• نومبر
  • دسمبر
1979
عزیز زبیدی
اصلی کمی : دنیا میں کمی مخلص کارکنوں اور اچھی تحریکوں کی نہیں ہے۔چپہ چپہ پرآپ کو ملیں گی اور ہر سر اس کا سودائی نظر آئے گا۔ ہاں کمی اگر ہے تو ''کار خیر'' شروع کرکے اس کو نباہ دینے کی ہے۔لوگ عموماً بڑی گرمجوشی ،ولولہ آتشیں اور بے قابو جذبہ نیک کے ساتھ طوفان بن کر ابھرتے ہیں مگر ہمارے دیکھتے دیکھتے ، وہ ابھر کر جھاگ کی طرح بیٹھ بھی جاتے ہیں۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
عزیز زبیدی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں؟

1. رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت اور حیثیت کیا ہے؟

2. چاند کو دیکھے بغیر محض جدید فنی طریقوں سے چاند کے ہونے کے فیصلہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
  • نومبر
  • دسمبر
1975
عزیز زبیدی
میت کے ناخن یامونچھیں اگر بڑھ گئی ہوں۔زوجین کاایک دوسرےکوغسل دینا

1۔ ایک لمبا بیمارمرجاتاہے ، اس کی حجامت بنانے والی ہوتی ہے ، یونہی دیکھاجائے تو اس کی شکل اور ڈراؤنی لگتی ہے، اگر اس کے لب وغیرہ درست کردیئے جائیں تو کیا جائز ہے؟
  • مئی
1976
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں:

1۔ مسجد میں جب لوگ سنتیں یا نفل پڑھتے ہیں تو کیا کوئی شخص اونچی آواز میں ذکر یا تلاوت قرآن کرسکتا ہے؟

2۔ ایسا ذکر بتائیے جو آسان ہو ، ہر حال میں پڑھا جاسکے اور ثواب بہت ہو۔
  • اکتوبر
1976
عزیز زبیدی
سٹلائٹ ٹاؤن جھنگ سے انصاری صاحب لکھتے ہیں کہ:

جھنگ میں جماعت اہل حدیث کے ایک بزرگ نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ عام لوگوں میں جو یہ بات مشہو رہے کہ پہلے لوگ انبیاء کو قتل کردیتے تھے قطعی طور پر غلط ہے کیونکہ کوئی بھی نبی قتل نہیں ہوا ہے
  • نومبر
1976
عزیز زبیدی
(1) دلالی:جہانیاں سے مولانا عبدالسلام او رمولانا حافظ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں کہ:

1۔ ہرملک میں دلالی کا جونظام رائج ہے بااجرت یا بلا اجرت وہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

2۔ کیا آڑھتی بھی اس ضمن میں آئے ہیں یا نہیں؟ (مختصراً)
  • جون
1978
عزیز زبیدی
زید ایک پیدائشی مجنونہ لڑکی سے اس کے والدین کی اجازت سے نکاح کر لیتا ہے نکاح کے بد بھی لڑکی کی حالت بدستور پہلے جیسی ہے۔ زید امامت کے فرائض بھی سر انجام دے رہا ہے۔

مقتدی معترض ہیں کہ امام کی بیوی مجنونہ ہے اور وہ ایسی حرکات کرتی ہے جو شرم و حیا سے خالی ہیں بلکہ مقتدی متنفر ہیں۔ کیا ان حالات میں زید کا نکاح جائز ہے؟
  • اگست
  • ستمبر
1978
عزیز زبیدی
شادی پر پیسوں کے لیے جوتا چھپانایا راستہ روکنا

ایک طالبہ لکھتی ہے کہ:

میرےبھائی کی شادی ہے، یہاں یہ رواج ہے کہ:
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
عزیز زبیدی
ضلع تھرپار کر سے ایک طالب علم لکھتے ہیں:

1۔ ہمارے ایک مولوی صاحب برسی کی دعوت میں شریک ہوئے ، وہاں سے کھانے کھایا، نیز کھانا اور مٹھائی قبر پر لے گئے جہاں قرآن خوانی کی گئی پھر وہ مٹھائی اور کھانا تقسیم کیا، میں نے کہا کہ یہ سنت کے خلاف ہے، بدعت ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں، اگر ہو تو پیش کرو، پھر مجھے مدرسہ سے نکال دیا۔
  • جون
1976
عزیز زبیدی
محترم جناب!

السلام علیکم ۔گاہےگاہے آپ کا رسالہ محدث نظروں سے گزرنا ہے جس میں باب الاستفتاء پر مفصل روشنی ڈالی جاتی ہے۔کافی عرصہ سے ان دوسوالوں نےدل ودماغ میں خلجان پیدا کررکھا ہے میں امید کرتا ہوں کہ آپ بواپسی ڈاک مطلع کریں جوابی لفافہ ارسال خدمت ہے۔
  • جنوری
  • فروری
1980
عزیز زبیدی
لودھراں سےایک صاحب لکھتے ہیں کہ !
$11.                 ایک عورت جس کو تین طلاق ہو گئی  ہیں ۔ وہ  اب صرف اس لیے حلالہ کراتی ہے کہ وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے ۔ کیا ایسا حلالہ شرعی حلالہ کہلائے گا اور وہ اس طرح پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی ؟
$12.                  کیا بے نماز عورت کا نکاح نمازی مرد سے ہو سکتا ہے ؟
ایک اور صاحب پوچھتے ہیں کہ :
$13.                 نماز میں جہراً ’’بسم اللہ ‘‘ پڑھنا ثابت ہے ؟
$14.                  کیا خطبہ غیر عربی میں ہو سکتا ہے ؟
ضلع پشارو سے گل مان شاہ صاحب تحریر کرتے ہیں کہ :
$15.                 نماز میں سینہ پر یازیر ناف ہاتھ باندھنے میں سے صحیح کیا ہے ؟
$16.                  قرأت فاتحہ خلف الامام جائز ہے یا نا جائز ؟
$17.                  جیسا کہ حنفی حضرات وتر پڑھتے ہیں ، میں بھی ویسے وتر تین  رکعت پڑھتا آرہا ہوں ۔ کیا یہ درست ہے ؟ 
قرآن و حدیث کے ساتھ جواب عنایت فرمایا جائے ۔
  • جولائی
  • اگست
1977
عزیز زبیدی
حدیث اور مولانا مودودی، تین جھوٹ، درود کے معنی

ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:

طلوع اسلام کنوینشن منعقدہ اکتوبر 1976ء میں پرویز صاحب نے ایک مقالہ ''اسلام اور پاکستان کے خلاف گہری سازش'' کے عنوان سے پڑھا تھا۔ جو ارسال خدمت ہے۔ نام کے نیچے یہ عبارت درج ہے جو خاص طور پر کھٹکتی ہے:
  • جنوری
1977
عزیز زبیدی
﴿فَما أوتيتُم مِن شَىءٍ فَمَتـٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّـهِ خَيرٌ‌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَ‌بِّهِم يَتَوَكَّلونَ ﴿٣٦﴾ وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبـٰئِرَ‌ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِر‌ونَ ﴿٣٧﴾ وَالَّذينَ استَجابوا لِرَ‌بِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُ‌هُم شور‌ىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَ‌زَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿٣٨﴾ وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِر‌ونَ ﴿٣٩﴾...سورة الشورى

"غرض جو کچھ بھی تم کو دیا گیا ہے (وہ تو) دنیا کی زندگی کا (صرف چند روزہ) ساز و سامان ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر (بھی) ہے
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس سے پہلے اور بعد اس کانفرنس سے لمبی چوڑی توقعات اور جائزے و تبصرے رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔ اتنی کثیر تعداد میں مسلمان ملکوں کے سربراہوں یانمائندہ وفود کے اسلام کے نام پر ایک جگہ جمع ہونے کو بڑی اہمیت دی گئی اور مختلف شخصیتوں، اداروں یا جماعتوں کی طرف سے زیر بحث مسائل کے لیے تجاویز اور مشورے بھی پیش کیے گئے۔
  • مارچ
1973
عزیز زبیدی
منظر اور پسِ منظر:

دنیا ہرجائی تھی، بظاہر محسوس ہوتا تھا کہ وہ سبھی کے ہیں مگر ٹٹولو تو کسی کے بھی نہ تھے۔ خدا رکھتے تھے پر ان کا خدا ان کے نرغے میں تھا، گو وہ انسان تھے مگر انسانیت کے بہت بڑے دشمن تھے، اس لئے مکی دَور میں ان کو خدا فہمی، خدا جوئی، پاسِ وفا اور انسانیت کا درس دیا گیا
  • اپریل
1973
عزیز زبیدی
الم ﴿١﴾ ذ‌ٰلِكَ الكِتـٰبُ لا رَ‌يبَ ۛ فيهِ...٢﴾... سورة البقرة


