• اکتوبر
1992
رمضان سلفی
بعض لوگ یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت بھی ضروری ہے۔لیکن بقول ان کے حدیث قرآن کریم کی طرح قطعی نہیں بلکہ ظنی ہے۔جس میں محدثین کی امکانی کوشش بھی داخل ہے۔جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی بات کی نسبت کی تحقیق کرتے ہیں۔اور سلسلہ سند کے اشخاص نیز محدثین خطا سے پاک نہیں ہیں۔اور ہوسکتا ہے انہوں نے حدیث کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کی ہو۔لہذا حدیث،قرآن مجید کی طرح قطعی نہیں ہوسکتی۔
  • مئی
  • جون
1995
رمضان سلفی
سنت و حدیث کے الفا ظ بنیا دی طور پر کلام الٰہی (قرآن ) کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملی نمونہ (جسے مراد الٰہی کہہ سکتے ہیں ) کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔اگر چہ مختلف اہل فنون نے اپنے فن میں خاص پہلو کا لحاظرکھتے ہوئے سنت کے اہم پہلو بھی اجا گر کیے ہیں ۔اسی لیے سنت کی اصطلا ح بظا ہر مختلف معانی میں بعض اوقات استعمال ہو تی نظر آتی ہے۔ مثلاً احکام فقہ میں "مستحب "کے معنی میں اور وعظ و ارشادمیں بدعت کے بالمقابل لیکن چونکہ محدثین کا مطمح نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی تمام گو شوں کی روایت و روایت ہے اس لیے وہ احادیث کے ذریعہ سنت (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ اقوال و افعا ل بشمول سکوت و احوال) کے متعلق بحیثیت واقعہ بحث کرتے ہیں اسی لیے وہ حدیث و سنت کے الفاظ ایک دوسرے پر بے دریغ استعمال کرتے ہیں ان کے مترادف ہو نے کے یہی معنی ہیں لہٰذا محدثین احادیث کی بہت سی کتابوں کو "سنن"سے نھی موسوم کرتے ہیں مثلاً سنن اربعہ سے مراد ترمذی ،نسائی ،ابو داؤد اور ابن ما جہ کی کتب احا دیث لیتے ہیں ۔اس طرح سنن کبریٰ بیہقی شرح السنۃ معرفۃ الاثار والسنن وغیرہامت کے اہل علم ان استعمالات میں کو ئی اجنبیت محسوس نہیں کرتے ۔برصغیر میں فرقہ وارانہ رحجا نات کے باوجود ان اصطلا حا ت کے مفاہیم معروف ہیں ۔
ماضی قریب میں متجددانہ رحجا نات کے زیر اثر بعض مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے کچھ لوگوں نے حدیث و سنت کو الگ کر کے اگر چہ ان کے مصداق مختلف متعین کرنے کی کو شش کی ہے جن میں مرزا غلا م احمد قادیانی نما یاں ہیں ۔
لا ہو ر کا حلقہ اشرا ق جو نام کے سلسلے میں عیسائیت کے فلسفہ اشتراکیت(جس میں شریعت کو فلسفہ بنانے کی کوشش کی گئی) اور رجحانات کے اعتبار سے"اخوان الصفا" کی باطنی تحریک سے متاثر ہے۔
  • مئی
1989
رمضان سلفی
فتنہ تجدید نبوت اور تجدید رسالت کی قدر مشترک

برصغیر میں فرنگی استعمار نے مسلمانوں کے"جذبہ جہاد"پر کاری ضرب لگانے کیلیے"تجدید نبوت"کی صورت میں"آنجہانی غلام احمد قادیانی"کے ذریعے"تفریق دین"کا جو منصوبہ بنایا تھا،اسی کی تکمیل کے لیے مستشرق ہندی"مسٹر غلام احمدپرویز"کے ہاتھوں"جدید اجتہاد"کے دعویٰ سے نئے طلوعِ اسلام کا کھیل رچایا ہے۔
  • اپریل
1989
رمضان سلفی
مغربی طرز کے حالیہ انتخابات کے ذریعے جو پارٹی مرکزی قیادت پر فائز ہو گئی ہے، اس کے حامیوں کی طرف سے اُسے خوب اُچھالا جا رہا ہے، فلم انڈسٹری کے اداکار، موسیقار، جنہوں نے عرصے سے اس پارٹی کی کامیابی پر باہمی مبارکباد بانٹنے کی منتیں مان رکھی تھیں وہ انہیں پورا کر رہے ہیں،اور اس پر انتہائی مسرت کا اظہار کر رہے ہیں، کہ اس قیادت کے زیر سایہ ان کے خلافِ اسلام دھندا نشوونما پائے گا، اور مسلمانوں کی نوجوان نسل کے سینوں سے نورِ ایمان سلب کرنے کے لیے انہیں مزید موقع مل جائے گا، دوسری طرف غیر مسلم ذرائع ابلاغ رات دن اس قیادت کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے پروپگنڈے کے ذریعے ۔۔ ایک ایسے ملک میں جس کی بنیاد، نفاذِ اسلام پر رکھی گئی تھی۔۔۔عورت کی سربراہی کے خلاف اسلامی اصول کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گئے ہیں، ادھر فضا کو اپنے لیے سازگار دیکھ کر قادیانی اژدہے بھی سر اٹھا رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے نونہال بڑے خوش ہیں کہ وہ سٹیج پر باجی کی سرِعام نمائش کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
