• اکتوبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
ولادت اور نام و نسب:۔
امام ترمذی 210ھ کے حدود میں پیدا ہوئے بعض نے 209ھ ذکر کیا ہے۔کیونکہ وفات بالاتفاق 279ھ ہے امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ  نے میزان الاعتدال میں 279ھ وفات ذکر کی ہے اور لکھا ہے:
"وكان من ابناء سبعين"
یہی الفاظ علی القاری نے شرح الشمائل میں ذکر کیے ہیں،پس ان جملہ اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ امام موصوف 209ھ میں پیدا ہوئے لہذا ان کی ولادت 210ھ ہی ہے۔(1)
امام ترمذی کا نام محمد،باپ کا نام عیسیٰ اور کنیت ابو عیسیٰ ہےاور  پورا نسب یہ ہے:
محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ بن الضحاک اور نسبت اسلمی الترمذی ہے بعض نے البوغی کی نسبت بھی ذکر کی ہے کیونکہ آپ قریہ بوغ میں مدفون ہیں جو کہ ترمذ سے چھ فرسخ کی مسافت  پر واقع ہے۔(2)لیکن ترمذی کی نسبت زیادہ مشہور ہے اور اسی نسبت سے معروف ہیں۔(3)
  • دسمبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
خاندانی تعارف:
علامہ کو ثری نے امام مالک کو بھی ''موالی '' میں شمار کیا ہے اور لکھا ہے کہ زہری اور محمد بن اسحاق صاحب المغازی دونوں کے نزدیک ، امام مالک موالی سے ہیں اور اس سلسلہ میں صحیح بخاری کے حوالہ سے ابن شہاب زہری سے ذکر کیا ہے۔
  • جنوری
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
(215تا303ھ)

ابو عبدالرحمٰن ،احمد بن شعیب بن علی بن سنان بن بحر الخرسانی ،النسائی صاحب "السنن"

