• اگست
1993
اسحاق زاہد
ہفت روزہ "الاعتصام"لاہور مجریہ یکم جنوری 1993ء میں شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی کافتویٰ بعنوان"مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنے کاجواز" شائع ہواتھا۔جس پر جامعہ عربیہ(حنفیہ) گوجرانوالہ کے ایک فاضل مدرس مولانا محمد امیر نواز نے تعاقب فرمایا ہے جس میں انہوں نے احناف کے اس موقف کو ترجیح دینے کی بھر پور کوشش کی ہے کہ مکروہ اوقات میں تحیۃ المسجد پڑھنا درست نہیں ہے۔
  • اکتوبر
1992
اسحاق زاہد
1۔تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک نماز کا ثواب انچاس کروڑ گنا

2۔فضائل اعمال میں ضعیف روایت پر عمل

3۔تشہد میں محل رفع سبابہ
  • اکتوبر
1996
اسحاق زاہد
(سعودی عرب کے نائب مفتی اعظم کے جوابات)

مجلہ "الفرقان" جو جمعیت احیاء التراث الاسلامی، کویت سے ہر ماہ شائع ہوتا ہے، نے گذشتہ دنون سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد صالح العثیمین حفظہ اللہ سے ایک خصوصی انٹرویو کیا اور ان سے چند اہم نوعیت کے سوالات کئے جنہیں ہم افادہ عام کے لئے اُردو میں پیش کر رہے ہیں۔
(1)الفرقان: کیا جہاد افضل ہے طلبِ علم؟
العثیمین: اس کا جواب مختلف لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جہاد شرعی کا اصل مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے۔ جب یہ حقیقت طے ہو چکی تو ہم لوگوں کے احوال کا جائزہ لے کر ان میں سے بعض کو تو جہاد کا حکم دیتے ہیں اور کچھ کو طلب علم کا، کیونکہ بہادر، جراءت مند، مضبوط جسم اور صاحبِ رائے کے لئے جہاد افضل ہے اور ادلہ شرعیہ سے استخراج مسائل کرنے والے اور صاحبِ عقل و دانش کے لئے طالبِ علم۔
یہ بات آپ کے علم ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے طلب علم کو جہاد فی سبیل اللہ کے ہم پلہ قرار دیا ہے، چنانچہ فرمان الہیٰ ہے:
ترجمہ: "اور یہ مناسب نہیں کہ (ہر لڑائی میں) سب کے سب مسلمان نکل کھڑے ہوں، ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر فرقے میں سے کچھ لوگ نکلیں تاکہ (جو لوگ نہیں نکلے اور مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ گئے) وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور جب ان کی قوم کے لوگ (جہاد) سے لوٹ کر آئیں تو ان کو سنا دیں تاکہ وہ بچے رہیں" (التوبہ: 122)
(2) الفرقان: قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کے متعلق کیا حکم ہے؟
العثیمین: میں قانون ساز اسمبلیوں کی رکنیت کو جائز سمجھتا ہوں۔ بشرطیکہ رکن اسمبلی اپنی رکنیت کے ذریعے (حکومت کے) کسی شر کو روکنے یا (پارلیمنٹ میں) خیر و بھلائی کی کسی بات کو پہنچانے کی امید رکھتا ہو، کیونکہ ایسی اسمبلیوں میں نیک لوگ جس قدر زیادہ ہوں گے اتنا ملک و قوم کو شر سے محفوظ اور آزمائش سے دور رکھنا ممکن ہو گا، اور رہی احترام آئین پر حلف برداری تو رکن اسمبلی کو چاہئے کہ وہ اس نیت سے حلف اٹھائے کہ وہ آئین کا احترام کرے گا بشرطیکہ وہ شریعت کے مخالف نہ ہو، اور "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی"
  • اگست
2000
وحید بن عبدالسلام
(آٹھواں حصہ)                      
نظر بدکاعلاج

نظر بد کی تاثیر پر قرآنی دلائل:۔
1۔سورہ یوسف کی آیات 67،68 کا ترجمہ ملاحظہ کریں:
"اور (یعقوب علیہ السلام  ) نے کہا اے میرے بچو!تم سب ایک دروازے سے نہ جانا،بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا،میں اللہ کی طرف سے آنے والی چیز کو تم سے  ٹال نہیں سکتا،حکم صرف اللہ کا ہی چلتا ہے۔میر اکامل بھروسہ اسی پر ہے،اور ہر ایک بھروسہ کرنے کو ا ُسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔اور جب وہ انہی  راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیاتھا،گئے،کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کررکھاہے،وہ اس سے انہیں ذرا  بھی بچالے،مگر(یعقوب علیہ السلام  ) کے دل میں ایک خیال  پیدا ہوا جسے انہوں نے پورا کرلیا،بلاشبہ وہ  ہمارے سکھلائے ہوئے علم کے عالم تھے،لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے"
حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ  ان دونوں آیات کو تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ یعقوب علیہ السلام   کے بارے میں  بتارہا ہے کہ انہوں نے جب"بنیامین" سمیت اپنے بیٹوں کو مصر جانے کے لیے تیار نہیں کیا تو انہیں تلقین کی کہ وہ سب کے سب ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں،کیونکہ انہیں جس طرح کہ ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،محمد بن کعب رحمۃ اللہ علیہ ،مجاہد رحمۃ اللہ علیہ ،ضحاک رحمۃ اللہ علیہ ،قتادہ رحمۃ اللہ علیہ ،اورسدی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہم کا کہنا ہے۔اس بات کاخدشہ تھاکہ چونکہ ان کے بیٹے خوبصورت ہیں،کہیں نظر بد کا شکار نہ ہوجائیں اور نظر کا لگ جانا حق ہے۔(118)