• اگست
1984
غازی عزیز
احیاء علم کی تائید میں علماء کی چند آرا:

حافظ زید الدین العراقی صاحب "الفیہ"(م806ھ) جنہوں نے "احیاء علوم الدین" کی احادیث کی تخریج یعنی راوی اور حدیث کادرجہ اور اس کی حیثیت بیان کی ہے کہتے ہیں کہ امام غزالی ؒ کی احیاء العلوم اسلام کی اعلیٰ تصنیفات سے ہے۔عبدالغافر فارسی جو امام غزالی ؒ کے معاصر اور امام الحرمین کے شاگردتھے۔کہتے ہیں۔
  • جولائی
1984
غازی عزیز
تحریر کا پس منظر:

امام غزالی کی شخصیت امت کے نزدیک ایک مختلف فیہ شخصیت رہی ہے۔بعض کے نزدیک یہ جس قدرومنزلت کی حامل ہے اس کے لئے ان کے خوش عقیدگان کی تصانیف کے ہزار صفحات شاہد ہیں۔ لیکن ان بے شمار صفحات کے مطالعہ سے جس چیز کا اندازہ ہوتا ہے۔
  • دسمبر
1987
غازی عزیز
اب ذیل میں چند ان علماء کی تحقیقات پیش کی جاتی ہیں، جنہوں نے مصنف عبدالرزاق کی اس حدیث کو نہ صرف صحیح تسلیم کیا بلکہ رفع اعتراض کی خاطر حدیث کے صاف صریح اور واضح معانی کو چھوڑ کر طرح طرح کی انوکھی اور نرالی تاویلات بھی پیش کی ہیں۔

چنانچہ علامہ زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
  • فروری
  • مارچ
1995
غازی عزیز
"نفس " جمہور صوفیہ کے نزدیک منبع شر ہے تمام برے اعمال و افعال اسی سے ظہور پذیر ہو تے ہیں (1)چنانچہ سلیمان دارانی کا قول ہے کہ "نفس امانت میں خیانت کرنے والا رضائے الٰہی کی طلب سے روکنے والا ہے" (2) اسی لیے تہذیب نفس کہ جس کا مطالبہ راہ سلوک میں پہلا قدم رکھنے کے ساتھ ہی ہو تا ہے اور جو مجا ہد کا اصل مقصودہے سے قبل معرفت نفس ضروری ہے اس لحاظ سے معرفت نفس کو صوفیانہ زندگی کے نصاب العمل کی بنیا دی کڑی سمجھا جا تا ہے معرفت نفس کے بعد مجاہدہ کے ذریعہ نفس کا تزکیہ کیا جا تا ہے اور اس تزکیہ سے مشاہد ہ حق حاصل ہو تا ہے۔جو کہ تصوف  کی معراج ہے تزکیہ نفس کے لیے کیا جا نے والا مجا ہدہ مطا لبات حیات کے خلا ف سخت طرز عمل اختیار کرنے پر زور دیتا ہے تا کہ نفس کے اندر دنیا وہ چیزوں کی طرف رغبت پیدا ہو نے کے امکا ن کا سد باب کیا جا سکے ۔اس رویہ کے پیچھے علماء تصوف کا یہ نظر یہ کا ر فر ما رہا ہے کہ دنیا و مافیہاسے مکمل بے تعلقی کے بغیر معر فت نفس کے بغیر معرفت حق تک رسا ئی ممکن نہیں چنانچہ اس اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے رعونت کبریا ئی اور غرور نفس کے دفعیہ کی خاطر حاصل ہو نے والی نفس کشی کو سب سے افضل عمل قرار دیا گیا ہے چونکہ صوفیاء کے نزدیک مخالفت نفس بلکہ فناء نفس ہی مقصود ہے لہٰذا تمام مر غوبا ت و مشتہیات بلکہ جا ئز خواہشات تک سے ان کا اجتناب لازم ہوا ۔