• اکتوبر
1996
عبدالرحمن مدنی
نکاح جو ایک خاندان کو تشکیل دیتا ہے، انبیاء کی سنت ہے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی اہمیت دی کہ نکاح سے بے رغبتی کو اپنی ملت سے خروج قرار دیا۔ قرآن کریم میں اسلام کے عائلی نظام کے اصولی مباحث کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں اس کی سیر حاصل تفصیلات موجود ہیں۔ خود تعامل امت بھی اس مقدس "رسم" کو تحفظ دئیے ہوئے ہے۔ مغربی سامراج کی اس قلعہ پر بیرونی یلغار کے علاوہ اندرون مشرق بھی اس کے ایجنٹ طرح طرح سے اسلامی تہذیب و ثقافت کی دیواروں میں شگاف ڈالنے کے لئے کوشاں ہیں جس کا ایک حربہ خاندانوں میں منظم شادیوں کے بجائے معاشقے لڑا کر شریف گھرانوں کی بچیوں کی عصمت دری ہے۔ پھر بعض سادہ لوح لوگوں کو "دعوت کی نام نہاد آزادی" کے نعرہ سے ہمنوا بنانے کے لئے فقہائے امت میں اختلافات کا شوشہ بھی چھوڑا جاتا ہے حالانکہ کوئی دانا بینا مسلمان مفرور کی شادی کی حمایت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اسی عرف شرعی کے پیش نظر سطور ذیل میں اسلام کے عائلی نظام کو درپیش خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظام کے جزوی مسائل کے لئے کتب احادیث کے متعلقہ ابواب ہمارا سرمایہ افتخار ہیں۔ (مدیر)
  • مئی
1990
عبدالرحمن مدنی
(((مولانا حافظ عبدالرحمٰن مدنی جو جامعہ  لاہور اسلامیہ (رحمانیہ) کے مہتمم بھی ہیں۔جامعہ کے ایک شعبہ کلیۃ الشریعۃ 91 بابر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن لاہور میں باقاعدہ ہر جمعہ خطبہ ارشا د فرماتے ہیں۔خطبہ ء جمعہ موقع کی مناسبت سے کسی دینی اور معاشرتی اصلاح کے موضوع پر ہونے کے علاوہ ملک وملت کے درپیش اہم علمی اور قانونی مسائل پر تبصرہ بھی ہوتا ہے۔ جن میں موصوف سامعین کی لمحہ بہ لمحہ حاضری بڑھنے کا لحاظ رکھتے ہوئے خطبہ کا ابتدائی حصہ عمومی رکھتے ہیں جس میں طلباء اور دین سے گہرا تعلق والے حضرات جو خطبہ شروع   ہونے سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔جبکہ خطبہ کا آخری حصہ اگرچہ اسی عمومی موضوع سے یک گونہ متعلق ہوتا ہے۔لیکن موصوف اس میں ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبصرہ کرتے ہیں۔لہذا اس  طرح آپ کا خطاب جامعیت کا حاصل ھوکر علمی رہنمائی اور اصلاحی وعظ کا کام کرتا ہے۔
  • جنوری
1987
عبدالرحمن مدنی
اس بل کو منظوری کے نفاد شریعت ایک مجریہ 1986ء کہا جائے گا۔○............ یہ سارے پاکستان پر فی الفور لاگو ہوگا۔شریعت بل کی تعریف: شریعت سے مراد اسلام کے وہ تمام اصول ہیں جیسا کہ قرآن وسنت میں درج ہیں۔شریعت کی بالادستی: کسی عدالت کے سامنے کسی معاملے کی سماعت کے دوران کوئی بھی فریق یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ قانون یا قانون کی کوئی شق، جس کا سماعت سے تعلق ہے، شریعت کے منافی ہے اس
  • نومبر
1995
عبدالرحمن مدنی
سوال:مسماة۔۔۔۔۔ صاحبہ کا نکاح بطریق شرعی محمدی میاں۔۔۔۔۔ صاحب سے مورخہ 81-10-24کو انجام پذیر ہوا۔ حق مہر مبلغ پچاس ہزار روپے مجمل مقرر ہوا مگر نکاح کے بعد اس کی ادائیگی نہ ہوئی۔ ان دونوں میں سے ایک بچی موجود ہے۔
  • جولائی
1990
عبدالرحمن مدنی
خطبہ مسنونہ:
اما بعد فاعوذ بالله من الشيطن الرجيم﴿ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿٢٧٥﴾...البقرة
"یعنی سود خور شیطانی جنون سے خبطی بن جا تے ہیں کیونکہ وہ بیع اور سود کو یکساں بتاتے ہیں ۔حالانکہ خریدو فروخت اللہ نے حلال کی ہے جبکہ سود کو حرام قرار دیا ہے پس جو شخص رب تعا لیٰ سے نصیحت ملنے پر باز آجا ئے تو اس کا سابقہ کیا کرایا معاف ہو کر معاملہ اللہ کے سپرد ہو گیا لیکن جو لوگ پھر بھی باز نہ آئیں تو وہ دائمی جہنمی ہیں ۔"