الف، لام، میم، یہ وہ کتاب ہے جس (کے کلامِ الٰہی ہونے) میں کچھ بھی شک نہیں۔

(۱) الٓمّٓ (الف، لام، میم) یہ حروف بقرۃؔ، آلِ عمرانؔ، عنکبوتؔ، رومؔ، لقمانؔ اور سجدہؔ کے شروع میں آئے ہیں۔ ان کا نام 'حروفِ مقطعات' ہے۔ ۱۱۴ سورتوں میں سے (۲۹) سورتوں کا آغاز حروفِ مقطّعات سے ہوا ہے۔ وہ کل یہ ہیں: ا، ج، ر، س، ص، ع، ق، ک، ل، م، ن، ہ، ی۔
  • مئی
1973
عزیز زبیدی
(۱) بِالْغَیْبِ (غیب کے ساتھ، غیب پر، پسِ پشت) اس کے دو معنے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا اور رسول کی بات صرف اس لئے برحق تسلیم کرنا اور ماننا کہ چونکہ اس نے فرمایا ہے۔ وہ بات ہمارے ادراک کے بس کا روگ ہو یا ہ ہو۔ دوسرے یہ کہ سامنے ہوں یا غائب اور آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں تو ہر حال میں ان کے ایمان و اسلام میں فرق نہیں آتا۔
  • دسمبر
1973
عزیز زبیدی
گو ان سب کا حاصل ایک جیسا ہے، تاہم ان میں ایک گونہ تنوع بھی پایا جاتا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً اس کا بھی ذکر ہو جائے تو قلب و نگاہ' پر مہر اور پردے والی بات بھی مزید واضح ہو جائے زیادہ یہ تفصیل حضرت امام ابن القیمؒ (ف۷۵۱ھ) کی کتاب 'شفاء العلیل فی مسائل القضاء والقدر و الحکمۃ والتعلیل' (ص ۹۲ تا ص ۱۰۷) سے ماخوذ ہے اور کچھ 'مفرداتِ راغب' سے۔
  • جولائی
  • اگست
1974
عزیز زبیدی
﴿يـٰأَيُّهَا النّاسُ اعبُدوا رَ‌بَّكُمُ الَّذى خَلَقَكُم وَالَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ٢١ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَر‌ضَ فِر‌ٰ‌شًا وَالسَّماءَ بِناءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَ‌جَ بِهِ مِنَ الثَّمَر‌ٰ‌تِ رِ‌زقًا لَكُم ۖ فَلا تَجعَلوا لِلَّهِ أَندادًا وَأَنتُم تَعلَمونَ ٢٢ وَإِن كُنتُم فى رَ‌يبٍ مِمّا نَزَّلنا عَلىٰ عَبدِنا فَأتوا بِسورَ‌ةٍ مِن مِثلِهِ وَادعوا شُهَداءَكُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صـٰدِقينَ ٢٣ فَإِن لَم تَفعَلوا وَلَن تَفعَلوا فَاتَّقُوا النّارَ‌ الَّتى وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَ‌ةُ ۖ أُعِدَّت لِلكـٰفِر‌ينَ ٢٤وَبَشِّرِ‌ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ أَنَّ لَهُم جَنّـٰتٍ تَجر‌ى مِن تَحتِهَا الأَنهـٰرُ‌ ۖ كُلَّما رُ‌زِقوا مِنها مِن ثَمَرَ‌ةٍ رِ‌زقًا ۙ قالوا هـٰذَا الَّذى رُ‌زِقنا مِن قَبلُ ۖ وَأُتوا بِهِ مُتَشـٰبِهًا ۖ وَلَهُم فيها أَزو‌ٰجٌ مُطَهَّرَ‌ةٌ ۖ وَهُم فيها خـٰلِدونَ ٢٥﴾... سورة البقرة
  • ستمبر
  • اکتوبر
1974
عزیز زبیدی
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَستَحيۦ أَن يَضرِ‌بَ مَثَلًا ما بَعوضَةً فَما فَوقَها ۚ فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا فَيَعلَمونَ أَنَّهُ الحَقُّ مِن رَ‌بِّهِم ۖ وَأَمَّا الَّذينَ كَفَر‌وا فَيَقولونَ ماذا أَر‌ادَ اللَّهُ بِهـٰذا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثيرً‌ا وَيَهدى بِهِ كَثيرً‌ا ۚ وَما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الفـٰسِقينَ ٢٦ الَّذينَ يَنقُضونَ عَهدَ اللَّهِ مِن بَعدِ ميثـٰقِهِ وَيَقطَعونَ ما أَمَرَ‌ اللَّهُ بِهِ أَن يوصَلَ وَيُفسِدونَ فِى الأَر‌ضِ ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الخـٰسِر‌ونَ ٢٧﴾... سورة البقرة
  • نومبر
  • دسمبر
1974
عزیز زبیدی
﴿كَيفَ تَكفُر‌ونَ بِاللَّهِ وَكُنتُم أَمو‌ٰتًا فَأَحيـٰكُم ۖ ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يُحييكُم ثُمَّ إِلَيهِ تُر‌جَعونَ ٢٨ هُوَ الَّذى خَلَقَ لَكُم ما فِى الأَر‌ضِ جَميعًا ثُمَّ استَوىٰ إِلَى السَّماءِ فَسَوّىٰهُنَّ سَبعَ سَمـٰو‌ٰتٍ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمٌ ٢٩وَإِذ قالَ رَ‌بُّكَ لِلمَلـٰئِكَةِ...٣٠﴾... سورة البقرة

(لوگو!) تم خدا کا کیونکر انکار کر سکتے ہو اور (تمہارا حال یہ ہے کہ) تم بے جان تھے اور اسی نے تم میں جان ڈالی۔ پھر (وہی) تم کو مارتا ہے پھر (وہی) تم کو (قیامت میں دوبارہ) جلائے گا (بھی) پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ وہی (قادر مطلق) ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی کل کائنات پیدا کی پھر (اس کے علاوہ ایک بڑا کام یہ کیا کہ) آسمان کے بنانے کی طرف متوجہ ہوا تو سات آسمان ہموار بنا دیئے اور وہ ہر چیز (کی کنہ) سے واقف ہے۔ (اے پیغمبر لوگوں سے اس وقت کا تذکرہ کرو) جب
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓئِکَۃِ فَقَالَ اَنْبِؤُنِیْ بِاَسْمَآءِ ھٰٓؤُلَآءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ۔ قَالَ یٰٓاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآءِھِمْج فَلَمَّآ اَنْبَائَھُمْ بَاَسْمَآئِھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ.

(خدا نے) فرمایا میں وہ (مصلحتیں) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے اور آدم کو سب (چیزوں کے) نام بتا دیئے پھر ان چیزوں کو فرشتے کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اگر تم (اپنے دعوے میں) سچے ہو تو ہم کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
عزیز زبیدی
﴿وَقُلْنَا یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَکُلَا مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ. فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْھَا فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ وَقُلْنَا اھْبِطُوْا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّج وَ لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ.﴾

اور ہم نے (آدم سے) کہا: اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو سہو اور اس میں جہاں کہیں سے جی چاہے
  • فروری
1978
عزیز زبیدی
1۔ یقول محمد بن قیس سمعت عائشہ تقول الااحدثکم عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہوسلم وعنی قلنابلیٰ قالت لما کانت لیلتی انقلب فوضع نعلیہ عند رجیلم ووضع ردآءہ و بسطرا زار علی فراشہ ولم یلبث الاریثما ظن انی قد رقدت ثم انتعل رویدا واخذ رداء ہ رویدا ثم فتح الباب رویدا و خرج واجافہ رویدا وجعلت درعی فی راسی فاختموت و تقنعت ازادی و انطلقت فیاثرہ حتی جآء البقیع فوخع یدیہ ثلث مرات و اطلا القیام
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
عزیز زبیدی

ایک عجیب جعل سازی

ادارہ ثقافتِ اسلامیہ لاہور کے بیشتر اہلِ قلم ارکان حلّتِ سماع کی طرف مائل ہیں اور اس مضمون پر انہوں نے خاصی محنت کر کے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش فرمائی ہے ہ سماع کا ذوق قابلِ قدر ہے، با ذوق لوگ موسیقی کی دل نواز تانوں سے لطف انداز ہونا چاہیں

  • مئی
  • جون
1978
عزیز زبیدی
ضلع ساہیوال سےمولانا سیف الرحمٰن بی اے لکھتے ہیں:

1۔ نابینا والی حدیث میں: واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہ لتقضی لی اللھم شفعہ فی(ترمذی وغیرہ)

اس سے غیر اللہ سے توسل ، استغاثہ او رندائے غیب کا ثبوت ملتا ہے۔ صحیح کیا ہے؟
  • مئی
1978
عزیز زبیدی
﴿لَقَد جاءَكُم رَ‌سولٌ مِن أَنفُسِكُم عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَر‌يصٌ عَلَيكُم بِالمُؤمِنينَ رَ‌ءوفٌ رَ‌حيمٌ ﴿١٢٨﴾... سورة التوبة

''(لوگو!) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، تمہارے تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے اور ان کوتمہاری بہبود کاہوکا ہے (اور) وہ مسلمانوں پرنہایت درجے شفیق (اور)مہربان ہے۔''
  • جون
1978
عزیز زبیدی
عَنْ سَمُرَة بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ ﷺ اِذَا صَلّٰی صَلوٰة اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِهٖ فَقَالَ مَنْ رَأیَ مِنْکُمْ الَّلیْلَة رُؤْیَا قَالَ فَاِنْ رَّاٰی اَحَدٌ قَصَّھَا فَیَقُوْلُ مَا شَآءَ اللّٰه فَسَاَلَنَا یَوْمًا فَقَالَ ھَلْ رَّاٰی مِنْکُمْ اَحْدٌ رُؤْیَا قُلْنَا لَا۔

