• اکتوبر
1987
اکرام اللہ ساجد
روزنامہ "جنگ"۔۔۔لاہور نے اپنی 18 ستمبر 1987ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع کی ہے۔ جس کا جلی عنوان یوں ہے:
"قرآن پاک کی غلط تفسیر پر سزا دی جائے گی۔۔۔ریکارڈنگ میں غلط تلفظ بھی جرم ہو گا۔ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ترمیمی بِل کی منظوری دے دی۔"
جبکہ متن میں لکھا ہے کہ:
"آج قومی اسمبلی نے قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کی غلطیاں ختم کے سلسلے میں ترمیمی بل کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ مذہبی امور کے وفاقی وزیر حاجی سیف اللہ خاں، جنہوں نے یہ بل پیش کیا، نے کہا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک کی سمعی و بصری کیسٹوں کی ریکارڈنگ میں کسی قسم کی غلطی نہ ہو اور یہ بل وزیراعظم کی ہدایت پر ایوان میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں 1973ء کے ایکٹ کا تعلق قرآن پاک کی غلطیوں اور طباعت سے تھا، اس لئے یہ ترمیمی بل ضروری تھا۔ بل کے تحت ان لوگوں کو سخت سزا دی جائے گی جو طباعت کی غلطیوں کے علاوہ ریکارڈنگ میں قرآن پاک کے غلط تلفظ اور اس کی (غلط) تفسیر کے ذمہ دار ہوں گے۔"