• جون
2007
محمد رفیق چودھری
ٹی وی کے دانشورجناب جاوید احمد غامدی صاحب (بی اے آنرز، فلسفہ) کے نظریات دین اسلام کے مسلمہ، متفقہ اور اجماعی عقائد و اَعمال سے کس قدر مختلف ہیں اور اُن کی راہ اُمت ِمسلمہ اور علماے اسلام سے کتنی الگ اور جداگانہ ہے، اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے ذیل میں اُن کی تحریروں پر مبنی ایک تقابلی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس کے مطالعے سے آپ خود یہ فیصلہ فرما سکتے ہیں کہ علماے اسلام اور غامدی صاحب میں سے کون حق پر ہوسکتا ہے؟
  • دسمبر
2007
محمد رفیق چودھری
اسلام واحد دین ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا ہے اور اُن کے بارے میں کامل رہنمائی د ی ہے۔ دین اسلام کے سوا دنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جو اپنی تعلیمات کے لحاظ سے اس قدر جامع اور ہمہ گیر ہو کہ اس میں روحانیت، اخلاق، معاشرت، معیشت اور سیاست سے متعلق مکمل تعلیم و رہنمائی پائی جاتی ہو۔
  • جنوری
2013
محمد رفیق چودھری
قرآنِ مجید کے ترجمہ و تفسیر کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے۔ اورعلماے اسلام نے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نہایت قیمتی اور قابل قدر کام کیا ہے۔صحیح فہم قرآن کے لیے چند مسلّمہ بنیادی اُصول ہیں جن کا علم ضروری ہے ، ذیل میں بالاختصار یہ اُصول بیان کئے جاتے ہیں:

1. قرآنِ مجید کو سمجھنے سے قبل آدمی اپنے دل و دماغ کو ان تصورات اور تعصّبات سے بالکل خالی کردے
  • جنوری
2001
محمد رفیق چودھری
اللہ تعالیٰ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے آج ہمیں یہاں ایک ایسے مقصد کی خاطر جمع کیاجس کا تعلق امت ِ مسلمہ کے تشخص، اس کے اجتماعی مفادات، ملی نصب ُالعین اور اس سے وابستہ سوا اَرب انسانوں کے حال اور مستقبل سے ہے۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کافضل و کرم ہے کہ آج کی مضطرب دنیا میں کچھ دردمند حضرات کو یہ سعادت حاصل ہوئی کہ انہوں نے اس عالمی مجلس کا اہتمام کیا
  • فروری
  • مارچ
2010
محمد رفیق چودھری
اللہ تعالیٰ کی وحی کی روشنی میں نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم احکامِ اسلامی کی تشکیل وتعبیر کرتے رہے،جنہیں کتاب وسنت بھی کہا جاتا ہے۔یہی شریعت اور اس کا نفاذ ہے جبکہ جدید سیاسیات میں قانون سازی مقننہ،اس کی تشریح وتعبیر عدلیہ اور اس کا نفاذ حکومت کرتی ہے۔ 'نفاذ' کا لفظ ذو معنی ہے۔ چنانچہ قانون کا جاری ہونا اور اس کی عملداری دونوں کو 'نفاذ'کہتے ہیں۔شریعت کی عرف میں 'کتابت' کا مفہوم نفاذ کے قریب ہے۔
  • اگست
2006
محمد رفیق چودھری
      یہ خلل دماغ کا ہے یا کسی کی مہرہ بازی                  کہ مصوری ہے جائز، ہے حلال نَے نوازی
یہ تو بات غیر کی تھی جو تری زباں سے نکلی                کہ جہاد کرنے والے نہ شہید ہیں نہ غازی
  • مارچ
2007
محمد رفیق چودھری
جناب جاويد احمد غامدى صرف احاديث ِصححہا ہى كے منكر نہيں، وہ قرآن كى معنوى تحريف كرنے كے عادى بهى ہيں-اُن كے ہاں تحريف ِ قرآن كے بہت سے نمونے پائے جاتے ہيں- اس مضمون ميں اُن كى تحريف ِ قرآن كا ايك نمونہ پيش كيا جاتا ہے:غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں:"موت كى سزا قرآن كى رُو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى-
  • دسمبر
2008
محمد رفیق چودھری
فاضل مقالہ نگار نے چند برس قبل محدث میں 'جاوید غامدی کے منحرف افکار' سے اُمت کو آگاہ کرنے کے لئے ایک علمی سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سلسلۂ مضامین کے ساتھ ساتھ ان کے غلط اَفکار پر اُنہوں نے شعر وادب کی زبان میں بھی کڑی تنقید کی۔ یہ سلسلہ باقاعدگی کے ساتھ محدث میں جاری وساری تھا کہ چند ماہ بیشتر فاضل محقق ایک ٹریفک حادثہ کا شکار ہوگئے اورتعطل پیدا ہوگیا۔