قَالَ النَّبِیُّ: رَاَیْتُ اللَّیْلَة رَجُلَیْنِ اَتِیَانِیْ فَاخَذَا بِیَدَیَّ فَاَکْرَجَانِیْ اِلَی اَرْضٍ مُّقَدَّسَة فَاِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ وَّرَجُلٌ قَآئِمٌ بِیَدِهٖ...... کُلُّوْبٌ مِّنْ حَدِیْدٍ یُّدْخِلُه فِیْ شِدْقِهٖ حَتّٰی یَبْلُغَ قَفَاه ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِدْقِه الْاٰخَرِ مِثْلَ ذٰلِکَ وَیَلْتَئِمُ شِدْقُه ھٰذَا فَیَعُوْدُ فَیَصْنَعُ مِثْلَه فَقُلْتُ مَا ھٰذَا؟ قَالَا انْطَلِقْ.
  • جون
  • اگست
1975
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

1۔ اگر کوئی شخص یہ وصیت کرے یا اس کی خواہش کرے کہ :اس کو کسی پاک جگہ ، مقدس مقام اور نیک لوگوں کے پاس دفن کیا جائے تو کیا یہ جائز ہے ؟ کیا اس سے اس کو فائدہ بھی پہنچ سکتا ہے؟
  • اکتوبر
1976
عزیز زبیدی
﴿انا بلونھم کما بلونا اصحٰب الجنۃ اذ اقسموا لیصر منھا مصبحین ولا یستثنون ۔ فطاف علیھا طآئف من ربک وھم نائمون ۔ فاصبحت کالصریم۔ فتنا دوا مصبحین ان اغدوا علی حرثکم ان کنتم صارمین۔ فانطلقوا وھم یتخافتون۔ ان لایدخلنا الیوم علیکم مسکین۔ وغداوا علی حرد قدرین فامان راوھا قالوا انا لضالون۔ بل نحن محرومون۔ قال اوسطھم الم اقل لکم لولا تسبحون۔ قالوا سبحٰن ربنا انا کنا ظلمین۔ فاقبل بعضھم علی بعض یتلا ومون۔ قالوا یویلنا انا کنا طغین۔ عسیٰ ربنا ان یبدلنا خیرا منھا انا الی ربنا راغبون۔کذلک العذاب والعذاب الاخرۃ اکبر لوکانوا یعلمون﴾ (پ29۔ القلم ع1)
  • اگست
1976
عزیز زبیدی
عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت جلس (وفی بعض النسخ جلسن۔نووی وفی روایۃ ابی عوانۃجلست وفی روایۃ ابی علی الطبری، جلسن وفی روایۃ للنسائی: اجتمع وفی روایۃ ابی عبید: اجتمعت وفی روایۃ ابی یعلی: اجتمعن ۔ فتح ) احدی عشرۃ امراء ۃ فتعاھدن و تعاقدن ان لا یکتمن (وفی روایۃ ابی اویس و عقبہ: ان یتصاد قن بینھن ولا یکتمن ۔ فتح ) من اخبار ازواجھن شیئا۔
  • ستمبر
1976
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

رمضان المبارک آرہا ہے: یہ عبادت کا مہینہ ہے مگر لوگ رکعتوں کاجھگڑا کرکے بدمزہ کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ:

1۔ صحیح کتنی رکعتیں ہیں؟ کیا ان سے کم و بیش بھی پڑھی جاسکتی ہیں؟
  • جولائی
  • اگست
1974
عزیز زبیدی
نام کتاب : روشنی کے مینار

مؤلّف : حافظ محمد ادریس

صفحات : 208 صفحات

ناشر : مکتبہ ظفر۔ محلہ فیض آباد سرگودھا روڈ گجرات
  • جنوری
  • فروری
1975
عزیز زبیدی
نام : انسان کامل

مؤلف : پروفیسر خالد علوی (ایم۔ اے، ایم۔ او۔ایل)

ناشر : یونیورسٹی بک ایجنسی۔ ۱۹۴، انار کلی، لاہور
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
رزم و بزم کے بادشاہ حضرت شاہ اسمٰعیل رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں رزم گاہوں میں شمشیر و سناں کے جوہر دکھائے تھے، وہاں زبان دبیان کے ادبی شاہکار بھی پیش کئے ہیں۔ مندرجہ بالا کتاب شہید فی سبیل اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے اِسی شاعرانہ کلام کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔ جو بڑا جاذب اور نہایت معنی خیز ہے۔
  • نومبر
  • دسمبر
1975
عزیز زبیدی
نقوش اقبال مترجم : علامہ سید ابوالحسن علی ندوی

صفحات : 294

قیمت : 50؍13 روپے
  • اکتوبر
1976
عزیز زبیدی
علوم القرآن اور اصول تفسیر : مولانا محمد تقی عثمانی

صفحات : 510

قیمت : 27 روپے

پتہ : مکتبہ دارالعلوم۔ کراچی نمبر 14
  • فروری
1978
عزیز زبیدی
فتاویٰ علمائے حدیث جلد پنجم و ششم : مولانا ابوالحسنات علی محمد سعیدی صاحب

صفحات : جلد پنجم (456) جلدششم (476)

قیمت : جلد پنجم 35 روپے، جلد ششم 35روپے
  • جنوری
1977
عزیز زبیدی
فقہائے ہند جلد دوم

مولف محمد اسحاق بھٹی

ناشر ادارہ ثقافت اسلامیہ، کلب روڈ، لاہور
  • جولائی
  • اگست
1979
عزیز زبیدی
کتاب الصلوٰۃ (مترجم) : ابن القیم 

ترجمہ : مولانا عبدالرشید حنیف

صفحات : 280

قیمت : 15 روپے
  • مئی
1978
عزیز زبیدی
طلاق ثلاثہ کی بابت ماہنامہ محدث (ماہ محرم 1398ھ) میں راقم الحروف کا ایک فتویٰ شائع ہوا تھا جس میں ہم نے ضمناً حضرت عمرؓ کی وہ روایت بھی ذکر کی تھی جس سے حضرت عمرؓ کا اپنے پہلے مؤقف سے رجوع ثابت ہوتاہے،اس پر حضرت مولانا عبدالحمید ابوحمزہ (نیو سعید آباد) نے تعاقب فرمایا ہےکہ :

''رجوع والی حدیث صحیح نہیں ہے ، کیونکہ اس میں راوی خالد بن یزید بن ابی مالک باپ بیٹا دونوں ضعیف ہیں، دونوں کےمتعلق آیا ہے
  • مارچ
  • اپریل
1976
عزیز زبیدی
اسلامی ریاست کے سیاسی سربراہ کی حیثیت سے پیغمبرِ خدا ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ:

1. اسلام اور غیر اسلامی مذاہب میں کیا فرق ہے؟

2. محمدی تصوّرِ مملکت کیا ہے؟
  • فروری
1973
عزیز زبیدی
شیعہ حضرات کے رسالہ ماہنامہ ''معارف اسلام'' لاہور کا تازہ شمارہ ''علی و فاطمہ نمبر'' ہمارے سامنے ہے۔ اس فرقہ کی دوسری نگارشات اور مؤلفات کی طرح اس خصوصی نمبر کے مطالعہ سے بھی ایک قاری کو جو عام تأثر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ:
  • اپریل
1977
عزیز زبیدی
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرَسِهِ، فَأَجْرَى فَرَسَهُ حَتَّى قَامَ، ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ، فَقَالَ: «أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ»

(رواه ابو داؤد كتاب الخراج والامارة والفئى اقطاع الارضين وفيه عبدالله بن عمر بن حفص وفيه مقال)
  • نومبر
1976
عزیز زبیدی
1۔﴿ فخلف من بعدھم خلف ورثو الکتب یاخذون عرض ھذا الاولی و یقولون سیغفرلنا وان یاتھم عرض مثلہ یا خذوہ﴾ (پ9۔ اعراف ع21)

یہ گناہ تو ہمارا معاف ہو ہی جائے گا: (ترجمہ) ''پھر ان کے بعدایسے ناخلف (ان کے) جانشین ہوئےکہ (وہ بڑوں کی جگہ)کتاب (تورات) کے وارث (تو) بنے (مگر آیات فروشی کے عوض ان کو) اس دنیائے دوں کی (کوئی) چیز (مل جائے تو)لے لیتے ہیں او رکہتے ہیں
  • اکتوبر
1976
عزیز زبیدی
بدلوگوں کی خوشحالی: عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لا تغبطن فاجرا بنعمۃ فاک لاتدری ما ھولاق بعد موتہ ان لہ عنداللہ قاتلا لا یموت یعنی النار (مشکوٰۃ بحوالہ شرح السنۃ)

''فرمایا: کسی فاسق فاجر کی خوشحالی پر رشک نہ کیجئے! کیونکہ آپ نہیں جانتے مرنے کے بعد اس کا کیا حشر ہونے والا ہے،یقین کیجئے: اس کےلیے اللہ کے پاس ایک غیر فانی عذاب ہے یعنی دوزخ۔''
  • فروری
1978
عزیز زبیدی
(1) ویقولون امنا باللہ وبالرسول و اطعنا ثم یتولی فریق منھم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون وان یکن لھم الحق یاتوا الیہ مذعنین۔ انی قلوبھم مرض امرارتابوا ام یخافون ان یحیف اللہ علیہم و رسولہ بل اولئک ھم الظلمون (پ18۔نور ع6)

''اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور (اس کے )رسول پر ایمان لے آئے او ر(ان کے) وفادار ہوگئے
  • ستمبر
1982
عزیز زبیدی
ايك گائے میں سات عقیقے

