• اکتوبر
1995
عبدالرحمن کیلانی
جھاد اسلام کی بلند چوٹی ہے لہذا اس کا جذبہ اسلام کی بقاء اور ترقی کی کلید ہے۔ مسلمان اقلیتوں (بلکہ بوسنیا اور چیچنیا وغیرہ مسلمان اکثریت والے علاقوں) کے خلاف ننگی جارحیت کا اعتراف تو سیکولر ممالک بھی کرنے پر مجبور ہیں لیکن دوسری طرف یہی لادین قوتیں (اقوام متحدہ جیسے مشترکہ عالمی ادارے سمیت) نہ صرف اس ظلم و ستم کے خلاف کوئی عملی کاروائی کرنے سے گریز کر رہی ہے بلکہ اس سلسلہ میں "جہاد" کے نام پر کاروائیاں انجام دینے والوں کو دہشت گرد قرار دینے سے بھی نہیں چوکتیں۔
  • جنوری
  • فروری
1979
عبدالرحمن کیلانی
دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے جب ایک قلیل طبقہ کے متعلق مختلف پہلوؤں سے بحث و تحقیق کا آغاز ہوا۔ آج کی فرصت میں ہم اس طبقہ کےمتعلق نئی،پرانی، مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب او ردستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد اس کے سربستہ اسرار ورموز سے پردہ اٹھائیں گے۔

اس مقالہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر صاحب عقل و فہم، تمام دنیا کی داخلی و خارجی سیاست میں''فری میسن'' کے پھیلے ہوئے اثرونفوذ اورعزائم سے آگاہ ہوسکے
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب حضور اکرم ﷺ کا حضرت ابو بکرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کا خیال پیدا ہوا تو اس کی وجہ بھی بتلا دی کہ مبادا اس وقت بعض لوگ خلافت کی آرزو کرنے لگیں یا کچھ دوسرے باتیں بنانے لگیں کہ خلافت تو دراصل ہمارا حق تھا۔ پھر آپﷺ نے جو استخلافِ ابو بکرؓ کا ارادہ ترک کر دیا تو اس کی وجہ بھی مذکور ہے کہ ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے کا خلیفہ بننا نہ تو اللہ کی مشیت میں ہے اور نہ ہی مسلمان مجموعی طور پر ابو بکرؓ کے علاوہ کسی دوسرے پر اتفاق کریں گے۔ (اور آپ ﷺ پیش از وقت کسی کی دل شکنی نہیں کرنا چاہتے تھے) چنانچہ یہ دونوں باتیں پوری ہو کر رہیں۔ 
سب سے پہلے خلافت کا خیال بنو ہاشم کو آیا۔ قبیلہ قریش کے اس وقت دس چھوٹے قبائل مشہور تھے۔ ان میں سے ایک بنو ہاشم تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے قرابت کی وجہ سے اپنے آپ کو خلافت کا حق [1]دار سمجھتے تھے۔ ان کے پیشوا حضرت علیؓ تھے اور حضرت عباسؓ ابن عباس اور حضرت زبیرؓ (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) ان کے رشتہ دار اور امرِ خلافت میں ان کے معاون تھے۔ حضور اکرم ﷺ اپنی مرض الموت میں بقید حیات تھے کہ حضرت عباسؓ کو یہ آرزو پیدا ہوئی کہ حضور اکرم ﷺ سے اپنے حق میں فیصلہ لے لینا چاہیے۔
  • جون
1980
عبدالرحمن کیلانی
حضرت علیؓ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا اِسْتَخْلِفْ (یعنی اپنا ولی عہد مقرر کر جائیے) آپ نےجواب میں فرمایا: ’’میں مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس میں رسول اللہ نے چھوڑا تھا‘‘ (البدایۃ ج ۸ ص ۱۳-۱۴) 
2. ثم قال اِن مِتُّ فاقتلوہ وان شتُ فانا اعلم کیف اصنع به۔‘‘ فقال جندب بن عبد الله ’’یا امیر المومنین! ان مت نبایع الحسن؟‘‘ فقال ’’لا امرکم ولا انھا کم، انتم اَبْصَدُ۔‘‘ (البدایہ والنہایہ ص ۳۲۷، ج۷) 
پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: اگر میں مر گیا تو اس (قاتل) کو قتل کر دینا اور اگر میں زندہ رہا تو میں جانوں میرا کام۔‘‘ حضرت جندب بن عبد اللہ نے کہا۔ ’’اے امیر المؤمنین! اگر آپ فوت ہو جائیں تو ہم حضرت حسنؓ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں؟ فرمایا: ’’میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں۔ تم خود بہتر سمجھتے ہو۔‘‘ 
3. بُوْیَعَ للحسن بن علی علیه السلام بالخلافة وقیل ان اوّل من بایعه قیس بن سعد قال له ابسط یدک ابا یعک علٰی کتاب الله عزوجل وسنة نبیه (طبری ج ۵ ص ۱۵۸) 
حضرت حسنؓ بن علیؓ کی خلافت پر بیعت ہوئی اور کہتے ہیں کہ پہلا شخص جس نے بیعت کی وہ قیس بن سعد تھا۔ اس نے کہا اپنا ہاتھ اُٹھائیے۔ میں آپ کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت پر بیعت کرتا ہوں۔‘‘
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1۔عن محمد بن عبد الله بن سوار بن نویرہ، و طلحة بن الاعلم، و ابو حارثه وابو عثمان، قالوا: بَقِیَت المدینة بعد قتل عثمان رضی اللّٰہ عنه خمسة ایام، وامیرھا لغافقی بن حرب، یلتمسون من یُجِیْیُھُمْ الی القیام بالامر فلا یجدونه۔ یاتی المصریون علیا فیحتبی منھم وَیَلُوْذُ بِحیطان المدنیة، فاذا لقوھم، باعَدَھم وتبرا منھم ومن مقالتھم مرة بعد مرة۔ ویطلب الکوفیون الزبیر فلا یجدونه فارسلوا الیه حیث ھو رُسُلًا: فباعدھم او تبرا من مقالتھم ویطلب المصریون طلحة فاذا لقیھم باعَدَھم وتیرا من مقالتھم مرة بعد مرة، وکانوا مجتمعین علٰی قتل عثمان، مختلفین فیمن یَتوون، فلما لم یجدوا مما لثا ولا مجیبًا جمعھم الشر علی اَولِ من اجابھم وقالوا: لا نُولّی احدا من ھؤلاء الثلاثۃة فبعثوا الی سعد بن ابی وقاص وقالوا انک من اھل الشورٰی فرایُنافیک مجتمع، فَاقَدِم نبایعک۔ فبعث الیھم: اِنِّی واین عمر فرضا منھا فلا حاجة لی فیھا۔ ثم انھم اتوا ابن عمر عبد الله، فقالوا: انت ابن عمر فقم لھذا الامر: فقال: ان ھذا الامر انتقاماً والله لا اتعرض به فالتمسوا غیری۔‘‘ فَبَقُوا حَیَارٰی لا یدرون ما یستون والامر امرھم (ص ۲۳۴) 
محمد بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن سوار بن نویرہ، طلحہ بن الاعلم، ابو حارثہ اور ابو عثمان سے روایت ہے۔ کہتے ہیں شہادتِ عثمان کے بعد پانچ دن تک غافقی بن حرب امارت کے فرائض سر انجام دیتا رہا۔ یہ لوگ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو امارت قبول کرے لیکن ناکام رہے۔ مصری لوگ حضرت علیؓ کے پاس آئے تو وہ ان سے غائب ہو گئے اور مدینہ کی ایک فصیل میں پناہ لی۔ جب یہ ان سے ملے تو حضرت علیؓ نے ان سے اور ان کے مطالبہ سے بار بار بیزاری کا اظہار کیا۔ اور کوفی لوگ حضرت زبیر کو امام بنانا چاہتے تھے۔ ان لوگوں نے حضرت زبیر کو کہیں نہ پایا۔ تو ان کی تلاش کے لئے آدمی بھیجے۔ حضرت زبیرؓ نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ اور بصری لوگ حضرت طلحہؓ کو امیر بنانا چاہتے تھے۔ جب یہ ان سے ملے تو انہوں نے بھی ان سے اور ان کے مطالبہ سے بیزاری کا اظہار کیا۔ یہ شر پسند حضرت عثمان کو شہید کر دینے پر متفق تھے مگر نئے امام کے تقرر میں اختلاف رکھتے تھے۔ پھر جب ان لوگوں کو کوئی بھی ایسا آدمی نہ ملا جو ان کے مطالبہ کو قبول کرتا یا جھوٹے وعدہ سے...
  • دسمبر
1987
عبدالرحمن کیلانی
لادین معاشروں سے جو طریقے درآمد ہوتے ہیں ان کو بلا حیل و حجت "ترقی" کے نام پر اپنانے کے آزادانہ طرزِ عمل کی حوصلہ افزائی تو نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ دورِ حاضر میں مادہ پرستی کے فروغ نے ایمان و اخلاق کی اقدار کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ تاہم رب العالمین کی شریعت میں ہر نوع کی ایجادات اور تبدیلیوں کے لیے مکمل ہدایات موجود ہیں، جو اس کے کمال و دوام کا ثبوت بھی ہیں۔
  • اکتوبر
2001
عبدالرحمن کیلانی
معاشرہ سے فتنہ و فساد کے خاتمہ اور امن وامان کے قیام کے لئے معاشرہ کے افراد کے حقوق وفرائض کی تعیین نہایت ضروری چیز ہے، اور یہ تعیین دو طرح سے ہوتی ہے :
ایک صورت یہ ہے کہ معاشرہ کے کچھ سمجھدار لوگ اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں ایسے حقوق و فرائض باہمی مشورہ سے طے کرلیتے ہیں۔
  • اپریل
1989
عبدالرحمن کیلانی
چند ہی ماہ قبل میرے حقیقی بڑے بھائی محمد سلیمان کیلانی مورخہ 2 نومبر 1988ء کو ہمیں داغِ مفارقت دے گئے، یہ صدمہ ابھی بھولا بھی نہ تھا کہ مورخہ 17 فروری سئہ 1989ء بمطابق 10 رجب المرجب سئہ 1409ھ میں میرے حقیقی چچا جناب حافظ عبدالحئی صاحب ولد مولوی امام الدین صاحب کیلانی بھی بعمر 96 سال قمری بمقام کوٹ چاندی عالم جاودانی کو سدھار گئے ﴿إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾...البقرة" اللہ تعالیٰ آپ کی خطاؤں سے در گزر فرمائے، اعمالِ صالحہ کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند درجات پر فائز فرمائے آمین۔
ابتدائی تعلیم
آپ 13 رجب المرجب 1313ھ بمطابق یکم نومبر سئہ 1895ء کو بمقام حضرت کیلیانوالہ (ضلع گوجرانوالہ) پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار مولوی امام الدین صاحب سے حاصل کی، مولوی امام الدین صاحب (یعنی میرے دادا مرحوم) ایک جید اور معروف عالمِ دین تھے۔ جنہوں نے مدرسہ غزنویہ امرتسر سے اکتسابِ علم کیا تھا۔ علم النحو اور عربی زبان میں آپ کی مہارت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے بخاری شریف پر اعراب آپ ہی نے لگائے تھے۔ عالم دین ہونے کے علاوہ آپ اعلیٰ درجہ کے خوشنویس بھی تھے۔ تیسیر الباری (شرح صحیح بخاری) جو علمائے غزنویہ کے زیر اہتمام تحت السطور ترجمہ اور حواشی کے ساتھ تیس پاروں کی شکل میں شائع ہوئی۔ اس کا متن آپ نے، اور ترجمہ اور حاشیہ آپ کے بھائی محمد الدین نے کتابت کیا تھا۔ اگرچہ آپ اردو عربی ہر دو رسم الخط کے ماہر تھے تاہم زیادہ تر شغف عربی کی کتابت سے ہی تھا
  • جولائی
1987
عبدالرحمن کیلانی
عبدالغفار صاحب ، لیاقت کالونی حیدر آباد (سندھ) سے لکھتے ہیں:''کچھ عرصہ پہلے ہمارے ملک میں سودی نطام بینکوں میں رائج تھا۔ اس سودی نظام کو تبدیل کیا گیا او راس نظام کی جگہ بلا سودی نظام یعنی نفع و نقصان کے شراکتی کھاتہ نے لے لی ہے۔ اب آپ اس بات کی وضاحت کردیں کہ اس سودی او ربلا سودی بینکاری میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ یعنی نفع و نقصان شراکتی کھاتہ بھی سود کی ایک شکل ہے یا یہ ایک سُود سے پاک نظام
  • اکتوبر
1992
عبدالرحمن کیلانی
قاری عبدالحفیظ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ ادارہ "منہاج" کے تعاقب کے جواب میں