  • جنوری
2008
محمد رفیق چودھری
ہمارے زمانے میں فتنۂ انکار ِ حدیث کی آبیاری کرنے والوں میں ایک نام جاوید احمد غامدی صاحب کا بھی ہے۔ موصوف اپنی چرب زبانی، لفاظی اور منطقی مغالَطوں کے ذریعے اس فتنے کو ہوا دے رہے ہیں ۔ اُن کو الیکٹرانک میڈیا، چند سرمایہ داروں کی توجہ اور سرکار دربار کی نوکری و سرپرستی حاصل ہے۔میرے نزدیک غامدی صاحب نہ صرف منکر ِحدیث ہیں بلکہ اسلام کے متوازی ایک الگ مذہب کے علمبردار ہیں ۔
  • جون
2006
محمد رفیق چودھری
فاضل مقالہ نگار محمد رفیق چودھری جناب جاوید احمد غامدی کے ان ابتدائی ساتھیوں میں سے ہیں جب غامدی صاحب ابھی محمد شفیق عرف 'کاکو شاہ' سے نام تبدیل کر کے غامدی کے لاحقہ کے بغیر صرف 'جاوید احمد' کہلاتے تھے۔ یہ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد کا دور ہے، جب جاوید احمد بی اے کرنے کے بعد اپنی طلاقت ِلسانی کی بدولت پنجاب کے ایڈمنسٹریٹر اوقاف جناب حامد مختار گوندل کو متاثر کر کے اوقاف کے خرچ پر 29؍جے ماڈل ٹاؤن لاہور میں دائرة الفکرکے نام سے ایک تربیتی اور تحقیقی ادارہ کی داغ بیل ڈال رہے تھے 
  • جولائی
2006
محمد رفیق چودھری
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے تو صحابہ کرامؓ اس کے شاہد اور امین۔بلا شبہ قرآنِ کریم کے جواہرات جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم زندگی کی لڑی میں پروئے جاتے تو یہ ہار صحابہ کی نظروں کو خیرہ کرتا۔چنانچہ بعد کے مفسرین قرآن پر آپؐ کے اصحابؓ کو یہی امتیاز حاصل ہے کہ قرآنِ مبین اُن کی زبان میں اُترتا تھا اور وہ اپنے سامنے وحی ٔ نبوت کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔
  • اپریل
2009
محمد رفیق چودھری
جناب غامدی صاحب نت نئے طریقوں سے حدیث کی حجیت کا انکار کرتے ہیں :کبھی وہ حدیث اور سنت میں تفریق پیدا کرتے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ اور حدیث دو الگ الگ اور مختلف چیزیں ہیں ۔کبھی فرماتے ہیں کہ حدیث سے دین کا کوئی عقیدہ، عمل اور حکم ثابت نہیں ہوتا۔کبھی ارشاد ہوتا ہے کہ سنت، خبر واحد (اخبارِ آحاد) سے ثابت نہیں  ہوسکتی اس کے لیے تواتر شرط ہے۔ اس طرح وہ مختلف حیلوں بہانوں سے حدیث کی اہمیت گھٹانے اور اسے دین اسلام
  • فروری
2009
محمد رفیق چودھری
زیرنظر کتاب دین اسلام سے متعلق ہے۔ خود مصنف اس کے 'دیباچہ' میں جو 10؍اپریل 1990ء کا لکھا ہوا ہے، تحریرفرماتے ہیں کہ ''اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ کم و بیش ربع صدی کے مطالعہ و تحقیق سے میں نے اس دین کو جو کچھ سمجھا ہے، وہ اپنی اس کتاب میں بیان کردیاہےپھرآخر میں کتاب کے 'خاتمہ' کے عنوان سے جو ۲۷؍اپریل 2007ء کا تحریر شدہ ہے، مصنف موصوف لکھتے ہیں :''اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کتاب کی تصنیف کا جوکام میں نے1990ء بمطابق
  • دسمبر
2006
محمد رفیق چودھری
اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے ۔اس حد کو بدلنے کا کسی کو اختیار نہیں ۔اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے سفارش کرنا بھی نا پسندیدہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ زانی پر رجم یعنی سنگساری کی سزا نافذ فرمائی ہے۔کبھی مجرم کے اعتراف (Confassion) پر اور کبھی چار گواہوں کی شہادت(Witness) دینے پر یہ حد جاری کی گئی۔ اب جولو گ اس حد شرعی کو اپنے طور پر یا کسی بیرونی اشارے سے بدلنا یا منسوخ کرنا یا تعزیر میں تبدیل چاہتے ہیں ، وہ در اصل اسلامی شریعت کو اپنی خواہشاتِ نفسانی کا کھلونا بنانا چاہتے ہیں ۔
  • اگست
2006
محمد رفیق چودھری
