• جنوری
1989
صدیق حسن خان
﴿وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ إِنّى جاعِلٌ فِى الأَر‌ضِ خَليفَةً قالوا أَتَجعَلُ فيها مَن يُفسِدُ فيها وَيَسفِكُ الدِّماءَ وَنَحنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قالَ إِنّى أَعلَمُ ما لا تَعلَمونَ ﴿٣٠﴾... سورةالبقرة

"اور وہ وقت یاد کیجئے جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں ۔انھوں نے کہا کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔اللہ نے فرمایا،میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔"
  • اگست
  • ستمبر
1989
صدیق حسن خان
تذکیر قصص القرآن:

(ف) قرآن مجید میں مخلوقات کے عجائب کا علم ،ملکوت ارض وسماوات کا علم،اس چیز کا علم جو آسمان وتحت الثریٰ میں ہے۔خلق کے آغاذ کا علم،مشاہیرانبیاءؑ ورسلؑ اور ملائکہ کا نام اور گزشتہ امتوں کے احوال کا ذکر موجود ہے۔مثلا ً حضرت آدمؑ کاابلیس کے ساتھ جنت سے نکلنا،اولاد کا نام عبدالحارث رکھنا،حضرت ادریسؑ کا آسمان پر اٹھایا جانا۔نوح ؑ کی قوم کا غرق ہونا۔
  • جنوری
1995
صدیق حسن خان
آیت نمبر :125، "اور وہ وقت یاد کیجئے جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہو نے اور جائے امن مقرر کیا اور حکم دیا کہ جس مقام پر ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے اس کو نماز کی جگہ بنا لو ۔۔۔۔
  • فروری
1990
صدیق حسن خان
مسائل آمین:

سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہنا مشروع ومستحب ہے۔آمین کے معنیٰ ہیں"اے اللہ ہم سے قبول کر" اس دعا کو منزل مقصودتک پہنچا۔وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب"ولاالضالین" کہا،تو میں نے سُنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "آمین کہی۔اور آواز لمبی کی۔
  • مارچ
1990
صدیق حسن خان
﴿الَّذينَ يُؤمِنونَ بِالغَيبِ﴾

"ترجمہ:۔جو غیب پرایمان لاتے ہیں۔

یہ متقین کی صفت ہے کہ وہ غیب کی بات پر ایمان لاتے ہیں ایمان کہتے ہیں تصدیق کو یعنی دل سے کسی بات کو سچ اور برحق ماننا۔کسی نے کہا یہاں ایمان کے معنیٰ ڈر ہیں۔ابن جریرؒ نے کہا اولیٰ یہ ہے۔کہ وہ لوگ ایمان بالغیب کےساتھ قول،اعتقاد اور عمل سے متصف ہیں۔
  • جنوری
1990
صدیق حسن خان
اللہ کے بغیر دنیا میں کو ئی ما لک و مختار نہیں جو غیر اللہ کو مالک کہتے ہیں یہ کہنا مجازاًہے ۔یہ مجاز قرآن پاک میں بھی آیا ہے ۔

﴿إِنَّ اللَّهَ قَد بَعَثَ لَكُم طالوتَ مَلِكًا... ﴿٢٤٧﴾... سورةالبقرة

"اللہ نے تم پر طالو ت کو بادشاہ مقرر فر ما یا ہے ۔
  • اکتوبر
1992
صدیق حسن خان
مجھ ہی سے ڈرو:۔

"مجھ ہی سے ڈرو" یہ حکم اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کو توڑ دو گے تو وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ان سزاؤں سے مراد وہ تمام آفات اور مصائب ہیں جو عہد شکنی کے جرم میں ان کےآباؤاجداد پر نازل ہوئیں ان میں صورتوں کامسخ(بگاڑ) ہونا بھی شامل ہے۔"
  • اگست
1993
صدیق حسن خان
﴿وَإِذ أَخَذنا ميثـٰقَكُم لا تَسفِكونَ دِماءَكُم وَلا تُخرِ‌جونَ أَنفُسَكُم مِن دِيـٰرِ‌كُم ثُمَّ أَقرَ‌ر‌تُم وَأَنتُم تَشهَدونَ ﴿٨٤﴾... سورة البقرة

"اورجب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت وخون نہ کرنا اور اپنے آ آپ کو اپنے وطن سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار بھی کرلیا اور تم اس پر گواہ ہو۔"