3۔تطلیقات ثلاثہ پراجماع

اجماع کا دعویٰ:
  • اپریل
1992
عبدالرحمن کیلانی
قاری عبدالحفیظ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ ادارہ"منہاج" کے تعاقب کے جواب میں
سہہ ماہی مجلہ "منہاج" اشاعت اپریل 1987ء میں میرا ایک مضمون بعنوان "خلفائے راشدین کی شرعی تبدیلیاں"شائع ہوا تھا۔اس مضمون میں میں  نے پرویز صاحب اور جعفر صاحب پھلواروی کے اس اعتراض کا جواب پیش کیا تھا۔"خلفائے راشدین  رضوان اللہ عنھم اجمعین  بالعموم اور حضرت عمر فاروق بالخصوص اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تبدیلیاں کرتے رہے ہیں۔"پھر ان حضرات نے نتیجہ یہ پیش فرمایا تھا کہ:۔
"اگر خلفائے راشدین اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق پچیس تیس سنت ہائے رسول میں تبدیلیاں کرسکتے ہیں تو آخر ہم اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی تبدیلیاں کیوں نہیں کرسکتے۔"
  • دسمبر
2001
عبدالرحمن کیلانی
اور اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں اُن سے انصاف نہ کرسکو گے تو پھر دوسری عورتوں سے جو تمہیں پسند آئیں، دو، دو، تین، تین، چار، چار تک نکاح کر لو لیکن اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ ان میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی کافی ہے۔ یا پھر وہ کنیزیں ہیں جو تمہارے قبضے میں ہوں بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ بات قرین صواب ہے
  • جولائی
2002
عبدالرحمن کیلانی
ادارئہ محدث کے رکن حضرت مولاناعبد الرحمن کیلانی ؒ کی شخصیت اور علمی خدمات کے تعارف پر مبنی مضامین محدث میں شائع کرنے کے علاوہ آپ کے وِرثہ علمی کو محفوظ کرنے کے لئے مختلف رسائل میں شائع ہونے والے آپ کے تمام مقالہ جات،کتب کی فہرستیں اوران پر سیر حاصل تبصرے محدث میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔
  • نومبر
1983
عبدالرحمن کیلانی
صاحب مضمون مولانا عبدالرحمٰن کیلانی زید مجدہ کا یہ مقالہ دراصل محمد صادق صاحب (کراچی) کے اس مراسلہ کا جواب ہے۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے:''حال ہی میں ماہنامہ ''المعارف'' لاہور (شمارہ دسمبر 1982ء) میں جناب شہیر نیازی صاحب کا مضمون ''آدم جنت ارضی میں'' پڑھ کر ذہنی الجھن میں مبتلا ہوگیا ہوں کہ قرآن و احادیث صحیحہ کی رو سے صحیح حقیقت کیاہے؟چنانچہ میں اس مضمون کی عکسی نقل آپ کے پاس بغرض علمی
  • مارچ
1984
عبدالرحمن کیلانی
ہمیں اللہ کی شریعت کافی ہے