قرآنِ کریم کے اوّل مخاطب صحابہ کرامؓ ہیں ، اور ایک کلام اسی وقت ہی بلیغ ومبین کہلا سکتا ہے جب وہ اپنے اوّل مخاطبین کی سمجھ میں آئے، وگرنہ اس کے اِبلاغ میں نقص ماننا پڑے گا۔ اس لحاظ سے صحابہ کرامؓ کی قرآن فہمی کو دیگر اہل علم پر کئی پہلوئوں سے ترجیح حاصل ہے۔ صحابہ کرامؓ کی قرآن فہمی کے تین مرحلے ہیں اور تینوں کے احکام مختلف ہیں : a جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ فلاں آیت اس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی تو اس واقعہ کے تعین،حقیقت اورکیفیت کے بارے میں صحابہ کا موقف حجت ہے
  • نومبر
2006
محمد رفیق چودھری
صاحب ِ 'اشراق' کے کھلتے ہیں اَسرار و رُموز                        کشورِ پنجاب میں وہ رُوحِ مرزا کا بُروز
رقص و موسیقی ہوئے اُسکی شریعت میں حلال               ہے حرام اِس دور میں کفار سے جنگ و قتال
  • نومبر
2006
محمد رفیق چودھری
دورِ حاضر کے تجدد پسند گروہ (Miderbusts)نے مغرب سے مرعوب و متاثر ہوکر دین اسلام کاجدید ایڈیشن تیار کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے الفاظ کے معانی اور دینی اصطلاحات کے مفاہیم بدلنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ہمارے ہاں اس فتنے کی ابتدا سرسید احمد خان نے کی۔ پھر اُن کی پیروی میں دو فکری سلسلوں نے اس فتنے کو پروان چڑھایا۔ ان میں سے ایک سلسلہ عبداللہ چکڑالوی اورمولانا اسلم جیراج پوری سے ہوتا ہوا جناب غلام احمد پرویز تک پہنچتا ہے۔
  • فروری
2008
محمد رفیق چودھری
اس سلسلۂ مضامین میں اُن اُمور پر تفصیلی بحث و گفتگو کی جارہی ہے، جن کی بنا پر ہمارے نزدیک غامدی صاحب کا شمار منکرین حدیث میں ہوتا ہے اور اُن کا نظریۂ حدیث انکارِ حدیث پر مبنی ہے۔پہلی قسط میں ہم نے غامدی صاحب کو اس لئے منکر ِحدیث قرار دیا تھا کہ وہ سنت کی ابتدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ماننے کی بجائے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مانتے ہیں
  • مئی
2009
محمد رفیق چودھری
غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کا سلسلہ بہت طولانی ہے۔ وہ فہم حدیث کے لئے اپنے من گھڑت اُصول رکھتے ہیں جن کا نتیجہ انکارِ حدیث کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ حدیث اور سنت کی مسلمہ اصطلاحات کا مفہوم بدلنے کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ حدیث کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے۔ وہ اس کے ثبوت کے لئے اپنی طرف سے اجماع اور تواترکی شرائط عائد کرتے ہیں۔
  • فروری
2009
محمد رفیق چودھری
'سنت' کا شرعی واصطلاحی مفہوم چھوڑکر غامدی صاحب پہلے تو گھر سے اس کا ایک نرالا مفہوم مراد لیتے ہیں اور پھر اس کے ثبوت کے لئے انوکھی شرطیں عائد کردیتے ہیں ۔ ان کے نزدیک :سنت کا ثبوت خبر واحد سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا ثبوت کبھی صحابہ کرامؓ کے اجماع سے ہوتاہے کبھی صحابہ کرام کے اجماع اور ان کے عمل تواتر سے، کبھی اُمت کے اجماع سے، کبھی اُمت کے اِجماع سے اَخذ کرکے اور کبھی اُمت کے اِجماع سے قرار پاکر اور کبھی قرآن کے ذریعۂ ثبوت کے برابر ذریعۂ ثبوت سے۔
  • جولائی
2007
محمد رفیق چودھری
جناب جاویداحمدغامدی صاحب نے دین اسلام کو 'موم کی ناک' بنا رکھا ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں دین میں تغیر و تبدل اور ترمیم و تنسیخ کرکے اس کاحلیہ بگاڑنے اور اس کی صورت مسخ کرنے کی مذموم اورناکام کوشش فرماتے رہتے ہیں ۔مثال کے طور پر وہ 'داڑھی' کو کبھی سنت اور دین کہتے ہیں اور کبھی اسے سنت اور دین سے خارج سمجھتے ہیں ۔
  • جولائی
2006
محمد رفیق چودھری
تقریر تیری ، ساحری           تحریر تیری ، منطقی
