• مارچ
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
زکوٰہ سے کیا مراد ہے؟ یہ وہ مخصوص مقدارِ مال ہے جو اسلامی مملکت، مسلم اغنیاء سے وصول کرتی ہے اور اُسے امتِ مسلمہ کے اہلِ حاجت کی طرف لوٹا دیتی ہے۔ تاکہ اُن کی ضروریات بھی پوری ہوں اور وہ بھی معاشی خوشحالی کی طرف گامزن ہو سکیں۔ چودہ صدیوں پر مشتمل اسلامی ادب، زکوٰۃ کا یہی مفہوم تواتر اور تسلسل کے ساتھ پیش کرتا رہا ہے۔ چونکہ زکوٰۃ کا یہ مفہوم بجائے خود فاضلہ دولت کی شخصی ملکیت کا ثبوت ہے۔ اس لیے بانی طلوعِ اسلام کو اصطلاحِ زکوٰۃ سے یہ مفہوم خارج کرنے کے لیے اور اس کی جگہ نیا مفہوم داخل کرنے کے لیے خاصی کوہ کنی کرنی پڑی ہے۔ نئے دور میں "زکوٰۃ" کا ماڈرن مفہوم اب کمیونزم اور مارکس ازم سے ہم آہنگ ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ پرویز رقم طراز ہیں:
"قرآن کریم کے پیش کردہ[1] معاشی نظام کی رو سے مملکت کی ساری آمدنی "زکوٰۃ" ہے کیونکہ اسے نوعِ انسانی کی نشوونما کے لیے صرف کیا جاتا ہے (ایتاء زکوٰۃ کے معنی نشوونما دینا ہوتا ہے) جسے آج کل زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج6 ص 68)
  • جنوری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 2
ملکیت مال ۔۔۔ اور ۔۔۔ قرآن مجید
دلیلِ پرویز: پرویز صاحب نے ملکیتِ اراضی کی نفی کی دلیل " ألأرض لله" سے کشید کی تھی، مال و دولت کی شخصی ملکیت کا بطلان وہ درج ذیل آیت سے اخذ کرتے ہیں:
﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ ۚ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَادِّي رِزْقِهِمْ عَلَىٰ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ ۚ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَجْحَدُونَ ﴿٧١﴾ ...النحل
"اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق، غلاموں کی طرف پھیر دیا کریں تاکہ وہ سب اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان کو انکار ہے۔"
اس آیت میں غور طلب بات یہ ہے کہ لوگوں میں معیشت اور رزق کا باہمی فرق و تفاضل خود منشائے ایزدی ہے " ﴿وَاللَّـهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ...﴿٧١﴾ ...النحل " کے الفاظ اس حقیقت پر دال ہیں۔ خود پرویز صاحب نے ایک مقام پر اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ:
"وہ (یعنی اسلام "مؤلف") ایسی اشتراکیت کا حامی نہیں ہو سکتا، جس میں خدا کی ہستی کا انکار ہو اور مساواتِ انسانی کی بنیاد، مساواتِ شکم قرار دی جائے۔ قرآن کریم کی رُو سے رزق میں ایک دوسرے پر فضیلت جائز ہے۔" (معارف القرآن، ج1، ص 121)
  • فروری
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قسط : 3
ملکیتِ مال ۔۔۔ اور ۔۔۔قرآن مجید
قل العفو (29/2) پر بحث:
قرآن کریم میں اس بات کی کیا دلیل ہے کہ افراد اپنی محنت کی کمائی میں سے صرف اس قدر کے ہی حق دار ہیں، جو فرد کا سب کی محنت کے بقدر ہو اور اس سے زائد کمائی کے وہ مالک نہیں ہو سکتے؟ اس کے جواب میں سورۃ البقرۃ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے:
﴿وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ ... ٢١٩﴾... البقرة 
"وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ کہو جو بہترین چیز ہو۔"
پرویز صاحب کا استدلال یہ ہے کہ یہاں عفو کے انفاق کا حکم ہے لغتِ عرب میں چونکہ عفو المال کے معنی زائد از ضرورت ، مال کے بھی ہیں۔ اس لئے یہاں تمام زائد از ضرورت مال کے، انفاق کا حکم دیا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ فاضلہ دولت کے مالک نہیں ہو سکتے ہیں۔
  • دسمبر
1988
پروفیسر محمد دین قاسمی