برج جیوسے خاں (ساہیوال ) سےایک صاحب پوچھتےہیں کہ : 
جسے کہ قربانی کی گائے میں سات آدمی قربانی کرسکتےہیں یعنی سات گھروں کی طرف سے قربانی ہوتی ہے، کیاایسے ہی ایک گائے میں سات عقیقے بھی ہوسکتےہیں ؟
الجواب :
عقیقہ کوخلیل اللہ والی قربانی پرقیاس کرنامناسب نہیں ہے،دونوں کاپس منظر، دونوں کی زمین اور دونوں کاخصوصی ماحول اورفضا ایک دوسرے سےکافی مختلف ہیں ----- اس لیے قربانی کاطرح عقیقہ کےلیے ،مثلا گائے میں سات حصےکی تجویز درست نہیں ہے۔ 
اونٹ اورگائے میں جودس یاسات حصے ہیں وہ سرکےمقابلے میں نہیں ہیں ۔بلکہ ایک کنبہ اورگھر کےمقابلے میں کافی ہوتےہیں ۔ خواہ اس گھر میں پندرہ افراد ہوں ۔اگرعقیقہ میں اس طرح کےدس یاسات حصوں کی تخلیق کریں گےتووہ مولوی صاحب بھی جواب دئےجائیں گےجوان حصوں کےقائل ہیں ۔
  • اکتوبر
1982
عزیز زبیدی
دوا کےلیے مہندی ٭ نیک رشتہ اوروالدین
نماز کےبعد دائرہ کی شکل میں ورد ٭ اذان سےپہلے درود

سوال 1۔ : عبدالرؤف صاحب سید مٹھا بازارلاہور سےلکھتےہیں :میں نےایک کتاب سےحدیث پڑھی کہ آں حضرت ﷺ کوجب کبھی سردرد ہوتاتو مہندی لگا لیا کرتے تھے ۔اسی کتا ب میں یہ بھی لکھا تھا کہ گرتےبالوں کےلیے مہندی اکسیر ہے۔ کیاایسا کرنےسے گرتےبال پھر نہیں گرتے؟ 
اس کی وضاحت اگرحدیث میں ہوتومجھے ضرور لکھ دیں –شکریہ !
  • مارچ
1980
عزیز زبیدی
کراچی سے جناب قاری  محفوظ اللہ ہزاروی پوچھتے ہیں کہ:
ایک شخص کا خیال ہے کہ درود ہزارہ ، درود لکھی ، درود تاج ، دعا گنج العرش اور عہد نامہ وغیرہ کا درد ،وظیفہ خلاف شرع اور بدعت ہے ۔
دوسرے صلح حسب کہتے ہیں کہ :
نہیں یہ بدعت نہیں کار ثواب ہے کیونکہ ان میں بھی خدا کی صفات کا بیان ہے جیسے کوئی شخص اپنی زبان میں خدا کو یاد کرتا ہے اسی طرح ان کا حال ہے ۔ ان  میں سے صحیح  کس کا خیال ہے ؟
الجواب :
صحیح موقف پہلے شخص کا ہے دراصل اس قسم کے اور ادر ارو وظائف نے تلاوت قرآن اور مسنون ذکر و اذکار کی جگہ لے لی ہے جس سے بڑھ کر خسارہ کا تصورہی  نہیں کیا جا سکتا ،  قرآن حکیم  کی تلاوت ذکر بھی ہے اور مطلوب تلاوت بھی ، جس کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں ۔دوسرے جتنے وظیفے اور ذکر   ہیں ان کی یہ کیفیت نہیں ہے ۔ اسی طرح سے ، رسول اللہﷺ نے جو دعائیں اور جو ورد وظیفے اور ذکر اذکار بتائے یا اپنائے ہیں ،خدا کے ہاں ان کی حثییت عبادت کی ہے ، دوسروں کی یہ شان نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یار لوگ مصر ہیں کہ ہمیں درود ہزارہ ،لکھی ،تاج ،وغیرہ کے ورد وظیفہ کی اجازت ملنی چاہیے ۔ آخر اس میں راز کیا ہے ؟ گھاٹے کا یہ سودا ان کو کیوں منظور ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے توان اداؤں بے چینیوں اور سوچنے کے انداز کو غلط قرار دیا ہے ۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
عزیز زبیدی
مولانا انوری لائل پوری مرحوم نے ایک دفعہ یہ انکشاف کیا تھا کہ:

ایک دفعہ رائے پور میں (یعنی حضرت رائے پوری سے) عرض کیا کہ 'الحزب الاعظم' کا ورد رکھتا ہوں! فرمایا:

دلائل الخیرات کو بھی اس کے ساتھ ملا لو!
  • جولائی
1976
عزیز زبیدی
1۔ (الف) قرآن مجید اور سنت کی روشنی میں ربا کا صحیح مفہوم کیا ہے او رقبل از اسلام اس سے کیا مراد لی جاتی تھی؟

تخصیصاً کیا ربا سے مراد ایساسُود ہے جو اصل زر کو دوگنا اور سہ گنا (اضعافا مضعفۃ) کردیتا ہے یا اس میں قرض خواہ کی

طرف سے وصول کیاجانے والا رائج الوقف سُود مفرد اور سُود مرکب بھی شامل ہے؟
  • مارچ
1973
عزیز زبیدی
''کیا فرماتے ہیں علمائے دین (شرع مبین) اس مسئلہ میں کہ مولانا مولوی حاجی خیر محمد صاحب سکنہ موضع پتل منا تحصیل کوٹ ادو ضلع مظفر گڑھ کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ موجود ہے۔ آپ لاولد فوت ہوئے ہیں مگر ان کے مندرجہ ذیل وارثان موجود ہیں۔ بلحاظِ شریعت یہ جائیداد وارثان میں کس قدر تقسیم ہونی مناسب ہے۔ مسئلہ سے مطلع فرماویں۔
  • اپریل
1977
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

متحدہ محاذ کے ذمہ دار لیڈروں نے بالخصوص امیر جماعت اسلامی میاں طفیل محمد اور مولانا مفتی محمود نے واشگاف الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے کہ:

زمین اس کی جو کاشت کرے، کیا یہ صحیح ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
  • ستمبر
1976
عزیز زبیدی
واضرب لھم مثلا رجلین جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب و حفقنھما بنخل وجعلنا بینھما ندعا۔ کلتا الجنتین اتت اکلھا ولم تظلم منہ شیئا وفجرنا خللھما نھرا۔ وکان لہ ثمر فقال لصحاحبہ وھو یحاورہ انا اکثر منک مالاوا عزنفرا۔ ودخل جنتہ وھوظالم لنفسہ قال ما اظن ان تبید ھذہ ابدا۔ وما اظن الساعۃ قائمۃ ولئن رددت الی ربی لا جدن خیرا منھا منقلبا۔ قال الہ صاحبہ وھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سواک رجلا۔
  • جولائی
  • اگست
1977
عزیز زبیدی
عَنْ عَائِشَة رضی الله تعالٰی عنها قالت: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللہِ اَخْبِرْنِیْ عَنِ ابْنِ عمر ابن جدعان قال النبی ﷺ وَمَا کَانَ؟ قَالَتْ کَانَ یَنْحَرُ الْکَوْمَآءُ وَیُکْرِمُ الْجَارَ وَیُقْرِی الضَّیْفَ وَیَصْدُقُ الْحَدِیْثِ وَیُوَفِّیْ بِالذِّمَةِ وَیُصِلُّ الرِّحْمَ وَیَفْسَکُ الْعَانِیْ وَیُطْعِمُ الَّعَامَ وَیُؤَدِّیْ الْاَمَانَة۔

قَالَ ھَلْ قَالَ یَوْمًا واحدا اللهم انی اعوذک من نارِ جهنم؟
  • مارچ
1972
عزیز زبیدی
سماع سے مراد گانے باجے سننا ہے۔ یہ جائز ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔ علمائے احناف میں حضرت امام عبد الغنی نابلسی (ف ۱۱۴۴ھ) کا نظریہ یہ ہے کہ مشروط طور پر جائز ہے ، ورنہ ناجائز۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے اس کا نام ''ایضاح الدلالات فی سماع الآلات۔'' اس میں انہوں نے ''سماع'' کے مختلف پہلوؤں سے بحث کی ہے جو خاصی دل چسپ اور طویل ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1975
عزیز زبیدی
﴿واذ قلنا للملٰکۃ اسجدوا لادم فسجدوآ الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکفرین﴾

''اور جب ہم نے فرشتوں سے کہاکہ آدم کے آگے جھکو تو شیطان کے سوا (سب کے سب)جھکے پڑے اس نے نہ مانا اور شیخی میں آگیا اور (وہ دراصل) نافرمانوں میں سے تھا۔''
  • جولائی
1976
عزیز زبیدی
ان کے تاریخی حقائق کی تفصیل بڑی طویل ہے ، جس کا یہ مقام متحمل نہیں ہے بہرحال وہ جتنی بھی ہے انہی حقائق کی ذیلی سرخیاں ہیں جوقرآن حکیم نے بیان فرمائی ہیں جن کاخاکہ اوپر کی سطور میں ہم نے سامنےرکھا ہے۔کتاب اللہ کی طرح ''سنت رسول اللہﷺ'' نے بھی بعض مقامات پر ان کاذکر کیا ہے ،گو ان سب کا استقصا یہاں مشکل ہے، تاہم وہ چند امور جو ضروری ہے، حاضر ہیں:
  • اگست
1976
عزیز زبیدی
﴿اتامرون الناس بالبر وتنسون انسکم و انتم تتلون الکتٰب افلا تعقلون۔ واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین۔ الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانھم الیہ راجعون۔﴾