مندرجہ بالا جملہ اس مشہور حدیث کا ایک ٹکڑا ہے جو حدیثِ قرطاس کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ حدیث بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحاح ستہ کی دوسری کتابوں میں بھی مذکور ہے۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1۔  فرانس کا منشور جمہوریتاور حقیقی جمہوریت

جمہوریت کا موجودہ دَور انقلاب فرانس ۱۷۷۹ء سے شروع ہوتا ہے۔ واقعہ باسٹیل کے بعد ۴؍ اگست ۱۷۷۹ء کی شب کو جمعیت وطنیت فرانس نے اپنا مشہور منشور انقلاب شائع کیا تھا۔ جس نے تاریخ میں اوّلین فرمانِ حریت کے لقب سے جگہ پائی۔ مشہور فرانسیسی مورخ حال (Ch.Seignobos) نے اپنی تاریخ انقلاب میں اس منشور کا خلاصہ درج ذیل پانچ دفعات میں پیش کیا ہے: 
$11.      استیصال حکم ذاتی: یعنی حقِ حکم و ارادہ اشخاص کی جگہ افراد کے ہاتھ میں جائے۔ شخص، ذات اور خاندان کو تسلط و حکم میں کوئی دخل نہ ہو۔ یعنی ملک ہی پریزیڈنٹ کا انتخاب کرے۔ اِسی کو حق عزل و نصب ہو۔ 
$12.      مساوات عامہ: جس کی بہت سی قسمیں ہیں: 
مساوات جنسی، مساوات خاندانی، مساوات مالی (حق ملکیت) مساوات قانونی (         ) مساوات ملکی و شہری وغیرہ وغیرہ۔ اس بنا پر بھی پریزیڈنٹ کو عام باشندگان ملک پر کوئی تفوق و ترجیح نہ ہو۔ 
$13.      خزانہ ملکی: ملک کی ملکیت ہو۔ اس پر پریزنڈنٹ کو کوئی ذاتی تصرف نہ ہو۔ 
$14.      اصولِ حکومت ’’مشورہ‘‘ ہو۔ اور قوتِ حکم و ارادہ افراد کی اکثریت کو ہو۔ نہ کہ ذات و شخص کو۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
1:امامت قریش میں ہو گی
حضور اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی یہ خبر دے دی تھی کہ ان کے بعد ان کے جانشین (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے[1]۔ اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان فرما دی تھی۔ اس سلسلہ میں بہت سی احادیث وارد ہیں اور امام بخاریؒ نے تو ’’الامراء من قریش‘‘ (کتاب الاحکام) کے عنوان سے ایک مستقل باب بھی باندھا ہے۔ چند ایک احادیث ذیل میں درج کی جاتی ہیں۔ 
$11.الناس تبع لقریش فی ھذا الشان مسلمھم تبع لِمُسْلِمِھم وکافرھم تبع کافرھم (مسلم، کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافة فی قریش) 
’’موجودہ صورت حال یہ ہے کہ لوگ قبیلہ قریش ہی کی پیروی کر سکتے ہیں۔ جو مسلمان ہیں وہ مسلمان قریش کی اور جو کافر ہیں وہ کافر قریش کی۔‘‘ 
گویا امر خلافت کو فیصلہ قریش سے منسوب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عرب قبائل قریش کے علاوہ کسی دوسرے فیصلہ کی اطاعت گوارا ہی نہ کر سکتے تھے۔ 
آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ میرے بعد خلفا قبیلہ قریش سے ہوں گے اور ۱۲ خلفاء تک اسلام غالب رہے گا اور یہ سب قبیلہ قریش سے ہوں گے۔ 
$12.عن جابر بن سمرة یقول سمعت النبی ﷺ یقول: لا یزال الاسلام عزیزا الی اثنی عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا۔ فقلت لابی ما قال؟ فقال کلھم من قریش (مسلم، ایضا) (بخاری کتاب الاحکام۔ باب الاستخلاف)
  • جنوری
1984
عبدالرحمن کیلانی
یہ تو خیر مستفسرین کے سوالوں کے جواب تھے۔ اب زیرِ بحث حدیث کی طرف آئیے۔ جو یہ کہتی ہے کہ مردہ اگر سلام کہنے والے کو پہچانتا ہے تو جوابا س پر سلام ہی کہتا ہے اور اگر نہیں پہچانتا تو صرف اسے لوٹا دیتا ہے اور اسی طرح بعض دوسری روایتوں میں یوں بھی ہے کہ مردہ اپنے واقف کے آنے سے خوش ہوتا ہے اور اس کے بار بار آنے جانے سے مانوس ہو جاتا ہے۔
  • جنوری
1985
عبدالرحمن کیلانی
قبر کے عام مفہوم پر عثمانی صاحب کے اعتراضات:

قبر سے مراد یہ زمینی گڑھا لینے پر عثمانی صاحب اور اسی طرح موجودہ دور کے بعض دیگر لوگوں کو مندرجہ ذیل قسم کے اعتراضات ہیں۔

1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغیچہ ہوتا ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا
  • مارچ
  • اگست
1981
عبدالرحمن کیلانی
۱۹۷۰؁ء میں ہمارے ملک پاکستان میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جو انتخابات ہوئے اس میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس پارٹی کے مقبول ترین نعرہ کے اجزاء درج ذیل تھے:

1. اسلام ہمارا دین ہے۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
ہمارے ملک پاکستان میں یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جو انتخابات ہوئے اس میں پیپلز پارٹی نے بھرپور حصہ لیا تھا۔ اس پارٹی کے مقبول ترین نعرہ کے اجزاء درج ذیل تھے: 
$11.      اسلام ہمارا دین ہے۔ 
$12.      سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ 
$13.      جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ 
$14.      طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ 
عوام میں دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہ نعرہ خاصا مقبول ہو گیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس نعرہ کے تمام اجزاء ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور ہر ایک جزو دوسرے جزو کو حاصل قرار دیتا ہے۔ 
اس بات پر تو سب مسلمان متفق ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے لہٰذا اسے سیاست اور معیشت کے لئے دوسرے نظاموں سے کچھ مستعار لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ بالفاظ دیگر اگر ہمارا دین فی الواقعہ سوشلزم  اور مغربی جمہوریت کا محتاج ہے تو پھر ہمیں یہ اعتراف کر لینا چاہئے کہ ہمارا دین نامکمل ہے۔ 
پھر جس طرح اسلام ایک دین یعنی مکمل ضابطۂ حیات ہے اسی طرح سوشلزم کا دائرہ بھی معیشت تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دنیاوی عقائد اور سیاست کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گویا سوشلزم بھی بذاتِ خود ایک دین ہے۔ ان دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اوّل الذکر کی بنیاد خدا کی حاکمیت اور آخرت میں اعمال کے جزا و سزا کے عقیدہ پر اٹھتی ہے۔ جب کہ ثانی الذکر ان عقائد کا یکسر منکر ہے۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز یہاں نہیں ملتی۔ مصلحتِ وقت اور حالات سے زیادہ سے فائدہ اُٹھانا ہی ان کے نزدیک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
عبدالرحمن کیلانی
(غیر مطبوعہ تفسیر تیسیر القرآن سے انتخاب)
مولانا کیلانی ؒ محدث کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے۔ ۱۸ ؍دسمبر ۱۹۹۵ء ؁کو عشاء کی نماز میں عین سجدہ کی حالت میں آپ کی وفات سے محدث میں آپ کے قیمتی تحقیقی مضامین کی اشاعت کا یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اللہم اغفرلہ وارحمہ!
  • جنوری
2002
عبدالرحمن کیلانی
'توحید'کا لغوی معنی کسی چیز کوایک بنانا اور اس کا شرعی مفہوم، اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات وصفات میں یکتا سمجھنا ہے۔ توحید کی ضد الإشراک باللہ یعنی اللہ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو بھی حصہ دار سمجھنا ہے۔ 'الاشراک باللہ' کو مختصر الفاظ میں 'شرک'بھی کہا جاتاہے۔ توحید کے اثبات سے شرک کا ردّ از خود ہوجاتا ہے۔ شرک کی جملہ اقسام سے اجتناب سے ہی عقیدئہ توحید میں پختگی اور استحکام پیداہوتا ہے۔
  • مارچ
2002
عبدالرحمن کیلانی
جن بھی فرشتوں کی طرح ایک غیر مرئی مخلوق ہے جو آگ سے پیدا کی گئی۔ انسان کی پیدائش سے پہلے یہی مخلوق اس زمین پر آباد تھی۔ یہ مخلوق بھی انسان کی طرح عقل و شعور اور اختیار و ارادہ رکھتی ہے اور اسی طرح شریعت کی مکلف ہے جس طرح انسان۔ ان میں نبوت کا سلسلہ جاری تھا جو انسان کی پیدائش کے بعد بنی نوع انسان میں ہی محدود ہوگیا۔
  • اپریل
1982
عبدالرحمن کیلانی
نو تشکیل شدہ اسلامی نظریاتی کونسل نے صدرِ مملکت کے استصواب پر مورخہ 13 جون سئہ 1981ء کو "اسلامی نظامِ مملکت متعلقہ عام انتخابات" پر غور کیا اور اس سلسلے میں وقتا فوقتا کونسل کے جو اجلاس منعقد ہوئے، ان میں اس موضوع پر تفصیلی اظہارِ خیال کے بعد بعض مقدمات بطور راہنما اصول طے کئے گئے ۔۔۔ بعد ازاں اس سلسلہ میں حسب ذیل سوالات مرتب کیے گئے:
  • اگست
1982
عبدالرحمن کیلانی
ماہنامہ محدث بابت جنوری فروری1981ء میں '' جمہوریت یا اسلام'' کے عنوان سے ایک طویل مقالہ شائع ہوا تھا، جس پر ادارہ طلوعِ اسلام نے ماہنامہ '' طلوعِ اسلام'' اکتوبر 1981ء میں مبسوط تبصرہ شائع کیا ہے ۔ مقالہ مذکور کے عنوان ہی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ موجودہ مغربی جمہوریت اور اسلام کا سیاسی نظام ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ لہذا ان میں سے کسی ایک ہی کو اختیار کیا جاسکتا ہے اور اسی بات کے اثبات میں بہت سے عقلی ونقلی دلائل پیش کیے گئے تھے۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
عبدالرحمن کیلانی
آپ ﷺ کا اسم گرامی:

آنحضور ﷺ کے بہت سے اسمائے گرامی قرآن کریم و کتب حدیث میں مذکور ہیں مگر آپ ﷺ کے ذاتی نام دو ہیں۔ محمد ﷺ اور احمد اور یہ دونوں ہی آپ ﷺ کے علوئے مرتبت و عظمتِ مقام کی دلیل ہیں۔ سورۂ فتح میں آپ ﷺ کا نام محمد بتایا گیا ہے۔
  • دسمبر
1978
عبدالرحمن کیلانی
فاضل مضمون نگار نے ''غیر سُودی معیشت کا ایک اجمالی خاکہ'' کے عنوان سے ایک کتاب تحریرفرمائی ہے۔ یہ مضمون دراصل اسی کتاب کا ایک باب ہے، جس میں چند وہ باتیں ذکر کی گئی ہیں، جن کی وجہ سے ''غیر سوُدی نظام معیشت'' برپا کرنے میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔

موصوف گو ماہر اقتصادیات ہیں نہ سرمایہ دار، تاہم وہ اسلامی جذبہ سے سرشار ہیں، اس لیے جتنا بن پڑتا ہے، کیے جارہے ہیں
  • مئی
1986
عبدالرحمن کیلانی
راولپنڈی سے عبدالمنان صاحب لکھتے ہیں:''چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں، اُمید ہے آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں میری اور میرے ساتھیوں کی تشفی فرمائیں گے۔سوالات یہ ہیں:(1) آیا حضرت عمرؓ نے فرمایاتھا: ''حسبنا کتاب اللہ؟'' ..... میرا ایمان ہے کہ قرآن مجید کو حدیث کے بغیر سمجھنا گمراہی ہے، پھر حضرت عمرؓ کےاس فرمان کاکیا مطلب ہے؟ (2)  منکرین حدیث نے سورة الکوثر میں ''وانحر'' کا مطلب ''سینہ پر ہاتھ 
  • جون
1987
عبدالرحمن کیلانی
لاہور سے جناب شفیق الرحمان لکھتے ہیں :''مکرمی ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!سبزیات ، فصلات و باغات کو تو انسانی فضلہ کی ''خوراک'' دےکر اس کا بدل، استحالہ(Metamorphism) بطور سبزی، اناج، پھل وغیرہ کھانا جائز ہے۔کیا اسی طرح سے : 1. ماکول اللحم جانوروں کو حرام و خبائث پر مشتمل خوراک کھلا کر ان کی پرورش کرنا، ان کی فربہی حاصل کرنا او رانہیں کھانا جائز ہے؟ پولٹری فارم میں استعمال ہونے والی پولٹری فیڈ
  • اگست
2000
عبدالرحمن کیلانی
قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا اور دنیا میں شاید عربی ہی ایک ایسی زبان ہے جو ترجمہ کے بغیر  پڑھائی جاتی ہے۔ بچہ جب پہلی جماعت سے انگریزی پڑھنا شروع  کرتا ہے  تو استاد اسے بتلاتا ہے:Aسے"APPLE"،"Apple"بمعنی سیب،اسی طرح فارسی پڑھنے والے بچے کو،آب، اور است ہی نہیں پڑھایا جاتا بلکہ یہ بھی بتلایا جاتاہے کہ آب بمعنی پانی اور است کے معنی ہے۔لیکن جو بچے عربی پڑھتے ہیں ،انہیں صرف الفاظ ہی پڑھائے جاتے ہیں۔ الفاظ کے معنی کاخیال کسی کو بھولے سے بھی نہیں آتا۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہے کہ قرآن کریم کا ناظرہ پڑھنا ہی باعث برکت ہے۔دلیل کے طور پر رسول ا للہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ ارشاد پیش کیاجاتاہے:
"قرآن کریم کے ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے اور ہر نیکی کا دس گنا اجرملے گا۔میں نہی کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے ل الگ حرف ہے اور م الگ حرف!"(ترمذی)
  • مارچ
2005
عبدالرحمن کیلانی
اسلام ميں داخل ہونے كے لئے كلمہ شہادت كا زبان سے اقرار كرنا ضرورى ہے- اس كلمہ كے دو اجزا ہيں يعنى أشهد أن لا إله إلا الله اور أشهد أن محمدًا رّسول الله اور اگر كوئى مسلمان بهى ان دونوں اجزا يا دونوں ميں سے كسى كا زبانى يا معنوى طور پر انكار كردے، يا اس سے ايسے اعمال سرزد ہوں جن سے اس كلمہ كے كسى جزو كى ترديد ہوتى ہو تو وہ شخص دائرئہ اسلام سے خارج سمجھاجائے گا-
 