پاکستان کی مذہبی فضا  میں غلام احمد پرویز ایک ایسی شخصیت واقع ہوئے ہیں جس نے اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش میں مغربی افکار و کردار کو اصل قرار دے کر قرآن کے نام پر اجتہاد کی قینچی سے اسلام کی کتربیونت میں وہ کچھ کیا ہے جو پاکستان میں کوئی اور شخص نہیں کر سکا۔ یہاں تک کہ اشتراکیت کو من و عن قبول کر کے، اسے عین اسلام ثابت کرنے کے لئے قرآن کریم کو جس طرح عمر بھر تکتہ مشق بنائے رکھا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ پرویز صاحب نے مارکسزم کو قرآن کریم کے جعلی پرمٹ درآمد کرنے کے لئے جو پاپڑ بیلے ہیں اور جو اشتراکیت کو بہا لانے کے لئے قرآنی تعلیمات میں مسخ و تحریف کی راہ میں جو کوہ کنی کی ہے، پروفیسر محمد دین قاسمی صاحب نے اس کا خوب جائزہ لیا ہے، انہوں نے اس طویل جائزے میں اس امر کو بے نقان کر دیا ہے کہ پرویز صاحب نے کس طرح تصریفِ آیات کے نام پر صرفِ آیات سے کام لیا ہے اور محاورات عرب کی پابندی کے التزام کا دعویٰ کر کے کس طرح اس سے گریز کیا ہے اور قرآنی الفاظ کے قطعی ہونے کی دہائی دے کر کس طرح ان الفاظ میں اپنے خود ساکتہ معانی داخل کئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے یہ جائزہ منکرینِ حدیث کی مخصوص ذہنی ساخت کے پیشِ نظر صرف قرآن کریم کی روشنی میں لیا ہے۔ اس ماہ سے ہم ماہنامہ "محدث" میں اس جائزے لے کر بالاقساط پیش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادارہ
  • اپریل
1989
پروفیسر محمد دین قاسمی
قرآن کریم نے جگہ جگہ لوگوں کو انفاقِ اموال کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ حکم ذاتی ملکیتِ مال کو متضمن ہے۔ پرویز صاحب نے اس لفظ سے اس لزوم اور تضمن کو خارج کرنے کے لیے اس کے مفہوم کو قطعی طور پر تبدیل کر دیا ہے چنانچہ ﴿ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿٣﴾...البقرة " کے تحت انہوں نے لکھا ہے کہ:
"ان الفاظ کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔۔ "جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔" یہ ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنے مال و دولت کو کرچ کرتا ہی ہے۔ لہذا اس میں متعین کی کیا خصوصیت ہے جو ان کے متعلق یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ متقی وہ ہیں جو اپنے مال و دولت کو خرچ کرتے ہیں اس کے لئے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دینا کافی تھا کہ وہ اپنے روپے پیسے کو احتیاط سے خرچ کرتے ہیں اور فضول خرچی (اسراف و تبذیر) سے بچتے ہیں۔" (تفسیر مطالب الفرقان ج1 ص 205)
  • اکتوبر
1987
پروفیسر محمد دین قاسمی
لفظ "ہدی" اور پرویز صاحب:
لفظ "ہدی" کے متعلق پرویز صاحب ایک مقام پر فرماتے ہیں:
"ہدی جمع ہے " هدية" جس کے معنیٰ ہیں تحفہ۔ خود قرآن میں ہے﴿ بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ﴿٣٦﴾...النمل اس لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی کے جانور ہی ہوں۔" (قرآنی فیصلے ج1 ص108)
اس چھوٹے سے اقتباس میں "مفکر قرآن" صاحب نے تین لغزشوں کا ارتکاب کیا ہے۔
1۔ ھدی جمع ہے۔
2۔ ھدیة، جس کا معنیٰ تحفہ ہوتا ہے۔ اس کی ہی جمع ہدی ہے۔
3۔ ضروری نہیں کہ ہدی صرف قربانی ہی کے جانور ہوں۔
پہلی لغزش:
پرویز صاحب کی پہلی لغزش یہ ہے کہ انہوں نے "ھدی" کو جمع قرار دیا۔ افسوس ہے کہ جو شخص اٹھتے بیٹھتے اپنے آپ کو قرآنی تحقیق میں عمر کھپا دینے والا محقق ظاہر کرتا رہا، اس نے "ھدی" کے واحد یا جمع ہونے کا فیصلہ قرآنی اساس پر نہیں کیا، بلکہ کسی کی کتاب لغت میں ایسا دیکھا اور مکھی پر مکھی مارتے ہوئے "ھدی" کو جمع قرار دے دیا، حالانکہ کتاب اللہ نے اسے جمع نہیں بلکہ واحد قرار دیا ہے۔ قرآنی آیات اس پر شاہد ہیں:
1۔  ﴿حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ... ١٩٦﴾...البقرة
"یہاں تک کہ حرم میں کی جانے والی قربانی اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائے۔"
  • ستمبر
1987
پروفیسر محمد دین قاسمی
قربانی کا ثبوت سورہ کوثر کی دوسری آیت سے بھی ملتا ہے ۔ پرویز صاحب اس کی تردید میں فرماتے ہیں :
’’مروجہ قربانی کی تائید میں سورۃ الکوثر کی آیت............ فصل لربک وانحر۔ بھی پیش کی جاتی ہے ۔ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ۔’’نماز پڑھ اپنے رب کے آگے اور قربانی کر‘‘........... ’’قربانی کر‘‘ ترجمہ کیا جاتا ہے وانحر کا۔‘‘
لغت کی رُو سے نحر سینے کے اوپر کے حصے کوکہا جاتا ہے ۔ صاحب تاج العروس نے مختلف تفاسیر کی سند سے وانحر کو کہا کے متعدد معانی لکھے ہیں۔ مثلاً (1 نماز میں کھڑے ہوکر سینے کو باہر کی طرف  نکالنا (2) نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا (3) نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا (4) نماز میں نحر تک ہاتھ اٹھانا  (5) اپنے سینے کو قبلہ رُخ کرکے کھڑے ہونا (6) خواہشات کا قلع قمع کرنا۔