کیا خوب تیری شاعری           تو ذات کا ککے زئی
جاوید احمد غامدی
  • جون
2006
محمد رفیق چودھری
ربابِ غامدی میں ہے وہی آہنگ ِ پرویزی
وہی ذوقِ تجدد، ترکِ سنت، فتنہ انگیزی
بھروسا کر نہیں سکتے کبھی دانش فروشوں پر
سکھاتے ہیں مسلماں کو جو اُمت سے کم امیزی
  • جولائی
2006
محمد رفیق چودھری
ربابِ غامدی میں ہے وہی آہنگ پرویزی
وہی ذوقِ تجدد ، ترکِ سنت ، فتنہ انگیزی
بھروسا کرنہیں سکتے کبھی دانش فروشوں پر
سکھاتے ہیں مسلماں کو جوامت سے کم امیزی
  • جون
2010
محمد رفیق چودھری
ہمارے ہاں کے بعض تجدد پسند لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کے شرعی قوانین کانفاذ مسلمانوں پر تو ہوسکتا ہے مگر غیرمسلم شہریوں پر نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ شرعی قوانین دراصل اسلامی ریاست کا وہ ملکی قانون(Law of the Land) ہوتا ہے جسے وہ بلا امتیاز اپنے ہاں کے تمام باشندوں پر نافذ کرنے کا حق رکھتی ہے۔
  • دسمبر
2014
محمد رفیق چودھری
کی تقسیم اور بعض اعجازی پہلو

قرآنی سورتوں کی ابتدا میں جو الفاظ آئےہیں ، اُنہیں اصطلاح میں 'فواتح السُّوَر' کہا جاتا ہے۔ اگر ان افتتاحی کلمات کی نوعیت اور حقیقت پر غور کیا جائے تو انکی دس اقسام بن جاتی ہیں جو حسب ِذیل ہیں:
  • ستمبر
2006
محمد رفیق چودھری
کہتا ہوں نعتِ سیّد ابرارؐ ہمیشہ
 ہوتی ہے مجھ پر بارشِ انوار ہمیشہ
بے مثل اُن کا لہجۂ گفتار ہمیشہ
بے داغ اُن کا اُسوۂ کردار ہمیشہ
  • مئی
2007
محمد رفیق چودھری
عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورِنبویؐ کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں کوئی شرعی حکم موجود نہیں ہے۔
  • اگست
2007
محمد رفیق چودھری
غامدی صاحب نے اُمت کے جن متفقہ، مُسلّمہ اور اجماعی اُمور کا انکار کیا ہے، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ قرآنِ مجید کی (سبعہ و عشرہ) قراء اتِ متواترہ کو نہیں مانتے۔ اُن کے نزدیک قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت صحیح ہے جو اُن کے بقول ' قراء تِ عامہ' ہے اور جسے علما نے غلطی سے ' قراء تِ حفص' کا نام دے رکھا ہے۔
  • ستمبر
2007
محمد رفیق چودھری

جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ الفرقان اور المہیمن وغیرہ اسماے قرآنی کی طرح المیزان بھی قرآن کے ناموں میں سے ایک نام اور اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :''چوتھی چیز یہ ہے کہ قرآنِ مجید اس زمین پر حق و باطل کے لئے 'میزان' اور 'فرقان' اور تمام سلسلۂ وحی پر ایک مُہیمن کی حیثیت سے نازل ہوا ہے:

  • ستمبر
2006
محمد رفیق چودھری
دور ِ جدید کے بعض تجدد پسند حضرات نے نبی اور رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے فرق و امتیاز کی بحث کرتے ہوئے یہ نکتہ آفرینی بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو تو اُن کی قوم بعض اوقات قتل بھی کردیتی رہی ہے مگر کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا۔ یہ لوگ اس امر کو ایک اُصول، ایک عقیدہ اور قانونِ الٰہی قرار دیتے ہیں کہ نبی کے لئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں تو ممکن ہیں مگر رسول کبھی قتل نہیں ہوسکتا۔
  • فروری
2007
محمد رفیق چودھری
ارتداد كے لغوى معنى 'لوٹ جانے' اور 'پهر جانے' كے ہيں - شرعى اصطلاح ميں ارتداد كا مطلب ہے: "دين اسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كرلينا-" يہ ارتداد قولى بهى ہوسكتا ہے اور فعلى بهى- 'مرتد' وہ شخص ہے جو دين ِاسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كرلے-اسلا م ميں مرتد كى سزا قتل ہے جو صحيح احاديث، تعامل صحابہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے-