• مئی
  • جون
1995
پروفیسر محمد یحییٰٗ
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  تصنیف و تا لیف کے "سلسلہ الذہب" کی ایسی درخشندہ و تا باں کڑی ہیں جن کی ضیا پا شیا ں افق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادرا ک کی فراوانیوں اور فضل و کمال کی وسعتوں سے کشورذہن مصروف استفادہ اور اقلیم قلب مشغول استفاضہ رہیں گے ۔ان کے جدا امجد شیخ الدین کو حنا بلہ کے آئمہ و اکا بر میں گردانا جا تا ہے اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد مطلق کے پر شکوہ لقب سے ملقب کیا ہے ۔امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  جو فن رجا ل کے مستند امام ہیں ۔کتاب سیرا علا م النبلا ءمیں ان کا تذکرہ کرتے ہو ئے لکھتے ہیں ۔
انتهت إليه الإمامة في الفقه
کہ مسائل فقہ کے حل و کشود میں وہ مرتبہ امامت پر فائز تھے۔
امام تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  کی ولا دت ایسے جلیل المرتبت خا ندا ن میں ہو ئی اور ایسے ماحول میں شعور کی آنکھیں کھولیں جہاں فضیلت و عرفان کا ہمہ گیر شامیانہ تنا ہوا تھا اور جہاں مجدوز کاوت کی خوشگوار گھٹا ئیں چھا ئی ہو ئی تھیں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  نے ان ہی پا کیزہ فضاؤں میں پرورش و پرواخت کی منزلیں طے کیں اور پھر اسی گلستان فضیلت کی شمیم آرائیوں میں عہد طفولیت سے نکل کر دور شباب میں قدم رکھا۔اب وہ جا دہ علم کے پر عزم را ہی تھے اور ان کی عزیمت و عظمت نے ان کو جا مع الحشیات شخصیت کے قالب میں ڈھا ل دیا تھا وہ بیک وقت عالم بھی تھے اورمعلم بھی محقق بھی تھے اور مصنف بھی مفسر بھی تھے اور محدث بھی فقیہ نکتہ ور بھی تھے اور ماہر اصول بھی مجا ہد بھی تھے اور مجتہد بھی مناظر بھی تھے اورجارح بھی حملہ آور بھی تھے اور مدا فع بھی واعظ شیریں بیاں بھی تھے اور مقرر شعلہ مقال بھی مفتی بھی تھے اور ناقد بھی شب زندہ دار بھی تھے اور سالک عبادت گذار بھی منطلقی بھی تھے اور فلسفی بھی ادیب حسین کلا م بھی تھے اور شاعر اعلیٰ مذاق بھی ۔۔۔جس طرح وہ کشور قلم و لسان کے شہسوار تھے اسی طرح قلیم سیف وسنان پر بھی ان کا سکہ رواں تھا اور ان سب کو ان کی اطاعت گزاری پر فخرتھا ۔ علوم کے سامنے قطار بنا کر کھڑے رہتے جب کسی مو ضوع پر گفتگو کرنا مقصود ہو تا تو متعلقہ علم اپنی ہمہ گیریوں کے ساتھ کو رنش بجا کر ان کے حضور میں حاضر ہو جا تا اور جب کسی معاملے کو ضبط تحریر میں لا نے کا قصد کرتے تو قلم نہا یت تیزی کے ساتھ صفحات قرطا س پر حرکت کنا ں ہو جا تا اور پھر آنا فا نا علوم و فنون کی بارش شروع  ہو جا تی اور پو ری روانی کے ساتھ مرتب شکل میں الفا ظ کا غز پر بکھیرتے چلے جا تے ۔وہ جلہ اور فرات کے سنگم میں پیدا ہو ئے تھے اور ان دونوں دریا ؤں کی روانی اور ان کی مو جیں اور اچھا لیں ان کے قلم و زبان میں سمٹ آئی تھیں ۔