• جنوری
1982
محمد ابراہیم الہویش
حکومتِ سعودی عرب کو شریعتِ اسلامی کے نتیجہ میں امن و استحکام کی جو نعمت حاصل ہوئی ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ جو شخص اس مملکت کے محلِ وقوع سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ اس مملکت کے اجزاء بکھرے ہوئے ہیں، بلکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ اس کے شہروں میں ربط و نظم کا سلسلہ تقریبا ناممکن تھا اور موجودہِ رسل و رسائل کے وسائل مفقود تھے ۔۔۔ علاوہ ازیں یہاں کے عربی قبائل، کہ جاہلی عصبیت اور انتقام وغیرہ کبھی جن کا طرہ امتیاز تھا، اب بھی ان عادات سے متاثر ہیں۔۔۔ ان حالات کو دیکھئے اور اس خطہ کے پر امن موحول کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ اس مملکت پر اللہ رب العزت کا یہ فضل و احسان محض اس وجہ سے ہے کہ یہاں کی حکومت نے سیست و انتظام، احوالِ شخصی، مالی معاملات اور معاشرتی تعلقات وغیرہ، غرضیکہ ہر پہلو سے شریعتِ اسلامیہ سے تطبیق کی پوری کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں کا ہر باشندہ امن و سکون کی دولت سے مالا مال اور اپنی جان، مال اور عزت کو پوری طرح محفوظ سمجھتا ہے۔