  • جنوری
1994
رمضان سلفی
محدثین کرام ،حدیث و سنت کو ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں ان کے ہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل اور آپ کی تقریر نیز آپ سے متعلق کوئی صفت یا حالت کو"حدیث"کہا جا تا ہے اور سنت کاالفاظ تین معانی میں استعمال ہو تا ہے۔کبھی یہ لفظ حدیث کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وعمل اور آپ کی تقریر کو سنت کہا جا تا ہے اور کبھی اہل علم اسے احکام میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کام سنت ہے یعنی فرض نہیں ۔
  • مارچ
  • اپریل
1988
رمضان سلفی
ماضی قریب میں ہم نے "محدث" کے اگست اور ستمبر و اکتوبر 86ء کے شماروں میں، عربی دانی کی خوش فہمی میں مبتلا، اہلِ طلوع اسلام کو اس وقت جھنجھوڑا تھا، جب انہوں نے نادانی سے حرفِ جر دہرائے بغیر ضمیر مجرور پر اسمِ ظاہر کے عطف کو ممنوع سمجھ لیا تھا۔ بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس کے بعد اپنی غلط روی پر آگاہ ہو کر شرمندہ ہوتے، یا اگر حق بجانب تھے تو محدث کے اٹھائے ہوئے درجن بھر اعتراضات میں سے کسی ایک ہی کا جواب دیتے،
  • جولائی
2000
رمضان سلفی
فرقہ طلوع اسلام چونکہ مکمل طور پر منکر حدیث ہے۔[1]اس لئے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کی  تبلیغ اور اس کی نشرواشاعت اسے ہرگز گوارا نہیں ہے،اور حدیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو مآخذ شریعت کے طورپر پیش کرنے والے اہل حدیث کو بدنام کرنے کے لئے اس فرقہ سے متعلقہ افراد موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔چونکہ خود یہ لوگ عربی زبان سے ناواقف اور اس کی گرائمر سمجھنے سے نابلد ہوتے ہیں لہذا اس بارے میں دوسروں پر اعتراض کرکے اپنی ہی سبکی کروالیتے ہیں،مثال کے طور پر دارالدعوۃ السلفیہ کی طرف سے جب شیخ عبدالسلام کی کتاب حدیث(منتقی الاخبار) کا اردو  ترجمہ شائع کیا گیا
  • دسمبر
2015
رمضان سلفی
مولانا محمد اسحاق بھٹی برصغیر پاک و ہند کے مشاہیر اہل قلم سے تھے۔ اُنہوں نے تصنیف و تالیف، تاریخ،صحافت اور شخصی خاکہ نگاری میں نام پیدا کیا اور شہرتِ دوام حاصل کی ۔ وہ بلا شرکتِ غیرے عصر حاضر کے عظیم مؤرخ ،بلندپایہ مصنف اور خاکہ نویس تھے۔ 70سال اپنے قلم سے دین اسلام اور اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔
  • نومبر
1987
رمضان سلفی
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی حیثیت سے ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول و عل اور تقریر (حدیث نبوی) کی اس عقیدے کے ساتھ پابندی کی جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب قرآن کریم کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعہ خبر پاکر لوگوں کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔
  • مارچ
1987
رمضان سلفی
سطوربالا سے ظاہر ہے کہ طلوع اسلام کے ''باباجی پرویز مرحوم '' قرآن مجید سے بھی مخلص نہیں تھے۔ورنہ وہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے تصاویر تیار کرانے کے ذکر سے ، اگر ''تصویر کے جواز'' پر استدلال کرسکتے ہیں، تو بالکل اسی طرز استدلال کے مطابق، قرآن مجید میں حضرت ہارون علیہ السلام داڑھی کے ذکر سے، ''داڑھی کی شرعی حیثیت '' بھی واضح ہورہی ہے۔پھر قرآن مجید گود میں رکھ کر اس ''مفسر قرآن'' کا
  • اپریل
1987
رمضان سلفی