''کیا تم (دوسرے)لوگون سے نیکی کرنے کو کہتے ہو او راپنی خبر نہیں لیتے۔ حالانکہ تم کتاب (الہٰی بھی) پڑھتے رہتے ہو کیاتم (اتنی بات بھی )نہیں سمجھتے اور (مصائب کی سہار کے لیے) صبر اورنماز کا سہارا پکڑو او رالبتہ نماز سخت مشکل کام ہے مگر ان کے لیے
  • مئی
  • جون
1974
عزیز زبیدی
﴿مَثَلُهُم كَمَثَلِ الَّذِى استَوقَدَ نارً‌ا فَلَمّا أَضاءَت ما حَولَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنورِ‌هِم وَتَرَ‌كَهُم فى ظُلُمـٰتٍ لا يُبصِر‌ونَ ١٧ صُمٌّ بُكمٌ عُمىٌ فَهُم لا يَر‌جِعونَ ١٨ أَو كَصَيِّبٍ مِنَ السَّماءِ فيهِ ظُلُمـٰتٌ وَرَ‌عدٌ وَبَر‌قٌ يَجعَلونَ أَصـٰبِعَهُم فى ءاذانِهِم مِنَ الصَّو‌ٰعِقِ حَذَرَ‌ المَوتِ ۚ وَاللَّهُ مُحيطٌ بِالكـٰفِر‌ينَ ١٩ يَكادُ البَر‌قُ يَخطَفُ أَبصـٰرَ‌هُم ۖ كُلَّما أَضاءَ لَهُم مَشَوا فيهِ وَإِذا أَظلَمَ عَلَيهِم قاموا ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمعِهِم وَأَبصـٰرِ‌هِم ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَىءٍ قَديرٌ‌ ٢٠﴾... سورة البقرة
  • جون
1978
عزیز زبیدی
کچھ عرصہ سے ہم نے محدّث میں التفسیر والتعبیر کے کالموں میں قرآن کریم کی مسلسل تفسیر روک کر الکتاب والحکمۃ کے عنوان سے مناسبِ احوال قرآنی آیات کے درس کی اشاعت شروع کر دی تھی کیونکہ التفسیر والتعبیر کی پاروں کی صورت میں اشاعت کا پروگرام تھا لیکن محترم مولانا عزیز زبیدی صاحب کی ناسازیٔ طبع اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے یہ کام تیزی سے جاری نہ رہ سکا۔ لہٰذا ہم قارئین کو کسی مزید انتظار میں رکھے بغیر پھر سے یہ سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ (ادارہ)
  • جولائی
1978
عزیز زبیدی
اس دن وہ جھگڑیں گے:

ایک دوسرے کو وہ وہاں ملزم ٹھہرائیں گے اور کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔

﴿ثُمَّ إِنَّكُم يَومَ القِيـٰمَةِ عِندَ رَ‌بِّكُم تَختَصِمونَ ﴿٣١﴾... سورة الزمر"﴿يَر‌جِعُ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ القَولَ يَقولُ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَر‌وا لَولا أَنتُم لَكُنّا مُؤمِنينَ ﴿٣١﴾... سورة سبا
  • ستمبر
1973
عزیز زبیدی
بِسمِ اللَّهِ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ١ الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ٢ الرَّ‌حمـٰنِ الرَّ‌حيمِ ٣ مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ ٤ إِيّاكَ نَعبُدُ وَإِيّاكَ نَستَعينُ ٥ اهدِنَا الصِّر‌ٰ‌طَ المُستَقيمَ ﴿٦﴾ صِر‌ٰ‌طَ الَّذينَ أَنعَمتَ عَلَيهِم...٧﴾... سورة فاتحة

الٰہی! ہم صرف تیری ہی غلامی کریں گے اور (اس کے لئے) تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ہم کو سیدھا رستہ دکھا۔ ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے (اپنا فضل) کیا۔
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ ءامَنّا بِاللَّهِ وَبِاليَومِ الءاخِرِ‌ وَما هُم بِمُؤمِنينَ ٨ يُخـٰدِعونَ اللَّهَ وَالَّذينَ ءامَنوا وَما يَخدَعونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُر‌ونَ ٩ فى قُلوبِهِم مَرَ‌ضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَ‌ضًا ۖ وَلَهُم عَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكذِبونَ ١٠ وَإِذا قيلَ لَهُم لا تُفسِدوا فِى الأَر‌ضِ قالوا إِنَّما نَحنُ مُصلِحونَ ١١ أَلا إِنَّهُم هُمُ المُفسِدونَ وَلـٰكِن لا يَشعُر‌ونَ ١٢ وَإِذا قيلَ لَهُم ءامِنوا كَما ءامَنَ النّاسُ قالوا أَنُؤمِنُ كَما ءامَنَ السُّفَهاءُ ۗ أَلا إِنَّهُم هُمُ السُّفَهاءُ وَلـٰكِن لا يَعلَمونَ ١٣ وَإِذا لَقُوا الَّذينَ ءامَنوا قالوا ءامَنّا وَإِذا خَلَوا إِلىٰ شَيـٰطينِهِم قالوا إِنّا مَعَكُم إِنَّما نَحنُ مُستَهزِءونَ ١٤ اللَّهُ يَستَهزِئُ بِهِم وَيَمُدُّهُم فى طُغيـٰنِهِم يَعمَهونَ ١٥ أُولـٰئِكَ الَّذينَ اشتَرَ‌وُا الضَّلـٰلَةَ بِالهُدىٰ فَما رَ‌بِحَت تِجـٰرَ‌تُهُم وَما كانوا مُهتَدينَ ١٦﴾... سورة البقرة
  • جنوری
  • فروری
1975
عزیز زبیدی
﴿اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَةً﴾

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں (اپنا ایک) نائب بنانے والا ہوں

قبر میں رکھتے ہی دو ڈراؤنے فرشتے 'منکر نکیر' احتساب کرنے، جائزہ لینے اور ان کو چیک کرنے کے لئے قبر میں آدھمکتے ہیں: اذا انصرفوا اتاه ملكان فيقعد انه فيقولان له ما كنت تقول في ھذه الرجل محمد ﷺ (صحيحين عن انس) اقاه ملكان اسودان ارزقان يقال لاحدھما المنكر وللآخر النكير (مجمع الفوائد۔ ابو ھريره)
  • مارچ
  • اپریل
1975
عزیز زبیدی
قَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْھَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْھَا وَيَسْفِكُ الدِّمَآءَ ج وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ

(تو فرشتے) بولے کیا آپ زمین میں ایسے شخص کو (خلیفہ) بناتے ہیں جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور (بناتے ہیں تو ہم کو بنائیں کہ) ہم تیری حمد و (ثناء) کے ساتھ تیری تسبیح و تقدیس کرتے رہتے ہیں۔
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
عزیز زبیدی
سلسلہ کے لئے ملاحظہ فرمائیں: جلد ۳ عدد ۴ شمارہ صفر المظفر ۹۳ھ

﴿وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِما أُنزِلَ إِلَيكَ وَما أُنزِلَ مِن قَبلِكَ...٤﴾... سورة البقرة

اور (اے پیغمبر!) جو (کتاب) تم پر اتری اور جو (کتابیں) تم سے پہلے اتریں، ان (سب) پر ایمان لاتے ہیں۔
  • جولائی
  • اگست
1973
عزیز زبیدی
بِسْمِ اللہِ: (شروع) اللہ کے نام سے

سورۃ الفاتحہ (سورۂ فاتحہ) اس سورت کے اور بھی کئی ایک نام ہیں، زیادہ مشہور فاتحہ ہے۔ سورتوں کے جتنے نام ہیں، سب توقیفی ، یعنی الہامی ہیں۔ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تجویز کردہ ہیں۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس لئے اس کو ''مکی'' کہتے ہیں۔
  • جنوری
  • فروری
1976
عزیز زبیدی
﴿يـٰبَنى إِسرٰ‌ءيلَ اذكُر‌وا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم... ٤٠... سورة البقرة

'' اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی ''

(1)يـٰبَنى إِسرٰ‌ءيلَ(اے بنی اسرائیل)اسرائیل دولفظوں سے مرکب ہے اوریہ دونوں عبرانی الفاظ ہیں اسراًکےمعنی عبد(بندہ)اورصفوۃ(منتخب اوربرگزیدہ)کے ہیں اورایل کے معنی اللہ ہیں یعنی عبداللہ۔
  • جون
1976
عزیز زبیدی
(قسط18)

