پر ہی تلے ہوئے ہیں۔ لچر گانوں اورموسیقی کو روح کی غذا اور بے حیائی کو فن کی معراج سمجھ لیا گیا ہے ۔ طرفہ تماشا ہے کہ یہ موسیقی گانوں سے نکل کر نعتوں اور حمد باری تعالیٰ تک بھی آپہنچی ہے !
  • اگست
1993
عبدالعزیز القاری
ایک زبان جب مختلف علاقوں اور قبائل میں پھیلی ہوتو بسااوقات اس کے بعض الفاظ کے استعمالات اور لہجوں میں اتنا فرق واقع ہو جا تا ہے کہ ایک جگہ کے رہنے والوں کے لیے دوسری جگہ والوں کے لہجوں میں بات کرنا بڑا مشکل محسوس ہو تا ہے جیسا کہ دہلی کی اردو اور لکھنؤکی اردو کا حال ہے ۔جب قرآن مجید دور نبوت کے مشہور قبائل ۔۔۔قریش ہذیل ،تمیم،ربعیہ ،ہوازن اور سعد بن بکر میں پھیلا تو ان کی زبان عربی میں کئی فرق پا ئے جاتے تھے ۔