8۔ ارشاد رسالت مآب ﷺ :''اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔''ارشاد باری تعالیٰ:''انی عذة الشہور عنداللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ۔ الآیة'' (التوبة:36)''قوانین خداوندی کی رو سے مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔'' 9۔ ارشاد رسالت مآب ﷺ :''تمہاری عورتوں پر تمہارا ایک حق ہے اور تم پر ان کا ایک حق ہے، وہ تمہارا بستر کسی کے لیے نہ لگائیں او رفحاشی اختیار نہ کریں، وگرنہ تمہیں اجازت ہے کہ تم انہیں بستر میں چھوڑ
  • جنوری
1987
رمضان سلفی
''طلوع اسلام'' جون 1986ء کے شمارے میں ایک مضمون بعنوان ''خطبہ حجة الوداع اور مقام حدیث ''شائع ہوا ہے۔ جس میں حجة الوداع کے خطبہ کو زیر بحث لاکر یہ تاثر دینے کی مذموم اور ناکام کوشش کی گئی ہے کہ ذخیرہ حدیث پورے کا پورا غیر معتبر ہے۔کیونکہ ...... طلوع اسلام لکھتا ہے:''احادیث میں لٹریچر میں سب سے مستند حدیث حجة الوداع کا خطبہ ہے۔جو رسول اللہ ﷺ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام کے سامنے
  • فروری
1987
رمضان سلفی
''طلوع اسلام'' جون 1986ء کے شمارے میں ایک مضمون بعنوان ''خطبہ حجة الوداع او رمقام حدیث'' شائع ہوا تھا۔ جس میں یہ بے پرکی اُڑائی گئی کہ خطبہ حجة الوداع کی روایات غلط ہیں۔ طلوع السام چونکہ احادیث رسول اللہ ﷺ کی صحت کے لیے، ان کی قرآنی تعلیمات سےمطابقت ، کی شرط لگاتا ہے، اس لیے فاضل مضمون نگار حضرت مولانا محمد رمضان سلفی صاحب نے خطبہ حجة الوداع کے ایک ایک جملہ کی صحت ثابت کرنے
  • جولائی
1996
رمضان سلفی
مولانا عبد الرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ ایسی شخصیا ت میں سے تھے جن کا وجود امت مسلمہ کے لیے خیرو برکت کا با عث ہو تا ہے کیونکہ اسلام کی با لا دستی ان کی زند گی کا مشن تھا جبکہ مو لا نا مو صوف ہمیشہ نمود و نما ئش سے با لا تر ہو کر خدمت دین متین میں مصروف رہنے والے اور حصول شہرت کی خا ر داروادیوں سے دا من بچا کر مسلمانوں کی بہتری کے لیے کو شاں رہنے والے تھے اس مملکت خداداد میں جب بھی کو ئی مسئلہ اٹھتا تو اسلام کا یہ گم نام سپا ہی کا غز اور قلم سنبھا لتا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں درپیش مسئلے کا حل پیش کر کے امت کی را ہنما ئی کا فریضہ سر انجا م دیتا وہ اخلا ق حسنہ کے زیور سے آراستہ تھے اور ہر بڑے یا چھوٹے کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے وہ خواتین کی اسلامی تعلیم و تربیت پر خصوصی تو جہ دیا کرتے تھے اسی غرض سے انھوں نے ایک مدرسۃ البنا ت کا اجر ابی کر رکھا تھا جس  کی سر پرستی وہ خود فر ما یا کرتے تھے راقم کو کچھ عرصہ محترم حا فظ عبد الرحمٰن مدنی صاحب کی را ہنما ئی میں ان کے مدرسہ میں تدریس کا موقع میسر آیا جب بھی وہاں مو لانا مرحوم سے ملا قات ہوتی تو اخلا ق سے پیش آتے اور اپنے حلقہ یاراں میں جلوہ افروز احباب سے مجھ نا چیز کا تعارف کرانے میں کو ئی خفت محسوس نہ کرتے جب وہ عنان قلم تھا مے ہو ئے تحقیق کے میدان میں اترتے تو علمی سفر کا حق ادا کردیتے تھے اور الجھے ہو ئے مسئلہ کا ایسا آسان اور مدلل حل پیش کرتے کہ علم دوست احباب محظوظ ہو ئے بغیر نہ رہ سکتے  ،ہمہ وقت وہ اپنی تصنیف و تا لیف کی سر گرمیوں میں مگن رہتے اور اس کا م کی انجا م وہی میں کو ئی دقیقہ فروگذاشت نہیں جا نے دیتے  تھے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے دنیا سے رحلت فر ما جانے کے باوجود ان کا علمی سر ما یہ تالیفا ت کی شکل میں موجود ہے جو ہمہ تر جدید مسائل و نظریا ت پر مشتمل ہے اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے یکساں مفید ہے ۔
  • اگست
1986
رمضان سلفی
ہفت روزہ ''اہلحدیث'' میں چھپنے والے درود ''صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم'' پر رسالہ ''طلوع اسلام''کو بڑی دیرسے اس لیےاعتراض ہے کہ اس دورد میں ایک نحوی قاعدے کی مخالفت کی جارہی ہے۔کیونکہ اس میں حرف جر ''علیٰ'' کو دہرائے بغیر اسم ظاہرکاضمیر مجرور پر عطف ڈالنافحش غلطی ہے۔ ''اہلحدیث'' نے لکھا بھی کہ دراصل بات آپ نہیں سمجھے، اس لیے جس درود کو آپ نےغلط بتایاہےوہ درست ہے۔لیکن طلوع اسلام نے بعنوان