  • اپریل
1985
عبدالرحمن کیلانی
مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب کے قرآن مجید سے انکار سماع سے متعلق دلائل اور ان کا تجزیہ
دلیل نمبر 1:
﴿والذين يدعون .......... ﴾ترجمہ ۔ ’’ اور جنہیں خدا کے سوا یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کر سکتے ۔ بلکہ وہ خود پیدا شدہ ہیں وہ لاشیں ہیں بےجان ۔
کیالنی صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اموات غیر احیاء کا اطلاق نہ جنوں پر ہو سکتا ہے نہ فرشتوں پر ....... باقی صرف فوت شدہ بزرگ رہ جاتے ہیں جن پر اس آیت کا اطلاق ہو سکتا ہے ۔
کیلانی صاحب کا اخذ کردہ یہ نتیجہ چند وجوہ کی بنا پر باطل ہے ۔ فوت شدہ بزرگوں میں انبیاء کرام ، صدیقین ، شہداء ، صالحین بھی داخل ہیں ۔ انبیاء کرام کی حیات قرآن و حدیث سے ثابت ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
﴿واسئل من ارسلنا من قبلك من رسلنا اجعلنا من دون الرحمن يعبدون ﴾(1) 
ترجمہ : وہ رسول و نبی جو ہم نے آپ سے پہلے مبعوث فرمائے ان سے پوچھ(9حوالہ) لیجئے کہ ہم نے ذات رحمن جل وعلی کے بغیر کئی معبود مقرر کیے ہیں جن کی عبادت کی جائے یقینا ایسا نہیں ۔
  • مارچ
1985
عبدالرحمن کیلانی
(سماع موتیٰ سے یکسر انکار کرنے والوں کےبعد اب سماع موتیٰ کے قائلین کی طرف سے اعتراضات کی باری آئی۔اس سلسلے میں چوہدری محمد علی صاحب حنفی(پکا ڈیرہ ورائچاں کوٹ رنجیت ضلع شیخو پورہ) کی طرف سے ادارہ محدث کے نام ایک طویل ترین خط موصول ہوا۔جو خط سے زیادہ مضمون کی حیثیت رکھتا ہے۔اور ساتھ ہی آخر میں یہ آرزو کی گئی ہے کہ:
"آخر میں میں اُمید کرتا ہوں کہ ادارہ"محدث" جو کتاب وسنت کی روشنی میں آزادانہ بحث وتحقیق کا حامی ہے تصویر کا دوسرا رخ بھی شائع کرنے کی زحمت گوارا کر ے گا۔تاکہ"محدث" کا مطالعہ کرنے والے حق وباطل کوخود پرکھ سکیں۔"
یہ خط یا مضمون فل سکیپ کے مکمل دس صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔تحریر گنجان ہے جو محدث کے کم وبیش 25 صفحات کا متقاضی ہے۔
  • مئی
1985
عبدالرحمن کیلانی
ثبوت سماع موتیٰ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے!
1۔سماع موتیٰ کے باب میں قلیب بدر والی حدیث مشہور ومعروف ہے۔جو حضرت عبداللہ ابن مسعود  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت عمر ابن خطاب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت ابو طلحہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت انس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت  عبداللہ ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  جیسے کبار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے مروی ہے۔ان کی روایات بخاری مسلم شریف میں موجود ہیں۔
2۔میت جوتیوں کی آہٹ کی آوازسنتا ہے۔یہ حدیث بھی سماع موتیٰ پر دلالت کرتی ہے یہ حضرت انس بن مالک  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  حضرت براء بن عازب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سےمروی ہے۔
3۔ترجمہ۔طبرانی نے اوسط میں عبداللہ ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے نقل کیا اور حاکم وبیہقی نے حضرت ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت کیا حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احد سے مراجعت فرماہوئے توحضرت مصعب ابن عمیر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور ان کے ساتھیوں کے مزارات پرتشریف لے گئے اور فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہو پر اپنے امتیوں صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  اور بعد میں آنے والوں کوحکم فرمایا کہ ان شہداء کرام کی زیارت کرو...
  • جون
1984
عبدالرحمن کیلانی
اس سلسلہ کی ابتداء یوں ہوئی ،جن دنوں وحدت الوجود،وحدت الشہور وغیرہ سے متعلق میرے مضامین، "ترجمان الحدیث" میں چھپ رہے تھے اور اُن میں ضمناً رُوح اور ہندوؤں کا مسئلہ تناسخ کا ذکر بھی آگیا۔تو ایک صاحب جناب غلام رسول صاحب نے روح اور تناسخ سے متعلق چند سوالات لکھ بھیجے جن کا جواب میں نے زرا تفصیل سے لکھا اور یہ جواب"الاستفتاء" کے عنوان کے تحت"ترجمان الحدیث" کی اشاعت ستمبر 1982ء میں چھپا۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
مشورہ اور اس کے متعلقات

قرآن کریم میں مسلمانوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے: 
﴿وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم ... ﴿٣٨﴾...الشورى
اور وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں۔ 
اور سورۂ آل عمران میں (جو جنگ اُحد میں نازل ہوئی تھی) حضور اکرم  کو یہ حکم دیا گیا کہ: 
﴿وَشاوِرهُم فِى الأَمرِ فَإِذا عَزَمتَ فَتَوَكَّل عَلَى اللَّـهِ ... ﴿١٥٩﴾...آل عمران
اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو اور جب کسی کام کا عزم کر لو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔ 
حضور اکرم ﷺ مکّی دور سے ہی مسلمانوں سے اکثر مشورہ کیا کرتے تھے۔ جنگ اُحد کے بعد دوبارہ اس لئے تاکید فرمائی گئی کہ جنگِ احد کے دوران مسلمانوں سے چند غلطیاں سرزد ہوئی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ان کی غلطیوں کو معاف کیجیے اور دل میں کوئی بات نہ لائیے بلکہ ان سے حسب دستور مشورہ کا عمل جاری رکھیے اور مشورہ کی اہمیت تو اسی بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ جس آیت میں مسلمانوں سے مشورہ کی صفت کو بیان کیا گیا ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1988
عبدالرحمن کیلانی
مشترکہ نکتہ 10: مسجدِ اقصیٰ سے مراد مدینہ طیبہ ہے

اثری صاحب کے وہ نکات جو پرویز صاحب نے "مسجدِ اقصیٰ" کے مضمون میں اکٹھے کئے، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ:

