• مئی
  • جون
1979
برق التوحیدی
قاضی بشیر احمد صاحب نے اپنے مضمون کی قسط 12 سے احکام صلح کے متعلق خامہ فرسائی شروع کی ہے لیکن آپ اس مبحث میں بھی تضاد ، لغت دانی اور حدیث شناسی کے متعدد عجوبے او رنمونے پائیں گے۔ چنانچہ موصوف تشریح 12 ش 4 میں فرماتے ہیں۔ اگر مجنون کو قصاص کا حق حاصل ہو خواہ قصاص نفس کا ہو یا دون النفس کا تو اس کے باپ دادا کو اختیار ہوگا کہ وہ مجنون کی جانب سے قصاص لیں اور اس کو صلح کرنے کابھی اختیار ہے البتہ وہ معاف کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ ''
  • اکتوبر
  • نومبر
1978
برق التوحیدی
قاضی بشیر احمد صاحب اسلام کے قانون سرقہ پر بحث ختم کرچکے ہیں اور قسط نمبر 7 سے انہوں نے فصل دوم یعنی قتل کے احکام کا ذکر شروع کیا ہے۔ بحث کے سیاق و سباق کو دیکھنےسے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف فقہ حنفی کی روشنی میں عصمت مال کی طرح عصمت دم کو بھی اورؤالمحدود بالشبہات کی نذر فرما رہے ہیں۔ ہمارے کہے بغیر انشاء اللہ قارئین خود محسوس فرمائیں گے کہ سابقہ روایات کے مطابق اسلامی جذبات و احساسات سے صرف نظر کرتے ہوئے موصوف نے عصمت دم کو فقہ حنفی کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی ہے
  • جولائی
  • اگست
1979
برق التوحیدی
قولہ: قاضی صاحب موصوف نے دفعہ نمبر 6 ش12 میں لکھا ہے کہ ''مرد اور عورت کے درمیان نفس سے کم میں قصاص جاری نہ ہوگا۔'' (ترجمان القرآن جلد 90 ع 4 ص21)

اقول: اس مسئلہ میں احناف او رمالکیہ و شوافع کے درمیان اختلاف ہے او راس اختلاف کی اصل بنیاد اس بات پر ہ کہ کیا عورت او رمرد کے اعضاء میں مماثلت ہے یا نہیں؟ احناف کے نزدیک یہ مماثلت مفقود ہے جبکہ جمہور کے نزدیک مماثلت و مساوت موجود ہے۔
  • اگست
  • ستمبر
1978
برق التوحیدی
ہم پہلی اقساط میں متعدد مرتبہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ فقہ علی العموم اس قابل نہیں کہ اسے آج کے معاشرہ میں من و عن نافذ کردیا جائے لیکن فقہ حنفی کی شان تو کچھ نرالی ہی ہےکہ جس کی بنیاد 75 فیصد حیلہ سازی پر ہے اور حیل کےذریعےمجرم کو ''ادرؤا'' کے پردہ میں تحفظ بخشا جاتاہے لیکن نامعلوم ہمارےمہربان ایسی حیلہ سازی کو ختم کرنے کی بجائے الٹا امام بخاری وغیرہ ائمہ محدثین کو کیوں کوستے ہیں
  • جولائی
1978
برق التوحیدی
اقول: اس بات کی سطحیت پر کچھ کہے بغیر ہم قاضی صاحب کے دلائل کا تجزیہ کرتے ہیں۔ آپ نے پہلے ابو امیہ مخزومی کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کے قول کی ناجائز تائید کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں کوئی لفظ تک ایسا نہیں جس سے یہ معلوم ہو کہ قاضی کو رجوع عن الاقرار کے متعلق تلقین کرنی چاہئے بلکہ علامہ خطابی تو اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں:
  • مئی
1978
برق التوحیدی
پچھلی مرتبہ ہم نے قاضی صاحب کی خدمت میں چند ایک گزارشات پیش کی تھیں اور چند خدشات کی طرف اشارہ بھی کیا تھا لیکن جب قاضی صاحب کے مضمون کی دوسری قسط (جوسرقہ کے متعلق ترجمان القرآن شمارہ 4 جلد88 میں ہے) سامنے آئی تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بعینہ وہ خطرات منڈ لا رہے ہیں او روہی مفسدات و منکرات سراٹھاتے نظر آتے ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا تھا۔
