0
ملک ظفر اقبال
ہر انسان کی زندگی کم و بیش پانچ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا اور موت کے بعد کی زندگی۔ آئین الہیہ نے اس کے مفید یا غیر مفید ہونے کا انحصار انسان کے اعمال پر رکھا ہے۔ لہذا میں اپنی تحریر کی مرکزی شخصیت کی زندگی کے جسمانی مراحل کی تفصٰل میں جانے سے پہلے اعمالِ حسنہ کے حوالے سے ان کے بارے میں اُن کی ہم عصر جلیل القدر شخصیتوں کی آراء سے اُن کے تعارف کا آغاز کرتا ہوں۔
حافظ ذہنی فرماتے ہیں:
"جید عالم، قیادت کی صلاحیتوں کا مالک، مصنف اور محی السنۃ تھے۔"
علامہ سبکی نے ان کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
"علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ محی السنۃ کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ دین کے معیار کی جھلک ان کے اقوال و افعال میں پائی جاتی تھی۔ علمِ تفسیر، حدیث اور فقہ میں انہیں غیر معمولی ملکہ حاصل تھا۔
متدین آباؤ اجداد کی دعاؤں کا ثمر تھے۔ اپنے والدین کی تمناؤں کے مطابق انہوں نے تمام زندگی تقویٰ اور کثرتِ نوافل کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ جامع القرآن والسنۃ تھے۔ فقہ پر بھی انہیں عبور تھا۔"
ابن العماد حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے بڑے نامور محدث، مفسر اور مصنفین میں سے تھے۔"
ابن خلکان ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
"تفسیر میں اُنہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ احادیث کے مشکل مقامات اور ابہامات کی وضاحت میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔ درسِ قرآن و حدیث کے اوقات میں باوضو رہنے کی پابندی کے علاوہ ہر وقت باوضو رہنا ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ سادگی، خلوص، قناعت اور استقلال ان کا شعار تھا۔"