﴿ثُمَّ أَنتُم هـٰؤُلاءِ تَقتُلونَ أَنفُسَكُم وَتُخرِ‌جونَ فَر‌يقًا مِنكُم مِن دِيـٰرِ‌هِم تَظـٰهَر‌ونَ عَلَيهِم بِالإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ وَإِن يَأتوكُم أُسـٰر‌ىٰ تُفـٰدوهُم وَهُوَ مُحَرَّ‌مٌ عَلَيكُم إِخر‌اجُهُم أَفَتُؤمِنونَ بِبَعضِ الكِتـٰبِ وَتَكفُر‌ونَ بِبَعضٍ فَما جَزاءُ مَن يَفعَلُ ذ‌ٰلِكَ مِنكُم إِلّا خِزىٌ فِى الحَيو‌ٰةِ الدُّنيا وَيَومَ القِيـٰمَةِ يُرَ‌دّونَ إِلىٰ أَشَدِّ العَذابِ وَمَا اللَّهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٨٥﴾... سورة البقرة
  • جون
1989
صدیق حسن خان
«بِسمِ اللَّهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ.الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ.الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ.مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ.إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ. والصلوة والسلام على عبده ورسوله محمد سيد المرسلين وخاتم النبيين وعلى اله واصحابه ومن تبعهم بالاحان اجمعين اكتعين ابصعين»

ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے پروردیگار اور اپنے معبود کو پہچانے اس کی صفتوں کو جانے اس کے احکام معلوم کرے۔
  • اکتوبر
1989
صدیق حسن خان
سورۃا لفا تحہ

نام:

حدیث ابوہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں آیا ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا
  • اکتوبر
1994
صدیق حسن خان
﴿وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّـهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ ﴿١١٨﴾...البقرة
"اور جولوگ کچھ نہیں جانتے(مشرکین) وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے گفتگو کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔اس طرح ان سے پہلے لوگ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ان لوگوں کے  دل آپس میں ملتے جلتے ہیں،جولوگ صاحب یقین ہیں ان کے لئے ہم نے نشانیاں بیان کردی ہیں۔"
تشریح:۔
یہاں پہلے لوگوں سے مراد یہودی ہیں،وہ لوگ بھی اپنے نبی  علیہ السلام  سے یہی کہتے تھے جو مشرکین مکہ کہہ رہے ہیں۔ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے  فرمایا:رافع بن حرملہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !اگر آپ اللہ کے رسول ہیں جیسا کہ آپ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ سے کہیں کہ وہ ہم سے باتیں کرے،ہم اس کی گفتگو کو سُنیں اس پر آیت نازل ہوئی۔
  • جولائی
1995
صدیق حسن خان
آیت نمبر۔137،138۔
﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ ۖ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّـهُ ۚ وَهُوَالسَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾﴿صِبْغَةَ اللَّـهِ ۖ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ صِبْغَةً ۖ وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ﴾...البقرة
" اگر وه تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منھ موڑیں تو وه صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالی ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا اور وه خوب سننے اور جاننے والا ہے(137) اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ سے اچھا رنگ کس کا ہوگا؟ ہم تو اسی کی عبادت کرنے والے ہیں”
  • دسمبر
1989
صدیق حسن خان
مرفوعاً یوں  آیا ہے کہ"وہ پھول کر گھر کے برابر ہوجاتاہے۔؟بسم اللہ کہنے سے ایک مکھی کی مانند چھوٹا ہوجاتا ہے یہ تاثیر بسم اللہ کی برکت ہے۔
ابن کثیر ؒ کہتے ہیں "اسی لئے ہر کام اور ہر بات سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب ہے جیسے کتاب کے دیباچے سے پہلے ،بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے اوروضو سے پہلے،بعض علماء کے نزدیک وضو سے پہلے "بسم اللہ " کہنا واجب ہے۔اسی طرح ذبحہ کے وقت کھانے سے پہلے ،جماع سے پہلے بسم اللہ کہنا مستحب یاواجب ہے۔اس باب میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں۔
حدیث ابو ہریرۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  میں مرفوعاًآیا ہے۔اللہ کے نناوے نام  ہیں،جس نے انھیں یاد کرلیا وہ جنت میں جائےگا۔(بخاری ومسلم)
  • مئی
1990
صدیق حسن خان
﴿ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ﴿١٦﴾...البقرة
ترجمہ:۔یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی تو نہ تو  ان کی  تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے۔"
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کی ایک جماعت نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ گمراہی لے لی۔اور ہدایت چھوڑ دی۔ابن عباس  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا ایمان دے کر  کفر خرید لیا۔مجاہد ؒ نے فرمایا ایمان لانے کے بعد کافر ہوئے ،قتادہ  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ  نے فرمایا۔انہوں نے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی۔جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔
ترجمہ"۔اور جو ثمود تھے ان کوہم نے سیدھا  رستہ دکھایا تھا مگر  انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا رہنا پسند کیا۔
  • جولائی
1990
صدیق حسن خان
ابن کثیرؒ کہتے ہیں ۔یہ آیت تو حید باری تعا لیٰ پر دلیل ہے کہ اُس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے ۔صرف اُس کی عبادت لازم ہے مفسریننے اس آیت سے باری تعا لیٰ کے وجود پر استدلال کیا ہے جس طرح یہ آیت وجود باری تعا لیٰ پر دال ہے ۔اُسی طرح یہ آیت تو حید عبادت پر بھی بطریق اَولیٰ دلیل ہے کیونکہ جو آدمیان موجود ات سفلیہ اور عُلویہ اور لوگوں کی صورتوں اور رنگوں طبائع اور منافع کے اختلاف میں غور کرے گا تو اُسے پتہ چلے گا ان منافع کو کس عمدہ طریقے سے اس مقام اور منصب پر رکھا گیا ہے تو ضروری طور پر وہ ان سب کے خالق کی قدرت و حکمت علم و اتفاق اور عظمت و شان کو جان لے گا ۔
  • اپریل
1992
صدیق حسن خان
جن یا فرشتہ؟؟؟
جہاں یہ فرمایا:۔﴿كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ... ﴿٥٠﴾...الكهف
ترجمہ:۔ "وہ جنات میں سے تھا اپنے رب کی حکم عدولی کا مرتکب ہوا۔"
چنانچہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ابلیس کا اس حکم عدولی سے پہلے فرشتے میں شمار ہوتا تھا۔"عزازیل" نام تھا۔زمین پر رہتا تھا اور نہ صرف سب سے زیادہ علم رکھتا تھا۔بلکہ سب سے زیادہ عابد بھی تھا۔انہیں خوبیوں کے گھمنڈ میں اس نے تکبر کیا۔مگر یہ بات طے ہے کہ اس کا تعلق جنات سے تھا۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اس کا پہلا نام عزازیل تھا۔فرشتوں میں معزز تھا۔چار پر ر کھتا تھا۔ بعد میں ابلیس کہلایا۔تیسری روایت یہ ہے کہ آسمان وزمین کی بادشاہت اورسیاوت کا مالک تھا۔لیکن معصیت کی پاداش میں اللہ نے اسے مسخ کرکے شیطان رجیم قرار دے دیا۔۔۔
  • نومبر
1994
صدیق حسن خان
﴿اَلَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ ... ﴿١٢١﴾...البقرة
جنہیں کتاب دی گئی ہے وہ یہود و نصاریٰ ہیں ابن زید ابن جریر نے اس کو اختیار کیا ہے قتادہ نے کہا :اس سے مراد صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  ہیں حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ  نے فر ما یا :حق تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ جب جنت کا ذکر آتا ہے تو جنت کا سوال کرتے ہیں اور جب جہنم کا ذکر آتا ہے تو پناہ مانگتے ہیں ۔رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے یہ بات مرفوعاً ثابت ہے کہ جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  رحمت کی آیت تلاوت فر ما تے تو اللہ سے رحمت کا سوال کرتے اور جب عذاب کی آیت پڑھتے تو اللہ سے پناہ مانگتے ۔
  • اکتوبر
1990
صدیق حسن خان
جس طرح اللہ تعالیٰ کو مچھر پیدا کرنے میں کوئی عار نہیں۔اسی طرح مچھر یا مکھی یا مکڑی کی مثال بیان کرنے میں بھی اسے کوئی عار نہیں۔فرماتا ہے:۔
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ ۖ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ۚ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ ﴿٧٣﴾...الحج
"لوگوں ایک مثال بیان کیجاتی ہے اسے غور سے سنوجن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتے۔اگرچہ اس کے لئے سارے جمع کیوں نہ ہوجائیں۔اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین کر لے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے۔طالب اور مطلوب(عابد اور معبود)دونوں گئے گزرے ہیں۔"
  • مئی
1989
صدیق حسن خان
برصغیر میں نواب صدّیق حسن خان ان ممتاز علمی شخصیات میں سے ھیں جو عرب و عجم کا سرمایہ اِنتخاد ہیں دُنیا کی کوئی اھم لائبریری آپ کی تالیفات سے خالی نہیں،آپ کی تفسیری خدمات میں عربی تفسیر"فتح البیان فی مقاصد القرآن"کے علاوہ"ترجمان القراٰن"جیسی جامع اور مفصل اردو تفسیر بھی ہے۔جسے بجاطور پر قرآنی علوم کا"انسائیکلو پیڈیا"کہا جاسکتا ہے۔یہ عظیم کتاب تقریباََ ناپید ہورہی تھی۔غالباََ پاک و ہند کے معدودے چند مکتبات ھی اس سے مزین ہوں گے۔
  • ستمبر
1971
صدیق حسن خان
ماہِ رجب کے فضائل کے متعلق چند احادیث ملتی ہیں جو صحیح نہیں ہیں۔ شیخ عبد الحق دہلویؒ نے ''ماثبت بالسنہ'' میں رجب کی فضیلت کے بارے میں چند حدیثیں لکھ کر ان کے متعلق تحریر کیا ہے کہ یہ حدیثیں صحیح نہیں، ان میں سے اکثر ضعیف اور موضوع ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ''تبین العجب'' میں فضیلت ماہِ رجب سے معلقہ حدیثوں پر بحث کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ''ان میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ انہیں حجت قرار دیا جائے۔'' شیخ علامہ قاضی القضاۃ یمن محمد بن علی شوکانی رحمۃ اللہ علیہ کتاب ''السیل الجرار'' میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔
  • نومبر
1971
صدیق حسن خان

یہ مہینہ صیام و قیام کا ہے۔ پورا مہینہ روزے رکھنا ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے۔ اس ماہ کے صیام و قیام کی فرضیت اور فضیلت کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ احکام، صیام و قیام کے متعلق بہت سے رسائل لکھے گئے ہیں۔ ہمارا رسالہ ''تعلیم الصوم'' بھی انہی احکام پر مشتمل ہے۔

شعبان کے آخری روز سررِ و عالم ﷺ نے صحابہؓ کو خطاب فرمایا

  • اکتوبر
  • نومبر
2002
صدیق حسن خان
روزہ اسلام کا دوسرا رکن ہے۔ جس طرح مسلمان اپنی اولاد کو سات برس کی عمر سے نماز کی عادت ڈالتے ہیں، اسی طرح بچوں کو روزہ بھی رکھواتے ہیں۔ اس لئے روزے کا طریقہ معلوم کرنا ہر مسلمان مرد عورت، بوڑھے اور بچے پر ضروری ہے۔ رمضان کے روزے شعبان ۲ ہجری میں فرض ہوئے تھے۔ اس کی فرضیت ویسی ہی ہے جیسے نماز کی۔
  • مئی
1971
صدیق حسن خان

عید میلاد النبیﷺ:

رسول اللہﷺ کی ولادت اور وفات اسی مہینے کی بارہ تاریخ کو ہوئی تھی۔ اس ماہ میں میلاد النبیﷺ کی محفلیں اور مجلسیں کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ شیخ احمد سرہندی، مجد الف ثانی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور قاضی محمد بن علی شوکانی نقشبندی و دیگر علما رحمہم اللہ تعالیٰ أجمعین ہمیشہ اس امر کو بدعت و ضلالت قرار دیتے چلے آئے ہیں۔

  • جون
1971
صدیق حسن خان
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق حدیث کی کسی کتاب میں کوئی ذِکر نہیں ملتا۔ شیخ عبد الحق دہلوی نے اپنی کتاب ''ما ثبت بالسنہ'' میں لکھا ہے کہ ''اس ماہ میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی وفات ہوئی تھی، اور ان کا عرس ۹ تاریخ کو ہوتا ہے اور مشہور گیارہویں تاریخ ہے'' یہ لکھنے کے بعد انہوں نے عرس کے استحسان کا ذِکر کیا ہے۔
  • اپریل
1971
صدیق حسن خان
اِس مہینے کی فضیلت کے متعلق کوئی حدیث نظر سے نہیں گزری، جو اعمالِ حسنہ عام طور پر کئے جاتے ہیں وہی اعمال صالح اس مہینے میں بھی پیش نظر رکھے جائیں۔ اس مہینے کی برائی بھی احادیث میں مذکور نہیں بلکہ ایامِ جاہلیت میں اس مہینے سے بد شگونی کی جاتی تھی، اور اس مہینے کی طرف طرح طرح کی آفات و مصائب منسوب کی جاتی تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے عقائد کو باطل قرار دیا۔
  • مارچ
1972
صدیق حسن خان
یومِ عاشورہ:

اس مہینہ میں یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنا مستحب ہے۔ بخاری و مسلم میں ابنِ عباس کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس دن کے علاوہ کسی دوسرے دن کو افضل کر کبھی روزۂ نفلی نہیں رکھا اور ماہِ رمضان کے علاوہ کبھی پورے مہینہ بھر روزے نہیں رکھے۔