﴿وَآمِنُوا بِمَا أَنزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ‌ بِهِ ۖ وَلَا تَشْتَرُ‌وا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ ﴿٤١﴾ وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٤٢﴾ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْ‌كَعُوا مَعَ الرَّ‌اكِعِينَ ﴿٤٣﴾... سورةالبقرة
  • اگست
  • ستمبر
1978
عزیز زبیدی
﴿وَإِذ وعَدنا موسى أَر‌بَعينَ لَيلَةً ثُمَّ اتَّخَذتُمُ العِجلَ مِن بَعدِهِ وَأَنتُم ظـلِمونَ ﴿٥١﴾ ثُمَّ عَفَونا عَنكُم مِن بَعدِ ذلِكَ لَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ﴿٥٢﴾ وَإِذ ءاتَينا موسَى الكِتـبَ وَالفُر‌قانَ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ ﴿٥٣﴾ وَإِذ قالَ موسى لِقَومِهِ يـقَومِ إِنَّكُم ظَلَمتُم أَنفُسَكُم بِاتِّخاذِكُمُ العِجلَ فَتوبوا إِلى بارِ‌ئِكُم فَاقتُلوا أَنفُسَكُم ذلِكُم خَيرٌ‌ لَكُم عِندَ بارِ‌ئِكُم فَتابَ عَلَيكُم إِنَّهُ هُوَ التَّوّابُ الرَّ‌حيمُ ﴿٥٤﴾ وَإِذ قُلتُم يـموسى لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّى نَرَ‌ى اللَّهَ جَهرَ‌ةً فَأَخَذَتكُمُ الصّـعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُر‌ونَ ﴿٥٥﴾ ثُمَّ بَعَثنـكُم مِن بَعدِ مَوتِكُم لَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ﴿٥٦﴾... سورة البقرة
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
عزیز زبیدی
﴿وَظَلَّلنا عَلَيكُمُ الغَمامَ وَأَنزَلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوى كُلوا مِن طَيِّبـتِ ما رَ‌زَقنـكُم وَما ظَلَمونا وَلـكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ ﴿٥٧﴾وَإِذ قُلنَا ادخُلوا هـذِهِ القَر‌يَةَ فَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم رَ‌غَدًا وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا وَقولوا حِطَّةٌ نَغفِر‌ لَكُم خَطـيـكُم وَسَنَزيدُ المُحسِنينَ ﴿٥٨﴾ فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا قَولًا غَيرَ‌ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَنزَلنا عَلَى الَّذينَ ظَلَموا رِ‌جزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَفسُقونَ ﴿٥٩﴾... سورة البقرة
  • نومبر
  • دسمبر
1975
عزیز زبیدی
(قسط 16)

﴿فتلقیٰ ادمُ من ربہ کلمت فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم۔ قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔ والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحٰب النار ھم فیھا خلدون۔﴾
  • دسمبر
1978
عزیز زبیدی
﴿وَإِذِ استَسقى موسى لِقَومِهِ فَقُلنَا اضرِ‌ب بِعَصاكَ الحَجَرَ‌ فَانفَجَرَ‌ت مِنهُ اثنَتا عَشرَ‌ةَ عَينًا قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَ‌بَهُم كُلوا وَاشرَ‌بوا مِن رِ‌زقِ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِى الأَر‌ضِ مُفسِدينَ ﴿٦٠﴾ وَإِذ قُلتُم يـموسى لَن نَصبِرَ‌ عَلى طَعامٍ وحِدٍ فَادعُ لَنا رَ‌بَّكَ يُخرِ‌ج لَنا مِمّا تُنبِتُ الأَر‌ضُ مِن بَقلِها وَقِثّائِها وَفومِها وَعَدَسِها وَبَصَلِها قالَ أَتَستَبدِلونَ الَّذى هُوَ أَدنى بِالَّذى هُوَ خَيرٌ‌ اهبِطوا مِصرً‌ا فَإِنَّ لَكُم ما سَأَلتُم وَضُرِ‌بَت عَلَيهِمُ الذِّلَّةُ وَالمَسكَنَةُ وَباءو بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذلِكَ بِأَنَّهُم كانوا يَكفُر‌ونَ بِـٔايـتِ اللَّهِ وَيَقتُلونَ النَّبِيّـۧنَ بِغَيرِ‌ الحَقِّ ذلِكَ بِما عَصَوا وَكانوا يَعتَدونَ ﴿٦١﴾... سورة البقرة
  • دسمبر
1970
عزیز زبیدی
سیاست: سیاست کو لوگ ''دنیا داری'' تصور کرتے ہیں حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے نزدیک ''سیاست'' دین ہے اور نبی کے بعد اس کی جانشینی کا نام ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

«کانت بنو إسرائیل تسوسهم الأنبیاء کلما ھلك بنی خلفه بنی وإنه لا نبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون الحدیث» (بخاری، ابو ھریرہؓ)
  • جنوری
  • فروری
1975
عزیز زبیدی
گرامی قدر۔ مولانا صاحب؛ دام فیوضہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

کتاب و سنت اور فقہ حنفی سے فجر کی نماز کے اول اور آخری وقت کے متعلق مفصل تحریر فرمائیں۔ والسلام۔

حافظ محمد طفیل۔ منڈی واربرٹن۔ ضلع شیخو پورہ (دسمبر ۱۹۷۴ء)
  • جنوری
1977
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

کچھ صوفی منش بندے صرف "اللہ اللہ" کا ذکر کرتے ہیں کیا اس کا بھی کچھ فائدہ ہوتا ہے یا قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟
  • مئی
1976
عزیز زبیدی
بادشاہ نبی نہیں، عبد رسول:

7. عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ﷺ:

یَا عَائِشَۃُ لَوْ شِئْتُ لَسَارَتْ مَعِیَ جِبَالُ الذَّھَبِ، جَاءَنِیْ مَلَکٌ ...... فَقَالَ اِنَّ رَبَّکَ یَقْرَأُ عَلَیْکَ السَّلَام وَیَقُوْلُ اِنْ شِئْتَ نَبِیًّا عَبْدًا وَاِنْ شِئْتَ نَبِیًّا مَلِکًا؟ فَنَظَرْتَ اِلٰی جِبْرَئِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَاَشَارَ اِلَیَّ اَنْ ضَعْ نَفْسَکَ۔
  • جنوری
1983
عزیز زبیدی
کراچی سے ایک طویل مکتوب آیا ہے، لکھا ہے:1۔ کالعدم پیپلزپارٹی کو ہم نہیں سمجھ سکے، کہ اسے کیاتصور کیا جائے؟2۔ کالعدم جماعت اسلامی کوکیا کہا جائے، باتیں ان کی اچھی ہیں مگر یہ جس امیر کے افکار کا نچوڑ ہے اس سے کوئی بھی جماعت مطمئن نہیں ہے۔ سیاسی اور دینی تمام جماعتیں اس کے امیر کے خیالات کو دین کے منافی قرار دیتی ہیں، آپ کا کیا خیا ل ہے؟3۔ تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے؟
  • مارچ
1983
عزیز زبیدی
اب ہم کتاب و سنت کی روشنی میں یہ جائزہ لیں گے کہ کیا حضور اکرمﷺ نور تھے او راس بناء پر آپؐ کا سایہ نہیں تھا یا کتاب و سنت اس عقیدہ باطلہ کی تردید کرتے ہوئے آپؐ کو خیر البشر کے مقام عظمیٰ و ارفع پر فائز کرتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل ہم یہ وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم درحقیقت اس سلسلہ کی طول طویل بحثوں سے گریز چاہتے ہیں۔ آج دنیا جس مقام پر پہنچ چکی ہے، اسے کتاب و سنت کے اس پیغام کی کہیں 
  • اگست
1983
عزیز زبیدی
جناب محمد دین صاحب چک نمبر 421۔ای بی ضلع وہاڑی سے لکھتے ہیں:کیاغیرمصلّی (خارج از نماز) امام جماعت کولقمہ دےسکتا ہے یا نہیں؟۔کتاب و سنت کی روشنی میں جواب تحریر فرما کر شکریہ کا موقع دیں!الجواب :کوئی کہیں ہو، امام کولقمہ دے سکتا ہے۔بلکہ ہرنمازی لقمہ دے سکتا ہے۔نماز میں غلط پڑھ ہوجانا یارک جانا او ربھول جانا، ایک ایساامر ہے جو اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کو درست کیاجائے۔ اگر کوئی اس جذبہ سے لقمہ دیتا
  • نومبر
  • دسمبر
1979
عزیز زبیدی
ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ:

(1) ایک شخص ایک سے زیادہ قربانی دےسکتا ہے یا نہیں؟

(2) اگر دے سکتا ہے تو سب ایک ہی دن کرے یا ایک آج، دوسری کل؟
  • مئی
  • جون
1975
عزیز زبیدی
1. مجالسِ ذکر:

خصوصی مجالسِ ذکر جو کبھی اہل بدعت کے ہاں لگتی تھیں، دیو بندی اور اہل حدیثوں میں بھی رواج پا رہی ہیں، مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کی مسجد میں اور پروفیسر مولانا سید ابو بکر غزنوی کے مدرسہ میں ''خاص رنگ'' میں ذکر کی محفل لگتی ہے، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
عزیز زبیدی
استفتاء:

بدین، سندھ سے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ:

1. بکرا ذبح کر کے یا کھانا پکا کر کھلانا اور مردوں کو اس کا ثواب بخشنا یا پیر جیلانی کی ارواح دینا جائز ہے یا نہیں؟
  • جولائی
1982
عزیز زبیدی
1۔حدیث علم حاصل کر وخواہ چین سےملے کی تحقیق

2۔باطنیوں کےعقائد واعمال کاشرعی حکم

................................................