1۔ مدینہ کا ایک نام مسجدِ اقصیٰ بھی ہے۔
  • فروری
1988
عبدالرحمن کیلانی
نکتہ نمبر 6 مدینہ ہی مسجد اقصیٰ ہے:
بسلسلہ جنگ بدر سورۃ الانفال میں مذکورہ ’’العدوۃ الدنیا ‘‘ اور ’’العدوۃ القصویٰ‘‘ کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے اثری صاحب نے فرمایا ہے کہ:
’’بدر مکہ سے قصوٰی  ہوا او رجب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولی قصوٰی ٹھہرا اور  اس کی مسجد (نبوی) اقصیٰ ہوئی۔ بلکہ وفاء الوفاء ج1 ص16 میں مطالع وغیرہ کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے کہ مدینہ طیبہ کے ناموں میں سے ایک نام اس کا مسجد اقصیٰ بھی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ 43)
صفحہ مذکورہ پر لفظ قصوٰی کی وضاحت میں اثری صاحب نےدرج ذیل حاشیہ بھی تحریر فرمایا ہے:
’’عجیب بات ہے کہ جس اونٹنی پررسول اللہ ﷺ نے سفر ہجرت طےفرمایا، وہ مدینہ پہنچ  کر مسجد نبوی کی جگہ بحکم خداوندی بیٹھ گئی اور اس کا نام قصوٰی (قصواء) قرار  پایا۔ اسی قصواء پر حضورﷺ نے بڑے بڑے سفر طے فرمائے۔‘‘
اس اصول کی رُو سے ہمارےنزدیک ’’قصوٰی‘‘ اور ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ کی مزید تشریح یوں چلتی ہے: بدر مکہ سے قصوٰی ہو   اور جب یہ قصوٰی ہے تو مدینہ بالاولیٰ قصوٰی  ٹھہرا۔ اور بیت المقدس اس سےبھی زیادہ ’’بالاولیٰ قصوٰی‘‘ قرار پایا۔ کیونکہ بیت المقدس مدینہ سے  بھی زیادہ دور ہے۔ گویا اس دلیل کی رُو سے کہ اگر مدینہ کی مسجد نبوی، مدینہ کے قصوٰی ہونےکی وجہ سے اقصٰی ہے، تو بیت المقدس کی مسجد بالاولیٰ اقصٰی قرار پاتی ہے۔چنانچہ اثری صاحب کا یہ نکتہ بھی آپ کے خلاف ہی پڑتا ہے۔
  • جون
1981
عبدالرحمن کیلانی
سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو جماعت اسلامی نظامِ خلافت کا دعویٰ لے کر اُٹھتی ہے وہ خود کن صفات سے متصف ہونی چاہئے؟ اس کی وضاحت سورۂ شوریٰ کی مندرجہ ذیل آیات میں ملتی ہے جو مکی دور کے آخر میں نازل ہوئیں۔ ارشاد باری ہے: 
﴿وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِرونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَبِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَزَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِرونَ ﴿٣٩﴾...الشورى
اور جو خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے ان لوگوں کے لئے جو: 
$11.      ایمان لائے (یعنی اللہ، اس کے رسول اور یومِ حساب پر) 
$12.      اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ 
$13.      بڑے گناہوں اور بیحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں۔ 
$14.      جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں (آپس میں ایک دوسرے کو) 
$15.      اپنے رب کا فرمان قبول کرتے ہیں۔ 
$16.      نماز قائم کرتے ہیں۔ 
$17.      اپنے معاملات باہمی مشورہ سے[1] طے کرتے ہیں (جس میں امیر کا انتخاب بھی شامل ہے) 
$18.      جو مال ہم نے انہیں دیا اس میں خرچ کرتے ہیں (زکوٰۃ اور اس کے علاوہ بھی) 
$19.      جب ان پر ظلم و تعدّی ہو تو (مناسب طریقے سے) بدلہ لیتے ہیں (اغیار سے)
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن کیلانی
اگست 85ء کے شمارہ میں شاہ فاروق ہاشمی صاحب کے دو سوالات کے جوابات مدیر محدث حافظ عبد الرحمن مدنی کے قلم سے شائع ہوئے تھے ۔ اب ہاشمی صاحب کے بقیہ سوالات اور ان کے جوابات مولانا عبد الرحمن کیلانی کی طرف سے ہدیہ قارئین ہیں ۔ ( ادارہ )
ہاشمی صاحب لکھتے ہیں کہ :
3۔ تیسرا سوال یہ ہے کے موت کے بعد انسان کی روح کا مستقر جنت ہے یا دوزخ یا عالم برزخ ؟
بعض حضرات کا خیال ہے کہ موت کے بعد انسان اپنے اعمال کے مطابق روحانی طور پر جنت یا دوزخ میں چلا جاتا ہے ( قبر یا عالم برزخ میں نہیں جاتا ) ان کا استدلال درج ذیل آیات و احادیث سے ہے :
( الف )﴿ حَتَّىٰ إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوا أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ﴿٣٧﴾قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ﴾( الاعراف 37:38)
  • جولائی
1986
عبدالرحمن کیلانی
دور حاضر کے اہم مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ''مرد اور عورت ، مرتبہ و مقام کے لحاظ سے ہر میدان میں برابر ہیں اور اگر نہیں تو انہیں برابر ہونا چاہیے۔'' پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آج کا مہذب مرد، عورت کو ''نصف بہتر'' کے نام سے موسوم کرتا ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہو کہ آج کل حسن کے مقابلے تو صرف عورتوں ہی کے ہوتے ہیں۔لہٰذا مرد اس میدان میں عورت کی برابری کیونکر کرسکتے ہیں؟
  • اگست
1986
عبدالرحمن کیلانی
قرآن کریم میں سورة البقرة کی آیت 282 میں ایک مرد کےبجائے دو عورتوں کی شہادت کو قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی چونکہ عورتوں کے حقوق سے تعلق رکھتی ہے۔لہٰذا پرویز صاحب طاہرہ بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:''ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی شہادت عورتوں کےناقابل اعتماد یا ناقص العقل ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ (ڈاکٹر ہارڈنگ کی تحقیق کے مطابق) اگر ایک دائرے (یعنی جزئیات کی کماحقہ
  • جنوری
1988
عبدالرحمن کیلانی
تھوڑا عرصہ پیشتر مجھے ادارہ "الاعتصام" کی وساطت سے ایک خط، جناب نذیر احمد صاحب بٹ (صدر مرکزِ تحقیق مسیحیت، 15-اے رحیم سٹریٹ نمبر 58 محلہ سردار پورہ، اچھرہ، لاہور) کا لکھا ہوا موصول ہوا۔ موصوف نے لکھا ہے کہ:

"مجھے "طلوعِ اسلام" لاہور کے ماہ جون سئہ1983ء کے شمارہ میں شائع شدہ مضمون "معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم" کا اسلامی نقطہ نظر سے جواب درکار ہے۔
  • فروری
1987
عبدالرحمن کیلانی
جناب ایس۔ایم ۔رضا شاہ (44 راوی بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور) نے ایک طویل خط ادارہ محدث کوارسال کیا ہے۔لکھتے ہیں:''السلام علیکم! آپ کے مؤقر ماہنامہ محدث (ستمبر، اکتوبر 1986ء) میں ''نکاح و طلاق وغیرہ کے چند مسائل'' کے عنوان کے تحت مولانا سعید مجتبیٰ السعیدی نے ایک سوال کہ ''بلوغت سے قبل جو نکاح کیا جائے، کیا یہ نکاح شرعی طو رپر جائز ہوگا یا نہیں؟'' کے جواب میں فرمایا ہے کہ ''صغر سنی میں بلوغت سے
  • مئی
  • جون
1979
عبدالرحمن کیلانی
پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق لائق صد تحسین ہیں۔ جنہوں نے 12 ربیع الاوّل1399ھ کو اسلامی تعزیرات اور نظام زکوٰۃ و عشر اور چند دوسرے اقدامات کےنفاذ کا اعلان کرکے قوم کی ایک دیرینہ آرزو کو پورا کردیا اور جس بات کے لیے اہالیان پاکستان تیس سال سےبے قرار تھے۔ اس مرد مومن نے عملی اقدامات کرکے پوری قوم کی دعائیں حاصل کیں۔
  • اکتوبر
1982
عبدالرحمن کیلانی
کسی چیز کےبتدریج آگے بڑھنے کانام ارتقاء ہے۔انسان کا بچہ عمر کےساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ا س کاجسمانی ارتقاء ہے، پھر وہ تعلیم کی طرف آتا ہے،پہلی جماعت میں بیٹھتا ہےاورآہستہ آستہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرتاہے۔یہ اس کاعلمی ارتقاء ہے۔کسی انسانی ذہن نےپہیہ کی ساخت اوراس کےفوائد پرغور کیا پھر اسےعملی شکل دی ، توآج انسان نےمحیر العقول مشینیں ایجاد کرلی ہیں ، یہ انسان کا ذہنی ارتقاء ہے۔
ارتقاء کا یہ قانون صرف انسان میں نہیں بلکہ تمام موجودات میں پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نےآسمان دودنوں ( periods ) میں ننائے اس کےبعد چاردنوں میں زمین اوراس میں بالیدگی کی قوتوں کوبنا یا اس سے ارتقاء کاقانون واضح پرثابت ہے۔
پھریہ بات بھی ہمارے مشاہدہ میں آچکی ہےکہ ان قدرتی قوانین میں کچھ نہ کچھ مستثنیات بھی آجاتےہیں مثلاً تمام مائعات کی یہ خاصیت ہےکہ وہ جم کریاٹھوس شکل اختیار کرکےسکڑ جاتےہیں اور یاان کا حجم کم ہوجاتا ہےلیکن پانی جم کر پھیل جاتا ہے۔یہ اس تمام قانون سےمستثنیٰ ہوا۔ پھرہم یہ بھی دیکھتےہیں کہ بالکل صحیح عقل وحواس اورذہن رکھنے والے میاں بیوی کےہاں بلید الذہن بچہ پیداہوجاتاہ ے۔یہ ارتقاء کےعام قانون قدرت سےمستثنیٰ ہوا۔
  • جنوری
1983
عبدالرحمن کیلانی
3۔ تیسری آیت یہ ہے:''وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارً‌ا ﴿١٤...سورۃ نوح''(1) ''حالانکہ اسی نے تم کو مختلف حالات میں پیدا کیاہے۔'' 1(2) ''حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح (کی حالتوں) میں پیدا کیا ہے۔'' 2(3) ''حالانکہ اس نے تم کو طرح طرح سے بنایا ہے۔''3.........اور اس سے مولانا مودودی نے وہی تخلیقی مراحل مراد لیے ہیں جو رحم مادر میں ہوتے ہیں۔پرویز صاحب اس آیت سے ارتقائے زندگی کے مراحل مراد لیتے ہیں۔ لیکن کوئی
  • نومبر
1982
عبدالرحمن کیلانی
3۔تیسری آیت یہ ہے:

﴿وَقَد خَلَقَكُم أَطوارً‌ا ﴿١٤﴾... سورة نوح

(1)حالانکہ اس نےتم سب کومختلف حالات میں پیدا کیا ہے( تفسیر ثنائی)
  • اکتوبر
1984
عبدالرحمن کیلانی
زندگی پُر بہار ہوجائے
ہر نظر لالہ زار ہوجائے
ناطقہ دل کا ترجمان بنے
  • مئی
1987
عبدالرحمن کیلانی
مولانا منظور احمد سلفی میرپور خاص سےلکھتے ہیں:درج ذیل سوالات کے جوابات کتاب و سنت کی روشنی میں لکھ کرعنداللہ ماجور ہوں۔ 1. ''کیا نماز تراویح رسول اللہ ﷺ سے مہینہ بھر پڑھنا ثابت ہے؟ 2. اگر آپؐ سے پڑھنا ثابت نہیں ہے (سوائے تیندنکے) تو ہم مہینہ بھر کیوں پڑھتے ہیں؟ 3. کیامہینہ بھر پڑھنے کا حکم حضرت عمر فاروقؓ نے دیاہے؟اگر یہ حکم عمر فاروقؓ کا ہے، تو کیاآپؓ بھی اس پر تاحیات قائم رہے یااس مسئلہ سے آپؓ
  • اگست
1984
عبدالرحمن کیلانی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس جہاں سے رحلت فرمائی تو عرب کا تقریباً تمام علاقہ اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو افراد اسلام قبول کرچکے تھے ان کی تعداد چار لاکھ بیان کی جاتی ہے ۔لیکن ایسے مسلمان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یافتہ ہوئے ایسے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ اصحاب رضوان اللہ عنھم اجمعین جن سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہیں۔
  • اگست
1984
عبدالرحمن کیلانی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس جہاں سے رحلت فرمائی تو عرب کا تقریباً تمام علاقہ اسلام کے زیر نگیں آچکا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جو افراد اسلام قبول کرچکے تھے ان کی تعداد چار لاکھ بیان کی جاتی ہے ۔لیکن ایسے مسلمان جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یافتہ ہوئے ایسے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی تعداد سوا لاکھ کے لگ بھگ ہے اور وہ اصحاب رضوان اللہ عنھم اجمعین جن سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہیں۔
  • اکتوبر
1984
عبدالرحمن کیلانی
نقدِ حدیث کے معیار:

لیکن بعد میں آنے والے ادوار میں جبکہ موضوعات کی گرم بازاری اور بڑھی تو یہ بنیادی اصول ناکافی ثابت ہوئے۔اب علمائے حق نے ان اباطیل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسے ایسے طریق دریافت کر لئے جنہیں استعمال کرنے سے موضوع حدیث الگ ہو کر سامنے آجاتی تھی۔
  • جنوری
  • فروری
1980
عبدالرحمن کیلانی
16 اکتوبر 1979 ء کو صدر پاکستان نے تمام  سیاسی  پارٹیوں کو  کالعدم قرار دے کر اور انتخابات کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر کے ایک دفعہ  پھر ملک و قوم کو تباہی سے بچا لیا ہے ۔ ہم اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں اور جہاں تک ہمارا مطالعہ ہے عوام کی اکثریت صدر موصوف  کے اس فیصلے پر نہایت خوش اور تہ دل سے مشکور ہے ۔
ویسے تو مغربی جمہوری نظام کا یہ خاصہ ہے کہ اس کے زیر سایہ بہت  سی سیاسی جماعتیں معرض وجود میں آجاتی ہیں ،لیکن  پاکستان کی سر زمین اس معاملے میں ضرورت سے کچھ  زیادہ ہی زرخیز ثابت ہوئی ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ جب انتخابات کے انعقاد کا دور دورہ ہو تو کئی نئی جماعتیں  اس سرعت  سے نمودار ہونے لگتی ہیں ۔ جیسے  موسم برسات میں ’’حشرات الارض    ‘‘ جولائی 1977 ء میں جب موجودہ حکومت  نے عنان حکومت  سنبھالی تو اس وقت صدر موصوف کے بیان کے مطابق ان جماعتوں کی تعداد 46 کے لگ بھگ تھی ۔ظاہر ہے کہ کسی ملک میں سیاسی جماعتوں کی اتنی بڑی تعداد کبھی خوشگوار  نتائج پیدا نہیں کر سکتی  لہذا صدر موصوف نے کئی بار  انتباہ کیا کہ ان جماعتوں کی اتنی بڑی تعداد قوم و ملک کے لئے تباہ کن ہے
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
عبدالرحمن کیلانی
1977ء میں قومی اتحاد نے نظام مصطفیٰ کے نام پر جو تحریک چلائی، عوام نے اس تحریک کو اپنے خون سے سینچا او رپروان چڑھایا۔ بالآخر یہ تحریک اللہ کے فضل و احسان سے بار آور ہوئی اور مسلمانوں کوان کی توقعات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے انعامات سے نوازا۔اس وقت قائدین تحریک کے دو مطالبات تھے۔اسلامی نظام کا نفاذ اور سابقہ بوگس انتخابات کےبجائے دوبارہ انتخابات کا انعقاد۔ تحریک کو شاندار کامیابی نصیب ہوئی۔
  • جولائی
1996
عبدالرحمن کیلانی
افق علم  کا اک اور ستارا ٹوٹا          وہ کہ روشن  رہا عرفان کے ایوانوں میں
میں سمجھتا ہوں کہ وہ طائر نغمہ پردازجا کے شامل ہوا طوبیٰ کے ثنا خوانوں میں
مرد خوش فکر وخوش اخلاق وہ عبدالرحمان پاک دل پاک زباں پاک نظر کیلانی
اخ واب اس کے سبھی  متقی ونیک نہاد رحمت حق سے ہیں احفاد ہمہ حقانی
وہ شہید رہ عرفان ومعارف،جس کا اوڑھنا اور بچھونا رہا قرطاس وقلم
جس کی راتوں پہ رہی نور فگن وحی وکتاب جس کی صبحوں  پہ  گری رحمت حق کی شبنم
خازن دولت دیں،کنز معارف کا امیں اس کے مخزن سے جو نکلا زر وگوہر نکلا
تربیت گاہ سے اس کی ملا فیضان جسے علم وعرفاں ک سمندر کا شناور نکلا
  • جولائی
1996
عبدالرحمن کیلانی
حصہ اول:۔اس حصے میں ایسے عقائد ونظریات کا ذکر ہے جن میں کم از کم نا کی حد تک مسلمانوں اور اسماعیلیوں میں اشتراکیت موجود ہے۔
الف:ارکان اسلام۔۔۔۔۔۔۔1۔کلمہ ء شہادت
اسلام میں داخل ہونے کے لئے کلمہ شہادت کازبان سے اقرار کرنا ضروری ہے ۔اس کلمہ ک دو اجزاء ہیں۔یعنی اشهد ان لا اله الا الله اوراشهد ان محمد رسول الله اور اگر کوئی مسلمان بھی ان دونوں اجزاء یا دونوں میں سے کسی کا زبانی یا معنوی طور پر انکار کردے،یا اس سے ایسے اعمال سرزد ہوں جن سے اس کلمہ کے کسی جزو کی تردید ہوتی ہو تووہ شخص دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔قادیانیوں نے اس کلمہ کے دوسرے جزو کا معنوی طور پر انکار کیا۔یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رسالت کو تا قیامت واجب الاتباع تسلیم کرتے ہوئے ایک اور"نبی کی نبوت" کو تسلیم کرلیا تو پاکستان کی عدالت عالیہ نے اس فرقہ کو1975ء میں غیر مسلم قرار دے دیا تھا۔
تمام اہل سنت کے برعکس اسماعیلیہ فرقہ کے کلمہ شہادت کے اجزا دو نہیں بلکہ تین ہیں:
اشهد ان لا اله الا الله اشهد ان محمد رسول الله واشهدان امير المومنين علي الله(1)
علاوہ ازیں ان کے ہاں  پہلے دو اجزاء (جو سب مسلمانوں میں مشترک ہیں) کا بھی وہ مفہوم نہیں۔جو دوسرے مسلمانوں کے ہاں پایا جاتاہے۔کلمہ کے پہلے جزء لا اله الا الله کا  عام مفہوم یہ ہے کے اللہ کے سوا کوئی معبود یا عبادت کے لائق نہیں۔اگرچہ بعض مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات الوہیت یعنی مشکل کشائی اور حاجت روائی وغیرہ میں اپنے زندہ یا فوت شدہ بزرگوں اور پیروں کو بھی شامل کرلیا تاہم غیر اللہ کو سجدہ کرنا ایسا عمل ہے جسے مسلمانوں کے تمام فرقے حرام سمجھتے ہیں مگر اسماعیلی اپنے حاضر امام کو سجدہکرتے اور اس کام کو کارثواب اور اصل عبادت سمجھتے ہیں۔درج ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:
1۔اس دنیا میں جو مومن پہلے تھے اور جو مومن  اس وقت ہیں اور جو آئندہ ہوں گے سب مومن "شاہ پیر"(2) کی عبادت کرتے تھے،کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
2۔"پیر شاہ ہمارے گناہ بخش دیتے ہیں۔۔۔امام حاضر کو ہم "پیر شاہ" کہتے ہیں(3)
  • اگست
  • ستمبر
1978
عبدالرحمن کیلانی
سن ہجری قمری ماہ و سال سے تعلق رکھتا ہے اور حضور اکرمﷺ کے ہجرت کے سال سے شمار ہونے کی وجہ سے مسلمانوں سے خاص نسبت رکھتا ہے۔ قمری مہینہ کے ایام میں تبدیلی ناممکن ہے۔ یہ مہینہ یا تو 29 دن کا ہوتا ہے یا 30 دن کا۔ گویا مہینہ کے ایام میں کم سے کم تفاوت ہے۔ 29 دن کے مہینہ کو کسی بھی وضعی یا اختراعی طریقہ سے 30 دن کا نہیں بنایاجاسکتا۔ نہ 30 دن والےمہینہ کو 29 دن کےمہینہ میں تبدیل کیاجاسکتاہے۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
عبدالرحمن کیلانی
قمری مہینہ اور سال کی مدت

چاند جب زمین کے گرد اپنا ایک چکر ختم کرتا ہے تو یہ مدت قمری مہینہ کہلاتی ہے ۔ چاند کی تین قسم کی حرکات ہیں(1) اپنے محور کے گرد (2) زمین کے گرد اور (3) زمین کی معیت میں سورج کے گرد۔
  • فروری
1982
محمد بن اسماعیل
جرمِ قتلِ عمد سے متعلق نصوصِ شرعیہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

1 .﴿ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾... سورةالنساء
  • جنوری
1982
محمد ابراہیم الہویش
حکومتِ سعودی عرب کو شریعتِ اسلامی کے نتیجہ میں امن و استحکام کی جو نعمت حاصل ہوئی ہے، اس کی مثال پوری دنیا میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ جو شخص اس مملکت کے محلِ وقوع سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ اس مملکت کے اجزاء بکھرے ہوئے ہیں، بلکہ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ اس کے شہروں میں ربط و نظم کا سلسلہ تقریبا ناممکن تھا اور موجودہِ رسل و رسائل کے وسائل مفقود تھے ۔۔۔ علاوہ ازیں یہاں کے عربی قبائل، کہ جاہلی عصبیت اور انتقام وغیرہ کبھی جن کا طرہ امتیاز تھا، اب بھی ان عادات سے متاثر ہیں۔۔۔ ان حالات کو دیکھئے اور اس خطہ کے پر امن موحول کو دیکھئے تو معلوم ہو گا کہ اس مملکت پر اللہ رب العزت کا یہ فضل و احسان محض اس وجہ سے ہے کہ یہاں کی حکومت نے سیست و انتظام، احوالِ شخصی، مالی معاملات اور معاشرتی تعلقات وغیرہ، غرضیکہ ہر پہلو سے شریعتِ اسلامیہ سے تطبیق کی پوری کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور یہاں کا ہر باشندہ امن و سکون کی دولت سے مالا مال اور اپنی جان، مال اور عزت کو پوری طرح محفوظ سمجھتا ہے۔