• نومبر
2000
محمد جابر حسین
مقدمہ از شیخ بکر بن عبد اللہ ابو زید حفظہ اللہ :۔
حمد وثنا کے بعد۔۔۔ٹیلی فون کے آداب کے بارے میں ہم کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں اس لیے کہ شریعت مطہرہ نے ہمارے لیے میل جول ملاقات اور ایک دوسرے سے ملاقات اور ہم کلام ہونے کے آداب کسی کے پاس آنے جانے اور کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب بھی بیان فرمائے ہیں ٹیلی فون بھی چونکہ ملاقات کی ایک صورت ہے اسی پر قیاس کرتے ہوئے ہم ٹیلیفون کے آداب بیان کریں گے کیونکہ اگر مذکورہ کاموں یعنی کسی سے ہم کلام ہوتے وقت کسی کی زیارت کے لیے آتے جاتے وقت کسی سے بات چیت اور ملاقات  کرتے وقت ہم شرعی آداب کو اپنائیں اور شرعی طریقہ ملحوظ خاطر رکھیں گے تو اس سے معاشرہ میں باہمی بھائی چارے اور امن و سکون کو فروغ ملے گا۔ایسے مواقع پر اسلامی آداب کو اپنانا انسان کے اخلاق کوبلند و بالااور اعلیٰ کردیتا ہے اخلاق عالیہ حامل انسان تب ہی ہوگا کہ ان عمدہ خوبیوں کو اپنا یا جائے جن کی اسلام نے رہنمائی کی ہے۔بات چیت میں لطف و شائستگی تب ہی آئے گی اگر ہماراطرز تکلم بھی نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  جیسا ہوجائے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق ہو کیونکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"نرمی جس چیز میں بھی آئے گی اسے مزین کردے گی اور جس چیز سے نرمی ولچک ختم ہو گی۔وہ عیب دار بن جائے گی۔"اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"جو لطف و شفقت سے محروم کردیا گیا وہ بہت بڑی بھلائی سے محروم کر دیا گیا" بہر حال ٹیلیفون کے آداب کال کرنے والے اور جس کو کال کی جارہی ہے ان دونوں کے لیے ہیں لیکن کال کرنے والے پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونہ وہ آغاز کرتا ہے اور غرض مند ہوتا ہے۔