• اگست
1993
مولانا محمد عبدہ الفلاح
آبائی وطن "کمیر پور"ضلع امرتسر ہے۔1304ھ میں پیدا ہوئے اور 1384ھ مطابق 1964ء وفات پائی۔کل عمر 80 سال حیات رہے۔راقم الحروف ان سطور میں صرف ان کی علمی زندگی اور دینی خدمات کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔

تعلیم کا آغاز:۔
  • اگست
1996
مولانا محمد عبدہ الفلاح
اثنائے تدریس میں کتب صحاح ستہ کے متعلق بعض فنی اور اصولی مباحث جمع ہوتے رہے جو ایک مسودہ کی صورت مین مستقل کتاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں اب خیال آتا ہے کہ اگر ان مباحث کو مقالات کی شکل میں شائع کر دیا جا ئے تو یہ مواد محفوظ ہو سکتا ہےاور آئندہ بھی اس سے استفادہ ممکن ہو سکے گا ۔(راقم الحروف )

حدیث معلق کے معنی :۔
  • اکتوبر
1996
مولانا محمد عبدہ الفلاح
خاندان کا تعارف
اندرونِ ہند صوبہ بہار کو قلب کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس سرزمین نے بڑے بڑے صوفیاء، شعراءِ عظام اور کبار محدثین اور فقہاءِ اعلام کو جنم دیا ہے جنہوں نے صرف اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ہند میں بھی ناموری حاصل کی ہے۔ علمائے صادقپور کا تعلق بھی اسی صوبہ سے ہے۔ جو تحریکِ مجاہدین کے حاملین سے تھے اور سید نذیر حسین دہلوی کا تعلق بھی اِسی خطہ سے ہے جو اس مقالہ میں ہمارے موضوعِ سخن ہیں۔
سلسلہ نسب
سید صاحب کے جد اعلیٰ سید احمد شاہ جاجنیری، قطب الدین ایبک (602 تا 607) کے زمانہ میں سلطنت میں واردِ ہند ہوئے اور "شاہجان آباد" میں سکونت پذیر ہو گئے۔ اسی دور میں صوبہ بہار کے راجہ اندروہ دون (والیِ اور ماین) نامی نے مسلمانوں کو گاؤ کشی سے حکما روک دیا اور خلاف ورزی پر بعض مسلمانوں کو شہید بھی کر دیا تو قطبُ الدین ایبک نے اس کے خلاف فوج کشی کا حکم دے دیا اور مولانا نور الدین کی زیر قیادت ساٹھ ہزار کا لشکرِ جرار روانہ کیا۔ اس لشکر کے ایک سرمایہ کے سپہ سالار یہی سید احمد شاہ جاجنیری تھے جنہوں نے فتح یابی کے بعد موضع ایکساری (صوبہ بہار) میں سکونت اختیار کر لی۔ اسی جرنیل کی نسل سے سید جواد علی کے اجداد تھے جو موضع بلتھوا میں رہنے لگے جو سورج گڑھ (پرگنہ) سے پانچ چھ میل کی مسافت پر واقع ہے۔ (الحیاة بعد المماة)
اسی خاندان کے افراد علم و فضل میں ممتاز چلے آتے ہیں اور سید بایزید سے لے کر عہدہ قضاء پر فائز المرام رہے ہیں چنانچہ قاضی سید عبدالنبی کی سند قضاۃ پر عالمگیر کی دستخطی (1009ھ) اور قاضی محمد سالم کی سند پر شاہ عالم شاہ کی مہر (1175ھ) ثبت ہے۔(1) 
حضرت میاں صاحب کے جد اعلیٰ سید احمد جاجنیری کے متعلق صاحب "الحیاۃ والمماۃ" لکھتے ہیں کہ ان کا مزار موضع ندیانواں میں ہے لیکن راقم الحروف نے جونپور کے قبرستان کی ایک تصویر دیکھی ہے جس میں ایک قبر پر ایک تختی لگی ہوئی ہے جس پر "سید احمد جاجنیری" لکھا ہوا ہے اور یہ قبرستان قدیم اولیاء کے قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔ اختر اورینوی لکھتے ہیں: (2)