• جولائی
  • اگست
2015
ڈاکٹر علی بن نفیع علیانی
قرآنی آیات اور مسنون الفاظ سےدم کرنا جائز ہے اور دم میں پھونک مارنا بھی درست ، جیساکہ بعض احادیث سے پتہ چلتا ہے ۔تاہم تعویذ کو لٹکانا، پہننا فرامین نبویہؐ کی صراحت اور غیرمسنون ہونے کی بنا پر درست نہیں۔ غیرقرآنی تعویذ کی حرمت کے بارے میں تو واضح احادیث ہیں، جیسا کہ مسند احمد میں ہے کہ ’’جس نے تعویذ (تمیمہ) لٹکایا، اللّٰہ اس کی مراد پوری نہ کرے۔‘‘ اور ’’تعویذ لٹکانے والا شرکیہ عمل کا ارتکاب کرتا ہے ۔‘‘ (4؍154) وغیرہ۔البتہ قرآنی تعویذکے بارے میں علما میں اختلاف ہے۔ شیخ الحدیث حافظ ثناء اللّٰہ مدنی ﷾ فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ میں لکھتے ہیں’’قرآنی آیات اور مسنون دعاؤں پر مشتمل تعویذ لکھنا جائز تو ہے ، لیکن راجح اور محقق بات یہی ہے کہ تعویذوں سے مطلقاً پرہیز کیا جائے۔‘‘ مزید یہ کہ ’’بہتر ہے کہ تعویذ کی جملہ اقسام سے احتراز کیا جائے۔‘‘(ص 580،578)
ذیل میں قرآنی تعویذوں کی حرمت کے حوالے سے ایک اہم عربی تحریر کا ترجمہ ہدیۂقارئین ہے۔ ح م