خواجہ عبدالحمید صاحب بٹ لودھراں سےلکھتے ہیں:
  • نومبر
1982
عزیز زبیدی
1۔مختلف سیاسی اوردینی جماعتوں کاتعارف

2۔تمباکو نوش امام

کراچی سے ایک طویل مکتوب آیا ہےلکھا ہے:
  • فروری
1985
عزیز زبیدی
*چوتھے دن قربانی *ننگے سر نماز *نماز جمعہ سے قبل چار رکعتیں؟۔۔وغیرہ

ماسٹر گل مان شاہ صاحب راولپنڈی سے لکھتے ہیں:

1۔ کسی عذر کے بغیر قربانی چوتھے روز جائز ہے یا نہیں؟
  • جنوری
  • فروری
1974
عزیز زبیدی
آج سے تقریباً دس سال پہلے ''معارف اسلام'' شیعہ معاصر کے فرضی نظریات او رجارحانہ مضامین پڑھ کر ہم نے ''خلیفہ بلا فصل اور وصی رسول اللہ'' کےعنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جو کاغذوں کے ڈھیر کے نیچےدب کر رہ گیا تھا کئی سالوں کے بعد ہاتھ لگا تو ماہنامہ ''محدث'' لاہور نے اٹھا کر بعینہ شائع کردیا۔بات گو اب بھی تازہ تھی مگر تاریخی چھاپ وہ نہیں رہی تھی۔مثلاً مضمون ہم نے یوں شروع کیاتھا:
  • مئی
  • جون
1974
عزیز زبیدی
ہمارے معاصرِ محترم جناب غیاث الدین صاحب نے 'بحث' کا جو انداز اختیار کیا ہے وہ 'خلطِ مبحث'' کی ایک دلچسپ مثال ہے، اگر یہ راہ اختیار کر لی جائے تو شاید ہی کوئی بحث ختم ہو۔

معاصر موصوف سے گفتگو اس لئے بھی بدمزہ رہتی ہے کہ ان کی بات میں علم کم مگر جذبات میں تصنع اور خانہ ساز مفروضات زیادہ ہوتے ہیں
  • مارچ
1977
عزیز زبیدی
گوجرانوالہ سے مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث کی طالبات لکھتی ہیں کہ:

1۔ قرآن پاک کی تعلیم کا معاوضہ لینے کا کچھ جواز ہے؟ حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، یہ جائز نہیں ہے۔ مشکوۃ پر غزنویہ حاشیہ میں ہے: پس قبول کر اس کو تعلیم قرآن پر اجرت، نہ جائز ہونے کی دلیل ایک عبادہ بن صامت کی یہ حدیث ہے اور دو تین حدیثیں صاحبِ روضہ نے بیان کی ہیں۔
  • فروری
1972
عزیز زبیدی
دیوانہ کہنے کے اسباب:

سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان اہلِ ہوش، اہلِ بصیرت اور عظیم ہستیو کو دنیا دیوانہ کہنا کیوں شروع کر دیتی ہے۔ اگر کسی بد نیت عیار نے بد نیتی سے یہ تہمت تراش لی ہوتی ہے تو دوسرے اسے کیوں باور کر لیتے ہیں۔ دراصل اس کے متعدد اسباب اور وجوہ ہیں:
  • دسمبر
  • جنوری
1972
عزیز زبیدی
قرآنِ حمید نے ذکرِ اقوام میں، اقوامِ عالم کے نسلی اور جغرافیائی خاکے اور سوانح بیان نہیں کئے، کیونکہ خدا کے ہاں ان کی بابت کوئی پرستش نہیں ہو گی اور نہ ہی اس میں بندہ کے کسب و عمل کا کوئی دخل ہے۔ اس لئے ہمیشہ قوموں کے کیریکٹر اور کردار پر اس کی نگاہ رہی ہے اور جب کبھی ان کو تولا ہے تو اسی ترازو میں تولا ہے، اور انہی پیمانوں سے ان کو ناپا ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1974
عزیز زبیدی
۱۵ھ، ۶۳۶ء میں مسلم عرب کی حیثیت سے حکم ثقفی نے بمبئی کے مشہور علاقہ 'تھانہ' پر حملہ کیا۔ اس کے بعد 'بھروچ' کا رخ کیا اور اسی دوران حضرت مغیرہؓ نے سندھ کی مشہور بندرگاہ دیول پر چڑھائی کی۔ اور حضرت حکیم بن جبلہؓ نے سرکاری حیثیت میں ہندوستان کے سلسلے میں سروے کیا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے ہندوستان کے علاقے فتح ہوتے گئے۔
  • اپریل
1972
عزیز زبیدی
شمارہ مارچ ۷۲ء میں ہم نے مولانا عزیز زبیدی صاحب کا ایک مضمون بعنوان ''سماع، امام نابلسیؒ کا نقطہ نظر'' شائع کیا تھا جس میں زبیدی صاحب موصوف نے مجوزینِ سماع میں سے امام نابلسی کی ایک تصنیف ''ایضاح الدلالات فی سماع الآمات'' کے ایک اہم حصہ کی تلخیص پیش کر کے ان کا نقطۂ نظر واضح کیا تھا۔ ہم نے اس مسئلہ پر تفصیلی بحث اور صحیح نقطۂ نظر بادلائل پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
  • مئی
1972
عزیز زبیدی
''محدث'' شمارہ اپریل ۷۲ء میں مولانا عزیز زبیدی صاحب کے مضمون ''سماع'' کی پہلی قسط شائع ہوئی تھی۔ زیر نظر شمارہ میں اس کی دوسری قسط ہے۔ لیکن اس ضمن میں چونکہ چند اصطلاحاتِ قرآنیہ مثلاً ''لہو الحدیث''۔ ''سامدون''۔ ''زور'' اور ''بصوتک'' کا ذِکر ضروری تھا (جیسا کہ آپ آگے پڑھیں گے) جن سے کئی ائمہ دین اور مفسرین نے ''سماع'' اور ''غنا'' ہی مراد لیا ہے۔
  • جون
1972
عزیز زبیدی
غنا کے ساتھ شاعری کا بھی تعلق ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اس کا بھی مختصر تعارف کرا دیا جائے۔ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ شاعری کے متعلق قرآنِ حکیم کا نظریہ کیا ہے؟
  • جولائی
1972
عزیز زبیدی
قال رسول اللہ ﷺ: (4)

یعنی اس پاک اور عظیم ہستی کی باتیں جو سماع، قرآن سے اشک بار ہوئی، رجزیہ کلام سنا تو ولولۂ جہاد میں سرشار ہوئی، لطف و سرور کی معصوم سی گھڑیاں آئیں تو تفریح کی اس سادہ سی تقریب کو عموماً حرب و ضرب کی یادگار بنا ڈالا
  • جولائی
  • اگست
1979
عزیز زبیدی
مندرجہ ذیل امو رکا جواب عنایت فرمائیں: [ایک سائل ۔ گوجرانوالہ]

1۔ ''مساوات محمدی'' کے معنی میں ''سوشلزم'' کی اصطلاح قبول کرلینے میں کیا حرج ہے؟

2۔ کیا اسلام میں ''امیر و غریب'' کا کوئی جائز تصّور پایا جاتا ہے۔ اگر جواب ''ہاں'' میں ہے تو دُنیا میں یہ پنپنے کے قابل کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟
  • اگست
1971
عزیز زبیدی
کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں، جو بری ہوتی ہیں اور برائی کا سبب بنتی ہیں، لیکن یوں عام ہوتی ہیں، جیسے شرعاً ان میں کوئی قباحت ہی نہ ہو۔ اس لئے اصلاحِ حال کی طرف نہ ذہن جاتا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس فرصت میں ہم اس سلسلے کے صرف وہ چند امور سامنے رکھیں گے، جو مستورات سے تعلق رکھتے ہیں، جو حد درجہ خطرناک ہیں مگر حد درجہ عام بھی ہیں۔
  • دسمبر
1970
عزیز زبیدی
سلف صالحین ''جماعت'' تو ضرور تھے لیکن ہماری طرح ان کو تنظیم کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ سالارِ کارواں ﷺ نے اپنے حجازی قافلہ کے لئے جو جادہ اور منزل تشخیص کی تھی، قدرتی طور پر سب کا رُخ ادھر ہی کو تھا اور اسی منزل کی طرف سب رواں دواں اور جدہ پیما تھے۔ چونکہ مجموعی طور پر ملت اسلامیہ خیر سے قریب اور شر سے دور تھی،
  • فروری
1973
عزیز زبیدی
شمارہ ہذا سے ہمارے محترم دوست مولانا عزیز زبیدی مسلسل تفسیر قرآن کا آغاز فرما رہے ہیں۔ تفسیر اور مفسر کے بارے میں تو ہم کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کیونکہ تفسیر و تعبیر قارئین کے سامنے ہے اور مفسر جانے پہچانے لیکن اس بابرکت افادہ کو قائم رکھنے کے لئے احباب سے درخواست ہے کہ مولانا موصوف کے حق میں متنوع پریشانیوں اور الجھنوں سے نجات کے لئے دعائے خاص فرمائیں
  • اپریل
1977
عزیز زبیدی
﴿إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ﴾

"زمین اللہ ہی کی ہے"

کیونکہ وہ اس کا خالق اور مالک ہے اور پوری طرح وہ اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کی مرضی اور منشا کے سامنے عاجز اور تابع فرمان ہے۔
  • نومبر
1984
عزیز زبیدی
جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے فاضل اور مفتی مولانا ولی حسن صاحب ٹونکی "بینات" میں ایک مضمون "اس دور کا ایک عظیم فتنہ" کے نام سے تحریر فرما رہے ہیں، علامہ موصوف نے تازہ قسط (ذوالحجہ 1404ھ مطابق اکتوبر 1904ء)" ہندوستان میں حدیث کی آمد" میں تحریر فرمایا ہے کہ:

"ولی اللہی خاندان کے بعد حق و صداقت، علم و عرفان، صدق و صفا اور علومِ دینیہ خصوصا قرآن کریم و حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تدریس اور درس و افادہ کی خلافت حضرات علماء دیوبند و سہارنپور کی طرف منتقل ہوئی۔
  • مارچ
1977
عزیز زبیدی
شاطرانہ چکر بازی ہے

﴿وَالفِتنَةُ أَشَدُّ مِنَ القَتلِ﴾"﴿وَالفِتنَةُ أَكبَرُ‌ مِنَ القَتلِ...٢١٧﴾... سورةالبقرة