  • دسمبر
1978
برق التوحیدی
محترم قارئین کرام اس سے قبل آپ مسلمان کو ذمی کے بدلے قتل کرنے کے متعلق پڑھ چکے ہیں، اب ہم اسی قسط کے ساتھ متعلق دوسرے مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ اگر ایک قتل میں متعدد آدمی ملوث ہوں تو کیا ان میں سے ایک کو قتل کیاجائے گا یا تمام کو ..... لیکن اس مسئلہ کی دوصورتیں ہیں ایک یہ کہ آدمی کو متعدد افراد مل کر برضا و رغبت قتل کرتے ہیں، دوسری یہ کہ ایک آدمی کو دوسرا مجبور کرتا ہے کہ تو فلاں آدمی کو قتل کردے او روہ کرہاً قتل کردیتا ہے تو کیا دونوں پر قصاص ہوگا یا صرف آمر یا مامور پر؟
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
برق التوحیدی
قولہ : اگر آلہ کومسلسل استعمال کیا گیا ہو تو احناف کے نزدیک اس صور ت میں بھی قتل شبہ عمد ہوگا..... البتہ امام شافعی کے نزدیک اس صورت میں قتل شبہ عمد ہوگا۔ (ترجمان القرآن فروری 1979ء، صفحہ 13 دفعہ نمبر 15)

اقول: ہم پہلے کسی موقعہ پر غالبا ً بالتفصیل عرض کرچکے ہیں کہ ہتھیار میں تلوار کو خاص کرنا یاایسی شروط عائد کرنا جن سے عموماً مستعملہ چیزیں خارج ہوجائیں۔
  • جنوری
  • فروری
1979
برق التوحیدی
قاضی بشیر صاحب نے اپنے مضمون کی قسط نمبر9 کی ابتدا جس بحث سے فرمائی ہے اسپر ہم بالاختصار پہلے بھی کچھ عرض کرچکے ہیں اور وہ یہ کہ دارالحرب ساقط قصاص ہے یا نہیں یعنی عصمت دم میں اسلام معتبر ہے یا دارالحرب احناف کے نزدیک عصمت دم کا مدار مقام او رجگہ ہے۔ یعنی اگر کوئی مسلمان دارالحرب میں مارا جائے تو اس کے قاتل پر قصاص نہیں ہوگا اور یہ کہ خطاء کی صورت میں اس پر دیت ہوگی جبکہ شوافع کا خیال ہے
  • جون
1980
برق التوحیدی
کیا حدود محض زواجر ہیں؟موصوف قاضی صاحب فرماتے ہیں۔ ’’ اوپر دنیاوی سزا کا ذکر ہے آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہوگی۔‘‘ (ترجمان القرآن مارچ 1979ء)
جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے قتل کے جرم میں قصاص لیا جائے یا سرقہ کے ضمن میں قطع ید ہو یا زنا کے سلسلہ میں رجم کردیا جائے وغیرہ وغیرہ تو یہ سزا صرف دنیاوی سطح تک معتبر ہوں گی عنداللہ ان کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ ان مجرموں کو مزید سزا دی جائے گی۔
حدود کے ضمن میں دی جانے والی سزا کیا آخرت میں بھی کافی ہے یا نہیں؟ یہ اصولی بحث تو ہم کسی اور جگہ کریں گے تاہم مسئلے کی وضاحت کے لیے تو حدیث ہی کافی ہے جو خود قاضی صاحب نے بھی اپنے مضمون میں نقل کی ہے او روہ یہ کہ عوام کو محفوظ رکھنے کی غرض سے مسئلہ سمجھا دیا جائے۔ مسئلہ کی وضاحت کے لیے اولاً جو درمیان مضمون آپ نے جو حدیث درج کی ہے وہ  اس کی طرف سے بردہ آزاد کرد۔ بردہ کے ہر عضو کی آزادی کی وجہ سے اس کا ہر عضو دوزخ سے آزاد ہوجائے گا۔ اس سوال یہ ہےکہ اگر وہ جہنم سے آزاد ہوگیا تو اور سزا کیا ہوگی؟ کیا اسے بطور سزا جنت میں بھیج دیا جائے گا؟