"نساء"کی طرف نسبت:
  • نومبر
1994
مفتی محمد عبدہ الفلاح
متحد ہ ہندو ستان میں تیموری سلطنت کے آخری دور میں دہلی میں خاندان ولی اللہ نے رُشد و ہدایت کی مشعل کو روشن تر کردیا ۔شاہ عبد العزیز صاحب (المتوفی1239ھ)ان کے بزروگ برادر اور عزیزوں نے علوم عقلیہ و نقلیہ کی تدریس میں نمایاں کردار ادا کیا شاہ عبد العزیز کے بعد محمد اسحاق صاحب( المتوفی1262ھ)نواسہ شاہ عبد العزیزنے اپنے نامور تلامذہ کے ذریعہ اس کے حلقہ اثر کو بہت وسیع کردیا بعد ازاں شاہ اسحاق صاحب کے نامور تلامذہ میں دو گروپ پیدا ہو گئے اور ایک گروپ کے سرخیل مولانا شاہ عبد الغنی صاحب مجددی اور مولانا احمد علی صاحب سہارنیوی تھے جن میں رد بد عت اور توحیدخالص کے جذبہ کے ساتھ تقید کا رنگ نمایاں رہا اور دوسرے گروہ کے قائدسید نذیر حسین صاحب دہلوی تھے جنہوں نے توحید خالص اور رد بدعت کے ساتھ فقہ حنفی کے ساتھ تقلید کی بجائے براہ راست کتب حدیث بقدر فہم استفادہ کا طریق اپنایا اور اس کے مطابق عمل کو اپنا شعار بنایا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں ۔ ان دونوں کے بالمقابل ایک تیسرا گروہ وہ تھا جو شدت کے ساتھ اپنی قدیم روش پر قائم     رہااوراپنے کو اہل سنت کہتا رہا اس گروہ کے پیشوا زیادہ تر بریلی اور بدایوں کے علماء تھے ۔
  • اگست
1999
مفتی محمد عبدہ الفلاح
قرآنِ پاک نوع انسانی کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر دائمی معجزہ، اس نے اپنے نزول کے ساتھ تاریخ عالم کا دھارا بدل دیا اور پھر اپنی جامعیت اور گہرائی کے اعتبار سے ہر دور میں انسانی عقل و فکر کے لئے رہنما ہے۔ اس کی زبان معجزانہ ہے اور اندازِ بیان اچھوتا، اس کی تفسیر و تاویل، اِعجاز و اِعراب، تاریخ و جغرافیہ، اُسلوبِ بیان وغیرہ پر جس قدر لکھا جا چکا ہے وہ بھی معجزہ سے کم نہیں۔ ہر دور میں مفسرین نے اپنے خصوصی ذوق اور ماحول کے مطابق اس کی خدمت کی ہے جس سے تفسیر اور علومِ قرآنی کا دائرہ وسیر تع ہو گیا ہے۔ دوسری صدی کے علماء کی تفاسیر پر نظر ڈالیں تو وہ صرف صحابہ و تابعین کے اقوال پر مشتمل نظر آئیں گی مگر اس کے بعد ہر دور میں علوم تفسیر میں اضافہ ہی نظر آتا ہے حتیٰ کہ فی زمانہ یہ علوم اس قدر پھیل چکے ہیں کہ کسی ایک علم پر احاطہ بھی مشکل ہے اور علومِ تفسیر نے اس قدر ارتقائی شکل اختیار کر لی ہے کہ ان کا تاریخی جائزہ بھی بجائے خود ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ ان علوم کے ارتقاء اور ان کی تفصیل سے قطع نظر یہاں پر ہم صرف ان وسائل و عناصر کو موضوعِ سخن بناتے ہیں جو قرآن فہمی میں ممدومعاون ہو سکتے ہیں اور جن کے ملحوظ رکھنے سے قرآن فہمی مشکل ہے اور پھر ان عناصر کی تربیتی حیثیت سے صرفِ نظر کرنا بہت سے گمراہیوں اور لغزشوں کا موقجب بن سکتی ہے
  • اکتوبر
2004
مفتی محمد عبدہ الفلاح
صالح اجتماعی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک کہ افرادِ انسانی کے اخلاق واعمال میں عدل و استقامت پیدا نہ ہوجائے اور چونکہ تمام اخلاق و اعمال کا منبع و مصدر اور جڑ روح اور قلب ہیں تو حیاتِ انسانی میں انفراداً و اجتماعاً صلاحیت ِاستقامت پیدا کرنے کے لئے سب سے مقدم قلب کی اصلاح اور روح کی طہارت ہے، ورنہ انسان کا اُصولِ زندگی میں افراط وتفریط سے ملوث ہونا ناگزیر ہے بقول ؎
خشت اوّل چوں نہد معمار کج
تاثر یا مسرود ولہار کج
  • جنوری
1995
مفتی محمد عبدہ الفلاح

1270ھ 1854ء کو ایک بڑے زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد گرامی کا نام شیخ احمداللہ اوروالدہ کانام بی بی بھی مخدومن ہے۔عمر کے 13ویں سال میں قرآن پاک حفظ کیا۔اس کے بعد عربی ،فارسی کی کتابیں پڑھنا شروع کریں جو اس دور میں رائج تھیں۔مختلف اساتذہ کرام سے ابتدائی کتابیں تحصیل کیں،ان اساتذہ میں مولوی عظمت اللہ ،مولوی محمودعالم رامپوری (1302ھ) اور مولوی محمد یحییٰ عظیم آبادی کےاسماءگرامی خاص طور پر مذکور ہیں۔(1)
اعلیٰ تعلیم کے لئے رحلت:۔
پھر 1290 ہجری کو بیس سال کی عمر میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے حضرت شیخ الکل محدث اعظم سید نزیر حسین دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ اس سے پہلے ان کے بڑے بھائی شیخ عبدالرحیم بھی اسی درس گاہ سے فیض یاب ہوچکے تھے۔دہلی میں دو سال قیام کے دوران حضرت میاں صاحب سےصحاح ستہ،موطا امام مالک،سنن دارمی ،جامع صغیر ہدایہ،جلالین اور اصول حدیث کی کتابیں پڑھیں۔(2) اور دو سال کی قلیل مدت میں تکمیل کے بعد 1292ھ کو حضرت میاں صاحب سےسند لے کر وطن و اپس ہوئے۔(