یہ چکر خونریزی سے زیادہ سنگین ہیں۔ (1) فتنہ (برپا کرنا) خونریزی سے بڑھ کر سنگین ہے۔ (ب) فتنہ برپا کرنا (کشت و) خون سے بڑھ کر ہے۔
  • مارچ
1982
عزیز زبیدی
چک نمبر 346 گ۔ب (فیصل آباد) سے ایک صاحب پوچھتے ہیں کہ احناف حضرات نے ایک اشتہار کے ذریعے یہ کہا ہے، نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے اور بسم اللہ کو جہرا نہیں پڑھنا چاہئے۔ دلائل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیثیں پیش کی ہیں۔

1۔ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا:
  • فروری
1978
عزیز زبیدی
ایک صاحب لکھتے ہیں: نور والی حدیث پر آپ کا تبصرہ پڑھا، اگر وہ ضعیف ہے تو کیا ہوا، قرآن جو کہتا ہے:

قد جاء کم من اللہ نور و کتٰب مبین

''یعنی اللہ کی طرف سے تمہارے پاس نور او رکتاب مبین آئی''
  • مارچ
  • اپریل
1975
عزیز زبیدی
کسی خاص مقام پر دفن کی وصیت کا حکم اور اس کا فائدہ؟ مسئلہ کفاءت وغیرہ

الاستفتاء۔ یہ استفتاء لمبا چوڑا آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

1. وابتغوا الیه الوسيلة ميں ''الوسيلة'' سے کیا مراد ہے؟
  • نومبر
1984
عزیز زبیدی
صوبیدار شیر علی الرحیمی گلگت سے لکھتے ہیں:

مکرمی و محترمی، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

امیدِ واثق ہے آپ بعافیت ہوں گے۔ امام بعد، راقم ایک ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے۔ یہاں گلگت و بلتستان میں کوئی ایسا مستند موحد عالم دین نہیں
  • مارچ
  • اپریل
1978
عزیز زبیدی
1۔ ﴿اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون۔ ما یأتیہم من ذکر من ربہم محدث الا استمعوہ وھم بلحبون۔ لاھیۃ قلوبھم واسروا النجوی الذین ظلموا ھل ھذا الابشر مثلکم افتأتون السحر وانتم تبصرون (پارہ17، سورہ الانبیاء ع1)﴾

''لوگوں کے حساب (کا وقت)قریب آگیا۔ اس پربھی وہ غفلت میں، پرے منہ کئے ہوئے (چلے جارہے ہیں)ان کے پاس ان کے رب کی طرف سےجوبھی نیا حکم آتا ہے۔
  • دسمبر
1972
عزیز زبیدی
آزر، براہیم اور اسماعیل، اندازِ زیست سب کے جدا جدا، بات بُت فروش، بیٹا بُت شکن اور صاحبزادہ سر فروش۔ وہ مظاہرہ پرست، یہ خدا پرست اور تیسرا تسلیم و رضا کا پیکر۔ اپنا اپنا نصیب اور اپنی اپنی فطرت! ایک ہی درخت، کچھ کانٹے، کچھ پھول اور کچھ شیریں پھل۔
  • جولائی
  • اگست
1977
عزیز زبیدی
﴿أَحَسِبَ النّاسُ أَن يُترَ‌كوا أَن يَقولوا ءامَنّا وَهُم لا يُفتَنونَ ﴿٢﴾... سورةالعنكبوت

زبانی کلامی کلمہ:

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ زبان سے اتنا کہنے پر چھوٹ جائیں گے کہ: ہم ایمان لے آئیں اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔
  • مارچ
1977
عزیز زبیدی
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، أَنَّ يَهُودِيَّيْنِ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: لَا تَقُلْ لَهُ نَبِيٌّ فَإِنَّهُ إِنْ سَمِعَهَا تَقُولُ نَبِيٌّ كَانَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ(سنن الترمذی:حدیث3144)

اسے نبی کے نام سے نہ پکارو۔"حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک یہودی نے اپنے رفیق سے کہا کہ : اس نبی کے پاس میرے ہمراہ چلیے، اس نے کہا: (او ہو) "نبی" نہ کہو، یقین کیجئے! اگر (یہ کہتا ہوا) اس نے تجھے سن لیا تو اس کی آنکھیں چار ہو جائیں گی (بہت ہی خوش ہو جائے گا)"
  • نومبر
1976
عزیز زبیدی
1۔ عن شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰعنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم الکیس من وان نفسہ و عمل لما بعد الموت والعاجز من اتبع نفسہ ھواھا وتمنیٰ علی اللہ (ترمذی)

کام بھونڈے امیدیں نیک : رسول پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
  • نومبر
1981
عزیز زبیدی
عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ''اَلْکَیّسُ مَنْ وَاَنَ نَفْسہٗ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہٗ ھَوٰھَا وَتَمَنّٰی عَلَی اللّٰہِ (رواہ الترمذی)
  • ستمبر
1976
عزیز زبیدی
عن عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا قالت کما استخلف ابوبکر الصدیق قال لقد علم قومی ان حفتی لم تکن تعجز عن مؤنۃ اھلی و شغلت بامرالمسلمین فسیاکل آل ابی بکر من ھذا المال و یحترف للمسلمین فیہ (بخاری باب کسب الرجل و عملہ بیدہ)

(حضرت) عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب (حضرت ) بوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے تو فرمانے لگے کہ:
  • نومبر
1972
عزیز زبیدی
معزز معاصر ''بینات'' ستمبر 1972ء میں مولانا نبوری دیو بندی کا ایک مضمون بعنوان ''منصبِ رسالت اور سنت کا تشریعی مقام'' شائع ہوا ہے۔ مولانا بنوری نے جامع ترمذی کی ایک شرح معارف السنن لکھی ہے، جس کا ایک مقدمہ ''عوارف المنن'' کے نام سے الگ حریر فرمایا ہے، مندرجہ ذیل مضمون مولانا مووف کے اسی مقدمہ کے ایک باب کا ترجمہ ہے ادارہ بینات نے پیش کیا ہے۔
  • مئی
1978
عزیز زبیدی
«عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم قدم المدینة فوجد الیہود صیاما یوما عاشوراء فقال لھم رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم ماھذا الیوم الذی تصومونة فقالوا ھذا یوم عظیم اتجی اللہ فیه موسیٰ و قومه و غرق فرعون و قومه قصامه موسیٰ شکراً فنحن تصومه فقال رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم فنحن احق و اولی بموسیٰ منکم فصامه رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله وسلم و امر بصیامه» (بخاری ۔مسلم)
  • جون
1971
عزیز زبیدی
شروع سے ہند کی طرف مسلمانوں کی نگاہیں اُٹھ رہی تھیں، چنانچہ ۱۵ ؁ھ / ۶۳۶ع میں عمان اور بحرین کے گورنر کے ایما پر حکم شفقی نے بمبئی کی سرزمین (تھانہ) پر حملہ کیا اور ۹۳ ؁ھ میں محمد بن قاسم نے اپنی مشہور منجنیق ''العروس'' کے ذریعے حملہ کر کے دیبل (ٹھٹھ) کا قلعہ فتح کیا اور ہند میں اپنے قدم جما لئے۔ اس کے بعد بتدریج مسلمانوں کی آمدورفت بڑھتی رہی اور علاقے کے علاقے مسلمان ہوتے چلے گئے۔
  • مارچ
  • اپریل
1978
عزیز زبیدی
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یعوض الناس یوم القیمۃ ثلث عرضات فاما عرضتان فجد ال و معاذ یروا ما العرضۃ الثالثۃ قعتد ذٰلک تطیرالصحف فی الایدی فاخذ بیمینہ واخذ بشمالہ (رواہ احمد و ترمذی وفیہ انقطاع)

تین پیشیاں: ''رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، قیامت کے دن لوگوں کو تین بار پیش ہونا پڑے گا۔
  • جنوری
1982
عبدالحمید بن عبدالرحمن
چند دن قبل مولانا عبدالمجید صاحب بھٹی (ضلع گوجرانوالہ) کی طرف سے ادارہ کو ایک لفافہ موصول ہوا، جس میں ایک استفتاء اور اس کے دو مختلف جوابات تھے، ساتھ ہی مولانا کا ایک وضاحتی خط بھی تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا:
"میں نے یہ استفتاء مفتی عبدالواحد صاحب خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ کو بھیجا تھا، جس کا جواب انہوں نے لکھ کر بھیج دیا لیکن راقمکی ان جوابات سے تشفی نہیں ہوئی چنانچہ یہی استفتاء میں نے جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا عبدالحمید صاحب کو ارسال کیا اور انہوں نے جو جوابات لکھ کر بھیجے، گو میں ان سے مطمئن تھا لیکن چونکہ دونوں جوابات ایک دوسرے سے بہت کچھ مختلف تھے اس لیے اس الجھن میں پڑ گیا کہ ان دونوں میں سے کون سا جواب صحیح ہے اور کون سا غلط ۔۔۔ جو صحیح ہے، اس کی صحت کی دلیل کیا ہے اور غلط کس بناء پر غلط ہے؟ ۔۔۔ ناچار یہ استفتاء مع ہر دو جواب کے آپ کی خدمت میں روانہ کر رہا ہوں، آپ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں نہ صرف صحیح نتیجے پر پہنچ سکوں بلکہ مجھے اطمینانِ قلب بھی حاصل ہو، جو ظاہر ہے کتاب و سنت ہی کی بناء پر ممکن ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ... ٥٩﴾...النساء
والسلام