• جون
2001
عبدالغفار حسن
﴿وَالعـٰدِيـٰتِ ضَبحًا ١ فَالمورِ‌يـٰتِ قَدحًا ٢ فَالمُغيرٰ‌تِ صُبحًا ٣ فَأَثَر‌نَ بِهِ نَقعًا ٤ فَوَسَطنَ بِهِ جَمعًا ٥ إِنَّ الإِنسـٰنَ لِرَ‌بِّهِ لَكَنودٌ ٦ وَإِنَّهُ عَلىٰ ذٰلِكَ لَشَهيدٌ ٧ وَإِنَّهُ لِحُبِّ الخَيرِ‌ لَشَديدٌ ٨﴾... سورة العاديات "قسم ہے دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے اور آگ نکالنے والوں کی ٹاپ مارتے ہوئے اور حملہ کرنے والے صبح کے وقت، پھر اُڑایا صبح کے وقت غبار اور پھر اس غبار کے ساتھ لشکر کے بیچ میں گھس گئے۔
  • ستمبر
2001
عبدالغفار حسن
سوال: ﴿لا أَعبُدُ ما تَعبُدونَ ٢ وَلا أَنتُم عـٰبِدونَ ما أَعبُدُ ٣ ﴾...سورة الكافرون" یہاں بجائے مَنْکے جو عقلاء کے لئے بولا جاتا ہے، مَا کیوں استعما ل کیا گیا ہے جوکہ دراصل غیر عقلاء پراستعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا اِطلاق اللہ تعالیٰ پر کیسے درست ہوا؟
جواب: یہاں ایسے معبود کا ذکر مقصود ہے جو صحیح معنی میں عبادت کے لائق ہو۔
  • نومبر
1995
عبدالغفار حسن
سوال12: مغضوب عليهم کی تفسیر یہود اور ضالين کی تفسیر نصاریٰ سے کیوں کی جاتی ہے۔ یہ دونوں وصف تو باہمی لازم و ملزوم ہیں، جو مغضوب ہیں، وہ ضال بھی ہے۔ اور جو ضال ہے وہ مغضوب ہے۔
  • اکتوبر
1995
عبدالغفار حسن
راقم الحروف ، طالب علمی کے زمانہ سے امام ابن تیمیہ اور حافظ ابن قیم کی تصانیف کے مطالعہ کا شیدائی رہا ہے، خاص طور پر حافظ ابن قیم کے تفسیری نکات نے بہت زیادہ متاثر کیا۔

آج سے پچاس سال قبل جب کہ میں مالیر کوٹلہ میں مدرسہ کوثر العلم میں مدرس تھا، یہ کوشش کرتا رہا کہ حافظ ابن قیم کی تمام تصانیف جمع کی جائیں
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالغفار حسن
اہل حدیث  جانبازفورس ،اہل حدیث نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے۔ جس نے چند ماہ قبل "صراط مستقیم" کے نام سے ایک ماہنامہ کراچی سے جاری کیا ہے۔اس پرچے کا ایک نمایاں پہلو،اکابرین اہل  حدیث کے انٹر ویو لے کر من وعن شائع کرنے کا تھا۔ جس کی وجہ سے حضرات اہل حدیث کے لیے اپنی کمزوریوں ،خوبیوں کا ایک تعارف سامنے آرہا ہے۔اسی سلسلہ میں بزرگ عالم دین مولانا عبدالغفار حسن مدظلہ العالی کا ایک انٹرویو"صراط مستقیم" کے د سمبر 94ءکے شمارے میں شائع ہوا ہے ۔
  • اگست
2001
عبدالغفار حسن
حدیث کی عظمت و اہمیت گھٹانے اور انکارِ سنت کی راہ ہموار کرنے کے لئے عموماً ان آیات کا سہارا لیا جاتا ہے جن میں 'ظن' کی مذمت اور اس کے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ ذیل کے مضمون میں 'ظن'کی اصل حقیقت قرآن و سنت اور لغت ِعرب سے واضح کرتے ہوئے یقین و ظن کے لحاظ سے سنت و حدیث کا جو مقام ہے، اس کو متعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
  • اپریل
1986
عبدالغفار حسن
حد ِ رجم کے بارے میں ایک مسلک تو یہ ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم ہے او رغیر شادی شدہ کے لیے سو کوڑے ہیں۔ اس مسلک کی طرف اشارات قرآن مجید میں ملتے ہین، جن کی تفصیل ایک الگ مستقل مضمون میں بیان کی جائے گی۔ ان شاء اللہ اور احادیث میں صراحت کے ساتھ حدِ رجم کا بیان موجود ہے۔ تقریباً چالیس صحابہؓ سے رجم کی روایات ملتی ہیں۔ پھر ہر دور میں ان روایات کو نقل کرنے والے کثیر تعداد میں پائے
  • مئی
1986
عبدالغفار حسن
رسالہ ''تدبر'' شمارہ 3 صفحہ 33 پر سنن ابی داؤد کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ:(ترجمہ) '' اس واقعہ (ماعزؓ کے رجم ہونے) کے بعد حضورﷺ نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے سنا: اس بدبخت کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ ڈھانکے رکھا تھا، لیکن اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگسار کردیا گیا۔''لیکن اس حدیث کے آخری جملے چھوڑ دیئے گئے
  • اکتوبر
1988
عبدالغفار حسن
8۔ "﴿ لا تَجعَلوا دُعاءَ الرَّ‌سولِ بَينَكُم كَدُعاءِ بَعضِكُم بَعضًا...﴿٦٣﴾... سورةالنور

یعنی "رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پکار کو آپس میں ایک دوسرے کی پکار کی طرح نہ قرار دو۔" آگے فرمایا:

﴿ قَد يَعلَمُ اللَّهُ الَّذينَ يَتَسَلَّلونَ مِنكُم لِواذًا فَليَحذَرِ‌ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِ‌هِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ ﴿٦٣﴾... سورةالنور
  • مئی
2001
عبدالغفار حسن
سورۂ فاتحہ کئی اہم او ربنیادی مسائل کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس سورت میں اللہ تعالیٰ کے تین نام بیان ہوئے ہیں جو کہ تمام اسماءِ حسنہ اور صفاتِ الٰہیہ کے مرکز و محور قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ وہ تین اسماء یہ ہیں: اللہ، ربّ او ررحمن۔
یہ سورت الوہیت، ربوبیت اور رحمت کا مظہر ہے۔
  • فروری
  • مارچ
1995
عبدالغفار حسن
برصغیر پاک وہند میں "فقہی جمود" کے خلاف جب"اتباع واحیائے سنت" کی تحریک چلی تو اس کا توڑ دو طرح سے کرنے کی کوشش کی گئی،ایک تو صحیح احادیث کے بالمقابل ہرطرح کی صحیح وضعیف احادیث کے ذریعے"مذہب" کا دفاع،دوسرا یہ  پروپیگنڈا کہ محدثین صرف حدیث کے چھلکے کو لیتے ہیں مغز تک کی رسائی کی کوشش نہیں کرتے۔حالانکہ محدثین پر یہ الزام بالکل غلط ہے ۔جس کی شہادت کے لئے امیر المومنین فی الحدیث"امام بخاری" کی مثال ہی کافی ہے اس بارے میں پہلا طریقہ زیادہ تر متعصب مقلدین نے اختیار کیا اور دوسرا طریقہ متجددین(ترقی پسند مقلدین) نے مولانا امین احسن  اصلاحی کاتعلق دوسرے طبقہ فکر سے ہے۔لہذا وہ عبادات میں تو حنفی ہیں تاہم جہاں کہیں دل چاہتا ہے۔"تدبر " کے نام پر"تقلید" کے بجائے اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے بھی انحراف کرنے سے نہیں چوکتے۔اس سلسلے میں ان کا مخصوص طریق کار ہے۔قرآن کریم کی تفسیر میں ان کے اپنے"تدبر  واجتہاد" پر مبنی "فلسفہ نظم" ہے،جس میں نکتہ رسی کے فوائدسے قطع نظر ان کا ظاہر احادیث سے الرجک ہونا"متبعین سنت"سنت کوضرور کھلتا ہے۔در اصل یہ مکتب فکر اپنے"تدبر واجتہاد" کو دو
  • نومبر
2001
عبدالغفار حسن
(1) ﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ إِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِنَ البَعثِ فَإِنّا خَلَقنـٰكُم مِن تُر‌ابٍ ثُمَّ مِن نُطفَةٍ ثُمَّ مِن عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُضغَةٍ مُخَلَّقَةٍ وَغَيرِ‌ مُخَلَّقَةٍ لِنُبَيِّنَ لَكُم ۚ وَنُقِرُّ‌ فِى الأَر‌حامِ ما نَشاءُ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى...٥ ﴾... سورة الحج
"لوگو! تم (دوبارہ) جی اٹھنے کے بارے میں شک میں ہو تو (اس بات پر غور کرو) ہم نے تمہیں (کس چیز سے) پیدا کیا؟ مٹی سے۔
  • اپریل
2001
عبدالغفار حسن
مولانا عبدالغفار حسن کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ موصوف ایک ممتاز عالم دین، ژرف نگاہ محقق، کہنہ مشق بزرگ اُستاد ہیں۔ عمر ۸۵ سال کے لگ بھگ ہے اورآج کل بوجہ ضعف ِپیری صاحب ِفراش ہیں ۔آپ کا تدریسی دورانیہ ۵۰ سال پر محیط ہے جس میں ۱۶ برس مدینہ منورہ میں قائم عالم اسلام کی مایہ ناز اسلامی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے کے علاوہ جامعہ رحمانیہ بنارس،مدرسہ کوثر العلوم مالیر کوٹلہ اور جامعہ تعلیمات فیصل آبادمیں بھی آپ تدریس کے منصب پر فائز رہے۔
  • جولائی
2001
عبدالغفار حسن
﴿وَالعَصرِ‌ ١ إِنَّ الإِنسـٰنَ لَفى خُسرٍ‌ ٢ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ وَتَواصَوا بِالحَقِّ وَتَواصَوا بِالصَّبرِ‌ ٣ ﴾... سورة العصر
"زمانہ کی قسم ! بلاشبہ انسان گھاٹے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جوایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین او رصبر کی تلقین کرتے ہیں۔"
  • فروری
1999
مکتوب مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ
المؤلف مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح
بنام مولانا عبدالغفار حسن حفظہ اللہ تعالیٰ
۔۔۔(دوسرا مکتوب)۔۔۔
ابو الحسن عبیداللہ الرحمانی
رانی پورہ مبارکپور،اعظم گڑھ،یوپی،الہند
عزیز مکرم ومحترم جناب مولانا عبدالغفار حسن صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ !
السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اُمید ہے آپ مع اہل وعیال ہر طرح بعافیت ہوں گے۔آپ کا اپنے کسی عزیز سے 21۔9۔1989ء کو املا کرایا گیا خط اور اس کے ساتھ آپ کی مرسلہ کتابیں(عظمت حدیث،معیاری خاتون،دین میں غلو،خطبہ نکاح کی تشریح) اکتوبر 1989ء میں مجھے مل گئی تھیں۔اور آپ کادوسراخط مرقومہ 1990ء۔3۔2۔کو اپنے قلم سے لکھا ہوا مع کتاب"عظمت حدیث" اپریل 1990ء کے شروع میں موصول ہواتھا۔